اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا حکم سنایا

جاسم محمد

محفلین

جاسم محمد

محفلین
عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تب فرماتے تھے "پرویز مشرف پر آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے جس کی سیدھی سیدھی پھانسی کی سزا ہے"۔ آج جب موصوف کی حکومت ہے اور عدلیہ نے پرویز مشرف کو آرٹیکل 6 کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی ہے تو اسی عمران خان کو ذہنی ٹینشن نے ایسا گھیرا ہوا ہے کہ ان کے منہ کو قبض کی شدید بیماری لاحق ہو گئی ہے کہ ابھی تک ان کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ ویسے وہ بیان دے بھی کیسے سکتے ہیں؟ اصل حکمران جنتا تو کور کمانڈر میٹنگ کے بعد عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپنا ردِ عمل دے چکی، اب کٹھ پتلی حکمران مشکل میں ہے کہ کرے تو کیا کرے؟
پھر وہی بغض عمران۔ جنرل مشرف جن کا بندہ ہے وہ خود ہی اس عدالتی فیصلہ سے نبٹ لیں گے۔ عمران خان کیوں ٹینشن لیں؟
 

جاسم محمد

محفلین
وزیرِ اعظم عمران خان نے مزید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ شرمناک بات یہ ہے کہ مشرف کو پروٹیکٹ کیا جا رہا ہے۔
بالکل صحیح بات کی ہے۔ آج بھی جنرل باجوہ اپنے پیٹی بند بھائی جنرل مشرف کو بچانے کی ہر ممکن کو شش کر رہے ہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
مشرف غدار نہیں ہوسکتے، عدالتی فیصلے پر فوج میں غم و غصہ اور اضطراب ہے: ترجمان پاک فوج


ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی خصوصی عدالت سے سزا پر ردعمل میں کہا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے۔

اسلام آباد میں خصوصی عدالت نے سابق صدر و آرمی چیف پرویز مشرف کو غدار قراردیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔

اس صورتحال پر جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے بعد پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹ میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے پرافواجِ پاکستان میں شدید غم وغصہ اور اضطراب ہے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق جنرل (ر) پرویز مشرف آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور صدرِ پاکستان رہے ہیں، پرویز مشرف نے 40 سال سے زیادہ پاکستان کی خدمت کی ہے اور ملک کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں، وہ کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیس میں آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، خصوصی عدالت کی تشکیل کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور جنرل (ر) پرویز مشرف کو اپنے دفاع کا بنیادی حق بھی نہیں دیا گیا۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ عدالتی کارروائی شخصی بنیاد پر کی گئی، کیس کو عجلت میں نمٹایا گیا ہے لہٰذا افواجِ پاکستان توقع کرتی ہیں کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو آئین پاکستان کے تحت انصاف دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ سنگین غداری کیس کی 6 سال میں 125 سے زائد سماعتیں ہوئیں اور پرویز مشرف پر 5 فریم چارج کیے گئے۔ سابق صدر پرویز مشرف پر آئین توڑنے، ججز کو نظربند کرنے، آئین میں غیر قانونی ترمیم کرنے، بطور آرمی چیف آئین معطل کرنے اور غیر آئینی پی سی او جاری کرنے کا چارج فریم کیا گیا۔

عدالت نے متعدد مرتبہ پرویز مشرف کو وقت دیا لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔
 

جاسم محمد

محفلین
اٹارنی جنرل نے پرویز مشرف کو سزائے موت کے فیصلے کو غلط قرار دے دیا

اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے خصوصی عدالت کے سابق صدر و آرمی چیف پرویز مشرف کو سزائے موت کے فیصلے کو غلط قرار دے دیا۔

اسلام آباد میں خصوصی عدالت نے سابق صدر و آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کو غدار قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔

پاک فوج نے بھی سابق آرمی چیف کو غدار قرار دینے اور سزائے موت کے فیصلے پر اعتراض کیا ہے اور ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پرویز مشرف غدار نہیں ہیں۔

اس پر اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے کہا کہ پرویزمشرف کو سزائے موت دینے کا فیصلہ غلط ہے، میں واضح طور پر کہتا ہوں اس سے زیادہ ظلم کسی کے اوپر نہیں ہوسکتا، یہ ایسی بات ہے جیسے کسی کے بنیادی حق کو مکمل نظر انداز کردیا جائے۔

انہوں نے کہ ایک شخص کو بیان ریکارڈ کیے بغیر پھانسی کی سزاسنانے پر معافی کی گنجائش نہیں، ایک شخص بیمار ہے اسے کہا جاتا ہے کہ آپ یہاں پر آکر بیان دیں اور ایک شخص جو بیمار نہیں ہے، اسے کہا جاتا ہے کہ آپ باہر چلے جائیں۔

اٹارنی جنرل انورمنصور خان کا کہنا تھا کہ فیصلہ جو غلط ہے اس کو غلط کہیں گے اور کہنا چاہیے، جو درخواست دی گئی تھی وہ آج سے ڈیڑھ سال پہلے دی گئی تھی، درخواست تھی کہ سب کو بلایا جائے جس میں جسٹس ڈوگر اور دیگر بھی شامل تھے لیکن اس درخواست کو انھوں نے رد کیا تھا یا ڈس مس کیا تھا اور کورٹ کا یہ کہنا کہ یہ اتنے عرصے کے بعد آئے ہیں یہ مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے پاس اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق موجود ہے۔

خیال رہے کہ خصوصی عدالت کے مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا اور ان پر آئین کے آرٹیکل 6 کو توڑنے کا جرم ثابت ہوتا ہے۔

فیصلے کے مطابق پرویز مشرف پر آئین توڑنے، ججز کو نظر بند کرنے، آئین میں غیر قانونی ترامیم، بطور آرمی چیف آئین معطل کرنے اور غیر آئینی پی سی او جاری کرنے کے آئین شکنی کے جرائم ثابت ہوئے۔

تین رکنی بینچ میں سے دو ججز نے سزائے موت کے فیصلے کی حمایت کی جب کہ ایک جج نے اس سے اختلاف کیا۔ نمائندہ جیو نیوز کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے جج نظر محمد اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
ویسے آج عدلیہ نے کچھ حد تک نظریہ ضرورت نامی داغ کو کم ضرور کر دیا ہے۔
فیصلہ علامتی ہی سہی، تمام پاکستانیوں کو میری طرف سے مبارکباد!
وتعز من تشاء وتزل من تشاء :)
اس فیصلے کا زیادہ اثر مسٹر باجوہ اینڈ کمپنی پر پڑے گا۔ باجوہ ڈاکٹرائن خطرے میں ہے۔
مجھے تو اس فیصلے پہ وہ جملہ یاد آ رہا ہے 'رل تے گئے آں چس بڑی آئی اے'! :)
اس تاریخی عدالتی فیصلہ پر تمام خوش ہونے والے بتائیں کہ اب ن لیگ کے اس بیانیہ کا کیا کرنا ہے جس کے مطابق تین بار کے وزیر اعظم نواز شریف کو بغض سے بھرے ہوئے پانچ ججوں نے فوج کے دباؤ پر نااہل کرکے ناحق گھر بھیج دیا تھا۔
Whats-App-Image-2019-12-17-at-19-24-04.jpg
 

زیرک

محفلین
جب کسی کو سنگین جرم کے مقدمے میں سزا ہو جائے تو پاکستانی قانون مجرم کو سزا کے خلاف اپیل کا حق دیتا ہے، لیکن اپیل دائر کرنے کے لیے مجرم کو خود حاضر ہونا پڑتا ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ اصل حکمرانوں کے اشارے پر عدالت یہ رعایت کر دے کہ چونکہ پرویز مشرف بیمار ہیں اس لیے اپیل ان کے بغیر بھی دائر ہو سکتی ہے۔ پرویز مشرف کو آرٹیکل 6 کے تحت سزا کے بعد میں نہیں کہہ سکتا کہ انہیں اس سے زیادہ رعایت ملے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ کل کلاں زیادہ رعایت دی گئی تو نوازشریف کہہ سکتے ہیں کہ "میرے لیے الگ پیمانہ ہے اور وردی والے پرویزمشرف کے الگ پیمانہ کیوں ہے؟"۔ اب سیناریو ایسا بن رہا ہے کہ؛
1:پرویز مشرف سزا کے خلاف اپیل کریں
2: حکومت آرٹیکل 6 کے بعد سزا پر عمل درآمد کرے
3: صدر مملکت مجرم کی سزا معاف کر دیں
4: فوج مارشل لاء لگا کر سب کا تختہ الٹ دے
پہلی صورت آسان ہے، پرویز مشرف کے طرف سے اپیل دائر کیا جانا آسان حل ہے۔
دوسری آپشن پر عمل درآمد کرنا کمزور حکومت کے بس کی بات نہیں، حکومت ایسا کر گزرے تو ہیرو بن سکتی ہے۔
تیسری آپشن صدر مملکت کے ذریعے جرم معافی درمیانی رستہ ہے لیکن اس صورت میں بدنامی حکومت کے گلے پڑ جائے گی۔
چوتھی آپشن یہ ہو گی کی تمنچہ لیگ پانچویں بار مارشل لاء لگا دے، لیکن عدالت اسے مسترد کر سکتی ہے۔
 

جان

محفلین
حکومت کس کی ہے؟ جنرل باجوہ اور عمران خان کی ہائبرڈ حکومت ہے۔ اکیلے عمران خان امور مملکت نہیں چلا رہے۔
حکومت باجوہ صاحب کی ہے اور خان صاحب ان کی کمپنی کے ایگزیکٹیو آفیسر ہیں اور یاد رہے کمپنی کا مالک کبھی بھی ایگزیکٹیو آفیسر بدلنے کا بزور بازو اختیار رکھتا ہے۔ اسلئے ہائبرڈ شائبرڈ کے دھوکے میں نہ رہیں، موجودہ حکومت ان کی ملازم ہے!
 

جاسم محمد

محفلین
حکومت باجوہ صاحب کی ہے اور خان صاحب ان کی کمپنی کے ایگزیکٹیو آفیسر ہیں اور یاد رہے کمپنی کا مالک کبھی بھی ایگزیکٹیو آفیسر بدلنے کا بزور بازو اختیار رکھتا ہے۔ اسلئے ہائبرڈ شائبرڈ کے دھوکے میں نہ رہیں، موجودہ حکومت ان کی ملازم ہے!
ماضی کی منتخب یا چنتخب حکومتوں کے فوج کے ساتھ تعلقات خراب رہے ہیں۔ اس حکومت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تو عدلیہ نے اپنے پتے پھینکنے شروع کر دئے ہیں۔ یہ حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے جب تک فوج آزاد ادارہ سے حکومت کا ذیلی محکمہ نہیں بن جاتا۔ جیسا کہ آئین ڈیمانڈ کرتا ہے۔
 

جان

محفلین
فورم پر کافی غیر مناسب زبان استعمال ہونے لگ گئی ہے۔ اس طرح سے مکالمے کا لطف جاتا رہتا ہے۔
فرقان بھیا اگر ہم سے ایسی گستاخی ہو گئی ہو تو موقع پہ ہی ہمیں ڈانٹ دیا کریں تاکہ ہمیں اپنی کوتاہیوں کا پتہ چلے اور ہم خود کو صحیح کرنے کی کوشش کریں! جزاک اللہ!
 

جان

محفلین
ماضی کی منتخب یا چنتخب حکومتوں کے فوج کے ساتھ تعلقات خراب رہے ہیں۔ اس حکومت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تو عدلیہ نے اپنے پتے پھینکنے شروع کر دئے ہیں۔ یہ حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے جب تک فوج آزاد ادارہ سے حکومت کا ذیلی محکمہ نہیں بن جاتا۔ جیسا کہ آئین ڈیمانڈ کرتا ہے۔
فی الوقت تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئین کے برعکس حکومت ذیلی محکمہ بنی ہوئی ہے! :)
 
ساری زندگی نواز شریف پر کیس بناتے رہے۔ نواز شریف نے صرف ایک کیس بنایا اور بندہ پھانسی کے پھندے پر پہنچا دیا۔

اسے کہتے ہیں 'سو سنار کی ایک لوہار کی'
۔۔۔۔
منقول
 

فرقان احمد

محفلین
فرقان بھیا اگر ہم سے ایسی گستاخی ہو گئی ہو تو موقع پہ ہی ہمیں ڈانٹ دیا کریں تاکہ ہمیں اپنی کوتاہیوں کا پتہ چلے اور ہم خود کو صحیح کرنے کی کوشش کریں! جزاک اللہ!
بھیا! ہم تو خود یہاں سہمے سہمے سے رہتے ہیں۔ جب ہم ڈانٹنے لگ جائیں تو اسے قربِ قیامت کی نشانی جانیے گا۔ :)
 

عرفان سعید

محفلین
فورم پر کافی غیر مناسب زبان استعمال ہونے لگ گئی ہے۔ اس طرح سے مکالمے کا لطف جاتا رہتا ہے۔
بحث کو بحث رہنے دینے میں نجانے کیا دقت ہے؟ اپنے موقف کو بھرپور انداز میں پیش کرنا ہر ایک کا حق ہے۔ ذاتیات پر مبنی تبصروں کی وجہ سمجھ نہیں آتی!
 

زیرک

محفلین
حکومت کس کی ہے؟ جنرل باجوہ اور عمران خان کی ہائبرڈ حکومت ہے۔ اکیلے عمران خان امور مملکت نہیں چلا رہے۔
آئین کی رو سے کیبنٹ فیصلہ ساز ہوتی ہے، اکیلے عمران خان کو بھی فیصلوں کا اختیار نہیں، تسی ایتھے خیالی حکومت بنائی پھردے او۔ کوئی ہائبرڈ یا خیالی یا ماوراء آئین حکومت نہیں ہے، سب ڈنڈہ بدمعاشی کرتے ہیں، سب خلاف قانون، آئین و حلف ہے جس کی ایک بدمعاش کو سزا مل گئی۔ ایک آج رگڑے میں آیا، اب یہ فیصلہ عدلیہ کی نظیر بن گیا ہے، باقی قانون شکن جرنیلوں کو بھی بعد از مرگ سزا ہونی چاہیے۔ اس کے بعد سیاسی گرگوں کی باری آئے گی اور پھر فیصلے کرنا زیادہ آسان ہو گا، کیونکہ اس بار بسم اللہ مقدس گائے سے ہوئی ہے، جس کی مجھے خوشی ہے۔
 
آخری تدوین:

زیرک

محفلین
چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جنرل پرویز مشرف کیس میں آرٹیکل 6 کے تحت سزا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ "سابق صدر کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے بہت وقت دیا گیا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے، یہ لوگ کیس کو طول دینا چاہتے تھے اسی لیے فیصلہ سنانے میں جلدی کی گئی، تمام تاخیری حربوں کے باوجود معاملے/کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا"۔ چیف جسٹس نے پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ "پرویز مشرف کا کیس اوپن اینڈ شٹ کیس تھا، یہ ایک واضح کیس تھا، عدل کریں تو کسی بات کا کوئی خوف نہیں ہوتا"۔ ان کا کہنا تھا کہ "دانا ڈالا جاتا ہے، میں نےدانا نہیں چگا، کئی مواقع پہ لالچ دیا گیا اور اہم عہدوں کی پیشکش ہوئی"۔
 
Top