تقسیم ہند کے بعد مہاجرین کو ایک جگہ اکٹھا کرنا غلط تھا ان کو یکساں طور پر تمام صوبوں میں بسانا چاہیے تھا اس سے نہ تو لسانی جھگڑا پیدا ہوتا اور نہ ہی نوکریوں کے مسائل۔ لیکن اُس وقت لیاقت علی خان صاحب کے لیے انتخابی حلقہ بنانا مقصود تھا۔
ہم یہ کہیں گے کہ کراچی کے مسائل کا حل صوبہ سندھ کے وزیر اعلی کے پاس ہے ۔ پنجاب کو لعن طعن کا نشانہ بنانا بالکل مناسب نہیں جیسے کہ الطاف علیہ ما علیہ کے پروپگنڈا نے ان کے دماغوں میں پنجاب دشمنی بھر دی ہے کہ ہر بات کا ذمہ دار پنجاب کو ٹھہراتے ہیں۔
تحقیق میں بہرحال سے کام نہیں چلتا۔
ثابت کرنا ہو تو ڈیٹا کی بات ہوتی ہے جو ڈیٹا آپ کو مل نہیں سکا ہوگا اگر ملا ہوگا تو وہ بھی نامکمل اور پرانا۔
مثال کے طور پر:
آپ ہی کے مراسلے میں بتائی گئی چیزوں کا ڈیٹا آپ فراہم نہیں کر سکتے جیسے سٹریٹ ٹرانسفر اور ڈِیوٹیز کا ڈیٹا۔
اخبار معتبر ڈیٹا سورس نہیں...
آپ کا طریقہ کار Methodology یہ رہی:
تحقیق سے پہلے اعتراض ۔
پھر اعتراض کو ثابت کرنے کے لیے دو مختلف چیزوں کا تقابل کرنا۔
جب معلوم ہوا کہ اس منطق سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو بھی جمع کردہ ٹیکس سے زیادہ مل رہا ہے تو
پھر تلاش کیا کہ این ایف سی کی تقسیم کا فارمولا کیا ہے
نتیجہ: اخبار سے...
ایسے کیسے ؟
ارے بھائی ڈیٹا تو درست کرلو ، پھر بات کریں گے۔
این ایف سی ایوارڈ صرف ٹیکس نہیں بلکہ تین اشیا کا مجموعہ ہے اور آپ اس کو صرف ٹیکس سے تقابل کر رہے ہیں۔
آپ کی منطق سے تو پھر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کا این ایف سی حصہ بھی ان کے جمع کردہ ٹیکس سے زیادہ ہے۔
متعلقہ:
ایکسائز ڈیوٹیز ...
آپ کے ہی ربط کے مطابق این ایف سی تین اشیاء کا مجموعہ ہے ،taxes and duties and straight transfers
اور جس سے آپ تقابل کر رہے ہیں وہ صرف ٹیکس ہے۔
تقابل کرنا ہے تو ڈیوٹیز اور سٹریٹ ٹرانسفرز کو منہا کیجیے پھر درست عدد ملے گا۔
تابش ہاشمی کا سہارا لینے کی کیا ضرورت تھی ، آپ خود یہ بات کہتے لیکن اس میں مسئلہ یہ تھا کہ دعوی کو ثابت بھی کرنا پڑتا۔
:)
لہذا بار ثبوت تابش ہاشمی کے ذمہ لگایا اور اپنی جلن کو تسکین دے لی۔
یا اللہ پنجاب کو مزید ترقی عطا فرما اور جلنے والوں کو سکون دے۔
وفاقی دارالحکومت کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچانے کے مشن کے تحت وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر سی ڈی اے نے پہلی بار اسلام آباد کیلئے ماحولیاتی تبدیلی فنڈ قائم کر دیا۔
سی ڈی اے نے کلائمیٹ چینج انیشیٹیو کے تحت سی ڈی اے نے خصوصی فنڈ قائم کیا، وزیر داخلہ محسن نقوی نے ماحولیاتی فنڈ کے قیام پر چئیرمین...
یہ بہت اچھا اقدام ہے۔
اس طرح معاشرے میں کمیونٹی سروس کو فروغ ملے گا اور ماحول میں بہتری کی طرف عوامی سطح پر کچھ نہ کچھ کام ہوگا۔
دوسرے صوبوں کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے۔
میرا پنجاب سموگ فری کے تحت صوبے میں چیف منسٹر کلائمیٹ لیڈرشپ ڈویلپمنٹ انٹرنشپ پروگرام کا آغاز ہوگیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ سموگ کے مستقل سدباب کے لیے مل جل کر اقدامات کرنا ہوں گے، سموگ فری پنجاب انیشی ایٹو کے تحت ینگ گریجوایٹس کمیونٹی سروس کی منفرد خدمات سر انجام دیں گے۔
مریم نواز...