دیسی خاندانی کہاوتیں ، منطقیں اور غیر منطقی اعتقادات

ام اویس

محفلین
مَنطِق تو ایک قدیم سائنسی علم ہے جس میں کسی بھی لفظ کی تعریف اور استدلال (يا استنتاج) کے طریقہ کار اور اصولوں پر بحث کی جاتی ہے۔ اس کا بانی ارسطو کو قرار دیا جاتا ہے۔
حوالہ
اور کہاوت بھی محاورے کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور محاورات تو ہر تہذیب و ادب کا حصہ ہیں
البتہ توہمات ، رسومات اور بزرگوں کے ایسے اقوال وغیرہ جن کی اصل سمجھے بغیر ان کو توہمات میں شامل کرلیا جاتا ہے
ان پر بات کرنا ، ان کی اصل تلاش کرنا ، اچھے اور برے کو الگ الگ کرنا وغیرہ کافی اچھی اور فائدہ مند بات ہے
 
مَنطِق تو ایک قدیم سائنسی علم ہے جس میں کسی بھی لفظ کی تعریف اور استدلال (يا استنتاج) کے طریقہ کار اور اصولوں پر بحث کی جاتی ہے۔ اس کا بانی ارسطو کو قرار دیا جاتا ہے۔
حوالہ
اور کہاوت بھی محاورے کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور محاورات تو ہر تہذیب و ادب کا حصہ ہیں
البتہ توہمات ، رسومات اور بزرگوں کے ایسے اقوال وغیرہ جن کی اصل سمجھے بغیر ان کو توہمات میں شامل کرلیا جاتا ہے
ان پر بات کرنا ، ان کی اصل تلاش کرنا ، اچھے اور برے کو الگ الگ کرنا وغیرہ کافی اچھی اور فائدہ مند بات ہے
آپ کا شکریہ بہن ،
آپ اس سلسلے میں معلومات شریک کریں ۔
 

ام اویس

محفلین
ہم نے خاندان کی ایک بزرگ خاتون کو یہ بیان کرتے بھی پایا ہے کہ شام کے وقت یعنی بعد از مغرب گھر میں جھاڑو نہیں لگانا چاہیے ۔
اپنے وقت اور موقع کے لحاظ سے صحیح کہتی ہیں ۔ شاید وہ مغرب کے بعد کھانا کھاتی ہوں یا عبادت کے لیے خاموشی چاہتی ہوں
جہاں تک میراخیال ہے صفائی ستھرائی ، جھاڑ پونچھ دن کے وقت کی جاتی ہے ۔ پہلے وقتوں میں کچے صحن ہوتے تھے اور مغرب کے وقت عموما لوگ شام کا کھانا کھاتے تھے مردوں کے کام کاج سے گھر لوٹنے کا وقت ہوتا تھا اس لیے بزرگ خواتین اس وقت جھاڑو لگانے کو نکما پن اور بُرا سمجھتی تھیں ۔ جب ایسے عُذر موجود نہ ہوں تو صفائی کرنے میں کوئی حرج نہیں
یعنی جس کام کا جو وقت مناسب ہو اسی وقت کرنا چاہیے ۔ بے وقت کام کرنا تو ہر دور میں ناپسندیدہ ہے
 

ام اویس

محفلین
قینچی چلانا ۔۔۔ ویسے مجھے اس کی اصل حقیقت کا علم نہیں
لیکن جب جب مجھے کسی نے منع کیا یا نوبت میرے کسی کو منع کرنے تک پہنچی تو چشم تصور نے ایک واقعہ دیکھا
نمو یونہی قینچی چلا رہی تھی اس کی کزن بانو نے ہاتھ بڑھا کر اس سے قینچی لینی چاہی اور اس کی انگلی تیز تیز چلتی قینچی سے کٹ گئی بانو کی امی جان نے جب اپنی بچی کی انگلی لہو میں ڈوبی دیکھی تو نمو کو ایک تھپڑ لگا کر قینچی چھین لی ۔ نمو روتی ہوئی اپنی امی کے پاس پہنچی ۔ امی باورچی خانے میں گھر بھر کے لیے روٹیاں پکا رہی تھیں موسم کی گرمی اور چولہے کی گرمی پہلے ہی ان کا جسم جلا رہی تھی اب جو بٹیا رانی کو بھاں بھاں روتے دیکھا تو غصے پر قابو نہ پاسکیں اور اپنی دیورانی سے لڑنے لگیں ۔ اتنے میں دیور صاحب تھکے ماندے کام سے گھر لوٹے اپنی بیٹی کی خون بہتی انگلی کو دیکھا تو ان کا خون بھی جوش مارنے لگا بیٹی کے آنسو بیوی کو پڑتی ڈانٹ نے بڑی بھابھی کا لحاظ بھلا دیا اور انہیں سختی سے ڈانٹ دیا یہی وقت بڑے بھائی کے گھر آنے کا تھا انہوں نے جب چھوٹے بھائی کو بدتمیزی کرتے دیکھا تو وہ بھی ناراض ہونے لگے
نتیجہ ۔۔۔ قینچی نہ چلاؤ گھر میں لڑائی پڑ جاتی ہے ۔
—————-
ویسے تو ہمارے پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم کے ایک فرمان مبارک کا مفہوم بھی ہے کہ کوئی مسلمان اپنے بھائی کو کسی ہتھیار سے اشارہ نہ کرے ۔ (کہیں ایسا نہ ہو اسے تکلیف پہنچے )
کیونکہ ہماری بزرگ خواتین تک دین کا علم نہیں پہنچا تھا اس لیے انہوں نے اپنی سمجھ کے مطابق گھروں کی اصلاح کے طریقے اختیار کیے جو بعد میں بغیر ان کی حقیقت سمجھے توہمات میں بدلتے گئے
 

جاسمن

لائبریرین
دائیں ہاتھ میں خارش ہو تو پیسہ آتا ہے اور بائیں ہاتھ میں ہو تو پیسہ جاتا ہے۔
ہمارے دائیں ہاتھ میں خارش ہوتی ہے تو ممکنہ دولت کے تصور سے خوب خوش ہوتے ہیں اور یہی حاصل بھی ہوتا ہے۔۔۔۔۔









خوشی

اور بائیں ہاتھ میں خارش ہوتی ہے تو پیسے جاتے ہی ہیں۔۔۔۔





جی ہاں آخر خرچہ تو سارا ماہ چلتا ہی رہتا ہے۔
 

جاسمن

لائبریرین
بائیں آنکھ پھڑکے تو ضرور کچھ ہوتا ہے۔
اوپر والی بات کی طرح یہ بھی درست ثابت ہوا ہے۔
آنکھ اور دل میں کچھ بے چینی تو ہوتی ہی ہے۔
 
قینچی چلانا ۔۔۔ ویسے مجھے اس کی اصل حقیقت کا علم نہیں
لیکن جب جب مجھے کسی نے منع کیا یا نوبت میرے کسی کو منع کرنے تک پہنچی تو چشم تصور نے ایک واقعہ دیکھا
نمو یونہی قینچی چلا رہی تھی اس کی کزن بانو نے ہاتھ بڑھا کر اس سے قینچی لینی چاہی اور اس کی انگلی تیز تیز چلتی قینچی سے کٹ گئی بانو کی امی جان نے جب اپنی بچی کی انگلی لہو میں ڈوبی دیکھی تو نمو کو ایک تھپڑ لگا کر قینچی چھین لی ۔ نمو روتی ہوئی اپنی امی کے پاس پہنچی ۔ امی باورچی خانے میں گھر بھر کے لیے روٹیاں پکا رہی تھیں موسم کی گرمی اور چولہے کی گرمی پہلے ہی ان کا جسم جلا رہی تھی اب جو بٹیا رانی کو بھاں بھاں روتے دیکھا تو غصے پر قابو نہ پاسکیں اور اپنی دیورانی سے لڑنے لگیں ۔ اتنے میں دیور صاحب تھکے ماندے کام سے گھر لوٹے اپنی بیٹی کی خون بہتی انگلی کو دیکھا تو ان کا خون بھی جوش مارنے لگا بیٹی کے آنسو بیوی کو پڑتی ڈانٹ نے بڑی بھابھی کا لحاظ بھلا دیا اور انہیں سختی سے ڈانٹ دیا یہی وقت بڑے بھائی کے گھر آنے کا تھا انہوں نے جب چھوٹے بھائی کو بدتمیزی کرتے دیکھا تو وہ بھی ناراض ہونے لگے
نتیجہ ۔۔۔ قینچی نہ چلاؤ گھر میں لڑائی پڑ جاتی ہے ۔
—————-
ویسے تو ہمارے پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم کے ایک فرمان مبارک کا مفہوم بھی ہے کہ کوئی مسلمان اپنے بھائی کو کسی ہتھیار سے اشارہ نہ کرے ۔ (کہیں ایسا نہ ہو اسے تکلیف پہنچے )
کیونکہ ہماری بزرگ خواتین تک دین کا علم نہیں پہنچا تھا اس لیے انہوں نے اپنی سمجھ کے مطابق گھروں کی اصلاح کے طریقے اختیار کیے جو بعد میں بغیر ان کی حقیقت سمجھے توہمات میں بدلتے گئے
بہن یہاں مقصد بزرگوں کو قصور وار ثابت کر نا نہیں ہے بالکل اچھی باتوں کے ساتھ جو غلط اور بے بنیاد توہمات یکجا ہو گئے ہیں ان کی نشاندہی کرنا ہے تاکہ جو اب تک لاعلم ہے وہ خبردار ہو کر ان توہمات سے کنارہ کشی کر لے ۔
 
آخری تدوین:

جاسمن

لائبریرین
کوا منڈیر پہ بولے تو مہمان آتے ہیں۔
یہ بھی درست ہے جناب۔
پہلے کوے خوب بولتے تھے اور مہمان خوب آتے تھے۔
اب ایک تو کوّے کم ہوگئے اور دوسرے ہم آنگنوں دالانوں سے نکل کر لاؤنج اور بیڈ رومز میں تشریف فرما ہوتے ہیں تو ہمیں آواز ہی نہیں آتی۔۔۔۔۔سو مہمان بھی کم ہوگئے یا آتے ہی نہیں۔
کم مُکّا۔
 
دائیں ہاتھ میں خارش ہو تو پیسہ آتا ہے اور بائیں ہاتھ میں ہو تو پیسہ جاتا ہے۔
ہمارے دائیں ہاتھ میں خارش ہوتی ہے تو ممکنہ دولت کے تصور سے خوب خوش ہوتے ہیں اور یہی حاصل بھی ہوتا ہے۔۔۔۔۔









خوشی

اور بائیں ہاتھ میں خارش ہوتی ہے تو پیسے جاتے ہی ہیں۔۔۔۔





جی ہاں آخر خرچہ تو سارا ماہ چلتا ہی رہتا ہے۔
ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے جب تنخواہ ملنے والی ہوتی ہے۔:D
 
بائیں آنکھ پھڑکے تو ضرور کچھ ہوتا ہے۔
اوپر والی بات کی طرح یہ بھی درست ثابت ہوا ہے۔
آنکھ اور دل میں کچھ بے چینی تو ہوتی ہی ہے۔
یہ ذرا خطرناک معاملہ ہے آپا جی ،
آپ کی بھرجائی کی نظر پڑ جائے تو تفتیش شروع کر دیتی ہے کہ یہ آنکھ کیوں پھڑک رہی ہے ۔:LOL:
 
کوا منڈیر پہ بولے تو مہمان آتے ہیں۔
یہ بھی درست ہے جناب۔
پہلے کوے خوب بولتے تھے اور مہمان خوب آتے تھے۔
اب ایک تو کوّے کم ہوگئے اور دوسرے ہم آنگنوں دالانوں سے نکل کر لاؤنج اور بیڈ رومز میں تشریف فرما ہوتے ہیں تو ہمیں آواز ہی نہیں آتی۔۔۔۔۔سو مہمان بھی کم ہوگئے یا آتے ہی نہیں۔
کم مُکّا۔
متفق ۔:)
 
ویسے کالی بلی راستہ کاٹے تو دن میں ضرور کوئی کام خراب ہوتا ہے۔
وہ الگ بات ہے کہ روز ہی کوئی نہ کوئی کام خراب ہو جاتا ہے۔ باقی دن شاید کچھ اور وجہ ہوتی ہو گی۔ :p
 
ویسے کالی بلی راستہ کاٹے تو دن میں ضرور کوئی کام خراب ہوتا ہے۔
وہ الگ بات ہے کہ روز ہی کوئی نہ کوئی کام خراب ہو جاتا ہے۔ باقی دن شاید کچھ اور وجہ ہوتی ہو گی۔ :p
بھیا ویسا بندہ روز آئینہ بھی تو دیکھتا ہے شاید یہی وجہ ہوتی ہوگی ۔:LOL:
 
کالی بلی کا رستہ کاٹنا۔ شام کو جھاڑو دینا۔ چراغ کو پھونک مارنا۔ چاند گرہن کا حاملہ سے تعلق۔ مہندی کا رنگ زیادہ آنے والی کو خاوند زیادہ محبت والا ملنا۔ دانتوں میں فاصلے اور بالوں کی کمی والوں کا امیر ہونا۔ بدزبان کا صاف دل ہونا۔
ہندوستان ، ایران ، افغانستان ، عربستان ، افریقیا ، قوقاز ، چین ، مشرق بعید اور مغرب میں ہر دور میں جب سے انسان نے چیزوں کو دیکھنا اور سمجھنا شروع کیا ہے فطری طور پر مظاہر فطرت کو اپنے اردگرد ہونے والے معاملات سے جوڑنا بھی ساتھ ساتھ ہی چلتا رہا۔ اتنا ہی رہتا تو مسئلہ زیادہ گھمبیر نہ ہوتا بلکہ سیکھنے کا عمل نکھر جاتا۔ لیکن انسان اپنی لاعلمی کا اعتراف کرنے سے بڑا خوفزدہ ہوتا ہے۔ اب جیسے جیسے اس کے سامنے سوالات آتے گئے اس کا چیزوں سے واقعات کو جوڑنے کا عمل جاری رہا -جتنا کوئی منطق سے دور رہا اتنا ہی بڑا توہم پرست رہا۔ اس میں بڑا کردار دوکاندار طبقہ نے ادا کیا اپنی دکانداریاں بڑھانے چمکانے اور بچانے کے لیئے ۔ اب کسی کو یہ کہہ کر آپ دان۔دکشنا۔خیرات یا مخصوص عبادات کے لیئے رقم یا عوضانہ نہیں دینے پر مجبور کر سکتے تھے کہ تھوڑا تھوڑا روز پڑھا کرو محنت اور عقل استعمال کیا کرو کامیابی ملے گی بلکہ بابا جی کو دو کالی سریاں ، چار مرغیاں ، ساڑھے اکیس کلو جو اور دو تھان سفید کپڑے دو گے تو امتحان میں ضلعے بھر میں اول پوزیشن لو گے - گرمیوں میں صحرا کے سفر پر نکلا لیکن کھانا پانی ساتھ نہ لیا اور جتنا لیا وہ کافی نہ تھا صحرا کے سفر میں لڑھک گیا تو کالی بلی پر ڈال دو، یا پھر پیچھے سے آواز دینے پر ڈال دو اور کچھ ہو نہ ہو کسی مخصوص رنگ کا کپڑا پہننے پر ڈال دو نہ کو تحقیق نہ معلومات نہ عقل کا استعمال - میاں بیوی کی محبت دونوں کی باہمی چاہت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے سے زیادہ مہندی کے رنگ اور بابوں کے تعاویز میں پھنسی ہوئی ہے - نکھٹو بندے کی شادی ایک شکی مزاج عورت سے کروا دو پھر سارا قصور دشمنوں پر ڈال دو۔ خود پسندی کا حماقت کی حد تک شکار عورتیں جب نہ گھر کو اہمیت دیں نہ خاوند کو تو پھر شوہر کوقابو کرنے کے لیئے انہیں بابے یا تعویز ہی چاہیئے ہونگے۔ اپنی اصلاح نہیں -
 

محمداحمد

لائبریرین
ایک بات ہمارے ہاں بہت مشہور ہے اور وہ یہ کہ صفر کا مہینہ مردوں کے لئے بہت بھاری ہوتا ہے ۔ یہ بات کافی سننے میں آتی ہے اور کچھ گھروں میں صفر کے مہینے میں گندم وغیرہ کی گھنگنیاں یا چنے وغیرہ پکا کر تقسیم کرنے کا رواج بھی ہے۔

اس بارے میں مجھے کچھ خاص اندازہ نہیں تھا۔ پھر ایک کتاب پڑھی اور اُس سے اس کے پیچھے موجود اصل معاملے کا پتہ چلا۔

بات یہ ہے کہ عربوں میں چار حرمت والے مہینوں کا بہت پاس رکھا جاتا تھا اور اُس میں ہر قسم کی لڑائی اور جنگ بند ہوتی تھی۔ ان حرمت والے مہینوں میں تین ایک ساتھ یعنی ذی قعدہ ، ذی الحج اور محرم ایک ساتھ ہیں اور رجب الگ ہے۔

ہوتا یہ تھا کہ جب تین حرمت والے ماہ ایک ساتھ آتے تھے تو اہلِ عرب جنگ و جدل سے رُکے رہتے تھے اور جیسے ہی یہ تین مہینے ختم ہوتے، یعنی صفر شروع ہوتا تو تمام رُکی ہوئی لڑائیاں پھر سے شروع ہو جاتیں۔ سو اس وجہ سے خیال کیا جاتا تھا کہ صفر کا مہینہ مردوں کے لئے بھاری ہوتا ہے۔

اب چونکہ نہ تو اُس طرح قبائلی لڑائیاں ہوتی ہیں اور نہ ہی اب حرمت کے مہینوں کا پاس رکھا جاتا ہے سو اب وہ بات نہیں ہے سو اب یہ کہنا کہ صفر کا مہینہ مردوں پر بھاری ہوتا ہے درست نہیں ہے۔

ہمارے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ماہِ صفر کے منحوس ہونے کی نفی کی ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
چیک کرنا پڑے گا۔
آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ اب تو موٹیویشن بھی ڈی موٹیویٹ ہو گئی ہے۔

چیک کرنے کے بجائے لکھ ماریے۔

اور کچھ نہیں تو نئے پاکستان اور پرانے پاکستان کا تقابلی جائزہ ہی لے لیجے۔ کافی ساری پوسٹس ہو سکتی ہیں۔ :)
 
آخری تدوین:
کالی بلی کا رستہ کاٹنا۔ شام کو جھاڑو دینا۔ چراغ کو پھونک مارنا۔ چاند گرہن کا حاملہ سے تعلق۔ مہندی کا رنگ زیادہ آنے والی کو خاوند زیادہ محبت والا ملنا۔ دانتوں میں فاصلے اور بالوں کی کمی والوں کا امیر ہونا۔ بدزبان کا صاف دل ہونا۔
ہندوستان ، ایران ، افغانستان ، عربستان ، افریقیا ، قوقاز ، چین ، مشرق بعید اور مغرب میں ہر دور میں جب سے انسان نے چیزوں کو دیکھنا اور سمجھنا شروع کیا ہے فطری طور پر مظاہر فطرت کو اپنے اردگرد ہونے والے معاملات سے جوڑنا بھی ساتھ ساتھ ہی چلتا رہا۔ اتنا ہی رہتا تو مسئلہ زیادہ گھمبیر نہ ہوتا بلکہ سیکھنے کا عمل نکھر جاتا۔ لیکن انسان اپنی لاعلمی کا اعتراف کرنے سے بڑا خوفزدہ ہوتا ہے۔ اب جیسے جیسے اس کے سامنے سوالات آتے گئے اس کا چیزوں سے واقعات کو جوڑنے کا عمل جاری رہا -جتنا کوئی منطق سے دور رہا اتنا ہی بڑا توہم پرست رہا۔ اس میں بڑا کردار دوکاندار طبقہ نے ادا کیا اپنی دکانداریاں بڑھانے چمکانے اور بچانے کے لیئے ۔ اب کسی کو یہ کہہ کر آپ دان۔دکشنا۔خیرات یا مخصوص عبادات کے لیئے رقم یا عوضانہ نہیں دینے پر مجبور کر سکتے تھے کہ تھوڑا تھوڑا روز پڑھا کرو محنت اور عقل استعمال کیا کرو کامیابی ملے گی بلکہ بابا جی کو دو کالی سریاں ، چار مرغیاں ، ساڑھے اکیس کلو جو اور دو تھان سفید کپڑے دو گے تو امتحان میں ضلعے بھر میں اول پوزیشن لو گے - گرمیوں میں صحرا کے سفر پر نکلا لیکن کھانا پانی ساتھ نہ لیا اور جتنا لیا وہ کافی نہ تھا صحرا کے سفر میں لڑھک گیا تو کالی بلی پر ڈال دو، یا پھر پیچھے سے آواز دینے پر ڈال دو اور کچھ ہو نہ ہو کسی مخصوص رنگ کا کپڑا پہننے پر ڈال دو نہ کو تحقیق نہ معلومات نہ عقل کا استعمال - میاں بیوی کی محبت دونوں کی باہمی چاہت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے سے زیادہ مہندی کے رنگ اور بابوں کے تعاویز میں پھنسی ہوئی ہے - نکھٹو بندے کی شادی ایک شکی مزاج عورت سے کروا دو پھر سارا قصور دشمنوں پر ڈال دو۔ خود پسندی کا حماقت کی حد تک شکار عورتیں جب نہ گھر کو اہمیت دیں نہ خاوند کو تو پھر شوہر کوقابو کرنے کے لیئے انہیں بابے یا تعویز ہی چاہیئے ہونگے۔ اپنی اصلاح نہیں -
بہت شکریہ فیصل بھائی ،
آپ کے تفصیلی تبصرے سے کافی اہم معلومات ملی ، اگر ہم توہمات کو عملی طور پر ترک کرنے کا سلسلہ شروع کر دیں تو کافی حد تک سدھار لایا جا سکتا ہے ۔
 
Top