جات ہم نے صحیح لکھا ہے کیوںکہ بات انڈیا کی ہو رہی تھی تو اس حساب سے وہاں زیر استعمال ہے یہ لفظ۔۔۔:whistle:
اور رہی بات دروازے کی تو اسے صحیح جگہ لگوا لیں چوٹ نہیں لگے گی ۔۔۔:LOL:
بس دیکھیں کوئی لوز بال ملے گی تو پھر باونڈری باہر۔۔۔:LOL::LOL:
دراصل بات کچھ یوں ہے کے آج دماغ اپنی جگہ پر ہے اور سیدھی سیدھی بات پر تو بال سیدھی سیدھی باہر جاتی ہے ۔۔۔;)
عرفان بھائی سب دعا کرواتے ہیں ۔۔۔شفقت کرواتے ہیں ۔۔۔یہ بھی خوب ہیں چوٹ لگواتی ہیں۔۔۔شاید انڈین فلمیں زیادہ دیکھیں ہیں کہ چوٹ لگنے سے دماغ اصلی حالت میں آجات ہے ۔۔۔:D
ہائے احسن بھائی نہ پوچھیں بڑے بھاری دن تھے ۔۔ہم بھی زیرِ عتاب رہے ہیں ہمارا یہاں دوبارہ جنم ہوا ہے ۔۔ کچھ مخلصین کی مخلصانہ کاوشوں سے ۔۔بس مختصر یہ سمجھیں کے دائیں بازو اور بائیں بازو قسم کے معاملات تھے ۔ ۔
لیکن بہرحال یہاں کافی تبدیلیاں دیکھنے ملیں سب سے بڑی تبدیلی تو محترم زیک صاحب میں نظر...
ہمارے ذہن میں ہندوستانی معاشرے کا خوبصورت اور ادبی امیج بنانے میں ڈاکٹر کلب صادق، مولانا ذیشان جوادی اور عصرِ حاضر کے علامہ عقیل الغروی صاحب ہیں جن کی اردو کے کیا ہی کہنے اپنا ہی لطف ہے ان کو سننے کا ۔۔۔آپ ان میں سے کسی سے ملے ہیں ؟
مجھے سو فیصد یقین تھا ۔۔ کہ کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی کو ہمارے اوٹ پٹانگ نگاہ خراش (اب سمع خراش تو لکھنے سے رہے یہاں) باتوں کی وجہ سے ہم یاد آئینگے اور ان میں آپ کا نام سر فہرست تھا باقیوں سے بھی کچھ امکان تھا لیکن لگتا ہے اب بات شاید نگاہ و سمع سے بات دل خراشی تک چلی گئی۔۔۔:D