غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
یہ کیا کہا کہ داغ کو پہچانتے نہیں
وہ ایک ہی تو شخص ہے ، تم جانتے نہیں
بد عہدیوں کو آپ کی کیا جانتے نہیں
کل مان جائیں گے اسے ہم جانتے نہیں
وعدہ ابھی کیا تھا، ابھی کھائی تھی قسم
کہتے ہو پھر کہ ہم تجھے پہچانتے نہیں
چھوٹے گی حشر تک نہ یہ مہندی لگی ہوئی
تم ہاتھ میرے...