میرے خواب

منیب الف

محفلین
خواب سنانے سے پہلے ایک بات:
بعض خواب مجھے ایسے آتے ہیں جن میں لگتا ہے جیسے میں مستقبل میں پہنچ گیا ہوں۔
دو تین سال آگے، یا کبھی کبھی پانچ چھ سو سال آگے۔
یہ خواب بھی انھی خوابوں میں سے ہے اور اس میں میرا احساس ہے جیسے میں پچاس یا سو سال آگے کے زمانے میں ہوں۔
جس خواب میں مجھے بم ملا تھا، اس میں بھی میرا یہی احساس تھا کہ میں کم از کم دو تین سو سال آگے پہنچ گیا ہوں۔
بہرحال یہ صرف احساس ہوتا ہے، اس کا یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ میں مستقبل میں ہونے والے واقعات دیکھتا ہوں۔
یہ صرف خواب ہیں، پیشین گوئیاں نہیں ہیں۔
اس وضاحت کے بعد اب خواب سنیے:
میں نے دیکھا کہ میں سفر میں ہوں۔
دن ہے اور راستے میں نماز کا وقت ہو جاتا ہے۔
ٹھیک سے نہیں کہہ سکتا ظہر کا وقت تھا یا عصر کا لیکن غالباً ظہر کا ہو گا کیونکہ دن خاصا روشن تھا۔
قریب ہی مجھے اہلِ دیوبند کی مسجد نظر آتی ہے اور میں اس میں داخل ہو جاتا ہوں۔
نمازی کم ہوتے ہیں اس لیے مجھے بالکل امام صاحب کے پیچھے پہلی صف میں جگہ مل جاتی ہے۔
نماز کے لیے سب کھڑے ہوتے ہیں تو مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ امام صاحب کی پشت قبلے کی طرف جبکہ رخ نمازیوں کی طرف ہے۔
میں سوچتا ہوں،
”منیب! یہ کیا؟ یہ سو پچاس سال میں حالات ایسے بدلے کہ امام صاحب کا رخ ہی بدل گیا!“
پھر دوسری حیرانی مجھے تب ہوتی ہے جب امام صاحب نماز شروع کرنے سے پہلے اعلان فرماتے ہیں،
”بھائیو! تمام مسلمانوں میں اتفاق ہو گیا ہے کہ نماز ایک رکعت کی کر دی جائے۔
اور رکوع اور سجدے کو خارج کر دیا جائے۔
لہٰذا ہم قیام ہی میں کل نماز ادا کریں گے،
اور ہر سورت کی تلاوت کے بعد رفعِ یدین کے ساتھ تکبیر پڑھیں گے۔“
میں مزید حیران ہوتا ہوں کہ سو پچاس سال کے اندر اندر مسلمانوں میں ایسی تبدیلی آ گئی کہ نماز کی ہیئتِ کذائی ہی بدل کے رکھ دی۔
یہ کیسے ہو گیا؟
خیر، میں بھی دوسرے نمازیوں اور امام صاحب کی تقلید میں ان کے فرمان کے مطابق ہی نماز پڑھنے لگتا ہوں۔
وہ پہلی سورت پڑھتے ہیں، پھر تکبیر!
سارے نمازی ہاتھ بلند کرتے ہیں اور میں بھی۔
پھر دوسری سورت، پھر تکبیر!
پھر تیسری سورت، پھر تکبیر!
میں کہتا ہوں،
”منیب! بہتر ہے میں آنکھیں بند کر لوں۔
جب تکبیروں کی آواز آیا کرے گی تب رفعِ یدین کر لیا کروں گا۔“
اسی طرح میں آنکھیں بند کیے ہی ساری نماز پڑھتا ہوں حتیٰ کہ امام صاحب سلام پھیر دیتے ہیں۔
نماز کے بعد میری نظر دائیں طرف کونے میں رکھے ایک پلنگ پر پڑتی ہے جس پر شاید امام صاحب کے ہی دو بچے کھیل رہے ہوتے ہیں۔
میں بھی انھی بچوں کے ساتھ پلنگ پہ جا بیٹھتا ہوں اور سوچتا ہوں،
”منیب! نماز تو پڑھ لی،
لیکن میں آیا کدھر سے تھا؟
اور اب جانا کدھر کو ہے؟“
یہی سوچ رہا ہوتا ہوں کہ خواب ختم ہو جاتا ہے!
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
ماشاءاللہ آپ کافی کثرت سے خواب دیکھتے ہیں ۔
کیا ایسا روزانہ ہی ہوتا ہے ؟یعنی کوئی نہ کوئی خواب ۔۔۔۔
ویسے ہم تو زیادہ تر خواب دن میں دیکھتے ہیں وہ بھی جاگتی آنکھوں سے ۔ :)
نیند والے خواب کم ہی آتے ہیں البتہ آتے ضرور ہیں ۔
 

منیب الف

محفلین
ماشاءاللہ آپ کافی کثرت سے خواب دیکھتے ہیں ۔
کیا ایسا روزانہ ہی ہوتا ہے ؟یعنی کوئی نہ کوئی خواب ۔۔۔
جی ہاں سید عاطف علی بھائی!
تقریباً روزانہ ہی کوئی نہ کوئی خواب دیکھتا ہوں
لیکن لکھ کر محفوظ کرنے کا سلسلہ نیا نیا شروع کیا ہے۔
ویسے جب سے لکھنا شروع کیا ہے، زیادہ یاد رہنے لگے ہیں :lightbulb:
 

منیب الف

محفلین
کل رات میں نے خواب دیکھا کہ میں شام کی سیر کر رہا ہوں۔
سیر کرتے کرتے چوک میں آ جاتا ہوں۔
(یہ وہی چوک ہے جو میرے گھر کے پاس ہے اور جس کا حوالہ میں نے اس واقعے میں دیا تھا۔)
میرا دل کرتا ہے کہ گھر جانے سے پہلے جوس پیتا جاؤں۔
میری نظر ایک نئے جوس کارنر پہ پڑتی ہے۔
میں سوچتا ہوں،
”واہ! چوک میں پہلے ہی جوس کی تین دکانیں ہیں، یہ چوتھی بھی کھل گئی۔
آج اسی سے جوس پیتے ہیں۔“
جب میں اس نئی دکان پر پہنچتا ہوں تو وہاں ایک ہی لڑکا ہوتا ہے۔
میں کہتا ہوں،
”السلام علیکم، بھائی! آپ کا نام کیا ہے؟“
”وعلیکم السلام، جناب! میرا نام عارف ہے۔“
”عارف بھائی! آپ نے نئی دکان کھولی ہے؟“
”جی بالکل، اسی لیے اکیلا ہوں۔
ان شاء اللہ، جلدی اور لڑکے بھی رکھوں گا۔“
”ما شاء اللہ، کیوں نہیں!
چلیں، ابھی ایسا کریں کہ ایک اچھا سا گریپ فروٹ کا جوس بنا دیں۔“
جوس پینے کے بعد میں کہتا ہوں،
”عارف بھائی!
بہت اچھا جوس تھا۔ لگ رہا تھا کہ تازہ پھل سے بنا ہے۔
آپ چونکہ مجھ سے عمر میں چھوٹے ہیں، اس لیے میں بڑے بھائی کے طور پر آپ کو کچھ نصیحت کرنا چاہوں گا۔“
”جی سر، آپ حکم کریں!“
”عارف بھائی! میں جانتا ہوں ابھی آپ کے کام کا وقت ہے۔
سات بج کر سات منٹ ہوئے ہیں۔
میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔
صرف تین منٹ میں تین چیزیں آپ کو بتا کے چلا جاؤں گا۔“
وہ پوری توجہ سے میری بات سننے لگتا ہے۔
میں کہتا ہوں،
”عارف!
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی دکان کامیاب ہو
تو پہلی چیز ہے: مال۔
اگر آپ کا مال پرانا ہے، معیاری نہیں ہے تو آپ کی دکان نہیں چلے گی۔“
عارف ہاں میں سر ہلاتا ہے۔
”دوسری چیز ہے: ریٹ۔
اگر آپ کا مال اچھا ہے لیکن آپ نے مال اچھے ہونے کی وجہ سے ریٹ بھی زیادہ کر دیے ہیں
تو بھی آپ کی دکان نہیں چلے گی۔
اس لیے مال بھی اچھا رکھیں لیکن ساتھ ریٹ بھی مناسب رکھیں۔“
وہ ایک بار پھر ہاں میں سر ہلاتا ہے۔
”تیسری چیز ہے: اخلاق۔
اگر آپ کا مال بھی اچھا ہے، ریٹ بھی اچھے ہیں لیکن اخلاق اچھے نہیں ہیں
تو بھی آپ کی دکان نہیں چلے گی۔
اگر آپ بہت اچھا جوس بہت اچھے ریٹ پر گاہک کے سامنے بدتمیزی سے پیش کریں گے
تو وہ کبھی خوش نہیں ہو گا بلکہ آیندہ آپ کی دکان پہ آئے گا ہی نہیں۔“
یہ نصیحت کرنے کے بعد میں گھڑی دیکھتے ہوئے کہتا ہوں،
”اچھا، عارف بھائی!
سات بج کر دس منٹ ہو گئے۔
اب میں چلتا ہوں، اللہ حافظ!“
”بہت مہربانی سر، خدا حافظ!“
الوداعی مصافحہ کرنے کے بعد میں گھر کی جانب بڑھنے لگتا ہوں کہ راستے میں مجھے دودھ والے کی دکان نظر آتی ہے۔
میں سوچتا ہوں اس سے کھیر کھا لوں اور کچھ نصیحت اسے بھی کرتا چلوں کہ خواب ختم ہو جاتا ہے :star:
خواب سنانے کے بعد اتنا ضرور کہہ دوں کہ میرا مزاج بالکل بھی ناصحانہ نہیں ہے۔
زندگی میں شاید ہی کسی کو اس طرح نصیحتیں کی ہوں :)
 
آخری تدوین:

یاسر شاہ

محفلین
السلام علیکم

منیب بھائی ویسے آپ نے خواب میں نصیحت خوب کی ہے-ایک بار منبر سے ایک عالم نے کہا دس منٹ کا بیان کرونگا-اور انھوں نے ٹھیک دس منٹ میں گھڑی دیکھ کر بات ختم کی- دل بہت متاثر ہوا لہٰذا نفس کو میں نے کہا اے مردود اور کسی عالم کی بات پر عمل کرو نہ کرو ان کی بات پر ضرور کرنا- کیونکہ ان کو بولنے کا شوق نہیں -

آخر میں یہی کہوں گا کہ کوئی دافع قبض نسخہ بھی استعمال میں لائیں-ہم لوگوں کے اکثر خواب بدہضمی کا نتیجہ ہوتے ہیں -

فقط
دعاگو
 

جان

محفلین
میرے خواب میں تو سوائے زلزلہ کے آج کل کچھ نہیں آتا۔ پہلے چند خوابوں میں تو میں اسے حقیقت سمجھتا رہا اور فوراً نیند سے خود کو زبردستی جگا کر باہر نکل جاتا تھا لیکن اب ڈھیٹ بن کر خواب میں ہی سوچ رہا ہوتا ہوں کہ اگر عمارت گر بھی جائے تو مجھے کچھ نہیں ہونے والا۔ واللہ اعلم کیا سلسلہ ہے۔
 

منیب الف

محفلین
وعلیکم السلام یاسر بھائی :rose:
منیب بھائی ویسے آپ نے خواب میں نصیحت خوب کی ہے-
ویسے میں نے نہیں کی، شاید مجھ سے ہو گئی ہے۔
ایک بار منبر سے ایک عالم نے کہا دس منٹ کا بیان کرونگا-اور انھوں نے ٹھیک دس منٹ میں گھڑی دیکھ کر بات ختم کی- دل بہت متاثر ہوا لہٰذا نفس کو میں نے کہا اے مردود اور کسی عالم کی بات پر عمل کرو نہ کرو ان کی بات پر ضرور کرنا- کیونکہ ان کو بولنے کا شوق نہیں -
آپ کی یہی باتیں ہمیں پسند ہیں!
آخر میں یہی کہوں گا کہ کوئی دافع قبض نسخہ بھی استعمال میں لائیں-ہم لوگوں کے اکثر خواب بدہضمی کا نتیجہ ہوتے ہیں -
اور یہی باتیں پسند نہیں :sneaky:
یہ بھی پسند ہیں :jokingly:
آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ اکثر خواب بدہضمی کا نتیجہ ہوتے ہیں
لیکن غالباً انھیں nightmares کہا جاتا ہے۔
ایسے نصیحت بھرے خواب تو خوش ہضمی کی علامت ہیں
:warzish:
 

منیب الف

محفلین
میرے خواب میں تو سوائے زلزلہ کے آج کل کچھ نہیں آتا۔ پہلے چند خوابوں میں تو میں اسے حقیقت سمجھتا رہا اور فوراً نیند سے خود کو زبردستی جگا کر باہر نکل جاتا تھا لیکن اب ڈھیٹ بن کر خواب میں ہی سوچ رہا ہوتا ہوں کہ اگر عمارت گر بھی جائے تو مجھے کچھ نہیں ہونے والا۔ واللہ اعلم کیا سلسلہ ہے۔
بچپن میں مجھے بھی اکثر زلزلوں کے خواب آتے تھے۔
8 اکتوبر 2005ء کے بعد سے نہیں آئے :fingerscrossed:
 

جان

محفلین
بچپن میں مجھے بھی اکثر زلزلوں کے خواب آتے تھے۔
8 اکتوبر 2005ء کے بعد سے نہیں آئے :fingerscrossed:
مجھے بچپن سے پانی سے متعلق زیادہ تر سیلاب اور اس کی وجہ سے تباہی کے خواب بہت آتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ کچھ عرصہ پہلے ہی ختم ہوا ہے۔ حالانکہ میرے دو سے تین حسین ترین خوابوں میں بھی بارش، جھیل کا آنا بھی لازم رہا ہے۔ اب یہ نیا سلسلہ چل پڑا ہے۔ اللہ کریم خیر کریں۔
 

یاسر شاہ

محفلین
اور یہی باتیں پسند نہیں :sneaky:
السلام علیکم

بھائی کبھی بھی آپ کو میری کوئی بات پسند نہ آئے برملا اظہار کر دیا کریں ان شاء اللہ اپنی اصلاح کی کوشش کرونگا -ایک تو آپ کے کہے سے کر بھی چکا ہوں -نام آخر میں نہیں لکھتا -اصلاح کے معاملے میں میرا نظریہ ہے کہ "یو ٹرن" بہتر ہے "کھوتےپن "سے -

باقی جہاں تک بعد ہضمی کا تعلّق ہے میری مراد یہ خواب اور آپ کے والد گرامی کے متعلق خواب نہیں بلکہ وہ بے سر و پا خواب ہیں جو ہم دیکھتے رہتے ہیں -
 

منیب الف

محفلین
کیا آپ یوٹیوب دیکھتے ہیں؟
دیکھتے ہی ہوں گے!
علامہ فوراً بغل گیروی کا نام سنا ہے؟
شاید نہ سنا ہو!
اصلی نام ان کا فرحت عباس شاہ ہے جو شاعری کے بعد اب pranks کر کے بھی خوب نام کما رہے ہیں۔
علامہ صاحب نے ایک فاسٹ فوڈ دکان پر prank کیا تھا جو میرے گھر کے بہت قریب ہے۔
آج کے خواب میں جو لان مجھے نظر آیا، وہ اسی دکان سے دو چار گھر آگے چھوڑ کر موجود ہے۔
اس تمہید کے بعد اب خواب سنیے:
ہوتا کچھ یوں ہے کہ میں گلی کی نکڑ پہ ایک بڑے لان کے آگے کھڑا مالیوں کا انتظار کر رہا ہوں۔
میری ذمہ داری ہے کہ میں لان میں لگے ایک کافی بڑے اور اونچے درخت کی ایک مخصوص شاخ کٹواؤں۔
یہ ذمہ داری شاید لان کے مالک نے مجھے سونپی ہے لیکن خواب میں وہ بذاتِ خود موجود نہیں۔
خیر، کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بالآخر سامنے سے دو مالی آتے دکھائی دیتے ہیں۔
انھیں دیکھ کر میں سوچتا ہوں،
”منیب! مالی تو آ گئے لیکن تھکے ہارے لگتے ہیں۔
شاید پہلے ہی کہیں محنت مزدوری کر کے آ رہے ہیں۔“
جب وہ قریب پہنچتے ہیں تو میں انھیں کہتا ہوں،
”کافی دیر لگا دی آپ نے!
اس درخت کی ایک بڑی شاخ کاٹنی ہے، کاٹ لیں گے؟“
وہ معذرت کرتے ہوئے کہتے ہیں،
”بھائی! ہمیں پتہ نہیں تھا کام ایسا محنت طلب ہے۔
اس میں کافی وقت لگ جائے گا۔
ہمیں پتہ ہوتا تو ہم پہلے یہیں آ جاتے۔
اب تو کافی تھک چکے ہیں۔
ان شاء اللہ، کل کسی وقت آ جائیں گے۔“
ان کے رخصت ہونے کے بعد میں سوچتا ہوں،
”منیب! کل کا انتظار کون کرے؟
بہتر ہے میں خود ہی شاخ کاٹنے کی کوشش کروں۔“
یہ سوچتے ہی میں درخت کے تنے پہ چڑھ جاتا ہوں۔
میرے پاس کلہاڑی وغیرہ تو نہیں ہوتی لیکن میں چھلانگ لگا کر شاخ کے ساتھ لٹک جاتا ہوں
اور اپنے وزن کے ساتھ اسے نیچے گرانے میں کامیاب ہو جاتا ہوں۔
میں کہتا ہوں،
”واہ منیب،
بظاہر ایسی سخت نظر آنے والی شاخ اندر سے اتنی نرم نکلی!
یہ کام تو میں نے اکیلے ہی انجام دے دیا۔“
اسی فتح مندی کے احساس کے ساتھ خواب کی شاخیں بھی ٹوٹ جاتی ہیں :wiltedrose:
 
Top