نتائج تلاش

  1. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    واٹ اباوٹ ازم پڑھ لیں اور موضوع پر رہتے ہوئے جواب دیں۔ نظام کی اصلاح کر لیں آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن نہ لیں
  2. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    دس از این ادر "واٹ اباوٹ ازم" ایک عالمی چور ادارے کی خواہشوں کی ترجمانی کرنے والی موجودہ حکومت ، جتنا جلد دفع ہو جائے اتنا ہی اس ملک کے لیے بہتر ہے۔ اپریل 1933ء کا ایک واقعہ: بین الاقوامی مالیاتی نظام میں روپے اور دولت کی قانونی چوری
  3. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    ایکسچینج ریٹ کے ساتھ کھلواڑ نہ کرتے تو یہ حالت نہ ہوتی۔ یہ ایک مجرمانہ اقدام تھا اور مقصد یہی تھا کہ پاکستان کو معاشی دباو میں لا کر اپنی مرضی کی قانون سازی کروائی جائے۔
  4. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    End of myth of ‘independent’ central banks
  5. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    آپ اپنے پیروں پر تب کھڑے ہوں گے جب نظام کی اصلاح کر کے ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کریں گے۔ اس کرپٹ نظام میں سو الیکشن بھی حقیقی تبدیلی نہیں لا سکتے۔
  6. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    حکومت کو آئی ایم ایف سے بھیک مانگنا پڑتی ہے لہذا نظام درست نہ کریں اور سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دیں۔ واہ کیا منطق ہے! سوالات: گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر کی شہریت کون سی ہے؟ کیا وہ آئی ایم ایف کا ملازم نہیں رہا؟ End of myth of ‘independent’ central banks
  7. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    قانون سب کے لیے یکساں ہوتا ہے خواہ وہ وزیر اعظم ہو یا گورنر سٹیٹ بینک۔ دو رخی پالیسی انصاف کے نام پر قائم ہونے والی حکومت سے؟
  8. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    قرض تحڑیک انصاف حکومت نے کیوں لیا قرض نہ لیں ، بھوکے مریں ملکی وسائل کو ایکسپلور کریں۔ آپ نے وہی کام کیا ہے جو ماضی کی حکومتوں نے کیا۔ یہ نااہل حکومت زیادہ مظلوم بننے کی کوشش نہ کرے۔
  9. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    کرپٹ نظام میں کل کلاں ان کو کھلواڑ کرنے کی اجازت ہوگی۔ آپ نے کرپٹ نظام کی اصلاح تو کی ہی نہیں۔ پیچ ورک کر رہے ہیں۔ کدھر ہیں انتخابی اصلاحات؟
  10. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    سیاست دانوں کی معاشی قرضہ جاتی انتہا پسندی کا جواب آئی ایم ایف کی مداخلت پسند معاشی دہشت گردی نہیں ہونا چاہیے بلکہ نظام کی درستگی میں ملک کی بہتری مضمر ہے۔ پڑھے لکھے مخلص لوگوں کو ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے کے لیے نظام کی اصلاح کریں۔
  11. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    آئی ایم ایف کا اثر و رسوخ تب بڑھتا ہے جب ملک کا قرضوں کا حجم زیادہ ہو جائے۔ پرویز مشرف نے اس کے تدارک کے لیے قانون بنایا تھا کہ قرضوں کا حجم ملک کے جی ڈی پی کے ساٹھ فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے لیکن اس کی پاسداری کسی حکومت نے نہیں کی اور دھڑا دھڑ قرضے لیے حتی کہ موجودہ حکومت نے بھی قرضے لینا...
  12. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    اعتراض : سابقہ حکومتیں سٹیٹ بینک کے امور میں مداخلت کرتی تھیں لہذا ہم سٹیٹ بینک کو خود مختار کر رہے ہیں جواب: موجودہ حکومت تو صاف شفاف لوگوں پر مشتمل ہے یا یہ بھی سٹیٹ بینک میں مداخلت کر رہی ہے اگر ایسا نہیں ہے تو آپ کو سٹیٹ بینک کو خود مختار کرنے کی کیا ضرورت؟ یا یہ تسلیم کریں کہ موجودہ حکومت...
  13. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    موضوع بحث ایک سپیسیفک بات "سٹیٹ بینک کی خودمختاری" ہے ، جنرلائز کرنا آپ کی پرانی پروپگنڈا ٹیکنیک ہے دوسری پروپگنڈا ٹیکنیک موضوع سے توجہ ہٹا کر دوسرے موضوع کی طرف لے کر جانا ہے جو آپ کی پوسٹ کے اقتباس میں نیلے رنگ میں واضح کر دیا گیا ہے۔ اب مزید کوئی پروپگنڈا تکنیک سوچیں۔
  14. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    سیاسی نظام کو بہتر بنائیں ، مجوزہ قانون سازی سے اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کا غلام بنتا ہے۔ لہذا بات سیاسی نظام کو درست کرنے پر آتی ہے۔ آپ انتخابی اصلاحات کریں اور اچھے پڑھے لکھے سیاست دان پارلیمان میں لائیں نا کہ پیچ ورک سے کام چلائیں کہ جی سیاست دان غلط کام کرتے ہیں لہذا سٹیٹ بینک کو خود مختار...
  15. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    واٹ اباوٹ ازم موجودہ حکومت کی نااہلی کا جواز نہیں ہے۔
  16. الف نظامی

    جہانگیرترین کے خلاف منی لانڈرنگ، فراڈ اور جعلی ٹرانزیکشن کےالزامات میں دو مقدمات درج

    ہونا ہوانا کچھ نہیں۔ یہ حکومت کرپٹ نظام کی سہولت کار ہے۔ حقیقی تبدیلی تب آئے گی جب ٹیکنو کریٹس کی حکومت آئے گی۔ نا تجربہ کار جب تک تجربہ حاصل کرتے ہیں ، ملک کا بیڑا غرق ہو چکا ہوتا ہے۔
  17. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    حکومت کے ماتحت سٹیٹ بینک ہوتے ہوئے گورنر سٹیٹ رضا باقر نے ایکسچینج ریٹ کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے ڈالر کی قیمت ۱یک سو ساٹھ تک پہنچائی اور پاکستان کے قرضوں کا حجم خود بخود بڑھ گیا۔ اب یہ خود مختاری حاصل کر کے جو طوفان مچائے گا اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔ جن لوگوں کو اس بات پر اعتراض ہے وہ کنفیشن آف...
  18. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    مزید یہ کہ احتساب سے بالا تر کوئی بھی نہیں ہونا چاہیے خواہ وہ وزیر اعظم ہو یا گورنر سٹیٹ بینک!
  19. الف نظامی

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    اگر حکومت حقیقی معنوں میں ملک کی معاشی صورت حال کو بہتر کرنا چاہتی ہے تو پرویز مشرف کے بنائے ہوئے قانون "فسکل ریسپانسیبلیٹی اینڈ ڈیٹ لیمیٹیشن ایکٹ" پر صحیح معنوں میں عمل درآمد کرے یہ قانون قرضے لینے کی حد کا تعین کرتا ہے کہ قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے ساٹھ فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تمام...
Top