علم
رکنیت:
‏اکتوبر 5, 2016
مراسلے:
0
نمبرات:
2
محصول مثبت درجہ بندیاں:
1
محصول نیوٹرل درجہ بندیاں:
0
محصول منفی درجہ بندیاں:
0

مراسلہ ریٹنگ

محصول: عطا کردہ:
پسندیدہ 1 1
زبردست 0 0
معلوماتی 0 0
دوستانہ 0 0
پر مزاح 0 0
متفق 0 0
غیر متفق 0 0
غمناک 0 0
ناقص املا 0 0
مضحکہ خیز 0 0
نا پسندیدہ 0 0
جنس:
مذکر
یوم پیدائش:
‏جنوری 1, 1979 (عمر: 40)

اس صفحے کی تشہیر

علم

محفلین, مذکر, 40

میرا نام فیاض علی جعفری ہے اور مین زیادہ تر اسلامی کتابیں پڑھنے کا شوق رکھتا ہوں ‏اکتوبر 5, 2016

    1. علم
      علم
      میرا نام فیاض علی جعفری ہے اور مین زیادہ تر اسلامی کتابیں پڑھنے کا شوق رکھتا ہوں
      1. اَبُو مدین نے اسے پسند کیا۔
      2. اَبُو مدین
        اَبُو مدین
        بھائی تعارف سیکشن میں جا کر اپنا تعارف کروا دیں۔
        ‏اکتوبر 5, 2016
    2. علم
      علم
      اسکام علیکم.
    3. علم
      علم
      حسین بن علی بن ابی طالب(علیہم السلام)
    4. علم
      علم
      علیا ولی اللہ
    5. علم
      علم
      اسلام زندہ باد ہے
  • لوڈ ہو رہا ہے...
  • لوڈ ہو رہا ہے...
  • تعارف

    جنس:
    مذکر
    یوم پیدائش:
    ‏جنوری 1, 1979 (عمر: 40)
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    حسین بن علی بن ابی طالب(علیہم السلام)، کی کنیت ابوعبداللہ ہے [2] (ولادت مدینہ سنہ 4 ہجری شہادت کربلا سنہ61ہجری)، امام حسین(ع) کے نام سے معروف شیعیان آل رسول(ص) کے تیسرے امام، اصحاب کساء میں سے ایک، شہید کربلا، امام علی(ع) اور حضرت زہرا (س) کے دوسرے فرزند اور رسول اللہ(ص) کے دوسرے نواسے ہیں۔[3] پیغمبر اکرم(ص) نے آپ اور آپ کے بھائی حسن مجتبی(ع) کو جنت کے سردار قرار دیا ہے۔ آپ(ع) نے صفین، جمل اور نہروان میں اپنے والد ماجد کے رکاب میں لڑے۔ بھائی امام حسن(ع) کی امامت کے دور میں آپ کے تابع و پیرو تھے اور جب تک معاویہ زندہ رہا آپ صلح امام حسن کے پابند رہے۔ تاہم معاویہ کی موت کے بعد یزید کی بیعت کو جائز نہيں سمجھا اور آپ کی حکومت و زمامداری قبول کرنے کے سلسلے میں اہل کوفہ کی دعوت کے پیش نظر مکہ سے کوفہ روانہ ہوئے لیکن آپ کو کربلا میں کوفیوں کی عہد شکنی کا سامنا کرنا پڑا اور آخر کار عاشورا سنہ 61 ہجری کو کربلا کے میدان میں دو لشکروں کے مابین ہونے والی جنگ میں آپ اپنے 72 افرادقلیل ساتھیوں کے ہمراہ شہادت نوش کرگئے۔ اہل بیت اور اصحاب میں سے آپ کے پسماندگان یزیدی لشکر کے ہاتھوں اسیرکر کے کوفہ اور شام بھجوائے گئے۔

    امام حسین(ع) کی شہادت نے تاریخ اسلام اور تاریخ شیعہ بالخصوص اسلام کی ابتدائی صدیوں میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اسلام کی ابتدائی صدی کے نہایت حساس اور کشیدہ دور میں امام حسین(ع) کی زندگی، ظلم اور ظالم و جائر اموی حکمرانوں کے خلاف جدوجہد اور شہادت نے ایک طرف سے آپ(ع) کے نام کو استقامت و مزاحمت اور شہادت جیسے مفاہیم سے پیوند دیا اور دوسری طرف سے آپ کا قیام زمانے کے جائرین و ظالمین کے خلاف اگلی تحریکوں کا مبدأ و آغاز ثابت ہوا۔ مختلف صدیوں کے دوران واقعۂ عاشورا کی عکاسی شیعہ معاشروں کی فکر کی مختلف اتھاہ میں ادب، فن تصاویر اور یادگاروں کی صورت میں نمایاں ہوئی۔[4]