ہمارے یہاں بھی موسم خراب ہی ہے، کل ہمارے پروفیسر نے فیس بک پر اپنے اطراف کی ایک تصویر شریک کی تھی جس میں ایک کار باقاعدہ تیرتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ :) :) :)
ہاں کل ہماری نبیل بھائی سے بات ہو رہی تھی تو ہم نے ذکر کیا تھا کہ الفاظ کو فونیم میں توڑ کر (جیسا کہ کئی لغات میں تلفظ کے لیے موجود ہوتا ہے) کہیں زیادہ سہولت سے فونیٹک ٹرانسلٹریشن کیا جا سکتا ہے۔ عروض والے کام سے بس اتنا فرق ہوگا کہ اس میں اعراب کی اہمیت بڑھ جائے گی۔ :) :) :)
در اصل اردو سے رومن رسم الخط میں تبدیلی کا مقصد سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر اسے اسپیچ ٹو ٹیکسٹ کنورژن (مثلاً ڈریگن نیچورلی) کے لیے استعمال کرنا ہوا تو اسٹینڈرڈ سے کہیں زیادہ اس کا فونیٹک کنورژن اہم ہو جاتا ہے۔ :) :) :)
ابھی ہم تجربہ کر رہے تھے تو پایا کہ یہ ممکن ہے۔ البتہ فوٹوز اپلیکیشن کے بجائے گوگل فوٹوز کی سائٹ براؤزر میں کھولیں (ہم نے گوگل کروم فار موبائل میں تجربہ کیا)۔ سائٹ پہلے تو اپلیکشن استعمال کرنے کا مشورہ دے گی جسے مسترد کر کے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ وہاں کسی بھی تصویر پر ٹیپ کر کے پھر اس پر لانگ پریس...
چونکہ ہم گوگل سروسیز زیادہ استعمال کرتے ہیں اور فون سے لی گئی تمام تصاویر گوگل فوٹوز میں خود کار طور پر اپلوڈ ہو جاتی ہیں اس لیے ہم تو وہیں سے ہاٹ لنک حاصل کر لیتے ہیں۔ :) :) :)