رہنا نہیں اگرچہ گوارا زمین پر
لیکن اِک آدمی ہے ہمارا زمین پر
طُرفہ کہ رمِ گریہ و زاری بھی اُٹھ گئی
مشکل تو پہلے ہی تھا گزارا زمین پر
بھٹکے ہوؤں کو راہ دِکھانے کو کم نہیں
ٹُوٹے ہوئے دِیے کا کنارا زمین پر
اس کی نظر بدلنے سے پہلے کی بات ہے
میں آسمان پر تھا، ستارا زمین پر
باقی تو جو بھی کچھ ہے...