کامران شاہد ! ہم آپ کے مشکور ہیں۔
آپ نے یہ بات دس سال پہلے کہی تھی ‘ اس وقت قرضوں کی کل تقسیم شدہ رقم 1 ارب روپے تھی جوآج 100 ارب روپے سے زائد ہے۔ الحمد للہ!
اخوت آپ کی مشکور ہے۔
یہ ویڈیو ہر گز نہ دیکھیں خصوصا میڈیا والے اور نہ ہی اس کو کوریج دیں
کس طرح بلین ٹری سونامی میں لگائے جانے والے پودے کسی نے اکھاڑ پھینکے اور ماحول دوست رضا کار غلام رسول پاکستانی نے ان پودوں کو دوبارہ لگایا
اس لیے کہ آپ نے غلام رسول پاکستانی ماحول دوست رضا کار کی تعریف کرنے کے بجائے مزید تنقید کر دی کہ عہدے پر براجمان شخص کی مثال لائی جائے۔ حالاں کہ اچھا کام کوئی بھی کرئے اسے سراہنا چاہیے اس میں عام اور خاص کی تفریق کیوں؟
پس ثابت ہوا عام آدمی کے اچھے کاموں کی تعریف نہیں کی جاتی اور عہدے پر براجمان کسی شخص کا ایک دفعہ کیا ہوا اچھا کام واہ واہ سمیٹ لیتا ہے۔
عہدے سے مرعوبیت یہی ہوتی ہے۔