برائے اصلاح ۔۔۔ ایک غزل

نور وجدان

لائبریرین
مجھ کو پینا زہر کا اب پیالہ ہے
مار شہرت نے مجھے جو ڈالا ہے


اس کی فطرت شوخ موسم جیسی تھی
وہ خزاں میں چھوڑ جانے والا ہے


زخم اس کے مضحمل ہوتے نہیں
یونہی دم میرا نکل بھی جانا ہے


دل کی بستی بارشوں سے اجڑی ہے
ہر گھڑی اب کیا جی کا بہلانا ہے


منتظر ہو سحر کی تم نور کیوں ...؟
مستقل کیا اس جہاں میں رہنا ہے....؟
 
آخری تدوین:
نور سعدیہ شیخ صاحبہ میری طرف سے اپنی اس کاوش کی داد قبول فرمائیں۔
ہاں ایک بات ہے مجھے آپ کی طرف سے اس سے بہتر کلام کی توقع تھی جو تاحال برقرار ہے۔ امید کرتا ہوں آپ کی طرف سے آنے والا کلام عوامی خواہشات کو پورا کرے گا
اس غزل پر گفتگو کرنا آپ کے کہنے کے مطابق ہے ( بحوالہ ان بکس)
 

نور وجدان

لائبریرین
مجھے بے حد خوشی ہے کہ آپ نے اس لائق سمجھا وگرنہ اس قابل نہیں. کوشش کروں گی بہتری لاؤں. مگر اس کے ساتھ شکریہ کہ آپ نے داد بھی دی ...
 
اس غزل میں پانچ اشعار ہیں مطلع اور پہلے شعر میں اور پھر باقی اشعار میں قافیہ تبدیل ہونے سے مجھے یہ تاثر مل رہا ہے کہ شائد آپ نے اس کلام پر از خود نظر ثانی نہیں فرمائی۔ اگر آپ خود یہ ضروری کام سر انجام دے لیں تو جو بہتری آپ پیدا کر سکتی ہیں وہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔
اس سے پیشتر کہ اساتذہ اس غزل پر ایک ایک شعر کر کہ گفتگو کریں میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ خود ہر ایک شعر کو بغور دیکھ لیں ۔
 

ابن رضا

لائبریرین
اچھی کوشش ہے۔ مزید محنت کیجیے۔

میری رائے میں

مطلع دولخت ہے۔ اور تعقیدِ لفظی کا شکار ہے۔

دوسرا شعر کچھ بہتر ہے مگر محبوب اگر موسموں کی طرح ہے تو خزاں کے علاوہ بھی موسم ہوتے ہیں تو صرف خزاں کا شکوہ کیوں

زخم کیسے معطر ہو تے ہیں؟

اگلا شعر ابلاغ نہیں دے رہا۔

مقطع خوب ہے مگر مصرع اولیٰ میں روانی کی کمی ہے الفاظ کی نشست بدل کر دیکھیں۔

اسی طرح محنت جاری رکھیں
 
آخری تدوین:

ابن رضا

لائبریرین
اس غزل میں پانچ اشعار ہیں مطلع اور پہلے شعر میں اور پھر باقی اشعار میں قافیہ تبدیل ہونے سے مجھے یہ تاثر مل رہا ہے کہ شائد آپ نے اس کلام پر از خود نظر ثانی نہیں فرمائی۔ اگر آپ خود یہ ضروری کام سر انجام دے لیں تو جو بہتری آپ پیدا کر سکتی ہیں وہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔
اس سے پیشتر کہ اساتذہ اس غزل پر ایک ایک شعر کر کہ گفتگو کریں میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ خود ہر ایک شعر کو بغور دیکھ لیں ۔
قافیہ مشکوک تو ہے مگر درست ہے۔ کہ مطلع میں روی کا اعلان بطور الف موجود ہے۔ الف اور ہ ایک ساتھ ہو سکتے ہیں۔ مصرع اولی میں روی ہ ہے اور ثانی میں ل ۔ تاہم اگر مطلع میں اصلی اور وصلی روی کو جمع کیا جائے تو پھر دیگر ابیات میں وصلی روی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم
 

نور وجدان

لائبریرین
قافیہ مشکوک تو ہے مگر درست ہے۔ کہ مطلع میں روی کا اعلان بطور الف موجود ہے۔ الف اور ہ ایک ساتھ ہو سکتے ہیں۔ مصرع اولی میں روی ہ ہے اور ثانی میں ل ۔ تاہم اگر مطلع میں اصلی اور وصلی روی کو جمع کیا جائے تو پھر دیگر ابیات میں وصلی روی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم

کچھ میں اس طرح سوچ رہی تھی مگر سوچا شاید غلط پڑھا ہوگا
 

ابن رضا

لائبریرین
مطلع دو لخت ہے؟ زندگی زہر کا پیالہ بن گئ ..شہرت کے معانی نفی میں ہیں ..
شاید اس لیے کہ زندگی زہر کا پیالہ اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ زندگی بےشمار جان لیوا رنج و الم کا مجموعہ ہے تاہم مصرع ثانی میں اس کو صرف شہرت پہ موقوف کر دیا
 

نور وجدان

لائبریرین
شاید اس لیے کہ زندگی زہر کا پیالہ اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ زندگی بےشمار جان لیوا رنج و الم کا مجموعہ ہے تاہم مصرع ثانی میں اس کو صرف شہرت پہ موقوف کر دیا
رضا بھائ یہ شعر اچانک بنا جب مجھے سقراط کا خیال آیا. اس کو شہرت کی وجہ سے زہر کا پیالہ پینا پڑا یہ سوچتے سوچتے اس کو اپنے شعر میں ڈھال لیا. میں کچھ مخمصے میں ہوں اس لیے دوبارہ پوچھ رہی ہوں. ورنہ پھر بدل دوں گی.
 

ابن رضا

لائبریرین
رضا بھائ یہ شعر اچانک بنا جب مجھے سقراط کا خیال آیا. اس کو شہرت کی وجہ سے زہر کا پیالہ پینا پڑا یہ سوچتے سوچتے اس کو اپنے شعر میں ڈھال لیا. میں کچھ مخمصے میں ہوں اس لیے دوبارہ پوچھ رہی ہوں. ورنہ پھر بدل دوں گی.
معنی در بطن شاعر سے قاری ناواقف ہوتا۔ ابلاغ بہتر کریں تو شاید بات بن جائے
 

الف عین

لائبریرین
اس پر خود نظر ثانی کرو تو بہتر ہے۔ بحر بھی تبدیل کی جائے تو اچھا ہے۔ موجودہ بحر، اگر وہی ہے جو میں سمجھا ہوں، تو تو آخیر میں الف کا اسقاط اچھا نہیں لگتا، ’ہے‘ سے پہلے۔ ڈال ہے، جان ہے
 
مجھ کو پینا زہر کا اب پیالہ ہے
مار شہرت نے مجھے جو ڈالا ہے
اس کی فطرت شوخ موسم جیسی تھی
وہ خزاں میں چھوڑ جانے والا ہے
پہلے تو آپ کی اس کوشش پہ داد ۔داد قبول کیجیے۔۔
اس کے بعد میری ناقص رائے میں اس غزل کے پہلے دو اشعار میں قوافی درست اور باقی اشعار میں قوافی درست نہیں ہیں۔
آخری والا حرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہ،ا۔۔۔۔روی
اس سے منسلک پہلے والا حرف۔۔۔۔ل۔۔۔۔۔دخیل
اور دخیل سے پہلے والا الف۔۔۔۔۔ا۔۔۔۔۔۔تاسیس
یہاں مطلع میں روی کے ساتھ ساتھ دخیل اور الف تاسیس کا بھی اعلان ہو گیا اس بعد کے اشعار میں اس کی پابندی لازم ٹھہرے گی۔
یعنی
پیالہ۔ژالہ۔ڈھالہ۔۔ہالہ۔۔۔نالہ۔۔والا۔۔مالا۔۔ڈالا۔۔کالا۔۔۔ وغیرہ قوافی ہی اس غزل میں درست ہوں گے مطلع کے اعلان کے مطابق۔۔
یہ میری ناقص رائے ہے آپ اس سے اختلاف کا حق محفوظ رکھتی ہیں
والسلام
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
میِں بحر تبدیل کرکے دوبارہ آؤں گی ... آپ کے مشورے کے مطابق نظر ثانی کر کے محترم استاد الف عین
فاروق رضا بھائ نے گوکہ جو بات کی اس سے متفق تھی مگر اب میں قوافی تبدیل کردوں گی. ادب دوست بھی یہ کہ رہے تھے ... شکریہ فاروق بھائی
 

ابن رضا

لائبریرین
پہلے تو آپ کی اس کوشش پہ داد ۔داد قبول کیجیے۔۔
اس کے بعد میری ناقص رائے میں اس غزل کے پہلے دو اشعار میں قوافی درست اور باقی اشعار میں قوافی درست نہیں ہیں۔
آخری والا حرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہ،ا۔۔۔۔روی
اس سے منسلک پہلے والا حرف۔۔۔۔ل۔۔۔۔۔دخیل
اور دخیل سے پہلے والا الف۔۔۔۔۔ا۔۔۔۔۔۔تاسیس
یہاں مطلع میں روی کے ساتھ ساتھ دخیل اور الف تاسیس کا بھی اعلان ہو گیا اس بعد کے اشعار میں اس کی پابندی لازم ٹھہرے گی۔
یعنی
پیالہ۔ژالہ۔ڈھالہ۔۔ہالہ۔۔۔نالہ۔۔
والا۔۔مالا۔۔ڈالا۔۔کالا۔۔۔ وغیرہ قوافی ہی اس غزل میں درست ہوں گے مطلع کے اعلان کے مطابق۔۔
یہ میری ناقص رائے ہے آپ اس سے اختلاف کا حق محفوظ رکھتی ہیں
والسلام
غیر متفق

دخیل تاسیس کی پابندی سے پہلے روی کا اعلان و اتحاد ضروری ہے۔ روی کے کے لیے اصلی اور آخری حرف ہونے کی شرط ہے ، تاہم مطلع میں اگر ایک اصلی روی ایک وصلی روی کا اتحاد کر دیا جائے تو دیگر ابیات میں وصلی روی بھی آ سکتا ہے
 
آخری تدوین:
غیر متفق

دخیل تاسیس کی پابندی سے پہلے روی کا اعلان و اتحاد ضروری ہے۔ روی کے کے لیے اصلی اور آخری حرف ہونے کی شرط ہے ، تاہم مطلع میں اگر ایک اصلی روی ایک وصلی روی کا اتحاد کر دیا جائے تو دیگر ابیات میں وصلی روی بھی آ سکتا ہے
روی سے پہلے اور بعد میں لائے جانے والے حروف اصلی اور وصلی کہلاتے ہیں ۔۔خود حرفِ روی بھی اصلی اور وصلی ہوتا ہے اس کے متعلق مجھے علم نہیں۔ مزمل شیخ بسمل اس معاملے پہ بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں اگر نوازش فرمائیں۔
 

ابن رضا

لائبریرین
ایک بات سمجھ لیجیے کہ قافیہ میں الف تاسیس صرف ایک ہی قبیل کے الفاظ میں آتا ہے۔ اور وہ ہے "فاعل" کا قبیل۔ یعنی داخل، جاہل، کاہل، ساحل، حائل اور مائل وغیرہ۔ داخل میں الف تاسیس ہے، خ دخیل اور لام روی ہے۔ جبکہ ڈالا میں پہلا الف ردف اصلی کہلاتا ہے۔ لام روی اور دوسرا الف حرفِ وصل ہے جو لام کو متحرک کرتا ہے۔ گویا قافیہ میں ان تینوں حروف کا لانا لازم ہے۔ ڈالا، ڈھالا، مالا، ٹالا اور نکالا وغیرہ قوافی ہونگے۔ اسی کے ساتھ پیالہ، نالہ وغیرہ بھی آسکتے ہیں۔
 
ایک بات سمجھ لیجیے کہ قافیہ میں الف تاسیس صرف ایک ہی قبیل کے الفاظ میں آتا ہے۔ اور وہ ہے "فاعل" کا قبیل۔ یعنی داخل، جاہل، کاہل، ساحل، حائل اور مائل وغیرہ۔ داخل میں الف تاسیس ہے، خ دخیل اور لام روی ہے۔
یعنی کہ ہم سے حرفِ روی کو پہچاننے میں غلطی ہوئی۔ زیر بحث غزل میں حرف روی ل ہے نہ کہ الف ۔
جبکہ ڈالا میں پہلا الف ردف اصلی کہلاتا ہے۔ لام روی اور دوسرا الف حرفِ وصل ہے جو لام کو متحرک کرتا ہے۔ گویا قافیہ میں ان تینوں حروف کا لانا لازم ہے۔ ڈالا، ڈھالا، مالا، ٹالا اور نکالا وغیرہ قوافی ہونگے۔ اسی کے ساتھ پیالہ، نالہ وغیرہ بھی آسکتے ہیں۔
اس حوالے سے ہمارے علم میں اضافہ فرمانے کہ لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ بہت نوازش۔
قوافی تو اس غزل میں لام کے ساتھ ہی آئیں گے یہ تو واضح ہو گیا ایک چیز رہ گئی۔۔۔
کہ حرف روی بھی اصلی اور وصلی ہوتا ہے یا بالترتیب اس کے آگے اور پیچھے آنے والے حروف کو اصلی اور وصلی کہا جاتا ہے؟؟؟
اور اللہ کرے زورَ قلم اور زیادہ۔۔
جزاک اللہ خیرا
 
Top