ناصر کاظمی تم آ گئے ہو تو کیوں اِنتظارِ شام کریں

شیزان

لائبریرین
تم آ گئے ہو تو کیوں اِنتظارِ شام کریں
کہو تو کیوں نہ ابھی سے کچھ اہتمام کریں
​

خلوص و مہر و وفا لوگ کر چکے ہیں بہت
مرے خیال میں اب اور کوئی کام کریں
​

یہ خاص وعام کی بیکار گفتگو کب تک!
قبوُل کیجیے، جو فیصلہ عوام کریں
​

ہر آدمی نہیں ‌شائستۂ رموزِ سُخن
وہ کم سُخن ہو مخاطب تو ہم کلام کریں
​

جُدا ہوئے ہیں بہت لوگ، ایک تم بھی سہی
اب اِتنی بات پہ کیا زندگی حرام کریں
​

خُدا اگر کبھی کچھ اِختیار دے ہم کو
تو پہلے خاک نِشینوں کا انتظام کریں
​

رہِ طلب میں جو گمنام مر گئے ناصر
متاعِ درد انہی ساتھیوں کے نام کریں

ناصر کاظمی
​
 

طارق شاہ

محفلین

جُدا ہوئے ہیں بہت لوگ، ایک تم بھی سہی
اب اِتنی بات پہ کیا زندگی حرام کریں


بہت خوب انتخاب !

تشکر شیئر کرنے پر
:)
​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top