تعارف میرا تعارف

زیک

مسافر
لیکن دیکھیں تو یہ ریفرنس بھی کسی حد تک معدوم ہو چکا ہے۔ آجکل سپر ہیرو، مارول کامکس کے کرداروں کے نام تو سب کو آتے ہوں گے۔ ہر سال ان کی ایک دو فلمیں بھی ریلیز ہو جاتی ہیں۔ لیکن ٹارزن کی مشہور فلم آئے عرصہ ہی ہو گیا ہو گا۔ اور اگرچہ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا، تاہم اندازہ ہے کہ بچوں کے کارٹون وغیرہ میں بھی اس کے پروگرام شاذونادر ہی آتے ہوں گے۔
http://www.imdb.com/title/tt0918940/?ref_=nv_sr_1
 

زیک

مسافر
یہ تو ابھی آنی ہے۔ امید ہے کہ اس کے بعد اس بابت صورتحال کچھ بہتر ہو گی۔
اور ساتھ ہی امید ہے کہ میں جو موقف پیش کرنا چاہ رہا تھا، وہ کچھ نہ کچھ سمجھا پایا ہوں۔
آپ کا موقف سمجھ گیا مگر پھر بھی سمجھ نہیں آیا کہ یہاں اپنے ارد گرد ایسا مسئلہ نظر نہیں آیا اس لئے یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ وہاں ایسا کیوں ہو رہا ہے۔
 

یاز

محفلین
آپ کا موقف سمجھ گیا مگر پھر بھی سمجھ نہیں آیا کہ یہاں اپنے ارد گرد ایسا مسئلہ نظر نہیں آیا اس لئے یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ وہاں ایسا کیوں ہو رہا ہے۔

زیک بھائی! میں بھی صرف ہمارے یہاں کا معاملہ بیان کر رہا ہوں۔ باقی دنیا میں تو جتنا میں نے دیکھا، تقریباً ہر شخص کے ہاتھ میں کتاب نظر آتی ہے (یا اب کِنڈل وغیرہ)۔ یہاں تو اخبار خرید کے پڑھنے والے بھی کم کم ہیں۔ کبھی کسی سرکاری لائبریری میں جانا ہو تو وہاں کا لائبریرین یا منتظم بندے کو پاگل یا مشکوک گردانتا ہے، کہ کتاب پڑھنے تو یقیناً نہیں آیا ہو گا۔ کوئی اور مقصد ہو گا (ڈیٹ وغیرہ)۔
آپ اگر پہلے سے نہیں جانتے تو سن کے حیران ہوں گے کہ ہمارے ہاں عمومی طور پہ کسی شاعر یا ادیب کی کتاب فقط 500 کی تعداد میں چھپتی ہے (کہ اس سے کم چھاپی نہیں جاتی)، اور وہ بھی زیادہ تر لائبریری والے خریدتے ہیں۔
 
آخری تدوین:

یاز

محفلین
ویسے ابھی خیال آیا کہ ایسی خشک، بنجر اور ثقیل گفت و شنید دیکھ کے صاحبِ لڑی نے بھاگ لینے میں عافیت جانی ہے شاید۔
:D:D
 

زیک

مسافر
کبھی کسی سرکاری لائبریری میں جانا ہو تو وہاں کا لائبریرین یا منتظم وغیرہ بندے کو پاگل یا مشکوک گردانتا ہے، کہ کتاب پڑھنے تو یقیناً نہیں آیا ہو گا۔ کوئی اور مقصد ہو گا (ڈیٹ وغیرہ)۔
لائبریری میں ڈیٹنگ کا بھی اپنا ہی مزہ ہو گا۔
 

arifkarim

معطل
زیک
آپ اگر پہلے سے نہیں جانتے تو سن کے حیران ہوں گے کہ ہمارے ہاں عمومی طور پہ کسی شاعر یا ادیب کی کتاب فقط 500 کی تعداد میں چھپتی ہے (کہ اس سے کم چھاپی نہیں جاتی)، اور وہ بھی زیادہ تر لائبریری والے خریدتے ہیں۔
حضرت عمر سے متعلق ایک روایت ہے کہ جب فارس فتح ہوا تو مسلم فوج کے سربراہ نے خط لکھ کر دریافت فرمایا کہ یہاں موجود کتب و کتب خانوں کا کیا جائے۔ اسپر حضرت عمر نے جواب بھیجا کہ اگر انکی کتب قرآن کے متصادم ہیں تو انہیں ضائع کر دیا جائے اور اگر متصادم نہیں تو ہمیں انکی ضرورت نہیں۔
آج ۱۴۰۰ سال بعد الباکستانی اس روایت پر پختگی سے عمل کر رہے ہیں۔ قرآن پاک کے علاوہ اور کوئی کتاب نہ زیادہ تعداد میں چھپتی ہے نہ بکتی ہے۔ اسٹینڈرڈ تدریس کی کتب بھی مجبوراً چھاپتے ہیں کہ انکو پڑھے بغیر پاس کیسے ہوں گے۔
 
اب لڑی اپنے ٹریک سے اتر ہی چکی چلو ہم بھی اپنی ٹانگیں اڑا ہی دیتے ہیں۔
زیک بھائی! میں بھی صرف ہمارے یہاں کا معاملہ بیان کر رہا ہوں۔ باقی دنیا میں تو جتنا میں نے دیکھا، تقریباً ہر شخص کے ہاتھ میں کتاب نظر آتی ہے (یا اب کِنڈل وغیرہ)۔ یہاں تو اخبار خرید کے پڑھنے والے بھی کم کم ہیں۔ کبھی کسی سرکاری لائبریری میں جانا ہو تو وہاں کا لائبریرین یا منتظم وغیرہ بندے کو پاگل یا مشکوک گردانتا ہے، کہ کتاب پڑھنے تو یقیناً نہیں آیا ہو گا۔ کوئی اور مقصد ہو گا (ڈیٹ وغیرہ)۔
آپ اگر پہلے سے نہیں جانتے تو سن کے حیران ہوں گے کہ ہمارے ہاں عمومی طور پہ کسی شاعر یا ادیب کی کتاب فقط 500 میں چھپتی ہے (کہ اس سے کم چھاپی نہیں جاتی)، اور وہ بھی زیادہ تر لائبریری والے خریدتے ہیں۔
لائبریریوں کے حال کچھ یوں ہے کہ ا پنے قصبے کی لائبریر ی گیا،پہلے تو مجھے معلوم ہی کچھ ماہ پہلے ہوا کہ قصبے میں لائبریری ہے اب جو وہاں گیا تو وہاں کتابوں سے زیادہ تعداد عملے کی تھی۔ جو چند ایک کتابیں تھیں ان میں زیادہ تر پنجاب ٹیکسٹ بک تھیں۔ اب جو ان سے پوچھا لائبریری کا یہ حال تو کہنے لگے "پاء فنڈ نہیں ملدے" میں نے پوچھا "تنخواہ ملدی اے" کہتے "آہو" میں نے دل میں ہی کہا "چلو کھائی جاؤ" اسکے علاوہ ضلع (شیخوپورہ ) میں بھی کوئی خاص لائبریری نہیں۔
تصور کرنے کی کیا ضرورت ہے!
بقول شخصے" یہ نہ تھی ہماری قسمت وغیرہ"
کیونکہ محفل کی اکثریت کا کلچرل ریفرینس آپکے گیلے کمبلوں سے بہت مختلف ہے :)
یہ "گیلے کمبلوں" کا راز بھی افشاء ہو ہی جائے
اک تے ایہہ شخصا لے کے بہہ گیا سانوں۔
ناں بھائی شخصے کو کچھ نہیں کہنا بقول شخصے
اوندے نام لا کر
کھڈ لو دل دی بھڑاس جنی کھڈنی اے
 

arifkarim

معطل
لائبریریوں کے حال کچھ یوں ہے کہ ا پنے قصبے کی لائبریر ی گیا،پہلے تو مجھے معلوم ہی کچھ ماہ پہلے ہوا کہ قصبے میں لائبریری ہے اب جو وہاں گیا تو وہاں کتابوں سے زیادہ تعداد عملے کی تھی۔ جو چند ایک کتابیں تھیں ان میں زیادہ تر پنجاب ٹیکسٹ بک تھیں۔ اب جو ان سے پوچھا لائبریری کا یہ حال تو کہنے لگے "پاء فنڈ نہیں ملدے" میں نے پوچھا "تنخواہ ملدی اے" کہتے "آہو" میں نے دل میں ہی کہا "چلو کھائی جاؤ" اسکے علاوہ ضلع (شیخوپورہ ) میں بھی کوئی خاص لائبریری نہیں۔
فنڈنز کتب کی بجائے ملازمین کھا جاتے ہیں تو لائبریری کیا خاک چلے گی :)
 
Top