جانگلوس نامہ از بھلکڑ !!

اسی جانگلوس کو ایک دفعہ کشمیر لے جانے کا اتفاق ہوا ، جناب عثمان اور نومی⁨ بھی ہمراہ تھے- کہوٹہ کہ مقام پر یہ طے ہوا کہ ایک بار مکینک کو دکھا لیا جائے کہ رستے میں جانگلوس داغ مفارقت ہی نہ دے جائے- چنانچہ پو پھٹنے کا انتظار کیا گیا اور ایک مکینک نے دکان کا شٹر اٹھایا- جانگلوس کو دیکھتے ہی اس کی آنکھیں ٹھٹھک گئیں ، پوچھنے لگا کہاں سے لائے ہو یہ شاہکار - ہم نے آئیں بائیں شائیں کر بات ٹال مٹول دی-
پھر جو آپریشن سٹارٹ ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی ہاتھ کا لیا ہوا کام آگیا جو ہم یہاں رکے ہیں ، وگرنہ تو ہیندل فرنٹ وہیل سے باہر آیا چاہتا تھا- مزید معلوم ہوا کہ انجن میں عمومی طور پر ایک لیس دار مادہ استعمال ہوتا ہے ، ہم تو جانگلوس کو داد دئے بنا نہ رہ سکے جو ایک عرصے سے ایسی کسی شے سے پاک چلتا تھا- مکینک کے ہاتھ لگ جائے تو کسی شے کے پلے بچتا کیا ہے مگر مکینک صاحب الٹا ہم پر چڑھ دوڑھے کہ بھئی اس کو پانی تیل ہوا کی ضرورت ہوتی ہے- ٹائروں میں ٹیڑھے پن کا نقص نکالنے کے علاوہ انہوں نے چکے کی تاریں بھی اپنی گنتی کے مطابق آدھی ہی گنیں- شاک ابزاربر کو جب تیل بھرنے اور تبدیل کرنے کے بعد جب دوبارہ فٹ کرنے کی باری آئی تو پتا چلا کہ جانگلوس اپنی طرز کا اکلوتا ہے ، ایسا سائز نہ پہلے تھا نہ ہی شاید آیا ہے، صبح صبح کا وقت تھا خرادئے کے کھلنے کا انتظار کئا گیا ، جس نے ہتھوڑی چھینے اور مشین کی مدد سے دوبارہ فٹ کرنے کے قابل بنایا - کچھ بریک کی تاریں اور ڈالنے اور چار گھنٹے کی بیسک سرجری کے بعد مکینک نے ہمیں صلاح دی کہ اگر اس کے بغیر اوپر جاسکتے ہو تو مناسب ، اس کے ساتھ جانے کا تو میں نہیں کہ سکتا البتہ واپس نہ آنے کی آپ گارنٹی لے لو مجھ سے- ایسی بہت سی ٹالتے جانگلوس نے پرورش پائی ہے- کہوٹہ سے ناشتہ کرنے کے بعد ہم نے جو راولاکوٹ، بنجوسہ اور تولی پیر کو رخ کیا تو دنیا نے جانگلوس کی
بہادری کی داد دی-
جانگلوس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، کیا کبھی کسی نے ایسی بھی کوئی شے سڑک پر دیکھی ہے جس کو جمپ، کھڈے، بارش اور کیچڑ کا معلوم ہی نہیں - ایسے تیرتا ہوا گزرے اس میں سے-
رات سے جانگلوس کو پیار تھا ، اکثر روشن کرنے کو کوشش کرو تو ناراض ہوکر بلب جلادیتا تھا- اپنی سی دھن کا مالک ، آپ قریبا ایک سو پندرہ کے زاویے پر چلاو تو عمودی چلتا- دیکھنے والے ہمیشہ یہ ہی سمجھے کہ چلانے والا اور سمت کو جارہا اور جانگلوس اور میں-
میں صدقے ایسی کمال سیٹ شاید ہی چشم تصور نے دیکھی ہو، سیٹ کی سیٹ ، سلائید کی سلائید ، آپ آگے بیٹھیں یوں جھولتی جھولتی آپ کو آخری سرے تک لے جائے گی کے بچپن کی یاد تازہ ہوجائے ، کچھ کوڑھ لوگوں کو شاید حسن نہیں دکھائی دیتا وہ اکثر اس عمدگی پر بھی تنقید کرتے پائے گئے ہیں -
ہمارے دکھ سکھ کی ساتھی ، آندھی طوفان ، بارش، اور کڑکڑاتی دھوپ کیا نہیں دیکھا جانگلوس نے- سنا ہے زمانہ نے ترقی کر لی اور نقشے موٹروں میں فٹ آنے لگے ہیں پر آپ یقین مانئے راولپنڈی اسلام آباد کی ایسی جگہ ہے نہیں جہاں جانگلوس نے گیا ہو ، آپ نام لیجئے یوں آپ کو لیکر وہاں پہنچے گا ، اور پھر کچھ عجب بات یہ ہے جانگلوس روڈ، اور اشاروں کو شاید کبھی مان ہی نئیں پایا، اکثر باقی ٹریفک آرہی ہوتی اور جانگلوس وہاں سے جارہا ہوتا، بسا اوقات تو ان گناہگار آنکھوں نے اپنا رستہ بناتے خود دیکھا ، مثال کے طور جی الیون اشارہ سے پولیس لائن قبرستان کو ایک ایسا رستہ جس پر صرف جانگلوس نے ہی سفر کیا ہے-
آج جانگلوس کا تذکرہ چھڑا تو آنکھیں نم ہوگئین ، جانگلوس دن دیکھتا نہ رات واہ کینٹ بہت پسند تھا جانگلوس کو ، لیکن *شخص* کو ایک آنکھ نہ بھاتا تھا جانگلوس ، کوئی دن ہو جو اس سے جان چھوٹے -
ع دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
 
زبردست عبداللہ بھیا۔
عرصے بعد آپ کی جانب سے بھرپور تحریر پڑھنے کو ملی۔

بھائی بھلکڑ میاں کی تحریر ہے، میں نے تو محض یہاں شئیر کی ہے۔۔۔
میرے خیال میں زمرہ مناسب نہیں تبدیل کروانا پڑے گا۔
میں بھی سوچ رہی تھی کہ عبد اللہ بھائی اتنے بھلکڑ کب سے ہو گئے؟ پھر خیال آیا کہ ہوئے ہوں گے، ہمیں خبر نہ ہوئی ہوگی اور پھر ہم نے جانگلوس اور عبداللہ بھائی کو ایک سو پندرہ کے زاویے پر محسوس کیا! :)
اپنی سی دھن کا مالک ، آپ قریبا ایک سو پندرہ کے زاویے پر چلاو تو عمودی چلتا- دیکھنے والے ہمیشہ یہ ہی سمجھے کہ چلانے والا اور سمت کو جارہا اور جانگلوس اور میں-
 

ابن توقیر

محفلین
بھائی بھلکڑ میاں کی تحریر ہے، میں نے تو محض یہاں شئیر کی ہے۔۔۔
میرے خیال میں زمرہ مناسب نہیں تبدیل کروانا پڑے گا۔
زمرہ کی مناسبت سے مجھے بھی لگا کہ شاید بھلکڑ کے نام سے بلاگ بھی آپ کا ہی ہے۔ بہرحال یہ تو حقیقت ہی ہے کہ آپ کی جانب سے تحریر پڑھے عرصہ ہوگیا۔
چلئے یوٹرن زندہ باد یعنی زبردست شیئرنگ بھیا جی۔
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
ہمارے دکھ سکھ کی ساتھی ، آندھی طوفان ، بارش، اور کڑکڑاتی دھوپ کیا نہیں دیکھا جانگلوس نے- سنا ہے زمانہ نے ترقی کر لی اور نقشے موٹروں میں فٹ آنے لگے ہیں پر آپ یقین مانئے راولپنڈی اسلام آباد کی ایسی جگہ ہے نہیں جہاں جانگلوس نے گیا ہو ، آپ نام لیجئے یوں آپ کو لیکر وہاں پہنچے گا ، اور پھر کچھ عجب بات یہ ہے جانگلوس روڈ، اور اشاروں کو شاید کبھی مان ہی نئیں پایا، اکثر باقی ٹریفک آرہی ہوتی اور جانگلوس وہاں سے جارہا ہوتا، بسا اوقات تو ان گناہگار آنکھوں نے اپنا رستہ بناتے خود دیکھا ، مثال کے طور جی الیون اشارہ سے پولیس لائن قبرستان کو ایک ایسا رستہ جس پر صرف جانگلوس نے ہی سفر کیا ہے-
بہت زبردست شئیر نگ۔۔۔۔۔۔
جیتے رہیے ۔۔۔۔/
 
جانگلوس نامے کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے کہ جانگلوس نامی کمپنی کا یہ موٹر سائیکل صاحب بھلکڑ کے زیر استعمال رہا جب وہ زمانہ طالب علمی میں دارالحکومت میں سکونت پذیر تھے پھر وقت نے انگڑائی لی اور صاحب پردیسیوں میں شمار ہونے لگے ۔
اس دوران ہمیں موٹر سائیکل کی تنگی رہتی تو ہم نے ان سے گزارش کی کہ اگر آپ اپنا موٹر سائیکل ہمیں عنایت فرما دیں تو عین نوازش وغیرہ ہوگی تو موصوف نہ کہا "ہاں چاچو تھوڑا جیا کم کروان آلا باقی تے عمدہ اے " میں آکھیا چلو ٹھیک اے ۔

پھر وہ وقت آیا کہ جانگولس صاحب بذریعہ سلاما باد سے شیخوپورہ تشریف لے آئے میں نے صاحب کو وہاں سے ریسیو کیا اور ککیں مارنے لگے لیکن صاحب تھے کہ سٹارٹ ہونے کا نام ہی نہ لیں وہ بعد میں معلوم ہوا کہ موٹر وے پولیس کہ سختی کی وجہ سے موٹر سائیکل لوڈ کرتے وقت بس والے حضرت اس میں موجود تمام پٹرول نکال لیتے ہیں لہذا مرتا کیا نہ کرتا کے مترادف گھسیٹ گھساٹ کر قریبی پٹرول پمپ پر لے گئے تیل ڈلوایا اور جیسے تیسے سٹارٹ کر کے شیخوپورہ سے گاؤں کی طرف سفر شروع کیا جو کہ قریب دس میل کا ہے۔
سیانے آکھدے نیں کہ گھر دے جمےڈھور تے دند نہیں ویکھی دے کہ مترادف مجھے اس سفر میں یہ سمجھ جانا چاہیے تھا جانگلوس موٹر سائیکل نہیں بلکہ خرادیے کی دکان سے پرزے اکٹھے کر کے جوڑا گیا ایک طلسمِ ہوش ربا کا میجک ہے۔ لیکن پھر بھی سوچا کہ چلو ٹیوننگ وغیرہ کروا کہ دیکھتے ہیں تو سیدھا میکینک کو دے آئے کہ بھائی ہینڈل،شاک، آئل فلٹر وغیرہ تبدیل کرنے کے ساتھ اگر پلگ وغیرہ اور چین کی گراری بھی دیکھ لینا اور آخری میں اشارے اور ہیڈ لائٹ بھی ڈال دینا یہ کہہ کر ہم گھر کو روانہ ہو گئے۔
کچھ وقت گزارا تو ہمیں مکینک کا فون آیا کہ بھائی اشارے تو ہم ڈال دیں گے لیکن چشم تر نہ آج تک ایسا نظارہ نہیں دیکھا ذرا بتلائیں گے یہ عالیشان چیز کہاں سے لائے ہیں میں نے بھیا ایسا کیا ہوا کیا ہے؟ تو مکینک نے جو بتایا وہ میں سرخ حروف میں پیش کرتا ہوں ، کہنے لگے:

"بھائی اسمیں تو وائرنگ ہی نہیں ہے"

پہلے میں نے کہا شاید سننے میں غلطی ہو گئی تو دوبارہ پوچھا تو موصوف ہاں پاؤ ایندے اچ تاراں ای کوئی نہیں۔میں نے کہا یار ٹھیک ہے اشارے ٹوٹے ہیں ہیڈ لائٹ خراب ہوگی لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ وائرنگ ہی نہ ہو تو صاحب انہوں کہا پاؤ رُک توں وٹس ایپ ویکھ پھر انہوں نے جو ہمیں تصویر بھیجیں ان کو دیکھ کر تو ہم آج تک دھنگ رہ گئے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے موٹر سائیکل میں وائرنگ ہی نہ ہاں تار خراب ہو سکتی ہے؟ کہیں دے کٹ لگ سکتا ہے لیکن سر ہونا ہی نہ ایک ایسا معمہ ہے جو آج تک حل نہ ہوسکا۔


پھر جب ہم نے یہ تصاویر اور قصہ صاحب کو روانہ کیا تو انہوں جواباً یہ جانگلوس نامہ ہمیں لکھ بھیجا تو ہم نے محفل کی نظر کر دیا۔
وغیرہ وغیرہ
 
Top