اور اگر میں ںا مانوں والا معاملہ ہو ۔ ۔ ۔ لا یعنی ۔ ۔ دلیل سے قائل کرنے کی کوشش کی جائے اور مصر رہا جائے کے یہی بات بہتر ہے۔ ۔ جو کے بہتر کے ب پر بھی پوری نا اتر رہی ہو ۔ ۔ ۔ ۔ پھر کیا ۔ ۔ کیا جاءے ۔ ۔ ۔ سلام ۔ ۔ ۔ ؟
ادب دوست دشمنی تو گستاخی سے بھی آگے کی بات ہے ۔ ۔ بقول آپکے "جن لوگوں نے اللہ آپﷺ سے جنگ کی وہ بھی محض دشمن کہلاتے ہیں گستاخ نہیں. تو آپﷺ سے جنگ کرنا توہین نہیں ہے" ۔ ۔ ۔ یا حیرت ۔ ۔ ۔
ادب دوست ، اس منظق سے تو شیطان کی بھی وکالت کی جا سکتی ہے اس کا اللہ کو انکار کرنا کیا گستاخی نہیں تھی ؟ بقول آپ کے "سوال کرنا، اعتراض کرنا، نقد کرنا ، اختلاف کرنا یہ سب باتیں توہین میں نہیں آتیں" قرآن کہتا ہے "جو رسول دیں لے لو جس سے روکیں رک جاؤ"۔ اس آیت سے انکار گستاخی نہیں ؟
@ محمد عدنان اکبری نقیبی صاحب یا تو آپ کو میرا سوال پیچیدہ لگ رہا تھا یا آپ نے وارث صاحب کے اس سٹیٹمنٹ پر پسندیدگی کی سند بھی صادر کردی۔۔ یہ سمجھ آگیا آپ کو ۔ ۔ ۔ ؟
محمد وارث ۔ ۔ "مزید برآں کہ احادیث کی مخالفت تو کیا انکار سے بھی نہ تو کفر صادر ہوتا ہے نہ ہی توہین رسالت" اسے دوبارہ پڑہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ عجیب سا نہیں کہہ دیا آپ نے ۔ ۔ ۔ میں اس پر انتہاءی غیر متفق ہوں آپ سے کہ احادیث کی مخالفت اور انکار سے کچھ نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ ۔ حتٰی کے توہین بھی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔
محمد وارث بھائی چلیں مان لیا سب مسلمان امام مہدی(ع) کی بات پر اکھٹا نہیں ہو سکتے ۔ مگر حدیث پر تو اکٹھا ہو سکتے ہیں بات ان کے پیدا ہونے یا ہو چکنے کی نہیں ان کے بر حق ہونے کی ہے جو متواتر کءی حدیث سے ثابت ہے۔ ۔ اور حدیث کی مخالفت کو کیا توہین کے زمرے میں شمار نہیں کیا جائے گا۔
زیک ۔۔رہی بات توہین کے دائرہ کی تو جو اللہ نے متعین کر دیا تو پھر ہمارا چاہنا کیا ۔۔۔صاف آیت موجود ہے جو رسول (ص) دیں وہ لے لو جس سے منع کریں رک جاوء۔۔۔
ادب دوست سر جی ۔ ۔ آپ نے جس سرسری انداز میں لے کر جواب دیا ہے۔۔۔وہ کچھ سمجھ نھیں آیا ۔ ۔ ۔ جیسے کسی سیاسی بیان کی بات کی گئی ہو یہ تو صریح حدیث سے انحراف ہے ۔ ۔ اور توھین کیا ہوتی ھے ۔۔؟آپ سے ذمہ دارانہ جواب کی توقع ہے۔ ۔ ۔