(ایک زمین میں دو غزلیں) ---------- مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفا

(ایک زمین میں دو غزلیں)
----------
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
--------
الف عین
محمّد احسن سمیع :راحل:

(ایک زمین میں دو غزلیں)
----------
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
--------
یہ کتنی بات اچھی ہے بزرگوں نے جو فرمائی
سکھی رہنا اگر چاہو تو جھیلو تم نہ تنہائی
------------
زمانے نے کیا بدنام تھا ہم کو تو پہلے ہی
محبّت میں تری ہم کو ملی اور بھی رسوائی
---------
یہی پہچان ہے میری محبّت میں تری جینا
زمانہ جانتا ہے مجھ کو تیرا ہوں میں شیدائی
----------
نشانی ہے مری تیرے ، رکھنا حفاظت سے
عبا ہے یہ محبّت سے تجھے میں نے جو پہنائی
----------
جہنّم بن بھی جاتی ہے کبھی یہ زندگی ایسے
ملے محبوب نہ کوئی ستائے تجھ کو تنہائی
---------
جفائیں دے جو بدلے میں وفائیں وہ سبھی پا کر
تبھی محبوب کو ایسے سبھی کہتے ہیں ہرجائی
-------
محبّت دل کا سودا ہے تبھی منظور ہوتا ہے
اگر محبوب کی جانب سے ہو اس کی پزیرائی
-----
محبّت دل میں ہوتی ہے نہیں باتوں سے یہ ارشد
وفاؤں کی یہ دنیا میں بڑی سب سے ہے سچّائی
-----------
( دوسری غزل)
------
یہ مزاح کے انداز میں لکھی ہے۔ اسے مزاح سمجھ کر ہی اصلاح کیجائے
---------------
یہ لازم مار ڈالے گی مجھے میری یہ تنہائی
کروں شادی مگر کیسے ہوئی اتنی ہے مہنگائی
-------------
گیا ہے لڑ کے مجھ سے وہ مرا محبوب روٹھا ہے
یہ جھوٹی بات ہے ساری جو لوگوں نے ہے پھیلائی
----------
انوکھا ہے نرالا ہے مرا محبوب دنیا سے
مگر وہ پیار کرتا ہے اسے کہنا نہ ہرجائی
-------------
اسے میں پیار کرتا ہوں مرا محبوب ہے آخر
کراتا ہے مگر مجھ سے ہمیشہ ہی وہ پکوائی
---------------
محبّت بس اسی سے ہی کروں گا میں جیوں جب تک
ضروری بات جو سمجھی وہ پہلے دن ہی لکھوائی
----------یا
یہ ایسی بات تھی اس نے جو پہلے دن ہی لکھوائی
-------------------
بھلی لگتی ہے ارشد کو جو ٹوپی اس نے پہنی ہے
کہ ہے محبوب نے اس کے محبّت سے یہ پہنائی
سکھی رہنا اگر چاہو تو جھیلو تم نہ تنہائی
------------
زمانے نے کیا بدنام تھا ہم کو تو پہلے ہی
محبّت میں تری ہم کو ملی اور بھی رسوائی
---------
یہی پہچان ہے میری محبّت میں تری جینا
زمانہ جانتا ہے مجھ کو تیرا ہوں میں شیدائی
----------
نشانی ہے مری تیرے ، رکھنا حفاظت سے
عبا ہے یہ محبّت سے تجھے میں نے جو پہنائی
----------
جہنّم بن بھی جاتی ہے کبھی یہ زندگی ایسے
ملے محبوب نہ کوئی ستائے تجھ کو تنہائی
---------
جفائیں دے جو بدلے میں وفائیں وہ سبھی پا کر
تبھی محبوب کو ایسے سبھی کہتے ہیں ہرجائی
-------
محبّت دل کا سودا ہے تبھی منظور ہوتا ہے
اگر محبوب کی جانب سے ہو اس کی پزیرائی
-----
محبّت دل میں ہوتی ہے نہیں باتوں سے یہ ارشد
وفاؤں کی یہ دنیا میں بڑی سب سے ہے سچّائی
-----------
( دوسری غزل)
------
یہ مزاح کے انداز میں لکھی ہے۔ اسے مزاح سمجھ کر ہی اصلاح کیجائے
---------------
یہ لازم مار ڈالے گی مجھے میری یہ تنہائی
کروں شادی مگر کیسے ہوئی اتنی ہے مہنگائی
-------------
گیا ہے لڑ کے مجھ سے وہ مرا محبوب روٹھا ہے
یہ جھوٹی بات ہے ساری جو لوگوں نے ہے پھیلائی
----------
انوکھا ہے نرالا ہے مرا محبوب دنیا سے
مگر وہ پیار کرتا ہے اسے کہنا نہ ہرجائی
-------------
اسے میں پیار کرتا ہوں مرا محبوب ہے آخر
کراتا ہے مگر مجھ سے ہمیشہ ہی وہ پکوائی
---------------
محبّت بس اسی سے ہی کروں گا میں جیوں جب تک
ضروری بات جو سمجھی وہ پہلے دن ہی لکھوائی
----------یا
یہ ایسی بات تھی اس نے جو پہلے دن ہی لکھوائی
-------------------
بھلی لگتی ہے ارشد کو جو ٹوپی اس نے پہنی ہے
کہ ہے محبوب نے اس کے محبّت سے یہ پہنائی
 

الف عین

لائبریرین
آپ کا ایک مسئلہ ابھی حل نہیں ہو سکا ہے، اس پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ جس غزل میں نسبتاً ایسی کم اغلاط ہوتی ہیں ان ہر تو میں فوراً مشورے دے دیتا ہوں لیکن جیسی یہ غزل ہے، اس کے دو تین اشعار دیکھتے ہی جب ہر شعر میں وہی غلطی دیکھتا ہوں تو طبیعت مکدر ہو جاتی ہے اور یہی کہتا ہوں کہ الفاظ کی ترتیب بدل کر دیکھیں۔
اس غزل میں:
یہ کتنی بات اچھی ہے... پر غور کریں، ممکنہ ترتیبات یہ ہیں
یہ کتنی بات اچھی ہے
یہ بات کتنی اچھی ہے
کتنی اچھی ہے یہ بات
یہ کتنی اچھی بات ہے
یہ اچھی بات ہے کتنی
یہ کتنی بات ہے اچھی
یہ بات ہے کتنی اچھی
وغیرہ
ممکن تو یوں بھی ہے کہ کتنی یہ اچھی ہے بات
یہ بھی دیکھیے کہ گفتگو میں بات سے پہلے 'اچھی' یا 'کتنی اچھی' بول چال سے قریب ہے، اور 'یہ' اور 'ہے' کی پوزیشن بدلی جا سکتی ہے لہجے کے مطابق
ان میں صرف پہلی اور پانچویں بات ہی درست وزن میں ہے
اب دیکھیں کہ کیا بہتر ہے؟
اسی طرح زمانے نے کیا بدنام تھا... پر غور کریں کہ گفتگو سے قریب کیا الفاظ ہو سکتے ہیں؟
مزاحیہ غزل کا یہ مصرع بھی اوپر ہی نظر آ رہا ہے
کہ ہے محبوب نے اس کے محبّت سے یہ پہنائی
اس کی بھی بہتر ترتیب دیکھیں۔ اس کے بعد ہر شعر کے ہر مصرع یا ٹکڑے کی ترتیب دیکھیں۔
 
آپ کا ایک مسئلہ ابھی حل نہیں ہو سکا ہے، اس پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ جس غزل میں نسبتاً ایسی کم اغلاط ہوتی ہیں ان ہر تو میں فوراً مشورے دے دیتا ہوں لیکن جیسی یہ غزل ہے، اس کے دو تین اشعار دیکھتے ہی جب ہر شعر میں وہی غلطی دیکھتا ہوں تو طبیعت مکدر ہو جاتی ہے اور یہی کہتا ہوں کہ الفاظ کی ترتیب بدل کر دیکھیں۔
اس غزل میں:
یہ کتنی بات اچھی ہے... پر غور کریں، ممکنہ ترتیبات یہ ہیں
یہ کتنی بات اچھی ہے
یہ بات کتنی اچھی ہے
کتنی اچھی ہے یہ بات
یہ کتنی اچھی بات ہے
یہ اچھی بات ہے کتنی
یہ کتنی بات ہے اچھی
یہ بات ہے کتنی اچھی
وغیرہ
ممکن تو یوں بھی ہے کہ کتنی یہ اچھی ہے بات
یہ بھی دیکھیے کہ گفتگو میں بات سے پہلے 'اچھی' یا 'کتنی اچھی' بول چال سے قریب ہے، اور 'یہ' اور 'ہے' کی پوزیشن بدلی جا سکتی ہے لہجے کے مطابق
ان میں صرف پہلی اور پانچویں بات ہی درست وزن میں ہے
اب دیکھیں کہ کیا بہتر ہے؟
اسی طرح زمانے نے کیا بدنام تھا... پر غور کریں کہ گفتگو سے قریب کیا الفاظ ہو سکتے ہیں؟
مزاحیہ غزل کا یہ مصرع بھی اوپر ہی نظر آ رہا ہے
کہ ہے محبوب نے اس کے محبّت سے یہ پہنائی
اس کی بھی بہتر ترتیب دیکھیں۔ اس کے بعد ہر شعر کے ہر مصرع یا ٹکڑے کی ترتیب دیکھیں۔
مقامِ حیرت ہے کہ صبح سے ہم اسی ایک نکتے پر سر کھپارہے ہیں۔ آپ درست فرماتے ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ
ارشد چوہدری بھائی الفاظ کی نشست کو بدلنے کو شاعری جانتے ہیں۔ ہم نے کلیاتِ اقبال کھول لی اور مختلف غزلوں کو دیکھ رہے ہیں۔ اقبال جو مشکل اردو لکھنے کے شوقین ہیں لیکن ان کے کلام کو نثر میں لکھا جائے تو الفاظ کی نشست کو وہی رکھنا پڑتا ہے کو شاعر نے رکھی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بھائی کثرت سے اردو شاعری کا مطالعہ کریں ۔
 
الف عین
@کلیل الرحمٰن
(محترمین--قابلِ فہم بنانے کی کوشش کی ہے۔مجھے امید ہے پہلے سے بہتر ہو گی۔ محترم الف عین صاحب سے خصوصی معذرت ۔ محترم آپ کو بہت تنگ کرتا ہوں ، بس سمجھئے کچھ شاگرد ایسے بھی ہوتے ہیں
-------------
یہ کتنی بات پیاری سی بزرگوں نے ہے فرمائی
سکھی رہنا جو چاہو تم کبھی جھیلو نہ تنہائی
------------
ہمارا نام تھا بدنام ،دنیا بھر میں پہلے ہی
محبّت میں تری ہم کو ملی کچھ اور بھی رسوائی
---------
محبّت میں تری جینا بنی پہچان ہے میری
زمانہ جانتا ہے یہ کہ تیرا ہوں میں شیدائی
----------
نشانی دے رہا ہوں جو اسے رکھنا حفاظت سے
محبّت سے تجھے میں نے عبا جو آج پہنائی
----------
کبھی یہ زندگی ایسے ، جہنّم بن سی جاتی ہے
نہ اپنا پاس ہو کوئی ، ستائے اس کو تنہائی
---------
وفائیں وہ سبھی پا کر ، جفائیں دے رہا ہو جو
تو ایسے بے وفا کو سب ، تبھی کہتے ہیں ہرجائی
-------
محبّت دل کا سودا ہے تبھی منظور ہوتا ہے
اگر محبوب کی جانب سے ہو اس کی پزیرائی
-----
رہیں جذبات الفت کے چھپے دل میں ترے ارشد
ہے جو کچھ بھی ترے دل میں نہ دے چہرے پہ دکھلائی
-----------
( دوسری غزل)
------
یہ مزاح کے انداز میں لکھی ہے۔ اسے مزاح سمجھ کر ہی اصلاح کیجائے
---------------
مجھے اب مار ڈالے ہمیشہ کی یہ تنہائی
کروں شادی مگر کیسے ہوئی اتنی ہے مہنگائی
-------------
ہمارے درمیاں جھگڑا ہوا تھا جو ، جدائی کا ہوا باعث
-----یا
جدائی پر ہوا منتج ہوا جھگڑا ہمارے درمیاں تھا جو
یہ جھوٹی بات ہے ساری جو لوگوں نے ہے پھیلائی
----------
انوکھا ہے نرالا ہے مرا محبوب دنیا سے
مگر وہ پیار کرتا ہے اسے کہنا نہ ہرجائی
-------------
اسے میں پیار کرتا ہوں مرا محبوب ہے آخر
کراتا ہے مگر مجھ سے ہمیشہ ہی وہ پکوائی
---------------
محبّت بس اسی سے ہی کروں گا میں جیوں جب تک
-----یا
مری ساری محبّت کا وہی مرکز رہے گا اب جیوں جب تک
بھروسہ تھا نہیں مجھ پر تبھی یہ بات پہلے دن ہی لکھوائی
----------یا
یہ ایسی بات تھی اس نے جو پہلے دن ہی لکھوائی
-------------------
بھلی لگتی ہے ارشد کو جو ٹوپی اس نے پہنی ہے
کہ ہے محبوب نے اس کے محبّت سے یہ پہنائی
سکھی رہنا اگر چاہو تو جھیلو تم نہ تنہائی
------------
زمانے نے کیا بدنام تھا ہم کو تو پہلے ہی
محبّت میں تری ہم کو ملی اور بھی رسوائی
---------
یہی پہچان ہے میری محبّت میں تری جینا
زمانہ جانتا ہے مجھ کو تیرا ہوں میں شیدائی
----------
نشانی ہے مری تیرے ، رکھنا حفاظت سے
عبا ہے یہ محبّت سے تجھے میں نے جو پہنائی
----------
جہنّم بن بھی جاتی ہے کبھی یہ زندگی ایسے
ملے محبوب نہ کوئی ستائے تجھ کو تنہائی
---------
جفائیں دے جو بدلے میں وفائیں وہ سبھی پا کر
تبھی محبوب کو ایسے سبھی کہتے ہیں ہرجائی
-------
محبّت دل کا سودا ہے تبھی منظور ہوتا ہے
اگر محبوب کی جانب سے ہو اس کی پزیرائی
-----
محبّت دل میں ہوتی ہے نہیں باتوں سے یہ ارشد
وفاؤں کی یہ دنیا میں بڑی سب سے ہے سچّائی
-----------
( دوسری غزل)
------
یہ مزاح کے انداز میں لکھی ہے۔ اسے مزاح سمجھ کر ہی اصلاح کیجائے
---------------
یہ لازم مار ڈالے گی مجھے میری یہ تنہائی
کروں شادی مگر کیسے ہوئی اتنی ہے مہنگائی
-------------
گیا ہے لڑ کے مجھ سے وہ مرا محبوب روٹھا ہے
یہ جھوٹی بات ہے ساری جو لوگوں نے ہے پھیلائی
----------
انوکھا ہے نرالا ہے مرا محبوب دنیا سے
مگر وہ پیار کرتا ہے اسے کہنا نہ ہرجائی
-------------
اسے میں پیار کرتا ہوں مرا محبوب ہے آخر
کراتا ہے مگر مجھ سے ہمیشہ ہی وہ پکوائی
---------------
محبّت بس اسی سے ہی کروں گا میں جیوں جب تک
ضروری بات جو سمجھی وہ پہلے دن ہی لکھوائی
----------یا
اہم سمجھی جو اس نے بات پہلے دن ہی لکھوائی
-------------------
بھلی لگتی ہے ارشد کو جو ٹوپی اس نے پہنی ہے
کہ ہے محبوب نے اس کے محبّت سے یہ پہنائی
 
آخری تدوین:

_عامر

محفلین
(ایک زمین میں دو غزلیں)
----------
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
--------
الف عین
محمّد احسن سمیع :راحل:

(ایک زمین میں دو غزلیں)
----------
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
--------
یہ کتنی بات اچھی ہے بزرگوں نے جو فرمائی
سکھی رہنا اگر چاہو تو جھیلو تم نہ تنہائی
------------
زمانے نے کیا بدنام تھا ہم کو تو پہلے ہی
محبّت میں تری ہم کو ملی اور بھی رسوائی
---------
یہی پہچان ہے میری محبّت میں تری جینا
زمانہ جانتا ہے مجھ کو تیرا ہوں میں شیدائی
----------
نشانی ہے مری تیرے ، رکھنا حفاظت سے
عبا ہے یہ محبّت سے تجھے میں نے جو پہنائی
----------
جہنّم بن بھی جاتی ہے کبھی یہ زندگی ایسے
ملے محبوب نہ کوئی ستائے تجھ کو تنہائی
---------
جفائیں دے جو بدلے میں وفائیں وہ سبھی پا کر
تبھی محبوب کو ایسے سبھی کہتے ہیں ہرجائی
-------
محبّت دل کا سودا ہے تبھی منظور ہوتا ہے
اگر محبوب کی جانب سے ہو اس کی پزیرائی
-----
محبّت دل میں ہوتی ہے نہیں باتوں سے یہ ارشد
وفاؤں کی یہ دنیا میں بڑی سب سے ہے سچّائی
-----------
( دوسری غزل)
------
یہ مزاح کے انداز میں لکھی ہے۔ اسے مزاح سمجھ کر ہی اصلاح کیجائے
---------------
یہ لازم مار ڈالے گی مجھے میری یہ تنہائی
کروں شادی مگر کیسے ہوئی اتنی ہے مہنگائی
-------------
گیا ہے لڑ کے مجھ سے وہ مرا محبوب روٹھا ہے
یہ جھوٹی بات ہے ساری جو لوگوں نے ہے پھیلائی
----------
انوکھا ہے نرالا ہے مرا محبوب دنیا سے
مگر وہ پیار کرتا ہے اسے کہنا نہ ہرجائی
-------------
اسے میں پیار کرتا ہوں مرا محبوب ہے آخر
کراتا ہے مگر مجھ سے ہمیشہ ہی وہ پکوائی
---------------
محبّت بس اسی سے ہی کروں گا میں جیوں جب تک
ضروری بات جو سمجھی وہ پہلے دن ہی لکھوائی
----------یا
یہ ایسی بات تھی اس نے جو پہلے دن ہی لکھوائی
-------------------
بھلی لگتی ہے ارشد کو جو ٹوپی اس نے پہنی ہے
کہ ہے محبوب نے اس کے محبّت سے یہ پہنائی
سکھی رہنا اگر چاہو تو جھیلو تم نہ تنہائی
------------
زمانے نے کیا بدنام تھا ہم کو تو پہلے ہی
محبّت میں تری ہم کو ملی اور بھی رسوائی
---------
یہی پہچان ہے میری محبّت میں تری جینا
زمانہ جانتا ہے مجھ کو تیرا ہوں میں شیدائی
----------
نشانی ہے مری تیرے ، رکھنا حفاظت سے
عبا ہے یہ محبّت سے تجھے میں نے جو پہنائی
----------
جہنّم بن بھی جاتی ہے کبھی یہ زندگی ایسے
ملے محبوب نہ کوئی ستائے تجھ کو تنہائی
---------
جفائیں دے جو بدلے میں وفائیں وہ سبھی پا کر
تبھی محبوب کو ایسے سبھی کہتے ہیں ہرجائی
-------
محبّت دل کا سودا ہے تبھی منظور ہوتا ہے
اگر محبوب کی جانب سے ہو اس کی پزیرائی
-----
محبّت دل میں ہوتی ہے نہیں باتوں سے یہ ارشد
وفاؤں کی یہ دنیا میں بڑی سب سے ہے سچّائی
-----------
( دوسری غزل)
------
یہ مزاح کے انداز میں لکھی ہے۔ اسے مزاح سمجھ کر ہی اصلاح کیجائے
---------------
یہ لازم مار ڈالے گی مجھے میری یہ تنہائی
کروں شادی مگر کیسے ہوئی اتنی ہے مہنگائی
-------------
گیا ہے لڑ کے مجھ سے وہ مرا محبوب روٹھا ہے
یہ جھوٹی بات ہے ساری جو لوگوں نے ہے پھیلائی
----------
انوکھا ہے نرالا ہے مرا محبوب دنیا سے
مگر وہ پیار کرتا ہے اسے کہنا نہ ہرجائی
-------------
اسے میں پیار کرتا ہوں مرا محبوب ہے آخر
کراتا ہے مگر مجھ سے ہمیشہ ہی وہ پکوائی
---------------
محبّت بس اسی سے ہی کروں گا میں جیوں جب تک
ضروری بات جو سمجھی وہ پہلے دن ہی لکھوائی
----------یا
یہ ایسی بات تھی اس نے جو پہلے دن ہی لکھوائی
-------------------
بھلی لگتی ہے ارشد کو جو ٹوپی اس نے پہنی ہے
کہ ہے محبوب نے اس کے محبّت سے یہ پہنائی
السلام علیکم
میں نے کچھ دن پہلے اس فورم میں شمولیت اختیار کی ھے- میں اپنی کچھ شاعری اپ لوڈ کرنا چاہتا ہوں- کیا آ پ مجھے بتا سکتے ہیں کہ یہ آ پشن اس ویب سائٹ کے کونسے صفحہ پر موجود ہے؟
شکریہ
عامر
 
السلام علیکم
میں نے کچھ دن پہلے اس فورم میں شمولیت اختیار کی ھے- میں اپنی کچھ شاعری اپ لوڈ کرنا چاہتا ہوں- کیا آ پ مجھے بتا سکتے ہیں کہ یہ آ پشن اس ویب سائٹ کے کونسے صفحہ پر موجود ہے؟
شکریہ
عامر

اصلاح سخن کے زمرے میں نئی لڑی کھول کر اپنی تخلیقات پیش کیجیے۔ لنک درج ذیل ہے

اِصلاحِ سخن
 

الف عین

لائبریرین
تو اصلاح کے لئے وقت لگایا ہی جائے!
کچھ بہتری ہے تو کچھ بدتری بھی! ا

یہ کتنی بات پیاری سی بزرگوں نے ہے فرمائی
سکھی رہنا جو چاہو تم کبھی جھیلو نہ تنہائی
------------ میں نے لکھا تھا:
یہ کتنی بات اچھی ہے... پر غور کریں، ممکنہ ترتیبات یہ ہیں
یہ کتنی بات اچھی ہے
یہ بات کتنی اچھی ہے
کتنی اچھی ہے یہ بات
یہ کتنی اچھی بات ہے
یہ اچھی بات ہے کتنی
یہ کتنی بات ہے اچھی
یہ بات ہے کتنی اچھی
وغیرہ
ممکن تو یوں بھی ہے کہ کتنی یہ اچھی ہے بات
یہ بھی دیکھیے کہ گفتگو میں بات سے پہلے 'اچھی' یا 'کتنی اچھی' بول چال سے قریب ہے، اور 'یہ' اور 'ہے' کی پوزیشن بدلی جا سکتی ہے لہجے کے مطابق
ان میں صرف پہلی اور پانچویں بات ہی درست وزن میں ہے
اب دیکھیں کہ کیا بہتر ہے؟
یہاں آپ نے اچھی کو پیاری سے بدلا ہے لیکن ترتیب ویسی ہی مجہول ہے! مفہوم کے لحاظ سے بھی ایسے بزرگوں کو احمق ہی کہنا چاہیے جو ایسی بیکار بات کہتے ہیں

ہمارا نام تھا بدنام ،دنیا بھر میں پہلے ہی
محبّت میں تری ہم کو ملی کچھ اور بھی رسوائی
--------- پہلا مصرع بہت بہتر ہو گیا، دوسرا بحر سے خارج ہو گیا، اگر 'اُربی' تقطیع کریں تو وزن میں آتا ہے لیکن مزید کے معنی میں تو یہ تلفظ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ 'بھی' کو نکالنا ضروری ہے
آ
محبّت میں تری جینا بنی پہچان ہے میری
زمانہ جانتا ہے یہ کہ تیرا ہوں میں شیدائی
---------- بنی پہچان ہے میری
اور
تیرا ہوں میں شیدائی
دونوں کا بیانیہ اچھا نہیں۔ مفہوم کے اعتبار سے بھی مجہول ہے۔ اگر شیدائی کے طور پر مشہور ہیں تو محبوب سے تعلق ہی آپ کی پہچان بننا چاہیے نہ کہ اس کے لئے جینا!

نشانی دے رہا ہوں جو اسے رکھنا حفاظت سے
محبّت سے تجھے میں نے عبا جو آج پہنائی
---------- مفہوم مزاحیہ یہ بھی لگ رہا ہے لیکن ویسے ٹھیک ہے

کبھی یہ زندگی ایسے ، جہنّم بن سی جاتی ہے
نہ اپنا پاس ہو کوئی ، ستائے اس کو تنہائی
--------- جہنم بن سی جاتی؟ بجائے 'جہنم سی بن جاتی' آپ کو ہی قبول ہو تو ہو۔ دوسرا مصرع بے ربط بلکہ بے معنی ہے، کس کو ستائے؟

وفائیں وہ سبھی پا کر ، جفائیں دے رہا ہو جو
تو ایسے بے وفا کو سب ، تبھی کہتے ہیں ہرجائی
------- ہرجائی کی تعریف definition کے علاوہ کیا ہے اس شعر میں۔ وفا اور جفا کا پہاڑا پرھا گیا ہے!

محبّت دل کا سودا ہے تبھی منظور ہوتا ہے
اگر محبوب کی جانب سے ہو اس کی پزیرائی
----- درست

رہیں جذبات الفت کے چھپے دل میں ترے ارشد
ہے جو کچھ بھی ترے دل میں نہ دے چہرے پہ دکھلائی
----------- ٹھیک ہے

( دوسری غزل)
------
یہ مزاح کے انداز میں لکھی ہے۔ اسے مزاح سمجھ کر ہی اصلاح کیجائے
---------------
مجھے اب مار ڈالے ہمیشہ کی یہ تنہائی
کروں شادی مگر کیسے ہوئی اتنی ہے مہنگائی
------------- یہ غزل دو بار پوسٹ ہو گئی ہے نہ آپ نے یہ غلطی دیکھنے کی زحمت کی نہ ٹائپنگ کی ممکنہ غلطی۔ شاید 'مار ڈالے گی' ذہن میں ہو گا، بغیر 'گی' کے وزن میں نہیں آتا۔ دوسرے مصرعے میں 'اتنی' کی پوزیشن غلط ہے
ہوئی ہے اتنی مہنگائی
جیسا ٹکڑا آپ کے ذہن میں نہیں آتا جو شاید اسی کا ثبوت ہے کہ آپ مستند شاعری کو غور سے نہیں پڑھتے۔

ہمارے درمیاں جھگڑا ہوا تھا جو ، جدائی کا ہوا باعث
-----یا
جدائی پر ہوا منتج ہوا جھگڑا ہمارے درمیاں تھا جو
یہ جھوٹی بات ہے ساری جو لوگوں نے ہے پھیلائی
---------- پہلا مصرع ایک رکن مفاعیلن زیادہ ہے
ہمارے درمیاں جھگڑا جدائی کا ہوا باعث
ہو سکتا ہے، لیکن دوسرے مصرعے سے ربط نہیں بن رہا
مزاحیہ بھی نہیں بلکہ رونے والی بات ہے یہ تو!

انوکھا ہے نرالا ہے مرا محبوب دنیا سے
مگر وہ پیار کرتا ہے اسے کہنا نہ ہرجائی
------------- کیا نرالا پن ہے۔ اس کا کچھ مذکور؟ کوئی دوسرا ہرجائی کیسے کہہ سکتا ہے یہ تو عاشق ہی خود کہتا ہو گا۔

اسے میں پیار کرتا ہوں مرا محبوب ہے آخر
کراتا ہے مگر مجھ سے ہمیشہ ہی وہ پکوائی
--------------- پکوائی بجائے پکوان کے محاورہ تو نہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ کہیں بولا جاتا ہو۔
ل
محبّت بس اسی سے ہی کروں گا میں جیوں جب تک
-----یا
مری ساری محبّت کا وہی مرکز رہے گا اب جیوں جب تک
بھروسہ تھا نہیں مجھ پر تبھی یہ بات پہلے دن ہی لکھوائی
----------یا
یہ ایسی بات تھی اس نے جو پہلے دن ہی لکھوائی
------------------- پانچ رکنی ہو گئی ہے بحر۔ دوسرا متبادل ہی درست بحر میں ہے

بھلی لگتی ہے ارشد کو جو ٹوپی اس نے پہنی ہے
کہ ہے محبوب نے اس کے محبّت سے یہ پہنائی
-... دوسرے مصرعے کی ترتیب اچھی نہیں
بہرحال ان دونوں غزلوں پر مزید محنت کی ضرورت نہیں
 
Top