یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے خود اپنے خلاف دیا ہے۔ کیونکہ ایف بی آر میں فائز عیسی کی اہلیہ کا معاملہ خود سپریم کورٹ نے سات تین کے اکثریتی فیصلہ سے ۹ جون ۲۰۲۰ کو بھیجا تھا۔ اور پرسوں اس فیصلہ پر یوٹرن لیتے ہوئے ایف بی آر کی تمام تر کاروائی کالعدم قرار دے دی ہے۔ اور جمہوری انقلابی سپریم کورٹ کے اس...
ماشاء اللہ اس طرح تو بہت سے سابق سفیر بھی آکر بیان دے دیتے ہیں کہ نواز شریف ان کو بھارت کے خلاف بیان بازی سے روک دیتے تھے۔ پھر بغیر تحقیق کے ان کے الزامات کو بھی سچ مان لیں۔
تو پھر حکومت کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی؟ سپریم کورٹ کے پاس اختیار تھا۔ مسئلہ وہی تھا کہ ۷ میں سے ۱۰ ججز نے اس ریفرنس کو بدنیتی نہیں کہا تھا۔ وگرنہ یہ معاملہ آگے ایف بی آر کو نہ بھجواتے۔
اختلافی نوٹ تھا۔ اکثریتی فیصلہ میں ایسا کچھ نہیں کہا گیا۔ وگرنہ سپریم کورٹ خود بدنیتی کی بنیاد پر حکومت کے خلاف ایکشن لیتی۔ جھوٹ جتنا بھی پھیلا دیا جائے۔ کمزور سے سچ کے آگے ٹک نہیں سکتا۔
تو نئے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا وزیر اعظم کا یہی کام کیوں نہ کر سکے؟ عوام کو بیوقوف سمجھتے ہیں کہ بغض عمران میں جو الزام لگائیں گے لوگ سوچے سمجھے بغیر یقین کر لیں گے۔
وزیر اعظم عمران خان کے احکامات کا انکار کر کے بہادر آفیسر بن گیا۔ واہ۔ بہادری دکھانی تو فی الفور استعفی دیتا اور پریس کانفرنس میں بتاتا کہ اس وجہ سے مستعفی ہو رہا ہوں۔ ریٹائرمنٹ تک انتظار نہ کرتا۔
پی پی نے آج تک اپنے خلاف آنے والے فیصلوں کو تسلیم نہیں کیا۔ یہ کونسی آزاد عدلیہ کی بات کرتے ہیں جو صرف ان کے حق میں فیصلہ دیں۔ ن لیگ کو بھی ایسی ہی آزاد عدلیہ چاہئے جو شریف خاندان کے ہر کرپشن کیس میں کلین چٹ دے۔ عدلیہ آزاد تب ہو گی جب اپنے خلاف فیصلہ سنانے پر بھی اسے صدق دل و جان سے قبول کیا...
جس جج نے کتا کاٹنے پر فریال تالپور کی رکنیت کی معطل کی تھی اسے سندھ حکومت میں کون ڈرا دھمکا رہا ہے؟ یہ قانون کی بالا دستی ہے کہ جو جج پی پی حکومت کے خلاف فیصلہ دے اسے ڈرانا دھمکانا شروع کر دو؟ پی پی پہلے اپنا محاسبہ کرے۔ وفاق کی فکر چھوڑ دے۔
فریال تالپور کی رکنیت معطل کرنے والے جج کو راکٹ سے...
جج پر ریفرنس دائر کرنا صدر کا آئینی استحقاق ہے۔ اسے ختم کر دینا یا کارروائی کرنا سپریم جوڈیشل کونسل کا استحقاق ہے۔ اور اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنا اس ملزم جج کا استحقاق ہے۔ تینوں اپنے اپنے آئینی استحقاق استعمال کر چکے ہیں۔ یہاں حملہ کہاں سے آگیا؟ کیا مشرف کی طرح معزز جج کو ٹھڈے مارے گئے ہیں؟
پاکستان میں تو سپریم کورٹ کے ججز اپنے تحریری فیصلے پر ایک سال بعد نظر ثانی کرلیتے ہیں، وزیر اعظم اپنے ہاتھ سے بھیجی ہوئی سمری پر کابینہ میں یوٹرن لے لیتے ہیں، ان کنفیوزڈ حالات میں عقائد پر نظر ثانی تو بہت معمولی بات ہے۔