آپ اس محفل میں سینکڑوں دھاگے کھولتے ہیں۔ جہاں خود کچھ لکھے بنا دوسروں کو لکھنے پر اصرار کرتے نظر آتے ہیں۔
اب جب خود لکھنا پڑ گیا تو ایسی ٹال مٹول!
بھئی دھاگہ بنائیں۔ بہانہ نہ بنائیں۔اور لکھنا شروع کریں۔ ہم آپ کے مضمون کے منتظر ہیں۔ :)
"سائنس اور ہماری زندگی" کے زمرے میں موجود دھاگے پر سائنس کے حوالے سے ہی بحث کی گنجائش ہے۔ بصورت دیگر مذہب کا زمرہ اور شائد آپ کا بلاگ دستیاب ہے۔
دنیا بھر میں سائنس کی پریکٹس مذہب اور عقائد کو ایک طرف رکھ کر کی جاتی ہے۔ یہ کوئی ایسا بڑا بیان نہیں ہے۔
قدیم Apes محض دو شاخوں؛ انسان اور بندر میں ہی تقسیم نہیں ہوئے بلکہ متعدد شاخیں دریافت شدہ ہیں۔ مثلاً تمام انسانی انواع میں سے صرف جدید انسان ہی اب تک زندہ بچا ہے۔ انسانوں کی باقی انواع مثلا نینڈرتھال وغیرہ معدوم ہوتے چلے گئے۔
جبکہ "بندروں" کی بہت سی اقسام معدوم ہوئیں اور بہت سی اب بھی زندہ ہیں۔...
آنکھوں ، بالوں ، جلد کی رنگت ، قد کاٹھ میں فرق یہ سب انسانی ارتقاء کی ہی مثالیں ہیں۔ ان پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں ماحول اور آب و ہوا کے ساتھ ساتھ جنسی انتخاب، اور سماجی کشمکش بھی شامل ہے۔ :)
مائیکل بیہی اور ولیم ڈیمبسکی دونوں بدنام زمانہ کریشنسٹ بلکہ کرسچن اپالوجسٹ ہیں۔ متعلقہ شعبہ سے نہ تو ان کا دور پات کا کوئی تعلق ہے نہ ہی ان کی کوئی تحقیق پئیر ریویوڈ جرائد میں پبلش ہے۔
حیاتیاتی ارتقاء کے رد میں کوئی ایسی تحقیق یا ثبوت تلاش نہیں کیا جا سکا جو مروجہ سائنسی اصولوں پر مبنی کسوٹی...
بے فکر رہیے۔ جس قسم کی کتب کا میں تذکرہ کر رہا ہوں وہاں آپ کو وہ مشکل اصطلاحات دیکھائی نہ دیں گی۔ نیز مصنف کتاب کے تعارف ہی میں وضاحت کرتا ہے کہ یہ کتب ان قارئین کے لیے ہے جو اس شعبہ میں پہلے سے کوئی تعلیم یا مہارت نہیں رکھتے۔ :)
بھئی میں کب کہہ رہا ہوں کہ سائنس محض سکول کالج ہی میں پڑھی جا سکتی ہے۔ اگر لائبریری یا کتابوں کی کسی معقول دکان کا رخ کریں تو وہاں آپ کو بہت سے سیکشن نظر آئیں گے۔ جس میں آپ کو فکشن ، سیاست ، تاریخ وغیرہ کے علاوہ popular science کا سیکشن بھی مل جائے گا۔ حیاتیاتی ارتقاء کی بہت سے قابل فہم کتب وہاں...