بابا ئے جدید پشتو غزل امیر حمزہ خان

اے خان

محفلین
تل بہ پہ لار د میڑنو سرہ زم
یمہ پختون د پختنو سرہ زم
حمزہ سفر کہ دحجاز وی نو ھم
زہ د پختون د قافلو سرہ زمپہ پردئی ژبہ خبرے پختون نہ کا
بے لیلا بلا سودا خو مجنون نہ کا
اول خپلہ ژبہ پستہ نورے ژبے
بے بنیادہ عمارت خو سمون نہ کا


بابا ئے جدید پشتو غزل امیر حمزہ خان شنواری کی بائیسویں برسی پرروخان یوسفزئی کی خصوصی تحریر
بابائے غزل، رئیس المتغزلین، اور فخر خیبر،معروف قوم پرست شاعر، ادیب، صوفی، مفکر،مترجم، ناول نگار، ڈرامہ نگار، سفرنامہ نگار اور افسانہ نگار امیر حمزہ خان شینواری1907ء کو ستمبر کے مہینے میں درہ خیبر کے ایک پس ماندہ علاقے لنڈی کوتل میں ملک باز میر خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ 1913ء میں اپنے گاؤں کے پرائمری سکول میں داخل کردیے گئے۔ وہ پڑھائی سے جی چراتے اور اکثر اوقات سکول سے غیر حاضر رہتے تھے۔ ان کی عمر تین برس سے بھی کم تھی جب ان کی والدہ انتقال کرگئیں۔ والدہ کی وفات کے بعد ان کی تربیت ان کی سوتیلی ماں نے اس انداز میں کی کہ حمزہ شنواری کو کبھی بھی یتیم ہونے کا احساس نہیں ہونے دیا۔ سکول سے مسلسل غیر حاضر رہنے کی وجہ سے انہیں والد اسلامیہ کالجیٹ سکول پشاور لے آئے تاکہ یہاں بورڈنگ میں رہنے کی وجہ سے وہ سکول سے بھاگ نہ سکے۔ 1918ء میں وہ دوسری جماعت میں داخل کردیے گئے۔

اس زمانے میں علامہ عنایت اللہ خان المشرقی (خاکسار تحریک کے بانی) اسلامیہ کالجیٹ سکول کے پرنسپل ہوا کرتے تھے جن سے حمزہ شنواری کی کچھ زیادہ جان پہچان نہ تھی، بعد میں جس وقت حمزہ شنواری 1938ء میں ریکارڈنگ کے سلسلے میں دہلی گئے اور خاکسارہوٹل میں رہائش کے دوران علامہ مشرقی سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے حمزہ شینواری سے کہا کہ ’’دیکھو جی یہ عبدالغفار خان(باچا خان) آپ لوگوں کو ہندو بنانا چاہتے ہیں اور تم لوگ اندھوں کی طرح ان کے اشاروں پر چل رہے ہو‘‘۔ حمزہ شنواری نے جواب دیا کہ ’’جناب اگر ہندوستان کے دوسرے رہنماء ہمیں کچھ اور بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کے بارے میں بھی کوئی علم نہیں ہے، باچاخان تو پانچ وقت کے نمازی اور ایک کھرے پختون اور مسلمان ہیں‘‘۔
علامہ مشرقی نے جب ان سے صوبے میں مضبوط سیاسی جماعت کے بارے میں پوچھا تو حمزہ شینواری نے کہاکہ صوبے میں تو ایک ہی پارٹی ہے جس کا نام’’ انڈین نیشنل کانگرس‘‘ ہے۔ اس کے سوا دوسری جماعتوں کی حیثیت برساتی مینڈکوں کی ہے۔
حمزہ شنواری موسیقی کے اس قدر دلدادہ تھے کہ خود بھی ایک اچھے اور مانے ہوئے رباب نواز تھے، نویں جماعت پاس کرنے کے بعد سکول کو خیرباد کہہ گئے اور 19244ء میں طورخم کے مقام پر پاسپورٹ کلرک بھرتی ہوئے۔ اس کے علاوہ قبائلی پولیٹیکل نظام میں بھی بطور کلرک رہ چکے تھے اس دوران ان کی شادی بھی کرادی گئی۔ 1926ء میں جب خیبر ریلوے پر کام شروع ہوا اور ان کے والد کو بھی اس میں ٹھیکہ ملا تو اپنے والد کے منشیوں کے ساتھ حساب کتاب میں معاونت کیا کرتے تھے، بعد میں ریلوے میں ملازمت بھی اختیار کی، چھ ماہ تک بطور گارڈ ڈیوٹی دی مگر کچھ دنوں کے بعد ارباب محمد ذکریا خان کی سفارش پر ٹی ٹی اے مقرر کردیے گئے۔ حمزہ شنواری اپنی سیمابی فطرت کی وجہ سے دیر تک ایک جگہ ملازمت نہیں کرسکتے تھے۔
محکمہ ریلوے سے مستعفی ہوکر اپنے ایک دوست میر عالم کے ہمراہ فلموں میں کام کرنے کی غرض سے بمبئی اور دہلی تک گئے، وہاں ایک مہینے تک رہے مگر کسی فلم کمپنی میں کام نہیں ملا۔ بعد میں انہیں اپنے بھائی احمد آباد کے راستے اجمیر شریف لے گئے اور خواجہ معین الدین چشتی کے مزار پر حاضری دی جہاں ان پر ایک عجیب قسم کی کیفیت طاری ہوگئی۔ یہیں سے ان کے اندر کے صوفی نے انگڑائیاں لیں، 1930ء کو فلمی دنیا میں داخل ہونے کے لیے راولپنڈی بھی گئے تھے اور وہاں پنجاب فلم کمپنی کے ڈائریکٹر ہری رام سیٹھی سے ملے، اور ایک خاموش فلم میں قافلے کے محافظ کا کرداربھی اداکیا، جس وقت واپس گاؤں آئے تو ان کے والد وفات پاچکے تھے۔ ان کے والد کی فاتحہ کے لیے آئی ایک روحانی شخصیت سید عبدالستار شاہ عرف بادشاہ جان سے اتنے متاثر ہوئے کہ ان کے مرید بن گئے اور 1938ء میں ان کے ہاتھ بیعت کی اور اپنے مرشد کی ہدایت پراردو کے بجائے اپنی مادری زبان پشتو میں لکھنا شروع کردیا۔
سن1937ء میں تصوف کے موضوع پر پہلی کتاب ’’تجلیات محمدیہ‘‘ لکھی۔ 1938ء میں ان پر الحاد کا دورہ آیا جو پانچ سال تک رہا، دسمبر1941ء میں دوبارہ بمبئی چلے گئے اور رفیق غزنوی کے کہنے پر پہلی پشتو فلم’’لیلیٰ مجنوں‘‘ کے لیے گیت اور مکالمے لکھے، حمزہ شنواری اس وقت ہفت روزہ اخبارات میں اکثر ’’پارس‘‘ کا مطالعہ کیا کرتے تھے جس کے ایڈیٹر کرم چند اور نائب مدیر سیوک رام باقر ہوا کرتے تھے، اس اخبار میں ان کے افسانے اور مضامین بھی شائع ہوتے تھے۔
سن1939ء میں بننے والی ادبی تنظیم بزم ادب پشتو کے نائب صدر جب کہ 1951ء میں پشتو کی معروف ترقی پسند ادبی تنظیم ’’اولسی ادبی جرگہ‘‘ کے صدر بھی رہے، وہ پاکستان رائٹرز گلڈ سابق صوبہ سرحد کے اولین سیکرٹری جنرل بھی رہ چکے تھے، بحثیت مترجم انہوں نے رحمان بابا کی 204 غزلوں کا منظوم اردو ترجمہ اور علامہ اقبال کے جاوید نامہ اور ارمغان حجازکا بھی پشتو میں منظوم ترجمہ کیا ہے، 1935ء میں جب پشاور سیکرٹریٹ کے اندر آل انڈیا ریڈیو کی شاخ قائم ہوئی اور جس کے انچارج محمد اسلم خٹک مقرر ہوئے تو اس کے لیے حمزہ شینواری نے پہلی بار ’’زمیندار‘‘کے نام سے ایک ڈرامہ لکھا، اس کے بعد قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں انہوں پشاور ریڈیو کے لیے سینکڑوں ڈرامے، فیچرز اور تقریریں لکھیں، انہیں1940ء میں منقعدہ ایک مشاعرے میں پشتو زبان کے معروف شاعر اور ادیب سمندر خان سمندر نے پشتو غزل کے بادشاہ کے خطاب سے نوازا۔
حمزہ بابا کی ایک انفرادیت یہ بھی رہی کہ ساری عمر اپنے قومی اور سادہ قبائلی لباس میں ملبوس رہے۔ وہ 35 کتابوں کے مصنف تھے، جن میں تصوف، شاعری، نفسیات،ثقافت اور ادب کے موضوع پر لکھی گئی کتابیں شامل ہیں۔ ان کا لکھا ہوا ناول ’’نوے چپے‘‘ (نئی موجیں) چودہ ابواب پر مشتمل مشہور ناول ہے جس کا مرکزی خیال پختون اتحاد پر مبنی ہے، ناول کا خاکہ 1947ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوا لیکن ایوب خان کے دور حکومت میں اس پر پابندی عائد کردی گئی۔ ناول میں مذہب، سیاست، قومیت اور ادب جیسے بین الاقوامی مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ ان کے لکھے ہوئے ریڈیائی ڈراموں میں ’’ ژرندہ گڑے‘‘ (پن چکی چلانے والا) بے حد مشہور ڈرامہ ہے جس کی متعدد زبانوں میں تراجم ہوئے ہیں۔’’ژرندے گڑے‘‘ کے قصے میں پختون معاشرے کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے۔
سیاسی شخصیات میں وہ باچاخان کو ایک بہترین مصلح، محب وطن اور عظیم قومی رہنماء کے طور پر پسند کرتے تھے اور ان پر لگائے گئے الزامات کی پر زور الفاظ میں مخالفت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے باچا خان کی وفات پر ایک فکر انگیز اور تاریخی مرثیہ بھی لکھاہے،حمزہ شینواری نے پشتو میں مکتوب نگاری کی صنف میں بھی گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ ان کے بیشتر اشعار ضرب المثل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، وہ انگریزی روزنامہ ’’خیبر میل‘‘ کے پشتو صحفے کے انچارج بھی رہے اور اس کے لیے روزانہ مختلف معاشرتی اور ادبی موضوعات پر’’ ژور فکرونہ‘‘ (گہری سوچیں) کے نام سے کالم بھی
لکھتے رہے۔ بابائے جدید پشتو غزل امیرحمزہ خان شنواری 87 سال کی عمر میں 18 فروری 1994ء کو خالق حقیقی سے جاملے

وائی اغیارچہ د دوزخ ژبہ دہ
زہ بہ جنت تہ د پختو سرہ زم
ح
 

اے خان

محفلین
ستا پہ اننګو کې د حمزہ د وینو سره دي
تہ شوې د پښتو غزلہ ځوان زہ دې بابا کړم

تیرے رخساروں میں حمزہ کے خون کی سرخی ہے
اے پشتو کی غزل تم جوان تو ہوگئی لیکن مجھے بوڑھا کرگئی
 
تل بہ پہ لار د میڑنو سرہ زم
یمہ پختون د پختنو سرہ زم
حمزہ سفر کہ دحجاز وی نو ھم
زہ د پختون د قافلو سرہ زمپہ پردئی ژبہ خبرے پختون نہ کا
بے لیلا بلا سودا خو مجنون نہ کا
اول خپلہ ژبہ پستہ نورے ژبے
بے بنیادہ عمارت خو سمون نہ کا


بابا ئے جدید پشتو غزل امیر حمزہ خان شنواری کی بائیسویں برسی پرروخان یوسفزئی کی خصوصی تحریر
بابائے غزل، رئیس المتغزلین، اور فخر خیبر،معروف قوم پرست شاعر، ادیب، صوفی، مفکر،مترجم، ناول نگار، ڈرامہ نگار، سفرنامہ نگار اور افسانہ نگار امیر حمزہ خان شینواری1907ء کو ستمبر کے مہینے میں درہ خیبر کے ایک پس ماندہ علاقے لنڈی کوتل میں ملک باز میر خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ 1913ء میں اپنے گاؤں کے پرائمری سکول میں داخل کردیے گئے۔ وہ پڑھائی سے جی چراتے اور اکثر اوقات سکول سے غیر حاضر رہتے تھے۔ ان کی عمر تین برس سے بھی کم تھی جب ان کی والدہ انتقال کرگئیں۔ والدہ کی وفات کے بعد ان کی تربیت ان کی سوتیلی ماں نے اس انداز میں کی کہ حمزہ شنواری کو کبھی بھی یتیم ہونے کا احساس نہیں ہونے دیا۔ سکول سے مسلسل غیر حاضر رہنے کی وجہ سے انہیں والد اسلامیہ کالجیٹ سکول پشاور لے آئے تاکہ یہاں بورڈنگ میں رہنے کی وجہ سے وہ سکول سے بھاگ نہ سکے۔ 1918ء میں وہ دوسری جماعت میں داخل کردیے گئے۔

اس زمانے میں علامہ عنایت اللہ خان المشرقی (خاکسار تحریک کے بانی) اسلامیہ کالجیٹ سکول کے پرنسپل ہوا کرتے تھے جن سے حمزہ شنواری کی کچھ زیادہ جان پہچان نہ تھی، بعد میں جس وقت حمزہ شنواری 1938ء میں ریکارڈنگ کے سلسلے میں دہلی گئے اور خاکسارہوٹل میں رہائش کے دوران علامہ مشرقی سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے حمزہ شینواری سے کہا کہ ’’دیکھو جی یہ عبدالغفار خان(باچا خان) آپ لوگوں کو ہندو بنانا چاہتے ہیں اور تم لوگ اندھوں کی طرح ان کے اشاروں پر چل رہے ہو‘‘۔ حمزہ شنواری نے جواب دیا کہ ’’جناب اگر ہندوستان کے دوسرے رہنماء ہمیں کچھ اور بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کے بارے میں بھی کوئی علم نہیں ہے، باچاخان تو پانچ وقت کے نمازی اور ایک کھرے پختون اور مسلمان ہیں‘‘۔
علامہ مشرقی نے جب ان سے صوبے میں مضبوط سیاسی جماعت کے بارے میں پوچھا تو حمزہ شینواری نے کہاکہ صوبے میں تو ایک ہی پارٹی ہے جس کا نام’’ انڈین نیشنل کانگرس‘‘ ہے۔ اس کے سوا دوسری جماعتوں کی حیثیت برساتی مینڈکوں کی ہے۔
حمزہ شنواری موسیقی کے اس قدر دلدادہ تھے کہ خود بھی ایک اچھے اور مانے ہوئے رباب نواز تھے، نویں جماعت پاس کرنے کے بعد سکول کو خیرباد کہہ گئے اور 19244ء میں طورخم کے مقام پر پاسپورٹ کلرک بھرتی ہوئے۔ اس کے علاوہ قبائلی پولیٹیکل نظام میں بھی بطور کلرک رہ چکے تھے اس دوران ان کی شادی بھی کرادی گئی۔ 1926ء میں جب خیبر ریلوے پر کام شروع ہوا اور ان کے والد کو بھی اس میں ٹھیکہ ملا تو اپنے والد کے منشیوں کے ساتھ حساب کتاب میں معاونت کیا کرتے تھے، بعد میں ریلوے میں ملازمت بھی اختیار کی، چھ ماہ تک بطور گارڈ ڈیوٹی دی مگر کچھ دنوں کے بعد ارباب محمد ذکریا خان کی سفارش پر ٹی ٹی اے مقرر کردیے گئے۔ حمزہ شنواری اپنی سیمابی فطرت کی وجہ سے دیر تک ایک جگہ ملازمت نہیں کرسکتے تھے۔
محکمہ ریلوے سے مستعفی ہوکر اپنے ایک دوست میر عالم کے ہمراہ فلموں میں کام کرنے کی غرض سے بمبئی اور دہلی تک گئے، وہاں ایک مہینے تک رہے مگر کسی فلم کمپنی میں کام نہیں ملا۔ بعد میں انہیں اپنے بھائی احمد آباد کے راستے اجمیر شریف لے گئے اور خواجہ معین الدین چشتی کے مزار پر حاضری دی جہاں ان پر ایک عجیب قسم کی کیفیت طاری ہوگئی۔ یہیں سے ان کے اندر کے صوفی نے انگڑائیاں لیں، 1930ء کو فلمی دنیا میں داخل ہونے کے لیے راولپنڈی بھی گئے تھے اور وہاں پنجاب فلم کمپنی کے ڈائریکٹر ہری رام سیٹھی سے ملے، اور ایک خاموش فلم میں قافلے کے محافظ کا کرداربھی اداکیا، جس وقت واپس گاؤں آئے تو ان کے والد وفات پاچکے تھے۔ ان کے والد کی فاتحہ کے لیے آئی ایک روحانی شخصیت سید عبدالستار شاہ عرف بادشاہ جان سے اتنے متاثر ہوئے کہ ان کے مرید بن گئے اور 1938ء میں ان کے ہاتھ بیعت کی اور اپنے مرشد کی ہدایت پراردو کے بجائے اپنی مادری زبان پشتو میں لکھنا شروع کردیا۔
سن1937ء میں تصوف کے موضوع پر پہلی کتاب ’’تجلیات محمدیہ‘‘ لکھی۔ 1938ء میں ان پر الحاد کا دورہ آیا جو پانچ سال تک رہا، دسمبر1941ء میں دوبارہ بمبئی چلے گئے اور رفیق غزنوی کے کہنے پر پہلی پشتو فلم’’لیلیٰ مجنوں‘‘ کے لیے گیت اور مکالمے لکھے، حمزہ شنواری اس وقت ہفت روزہ اخبارات میں اکثر ’’پارس‘‘ کا مطالعہ کیا کرتے تھے جس کے ایڈیٹر کرم چند اور نائب مدیر سیوک رام باقر ہوا کرتے تھے، اس اخبار میں ان کے افسانے اور مضامین بھی شائع ہوتے تھے۔
سن1939ء میں بننے والی ادبی تنظیم بزم ادب پشتو کے نائب صدر جب کہ 1951ء میں پشتو کی معروف ترقی پسند ادبی تنظیم ’’اولسی ادبی جرگہ‘‘ کے صدر بھی رہے، وہ پاکستان رائٹرز گلڈ سابق صوبہ سرحد کے اولین سیکرٹری جنرل بھی رہ چکے تھے، بحثیت مترجم انہوں نے رحمان بابا کی 204 غزلوں کا منظوم اردو ترجمہ اور علامہ اقبال کے جاوید نامہ اور ارمغان حجازکا بھی پشتو میں منظوم ترجمہ کیا ہے، 1935ء میں جب پشاور سیکرٹریٹ کے اندر آل انڈیا ریڈیو کی شاخ قائم ہوئی اور جس کے انچارج محمد اسلم خٹک مقرر ہوئے تو اس کے لیے حمزہ شینواری نے پہلی بار ’’زمیندار‘‘کے نام سے ایک ڈرامہ لکھا، اس کے بعد قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں انہوں پشاور ریڈیو کے لیے سینکڑوں ڈرامے، فیچرز اور تقریریں لکھیں، انہیں1940ء میں منقعدہ ایک مشاعرے میں پشتو زبان کے معروف شاعر اور ادیب سمندر خان سمندر نے پشتو غزل کے بادشاہ کے خطاب سے نوازا۔
حمزہ بابا کی ایک انفرادیت یہ بھی رہی کہ ساری عمر اپنے قومی اور سادہ قبائلی لباس میں ملبوس رہے۔ وہ 35 کتابوں کے مصنف تھے، جن میں تصوف، شاعری، نفسیات،ثقافت اور ادب کے موضوع پر لکھی گئی کتابیں شامل ہیں۔ ان کا لکھا ہوا ناول ’’نوے چپے‘‘ (نئی موجیں) چودہ ابواب پر مشتمل مشہور ناول ہے جس کا مرکزی خیال پختون اتحاد پر مبنی ہے، ناول کا خاکہ 1947ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوا لیکن ایوب خان کے دور حکومت میں اس پر پابندی عائد کردی گئی۔ ناول میں مذہب، سیاست، قومیت اور ادب جیسے بین الاقوامی مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ ان کے لکھے ہوئے ریڈیائی ڈراموں میں ’’ ژرندہ گڑے‘‘ (پن چکی چلانے والا) بے حد مشہور ڈرامہ ہے جس کی متعدد زبانوں میں تراجم ہوئے ہیں۔’’ژرندے گڑے‘‘ کے قصے میں پختون معاشرے کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے۔
سیاسی شخصیات میں وہ باچاخان کو ایک بہترین مصلح، محب وطن اور عظیم قومی رہنماء کے طور پر پسند کرتے تھے اور ان پر لگائے گئے الزامات کی پر زور الفاظ میں مخالفت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے باچا خان کی وفات پر ایک فکر انگیز اور تاریخی مرثیہ بھی لکھاہے،حمزہ شینواری نے پشتو میں مکتوب نگاری کی صنف میں بھی گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ ان کے بیشتر اشعار ضرب المثل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، وہ انگریزی روزنامہ ’’خیبر میل‘‘ کے پشتو صحفے کے انچارج بھی رہے اور اس کے لیے روزانہ مختلف معاشرتی اور ادبی موضوعات پر’’ ژور فکرونہ‘‘ (گہری سوچیں) کے نام سے کالم بھی
لکھتے رہے۔ بابائے جدید پشتو غزل امیرحمزہ خان شنواری 87 سال کی عمر میں 18 فروری 1994ء کو خالق حقیقی سے جاملے

وائی اغیارچہ د دوزخ ژبہ دہ
زہ بہ جنت تہ د پختو سرہ زم
ح
زۂ چ
تل بہ پہ لار د میڑنو سرہ زم
یمہ پختون د پختنو سرہ زم
حمزہ سفر کہ دحجاز وی نو ھم
زہ د پختون د قافلو سرہ زمپہ پردئی ژبہ خبرے پختون نہ کا
بے لیلا بلا سودا خو مجنون نہ کا
اول خپلہ ژبہ پستہ نورے ژبے
بے بنیادہ عمارت خو سمون نہ کا


بابا ئے جدید پشتو غزل امیر حمزہ خان شنواری کی بائیسویں برسی پرروخان یوسفزئی کی خصوصی تحریر
بابائے غزل، رئیس المتغزلین، اور فخر خیبر،معروف قوم پرست شاعر، ادیب، صوفی، مفکر،مترجم، ناول نگار، ڈرامہ نگار، سفرنامہ نگار اور افسانہ نگار امیر حمزہ خان شینواری1907ء کو ستمبر کے مہینے میں درہ خیبر کے ایک پس ماندہ علاقے لنڈی کوتل میں ملک باز میر خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ 1913ء میں اپنے گاؤں کے پرائمری سکول میں داخل کردیے گئے۔ وہ پڑھائی سے جی چراتے اور اکثر اوقات سکول سے غیر حاضر رہتے تھے۔ ان کی عمر تین برس سے بھی کم تھی جب ان کی والدہ انتقال کرگئیں۔ والدہ کی وفات کے بعد ان کی تربیت ان کی سوتیلی ماں نے اس انداز میں کی کہ حمزہ شنواری کو کبھی بھی یتیم ہونے کا احساس نہیں ہونے دیا۔ سکول سے مسلسل غیر حاضر رہنے کی وجہ سے انہیں والد اسلامیہ کالجیٹ سکول پشاور لے آئے تاکہ یہاں بورڈنگ میں رہنے کی وجہ سے وہ سکول سے بھاگ نہ سکے۔ 1918ء میں وہ دوسری جماعت میں داخل کردیے گئے۔

اس زمانے میں علامہ عنایت اللہ خان المشرقی (خاکسار تحریک کے بانی) اسلامیہ کالجیٹ سکول کے پرنسپل ہوا کرتے تھے جن سے حمزہ شنواری کی کچھ زیادہ جان پہچان نہ تھی، بعد میں جس وقت حمزہ شنواری 1938ء میں ریکارڈنگ کے سلسلے میں دہلی گئے اور خاکسارہوٹل میں رہائش کے دوران علامہ مشرقی سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے حمزہ شینواری سے کہا کہ ’’دیکھو جی یہ عبدالغفار خان(باچا خان) آپ لوگوں کو ہندو بنانا چاہتے ہیں اور تم لوگ اندھوں کی طرح ان کے اشاروں پر چل رہے ہو‘‘۔ حمزہ شنواری نے جواب دیا کہ ’’جناب اگر ہندوستان کے دوسرے رہنماء ہمیں کچھ اور بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کے بارے میں بھی کوئی علم نہیں ہے، باچاخان تو پانچ وقت کے نمازی اور ایک کھرے پختون اور مسلمان ہیں‘‘۔
علامہ مشرقی نے جب ان سے صوبے میں مضبوط سیاسی جماعت کے بارے میں پوچھا تو حمزہ شینواری نے کہاکہ صوبے میں تو ایک ہی پارٹی ہے جس کا نام’’ انڈین نیشنل کانگرس‘‘ ہے۔ اس کے سوا دوسری جماعتوں کی حیثیت برساتی مینڈکوں کی ہے۔
حمزہ شنواری موسیقی کے اس قدر دلدادہ تھے کہ خود بھی ایک اچھے اور مانے ہوئے رباب نواز تھے، نویں جماعت پاس کرنے کے بعد سکول کو خیرباد کہہ گئے اور 19244ء میں طورخم کے مقام پر پاسپورٹ کلرک بھرتی ہوئے۔ اس کے علاوہ قبائلی پولیٹیکل نظام میں بھی بطور کلرک رہ چکے تھے اس دوران ان کی شادی بھی کرادی گئی۔ 1926ء میں جب خیبر ریلوے پر کام شروع ہوا اور ان کے والد کو بھی اس میں ٹھیکہ ملا تو اپنے والد کے منشیوں کے ساتھ حساب کتاب میں معاونت کیا کرتے تھے، بعد میں ریلوے میں ملازمت بھی اختیار کی، چھ ماہ تک بطور گارڈ ڈیوٹی دی مگر کچھ دنوں کے بعد ارباب محمد ذکریا خان کی سفارش پر ٹی ٹی اے مقرر کردیے گئے۔ حمزہ شنواری اپنی سیمابی فطرت کی وجہ سے دیر تک ایک جگہ ملازمت نہیں کرسکتے تھے۔
محکمہ ریلوے سے مستعفی ہوکر اپنے ایک دوست میر عالم کے ہمراہ فلموں میں کام کرنے کی غرض سے بمبئی اور دہلی تک گئے، وہاں ایک مہینے تک رہے مگر کسی فلم کمپنی میں کام نہیں ملا۔ بعد میں انہیں اپنے بھائی احمد آباد کے راستے اجمیر شریف لے گئے اور خواجہ معین الدین چشتی کے مزار پر حاضری دی جہاں ان پر ایک عجیب قسم کی کیفیت طاری ہوگئی۔ یہیں سے ان کے اندر کے صوفی نے انگڑائیاں لیں، 1930ء کو فلمی دنیا میں داخل ہونے کے لیے راولپنڈی بھی گئے تھے اور وہاں پنجاب فلم کمپنی کے ڈائریکٹر ہری رام سیٹھی سے ملے، اور ایک خاموش فلم میں قافلے کے محافظ کا کرداربھی اداکیا، جس وقت واپس گاؤں آئے تو ان کے والد وفات پاچکے تھے۔ ان کے والد کی فاتحہ کے لیے آئی ایک روحانی شخصیت سید عبدالستار شاہ عرف بادشاہ جان سے اتنے متاثر ہوئے کہ ان کے مرید بن گئے اور 1938ء میں ان کے ہاتھ بیعت کی اور اپنے مرشد کی ہدایت پراردو کے بجائے اپنی مادری زبان پشتو میں لکھنا شروع کردیا۔
سن1937ء میں تصوف کے موضوع پر پہلی کتاب ’’تجلیات محمدیہ‘‘ لکھی۔ 1938ء میں ان پر الحاد کا دورہ آیا جو پانچ سال تک رہا، دسمبر1941ء میں دوبارہ بمبئی چلے گئے اور رفیق غزنوی کے کہنے پر پہلی پشتو فلم’’لیلیٰ مجنوں‘‘ کے لیے گیت اور مکالمے لکھے، حمزہ شنواری اس وقت ہفت روزہ اخبارات میں اکثر ’’پارس‘‘ کا مطالعہ کیا کرتے تھے جس کے ایڈیٹر کرم چند اور نائب مدیر سیوک رام باقر ہوا کرتے تھے، اس اخبار میں ان کے افسانے اور مضامین بھی شائع ہوتے تھے۔
سن1939ء میں بننے والی ادبی تنظیم بزم ادب پشتو کے نائب صدر جب کہ 1951ء میں پشتو کی معروف ترقی پسند ادبی تنظیم ’’اولسی ادبی جرگہ‘‘ کے صدر بھی رہے، وہ پاکستان رائٹرز گلڈ سابق صوبہ سرحد کے اولین سیکرٹری جنرل بھی رہ چکے تھے، بحثیت مترجم انہوں نے رحمان بابا کی 204 غزلوں کا منظوم اردو ترجمہ اور علامہ اقبال کے جاوید نامہ اور ارمغان حجازکا بھی پشتو میں منظوم ترجمہ کیا ہے، 1935ء میں جب پشاور سیکرٹریٹ کے اندر آل انڈیا ریڈیو کی شاخ قائم ہوئی اور جس کے انچارج محمد اسلم خٹک مقرر ہوئے تو اس کے لیے حمزہ شینواری نے پہلی بار ’’زمیندار‘‘کے نام سے ایک ڈرامہ لکھا، اس کے بعد قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں انہوں پشاور ریڈیو کے لیے سینکڑوں ڈرامے، فیچرز اور تقریریں لکھیں، انہیں1940ء میں منقعدہ ایک مشاعرے میں پشتو زبان کے معروف شاعر اور ادیب سمندر خان سمندر نے پشتو غزل کے بادشاہ کے خطاب سے نوازا۔
حمزہ بابا کی ایک انفرادیت یہ بھی رہی کہ ساری عمر اپنے قومی اور سادہ قبائلی لباس میں ملبوس رہے۔ وہ 35 کتابوں کے مصنف تھے، جن میں تصوف، شاعری، نفسیات،ثقافت اور ادب کے موضوع پر لکھی گئی کتابیں شامل ہیں۔ ان کا لکھا ہوا ناول ’’نوے چپے‘‘ (نئی موجیں) چودہ ابواب پر مشتمل مشہور ناول ہے جس کا مرکزی خیال پختون اتحاد پر مبنی ہے، ناول کا خاکہ 1947ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوا لیکن ایوب خان کے دور حکومت میں اس پر پابندی عائد کردی گئی۔ ناول میں مذہب، سیاست، قومیت اور ادب جیسے بین الاقوامی مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ ان کے لکھے ہوئے ریڈیائی ڈراموں میں ’’ ژرندہ گڑے‘‘ (پن چکی چلانے والا) بے حد مشہور ڈرامہ ہے جس کی متعدد زبانوں میں تراجم ہوئے ہیں۔’’ژرندے گڑے‘‘ کے قصے میں پختون معاشرے کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے۔
سیاسی شخصیات میں وہ باچاخان کو ایک بہترین مصلح، محب وطن اور عظیم قومی رہنماء کے طور پر پسند کرتے تھے اور ان پر لگائے گئے الزامات کی پر زور الفاظ میں مخالفت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے باچا خان کی وفات پر ایک فکر انگیز اور تاریخی مرثیہ بھی لکھاہے،حمزہ شینواری نے پشتو میں مکتوب نگاری کی صنف میں بھی گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ ان کے بیشتر اشعار ضرب المثل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، وہ انگریزی روزنامہ ’’خیبر میل‘‘ کے پشتو صحفے کے انچارج بھی رہے اور اس کے لیے روزانہ مختلف معاشرتی اور ادبی موضوعات پر’’ ژور فکرونہ‘‘ (گہری سوچیں) کے نام سے کالم بھی
لکھتے رہے۔ بابائے جدید پشتو غزل امیرحمزہ خان شنواری 87 سال کی عمر میں 18 فروری 1994ء کو خالق حقیقی سے جاملے

وائی اغیارچہ د دوزخ ژبہ دہ
زہ بہ جنت تہ د پختو سرہ زم
ح
ماتہ شپیلئ د اسرافیل یادہ شی
زۂ چی ٹلئ د مدرسی اورمہ
غالباً ان کا پہلا شعر تھا
 

باسط

محفلین
امیر حمزہ خان شنواری کے بارے میں پڑھ بہت اچھا لگا، اس ویب سائٹ پر یہ میرا پہلا کمنٹ ہے، برائے مہربانی عبدالرحمان بابا اور خوشحال خان خٹک کی زندگی کے بارے میں بھی کوئی مضمون شائع کریں،
 
Top