ایمان شہروز
آخری سرگرمی:
‏نومبر 19, 2016
رکنیت:
‏اکتوبر 7, 2015
مراسلے:
17
نمبرات:
3
محصول مثبت درجہ بندیاں:
22
محصول نیوٹرل درجہ بندیاں:
0
محصول منفی درجہ بندیاں:
0

مراسلہ ریٹنگ

محصول: عطا کردہ:
پسندیدہ 16 0
زبردست 5 0
معلوماتی 1 0
دوستانہ 0 0
پر مزاح 0 0
متفق 0 0
غیر متفق 0 0
غمناک 0 0
ناقص املا 0 0
مضحکہ خیز 0 0
نا پسندیدہ 0 0
جنس:
مؤنث
یوم پیدائش:
‏جولائی 5
مقام سکونت:
ہارون آباد
پیشہ:
کوئی نہیں

اس صفحے کی تشہیر

ایمان شہروز

محفلین, مؤنث, از ہارون آباد

ایمان شہروز کو آخری دفعہ پایا گیا:
‏نومبر 19, 2016
    1. سیما آفتاب
      سیما آفتاب
      یہ آپ کی تحریر ہے؟

      محبت آزماؤ گے؟؟؟
      ابھی تم نے کہا نا ! کہ "محبت آزماؤ گے!!!"
      چلو اب یہ بھی بتلا دو کہ کیسے آزماؤ گے؟
      سُنو! تم طفلِ اُلفت ہو! تمہیں معلوم ہی کیا ہے؟
      محبت کِس کو کہتے ہیں، محبت کیسے ہوتی ہے؟
  • لوڈ ہو رہا ہے...
  • لوڈ ہو رہا ہے...
  • تعارف

    جنس:
    مؤنث
    یوم پیدائش:
    ‏جولائی 5
    مقام سکونت:
    ہارون آباد
    پیشہ:
    کوئی نہیں
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بس یہی تعارف ہے میرا۔۔
    مجھے معلوم ہے کہ "میں"
    زمانے بھر کی آنکھوں میں
    بڑی شدت سے چبھتی ہوں
    میری باتیں ، میری سوچیں
    زمانے بھر کی سانسوں میں بڑی تکلیف بھرتی ہیں
    مجھے معلوم ہے کہ "میں"
    " کبھی کچھ تھی ، نہ اب کچھ ہوں"
    مگر پھر بھی زمانہ سرد آنکھوں سے مجھے کیوں تکتا رہتا ہے
    کسی کو کیا . . .
    میں جو لکھوں ، جہاں لکھوں
    " کسی کو جان جاں لکھوں "
    یا نہ لکھوں
    جلا دوں شاعری اپنی
    یا اس کو طاق پر رکھوں
    کسی کو اس سے کیا مطلب
    کسی کو مجھ سے کیا مطلب
    تو اب جو لوگ مجھ کو اپنا کہتے ہیں
    مجھے نفرت سے تکتے ہیں
    کہ میں نے اب تلک
    سارے زمانے کی نگاہوں کو فقط پیاسا ہی رکھا ہے
    انھیں تسکیں نہیں بخشی
    مگر بخشوں تو کیوں بخشوں
    کسی لمحے جو میں سوچوں
    بھلا کیوں نہ کروں ایسا
    زمانے بھر کی آنکھوں میں نمی بھردوں
    زمانے بھر کی سانسوں میں کمی کردوں
    مگر کیسے کروں ایسا
    "زمانہ اپنی ہی موت آپ مر جائے تو اچھا ہے"
    کہ میں اس کی ان آنکھوں کو نکالوں گی
    تو دکھ ہوگا۔ شاعر نامعلوم ہے۔۔ میں نہیں ہوں۔۔