نتائج تلاش

  1. مزمل شیخ بسمل

    پہلی آزاد نظم اراکین اور اساتذہ کی توجہ کی خاطر پیش ہے.... تمھیں اب کیا بتاؤں میں؟

    نظم (مزمل شیخ بسمل) تمھیں اب کیا بتاؤں میں؟ کہ میں نے ہجر کی ہر شام کس مشکل سے کاٹی ہے اندھیرے میں مصلّے پر دعائیں مانگنا میرا وہ سارے دن وہ سب راتیں تمھاری آرزو کرنا مرے آنسو کا میرے ”گال“ ہی پر خشک ہو جانا تمھیں اب کیا بتاؤں میں؟ کہ میرا جنوری کی سرد اور تاریک راتوں میں یوں کمبل اوڑھ...
  2. مزمل شیخ بسمل

    عروض

    یہ ڈپارٹمنٹ محمد وارث اور فاتح بھائی کا ہے. ہر شعر کے پہلے مصرعے کا پہلا رکن صدر اور آخری عروض ہوتا ہے. دوسرے مصرعے میں پہلا رکن "ابتدا" یا "مطلع" اور اخری رکن "ضرب" یا "عجز" کہلاتا ہے. درمیان میں جتنے ارکان ہوں "حشو" کہلاتے ہیں. حشو مربع بحور میں نہیں ہوتا.
  3. مزمل شیخ بسمل

    ہوتے رہے اداس کنارے تمام شب (اصلاح)

    روانی کو تو فی الوقت چھوڑدیں. میں نے اوپر جو کہا کے اس میں شتر گربہ ہے اسکی طرف نظر کریں.
  4. مزمل شیخ بسمل

    اساتذہ کی توجہ کیلیے ایک گنگناتی غزل،'' اُس کی گلی سے گزرنا پڑا''

    جی جناب. چلیں ٹھیک ہی ہے. باقی استاد جی کی رائے کا انتظارطہے الف عین
  5. مزمل شیخ بسمل

    جنہیں سورج کا ہم سفر ہونا ہے برائے اصلاح

    بلال اس قافیہ اور ردیف کے ساتھ کسی آسان بحر کا استعمال کافی مشکل ہوگا. بہتر یہ ہے کی انہی الفاظ کو کسی دوسرے منتخب شدہ قافیہ کے ساتھ لگانے کی کوشش کرو شاید بات بن جائے.
  6. مزمل شیخ بسمل

    اساتذہ کی توجہ کیلیے ایک گنگناتی غزل،'' اُس کی گلی سے گزرنا پڑا''

    حضرت میں نے یہ کہاں کہا کے زبان سے ہی متروک ہوگیا؟ شاعروں کے متروکات میں ہے یہ. لفظ بالکل ٹھیک ہے. شعرا اسے اب استعمال نہیں کرتے . اکا دکا کوئی مثال ہو تو ہو. جیسے میر حسن کا ایک شعر. ہر ایک دل و جاں کے مرغوب نظر آئے میں خوب تمھیں دیکھا تم خوب نظر آئے. لفظ "نے" کا حذف متروک.
  7. مزمل شیخ بسمل

    ہوتے رہے اداس کنارے تمام شب (اصلاح)

    جی استاد جی یہ بیدار غلط ہی ہے. یہ جو دوسرا شعر ہے خود ہی کہوں کہ آئیں گے خود ہی کہوں نہیں ہم خود سے بار بار ہی ہارے تمام شب اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟
  8. مزمل شیخ بسمل

    اساتذہ کی توجہ کیلیے ایک گنگناتی غزل،'' اُس کی گلی سے گزرنا پڑا''

    یہ غزل کسی بحر میں ہے یا نہیں اسکی تصدیق تو نہیں کر سکتا مگر اسکے افاعیل فعلن فعولن فعولن فعل بنتے ہیں. جس میں رسوائیوں کا پورا وزن تقطیع میں آسکتا ہے.
  9. مزمل شیخ بسمل

    وزن بتائیے

    محمد وارث بھائی لگے ہاتھوں یہ بھی بتادیں کے جب ایک متحرک کے بعد دو ساکن یا تین ساکن آ جائیں جیسے فعول یا دیگر. اشاری نظام سے کیا یہ 1،3 کا وزن کہلائے گا؟ اسی طرح مذکورہ بالا شناخت کا وزن 1،4. کیا ایسے ہی ہوگا؟
  10. مزمل شیخ بسمل

    عروض

    عروض اور ضرب کے علاوہ باقی سب ارکان حشو کہلاتے ہیں. کیا یہ پکی بات ہے؟
  11. مزمل شیخ بسمل

    میرے آنسو تری آنکھوں سے نکلتے جاتے ہیں -- برائے اصلاح

    شام سرسری نگاہ میں ہی دیکھ کر کہہ رہا ہوں اس بار پوری غزل میں کہیں وزن ٹھیک نہیں ہے. اکثر مصرعوں میں لفظ "ہیں" زیادہ ہے. پھر مقطع میں تخلص پورا وزن میں زائد ہے. یعنی شام سے پہلے ہی وزن پورا ہوتا ہے. دوسرے پوسٹ میں دو ایک جگہ وزن درست ہے. پہلے میں غلط ہونے کی وجہ میں جو سمجھا ہوں وہ آپ کی بحر کے...
  12. مزمل شیخ بسمل

    عروض

    بہت خوب. اب اسے یہیں فل اسٹاپ مت لگائیگا.:)
  13. مزمل شیخ بسمل

    اساتذہ کی توجہ کیلیے ایک گنگناتی غزل،'' اُس کی گلی سے گزرنا پڑا''

    سوال یہ ہے کہ یہ بحر کونسی ہے؟ محمد وارث
  14. مزمل شیخ بسمل

    اساتذہ کی توجہ کیلیے ایک گنگناتی غزل،'' اُس کی گلی سے گزرنا پڑا''

    اعلان کا "ن" متحرک کر کے اگلے لفظ سے ملائیں. تقطیع ہو جائے گی.
  15. مزمل شیخ بسمل

    کھجور کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں

    بہت خوب شمشاد بھیا۔ ۔
  16. مزمل شیخ بسمل

    زخم سینے میں جو ناسور ہوئے ہیں --- غزل برائے اصلاح

    ہوئے بروزن ”مفا“ یا ”فعل“ ہوتا ہے۔
  17. مزمل شیخ بسمل

    ہوتا ہے روز جن کے تبسم پے اک قتل...... بے ساختہ ہنسے تو قیامت ہی آگئی

    ہوتا ہے روز جن کے تبسم پے اک قتل...... بے ساختہ ہنسے تو قیامت ہی آگئی
  18. مزمل شیخ بسمل

    الف بے پے کا کھیل 57 ویں قسط

    کیا کہا جاسکتا ہے اب۔ خیر دیکھیں کب تشریف فرما ہوتی ہیں محفل کی رونقیں
  19. مزمل شیخ بسمل

    مسائل کا حل

    زبردست ہے جی۔ یہ واقعہ اگر چہ ایک بار سن چکا ہوں لیکن تازہ ہو گیا۔
Top