بحر بتائیے

شام

محفلین
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

بحر بتائیے
 
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

بحر بتائیے


فاعلن مفاعین فاعلن مفاعین

ٹائپو!!!
بحرِ ہزج مثمن اشتر۔
کیا خوب مترنم بحر ہے
ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا

درد کی دوا پائی درد لا دوا پایا۔

فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
فاعلن مفاعیلن ، فاعلن مفاعیلن ۔۔۔
شاید میری یہ کوشش بھی اسی میں ہے:
دشمنوں سے دوری تھی، دوستوں نے آگھیرا
کافروں سے بچ نکلے، مومنوں نے آگھیرا
 

شام

محفلین
کچھ نہ کسی سے بولیں گے
تنہائی میں رو لیں گے
نیند تو کیا آئے گی فراز
موت آئی تو سو لیں گے

بحر
 

شام

محفلین
شکریہ مزمل بھائی

کیا "فعلن فعلن فعلن فع" اصل وزن ہے اور اس میں کیا کیا وزن اکھٹے ہو سکتے ہیں
 
اقبال کے اس شعر کی بحر سمجھ نہیں آ رہی:-

آبِ روانِ کبیر تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب

بحر بتائیے۔
یہ اقبالؒ کی شہرہ آفاق نظم مسجدِ قرطبہ کا شعر ہے۔
یہ نظم مفتَعِلن فاعِلن مفتَعِلن فاعِلن بحر پر ہے۔ اور اس میں ہر فاعلن کی جگہ فاعلان (فاعلات) آ سکتا ہے۔
 
یہ اقبالؒ کی شہرہ آفاق نظم مسجدِ قرطبہ کا شعر ہے۔
یہ نظم مفتَعِلن فاعِلن مفتَعِلن فاعِلن بحر پر ہے۔ اور اس میں ہر فاعلن کی جگہ فاعلان (فاعلات) آ سکتا ہے۔
اس کے مطابق شعر کی تقطیع یوں ہو گی:

آبِ روا = مفتعلن
نے کبیر = فاعلات
تیرے کنا = مفتعلن
رے کوئی = فاعلن
دیکھ رہا = مفتعلن
ہے کسی= فاعلن
اور زما = مفتعلن
نے کا خواب= فاعلات
 
صدیقی صاحب، اگر آپ صرف بحر بتاتے تو میں confuse ہی رہتا کہ کیسے۔ لیکن مشکور ہوں کہ آپ نے وضاحت کر دی، اور وہ بھی مکمل تقطیع کے ساتھ۔ بہت بہت شکریہ۔

البتہ مجھے یہ بات ضرور confuse کرتی رہے گی کہ مصرعے کے بیچ میں بھی فاعلات آ سکتا ہے؟ میں تو اسے اخیر سے منسوب سمجھتا رہا.
 
البتہ مجھے یہ بات ضرور confuse کرتی رہے گی کہ مصرعے کے بیچ میں بھی فاعلان آ سکتا ہے؟ میں تو اسے اخیر سے منسوب سمجھتا رہا.
کسی کے لیے بھی ایسی کنفیوژن کی بنیادی وجہ لاعلمی ہوتی ہے۔
تھوڑا وقت نکال کر تمام مستعمل بحور کا بنیادی مطالعہ کر لیجیے۔ عروض کے آسان اسباق اب تو کافی میسر ہیں۔ ضروری نہیں کہ عروض کی گہرائی میں جایا جائے، یا عروضی اصطلاحات یاد کی جائیں۔ :)
 
Top