برائے اصلاح - فن شعر و شاعری کا تخیل کی جھیل ہے

فلسفی

محفلین
سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے۔

مانا کہ ظلمتوں کی شبِ غم طویل ہے
لیکن یہی نویدِ سحر کی دلیل ہے

عبرت نہیں تو کیا ہے کہ دونوں جہان میں
انسان اپنے نفس کے ہاتھوں ذلیل ہے

لمحات ہجر کے کئی سالوں پہ ہیں محیط
مدت وصالِ یار کی لیکن قلیل ہے

پہرے انانیت کے وہاں ہر قدم پہ ہیں
جس شہرِ دل کے گرد انا کی فصیل ہے

حزن و ملال کے ہیں خزانے بھرے ہوئے
دل رنج کے معاملے میں خود کفیل ہے

بے اختیار ہاتھ جھٹکنے پر ایک دوست
نازک مزاج تھا جو ابھی تک علیل ہے

مدت ہوئی جس آنکھ سے ٹپکے نہیں ہیں اشک
اس میں بلا کا ضبط ہے یا وہ بخیل ہے

لفظوں کو تیرتا ہوا پاؤ گے فلسفیؔ
فن شعر و شاعری کا تخیل کی جھیل ہے​
 

الف عین

لائبریرین
ایک بات مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس طرح کے اشعار بحر سے خارج نہیں ہوتے مگر پھر بھی زبان کو پڑھنے کےلیے دقت کرنی پڑتی ہے۔ محترم الف عین،آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟
دقت نہیں، در اصل ہم بول چال کے تلفظ کے عادی ہیں اور اسی تلفظ کے ساتھ وہ شعر بھی پڑھتے ہیں جس میں درست تلفظ استعمال ہوتا ہے اور جو غلط العوام تلفّظ کو درست سمجھتے ہیں ان کے لیے اس کی بحر کا ادراک مشکل ہوتا ہے۔ اس مصرع میں یہی معاملہ لفظ معاملہ کا ہے جس کا درست تلفظ مُ عَ ا مِ لَ ہ ہے۔ یہاں امالے کے مطابق معاملے بنایا گیا ہے اور تقطیع میں آخر میں 'لِ' ہی آتا ہے 'ے' نہیں۔ جو کہ درست ہے اگرچہ اسقاط اچھا نہیں لگتا
 

الف عین

لائبریرین
فلسفی کی غزل میں مجھے مطلع ہی عجیب لگا ظلمتوں کی شب غم کی وجہ سے۔ ہجر کی شب غم تو ممکن ہے لیکن ظلمات کی؟
اس کے علاوہ صرف یہ شعر
پہرے انانیت کے وہاں ہر قدم پہ ہیں
جس شہرِ دل کے گرد انا کی فصیل ہے
دونوں مصرعوں میں انا کا لفظ دہرایا جانا پسند نہیں آیا
باقی درست لگتے ہیں اشعار
 

فلسفی

محفلین
شکریہ سر
فلسفی کی غزل میں مجھے مطلع ہی عجیب لگا ظلمتوں کی شب غم کی وجہ سے۔ ہجر کی شب غم تو ممکن ہے لیکن ظلمات کی؟
اس کے علاوہ صرف یہ شعر
پہرے انانیت کے وہاں ہر قدم پہ ہیں
جس شہرِ دل کے گرد انا کی فصیل ہے
دونوں مصرعوں میں انا کا لفظ دہرایا جانا پسند نہیں آیا
باقی درست لگتے ہیں اشعار
مطلع اور مذکورہ شعر کا متبادل سوچ کر دوبارہ پیش کروں گا۔
 

عظیم

محفلین
ایک مشورہ میں بھی دینا چاہتا تھا
بے اختیار ہاتھ جھٹکنے پر ایک دوست
نازک مزاج تھا جو ابھی تک علیل ہے
کہ اس شعر کے دوسرے مصرعے میں لفظ 'جو ' ہلکی سی کنفیوژن پیدا کر رہا ہے
میرے خیال میں اس کی جگہ 'سو' کر دیں تو یہ خامی دور ہو جائے گی
 

فلسفی

محفلین
ایک مشورہ میں بھی دینا چاہتا تھا

کہ اس شعر کے دوسرے مصرعے میں لفظ 'جو ' ہلکی سی کنفیوژن پیدا کر رہا ہے
میرے خیال میں اس کی جگہ 'سو' کر دیں تو یہ خامی دور ہو جائے گی
جی محترم آپ کا مشورہ اچھا ہے لیکن اگر نثر میں لکھوں تو یوں کہوں گا کہ
بے اختیار ہاتھ جھٹکنے پر ایک دوست جو نازک مزاج تھا، ابھی تک علیل ہے۔ میری ناقص رائے میں "سو" بھی مناسب ہے لیکن اس کا مطلب شاید کچھ اور بنتا ہے۔ آپ کی اجازت سے سر الف عین کی رائے اس بارے میں طلب کرتے ہیں۔

سر باقی دو اشعار میں یہ تبدیلی مناسب ہے؟
داغِ مفارقت کی شبِ غم طویل ہے یا مفارقت کی شبِ غم طویل ہے
لیکن یہی نویدِ سحر کی دلیل ہے

دوسرا شعر

پہرے غرور اور تکبر کے ہیں وہاں
جس شہرِ دل کے گرد انا کی فصیل ہے
 

الف عین

لائبریرین
'سو' سے بات زیادہ واضح ہو جاتی ہے عظیم کا مشورہ اچھا لگا، میں ایسی باتوں پر اکثر غور نہیں کرتا۔
انا کی فصیل والا شعر تو درست ہے لیکن داغ مفارقت کی شب اور وہ بھی شب غم!
ہجر و فراقِ یار کی گو شب طویل ہے
یا اس قسم کا سادہ مصرع ہو تو اچھا ہے
 
دقت نہیں، در اصل ہم بول چال کے تلفظ کے عادی ہیں اور اسی تلفظ کے ساتھ وہ شعر بھی پڑھتے ہیں جس میں درست تلفظ استعمال ہوتا ہے اور جو غلط العوام تلفّظ کو درست سمجھتے ہیں ان کے لیے اس کی بحر کا ادراک مشکل ہوتا ہے۔ اس مصرع میں یہی معاملہ لفظ معاملہ کا ہے جس کا درست تلفظ مُ عَ ا مِ لَ ہ ہے۔ یہاں امالے کے مطابق معاملے بنایا گیا ہے اور تقطیع میں آخر میں 'لِ' ہی آتا ہے 'ے' نہیں۔ جو کہ درست ہے اگرچہ اسقاط اچھا نہیں لگتا
بہت شکریہ۔ یعنی آخری 'ل 'والے اسقاط کے علاوہ یہ روانی کا نقص نہیں ہے؟
 

فلسفی

محفلین
شکریہ سر
'سو' سے بات زیادہ واضح ہو جاتی ہے عظیم کا مشورہ اچھا لگا، میں ایسی باتوں پر اکثر غور نہیں کرتا۔
ٹھیک ہے سر، @محترم عظیم صاحب آپ کا بھی شکریہ
داغ مفارقت کی شب اور وہ بھی شب غم!
ہجر و فراقِ یار کی گو شب طویل ہے
یا اس قسم کا سادہ مصرع ہو تو اچھا ہے
سر ان میں سے کوئی متبادل ٹھیک ہے

مانا شبِ فراق کی مدت طویل ہے
یا
مانا شبِ فراق کی ظلمت طویل ہے
 

فلسفی

محفلین
مانا شبِ فراق کی مدت طویل ہے
بہتر مصرع ہے

شکریہ سر

مانا شبِ فراق کی مدت طویل ہے
لیکن یہی نویدِ سحر کی دلیل ہے

عبرت نہیں تو کیا ہے کہ دونوں جہان میں
انسان اپنے نفس کے ہاتھوں ذلیل ہے

لمحات ہجر کے کئی سالوں پہ ہیں محیط
مدت وصالِ یار کی لیکن قلیل ہے

پہرے غرور اور تکبر کے ہیں وہاں
جس شہرِ دل کے گرد انا کی فصیل ہے

حزن و ملال کے ہیں خزانے بھرے ہوئے
دل رنج کے معاملے میں خود کفیل ہے

بے اختیار ہاتھ جھٹکنے پر ایک دوست
نازک مزاج تھا سو ابھی تک علیل ہے

مدت ہوئی جس آنکھ سے ٹپکے نہیں ہیں اشک
اس میں بلا کا ضبط ہے یا وہ بخیل ہے

لفظوں کو تیرتا ہوا پاؤ گے فلسفیؔ
فن شعر و شاعری کا تخیل کی جھیل ہے​
 
Top