تحریکِ انصاف کے لاہور سے امیدوار

عسکری

معطل
بھائی تحریک "انصاف" کے امیدواروں کی بھی با ت کرلیں
یہ صرف نواز شریف کے خلاف ہی بغص نکالنا ہے؟
انہوں نے تو ابھی تک ایک گلی پر حکومت نہین کی ان کو کیوں کچھ کہیں ؟ اور جناب جب وہ حکومت کریں گے تو ان کی بھی باری آئے گی تنقید سننے کی
 

شمشاد

لائبریرین
ظاہر ہے۔

ایک تو عمران کو سیٹیں ہی بہت کم ملیں گی، حکومت کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ بفرض محال کوئی ایک آدھ وازرت مل بھی گئی تو کون سا راتوں رات انقلاب لے آئیں گے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
عمران خان کو اتنی سیٹیں تو کم از کم ملنی چاہیے کہ وہ اگر حکومت نہ کر سکیں تو کم از کم ایک مضبوط اپوزیشن بنا سکیں۔

اس طرح آنے والی حکومت کو بھی احتساب کا سامنا رہے گا اور تحریکِ انصاف کا اصولی موقف بھی واضح ہوگا کہ وہ جو کہتے تھے ویسے ہی ہیں یا وہ بھی "مفاہمت" کے نام پر ملک کو برباد کرتے ہیں۔
 
یہ یاد رکھیں کہ تحریک انصاف تبدیلی نہیں لاسکتی۔ یہ صرف نعرہ ہے
ایک کے بعد ایک امیدوار دیکھتے جائیں۔ ان کے لیڈروں کو دیکھتے جائیں صاف پتہ چل جائے گا یہ وہی اسٹیبلیشمنٹ کے لوگ ہیں۔ یہ وہ نظام کا تسلسل ہے جو پچھلے 60 سال سے زاید پاکستان میں قابض رہے ہیں۔ یہ وہی ہیں۔ یہ صرف سونامی لاسکتے ہیں۔ ملک کو تباہ کرسکتے ہیں۔ یہی ان کا دعویٰ ہے کہ سونامی لائیں گے۔

تبدیلی ن لیگ لائےگی۔
 

محمداحمد

لائبریرین
یہ یاد رکھیں کہ تحریک انصاف تبدیلی نہیں لاسکتی۔ یہ صرف نعرہ ہے
ایک کے بعد ایک امیدوار دیکھتے جائیں۔ ان کے لیڈروں کو دیکھتے جائیں صاف پتہ چل جائے گا یہ وہی اسٹیبلیشمنٹ کے لوگ ہیں۔ یہ وہ نظام کا تسلسل ہے جو پچھلے 60 سال سے زاید پاکستان میں قابض رہے ہیں۔ یہ وہی ہیں۔ یہ صرف سونامی لاسکتے ہیں۔ ملک کو تباہ کرسکتے ہیں۔ یہی ان کا دعویٰ ہے کہ سونامی لائیں گے۔

تبدیلی ن لیگ لائےگی۔

تبدیلی نئی سوچ اور نئے لوگوں سے آتی ہے۔ سو بار آزمائے ہوئے لوگوں کو تو تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہوئے بھی سوچنا چاہیے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔
 
تبدیلی نئی سوچ اور نئے لوگوں سے آتی ہے۔ سو بار آزمائے ہوئے لوگوں کو تو تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہوئے بھی سوچنا چاہیے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

تبدیلی سے مطلب نظام کی تبدیلی ہے
عمران اور اس کی ٹیم وہی کرسکتے گی جو پرانا نظام چلانے والے چاہتے ہیں۔ سپرفیشل تبدیلی ہوگی مگراندرون خانہ وہی ہاتھ ہوگا۔

ن لیگ کی حقیقی تبدیلی لائے گی۔ وہ اسٹیبلشمنٹ جو اپنا فائدہ دیکھ کر ملک کے نام نہاد مفاد میں ملک کو لوٹی رہی ، طاقت اس کے ہاتھ سے نکل کر عوام کے پاس اجائے گی۔ یہی اصل تبدیلی ہے۔ باقی سب مداری یا کھلاڑی وہ بھی کٹھ پتلی والے
 

محمداحمد

لائبریرین
تبدیلی سے مطلب نظام کی تبدیلی ہے
عمران اور اس کی ٹیم وہی کرسکتے گی جو پرانا نظام چلانے والے چاہتے ہیں۔ سپرفیشل تبدیلی ہوگی مگراندرون خانہ وہی ہاتھ ہوگا۔

ن لیگ کی حقیقی تبدیلی لائے گی۔ وہ اسٹیبلشمنٹ جو اپنا فائدہ دیکھ کر ملک کے نام نہاد مفاد میں ملک کو لوٹی رہی ، طاقت اس کے ہاتھ سے نکل کر عوام کے پاس اجائے گی۔ یہی اصل تبدیلی ہے۔ باقی سب مداری یا کھلاڑی وہ بھی کٹھ پتلی والے

ن لیگ کے منشور میں کیا کیا باتیں ہیں؟
 

محمداحمد

لائبریرین
تبدیلی سے مطلب نظام کی تبدیلی ہے
عمران اور اس کی ٹیم وہی کرسکتے گی جو پرانا نظام چلانے والے چاہتے ہیں۔ سپرفیشل تبدیلی ہوگی مگراندرون خانہ وہی ہاتھ ہوگا۔

ن لیگ کی حقیقی تبدیلی لائے گی۔ وہ اسٹیبلشمنٹ جو اپنا فائدہ دیکھ کر ملک کے نام نہاد مفاد میں ملک کو لوٹی رہی ، طاقت اس کے ہاتھ سے نکل کر عوام کے پاس اجائے گی۔ یہی اصل تبدیلی ہے۔ باقی سب مداری یا کھلاڑی وہ بھی کٹھ پتلی والے

عوام کو کیا اتفاق گروپ سے ڈیویڈینڈ ملے گا۔ :)
 

زرقا مفتی

محفلین
یہ یاد رکھیں کہ تحریک انصاف تبدیلی نہیں لاسکتی۔ یہ صرف نعرہ ہے
ایک کے بعد ایک امیدوار دیکھتے جائیں۔ ان کے لیڈروں کو دیکھتے جائیں صاف پتہ چل جائے گا یہ وہی اسٹیبلیشمنٹ کے لوگ ہیں۔ یہ وہ نظام کا تسلسل ہے جو پچھلے 60 سال سے زاید پاکستان میں قابض رہے ہیں۔ یہ وہی ہیں۔ یہ صرف سونامی لاسکتے ہیں۔ ملک کو تباہ کرسکتے ہیں۔ یہی ان کا دعویٰ ہے کہ سونامی لائیں گے۔

تبدیلی ن لیگ لائےگی۔

سونامی لائیں گے جو اسٹیٹس کو بہا لے جائے گی
سونامی لائیں گے کو کرپشن کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکے گی
سونامی لائیں گے جو سیاست کے صنم خانوں کے بت پاش پاش کرے گی
 

زرقا مفتی

محفلین
تحریک انصاف کی طرف سے اب قومی اسمبلی کی سیٹ سے حامد زمان الیکشن لڑیں گے۔
حامد زمان سیما عزیز کے بھائی ہیں ہمارے کرائے دار رہ چکے ہیں
breeze
kaseria
miniminers
اور اسی طرح کے کے کئی برانڈز شروع کرنے والے ہیں
انہوں نے
care
کے نام سے ایک این جی او بنا رکھی ہے جس نے شاہدرہ کی کچی آبادیوں میں کئی سکول قائم کئے ہیں۔ کئ سرکاری سکول adopt کئے ہوئے ہیں۔ جن کی حالت زار بہتر بنائی ہے
 

متلاشی

محفلین
تبدیلی نئی سوچ اور نئے لوگوں سے آتی ہے۔ سو بار آزمائے ہوئے لوگوں کو تو تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہوئے بھی سوچنا چاہیے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔
مگر محمداحمد بھائی پی ٹی آئی میں بھی زیادہ چہرے تو وہی پرانے ہیں ۔۔۔! کوئی ن لیگ کا بھگوڑا ہے تو کوئی قاف لیگ کا ۔۔۔ کوئی پی پی پی کا مفرور ہے تو کسی اور پارٹی کا۔۔۔۔۔!
موجودہ سیاسی صورتحال کی مد نظر رکھتے ہوئے میرے خیال سے تبدیلی پی پی پی لا سکتی ہے نہ ن لیگ اور ن ہی پی ٹی آئی۔۔۔۔!
سارے ایک ہی سکے کے مختلف رُخ ہیں۔۔۔!
 
مگر محمداحمد بھائی پی ٹی آئی میں بھی زیادہ چہرے تو وہی پرانے ہیں ۔۔۔ ! کوئی ن لیگ کا بھگوڑا ہے تو کوئی قاف لیگ کا ۔۔۔ کوئی پی پی پی کا مفرور ہے تو کسی اور پارٹی کا۔۔۔ ۔۔!
موجودہ سیاسی صورتحال کی مد نظر رکھتے ہوئے میرے خیال سے تبدیلی پی پی پی لا سکتی ہے نہ ن لیگ اور ن ہی پی ٹی آئی۔۔۔ ۔!
سارے ایک ہی سکے کے مختلف رُخ ہیں۔۔۔ !

مثلا کون کون سے بھگوڑے ہیں ن لیگ اور قاف لیگ اور پی پی پی کے۔ چند لوگوں پر ضرور اعتراض کر سکتے ہیں مگر بھاری اکثریت نئے لوگوں کی ہے اور دوسری پارٹیوں کے بھی اچھے لوگ تحریک انصاف میں آئے ہیں۔

افضل سندھو پی پی پی سے ایک بہت صاف اور شائستہ آدمی ہیں۔
اسرار شاہ نے جو قربانیاں دی ہیں وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ، اس شخص نے اپنی ٹانگیں گنوائی ہیں اس جدوجہد میں۔
جاوید ہاشمی نے جتنی جیلیں اور مصائب کاٹے ہیں سیاست میں کم ہی سیاستدان ان امتحانوں سے گزرے ہیں۔
شاہ محمود نے بھی ایک اہم قومی مسئلہ پر پارٹی چھوڑی اور ان کا کوئی اسکینڈل میری نظر سے نہیں گزرا ۔

کسی پارٹی نے صرف پاکستان میں ہی نہیں برصغیر میں اتنے بڑے اور زور و شور سے پارٹی میں الیکشن کروائے ہیں۔
کس پارٹی نے تمام بڑے موضوعات اور مسائل پر تفصیلی پالیسیاں جاری کی ہیں۔
کس پارٹی نے ٹکٹ کا وعدہ نہ کر کے جیتنے والے امیدوار بھی اپنی پارٹی میں آنے سے روکے اور کئی آ کر اس وجہ سے چلے بھی گئے کہ ان کے ساتھ ٹکٹ کا وعدہ نہیں کیا گیا۔

کس پارٹی کے سربراہ نے اقتدار ملنے سے پہلے ہی قومی سطح پر دو بڑے ادارے (شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی) قائم کرکے پاکستان میں تاریخی مثالیں قائم کی ہیں۔

کتنی زیادتی ہے کہ بالکل سرسری اور سطحی نگاہ سے اور زور و شور سے ہونے والے پروپیگنڈا سے متاثر ہو کر سب کو ایک ہی لائن میں لگا دیا جائے۔

کچھ تحقیق اور گہرائی میں جا کر حقائق پر بات ہو تو بات بھی بنے ورنہ یہ رویہ افسوسناک ہے جس کی وجہ سے سیاست کا بددیانت رخ ہی سامنے آ رہا ہے۔
 

نایاب

لائبریرین
مگر محمداحمد بھائی پی ٹی آئی میں بھی زیادہ چہرے تو وہی پرانے ہیں ۔۔۔ ! کوئی ن لیگ کا بھگوڑا ہے تو کوئی قاف لیگ کا ۔۔۔ کوئی پی پی پی کا مفرور ہے تو کسی اور پارٹی کا۔۔۔ ۔۔!
موجودہ سیاسی صورتحال کی مد نظر رکھتے ہوئے میرے خیال سے تبدیلی پی پی پی لا سکتی ہے نہ ن لیگ اور ن ہی پی ٹی آئی۔۔۔ ۔!
سارے ایک ہی سکے کے مختلف رُخ ہیں۔۔۔ !

بات سربراہ کی ہوتی ہے کہ وہ کیسے اپنے ورکروں سے کام لیتا ہے ۔۔۔۔۔اگر سربراہ درست ہے تو ورکرز بھی درست رہنے کی امید ہوتی ہے ۔ اگر سربراہ ہی کرپشن کے مارے مفاد پرست ہوں تو ورکرز دو ہاتھ آگے نکلتے ہیں سربراہ سے ۔۔۔۔۔۔۔
 
حامد زمان سیما عزیز کے بھائی ہیں ہمارے کرائے دار رہ چکے ہیں
breeze
kaseria
miniminers
اور اسی طرح کے کے کئی برانڈز شروع کرنے والے ہیں
انہوں نے
care
کے نام سے ایک این جی او بنا رکھی ہے جس نے شاہدرہ کی کچی آبادیوں میں کئی سکول قائم کئے ہیں۔ کئ سرکاری سکول adopt کئے ہوئے ہیں۔ جن کی حالت زار بہتر بنائی ہے

بہت خوب ، یہ جان کر از حد خوشی ہوئی کہ یہ آدمی پہلے سے ہی خدمت خلق کے کاموں میں مصروف ہے۔

care کا تو بہت بڑا نام ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
مگر محمداحمد بھائی پی ٹی آئی میں بھی زیادہ چہرے تو وہی پرانے ہیں ۔۔۔ ! کوئی ن لیگ کا بھگوڑا ہے تو کوئی قاف لیگ کا ۔۔۔ کوئی پی پی پی کا مفرور ہے تو کسی اور پارٹی کا۔۔۔ ۔۔!
موجودہ سیاسی صورتحال کی مد نظر رکھتے ہوئے میرے خیال سے تبدیلی پی پی پی لا سکتی ہے نہ ن لیگ اور ن ہی پی ٹی آئی۔۔۔ ۔!
سارے ایک ہی سکے کے مختلف رُخ ہیں۔۔۔ !

تحریکِ انصاف روایتی جماعتوں سے بہت مختلف ہے ۔اس کی قیادت کے پاس ایک واضح لائحہ ء عمل موجود ہے اور عمران خان صاحب کی ساکھ باقی تمام معاصرین کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر ہے۔
 
لو جی اسکا مطلب ہے میرے حلقے میں شہباز شریف کا مقابلہ منشا سندھو سے ہے
ابھی تو کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ کون جیتے گا
 

زرقا مفتی

محفلین
سب سے اہم بات یہ کہ ووٹر کو اپنا رویہ بدلنا ہو گا
کچھ ووٹرز اندازہ لگاتےہیں کہ کون سا امیدوار جیتے گا اور اُسی کو ووٹ دیتے ہیں۔ ان کے ان ووٹوں سے آج تک مثبت تبدیلی نہیں آئی۔
بہتر ہوگا کہ اب وہ اپنا اندازِ فکر بدلیں ووٹ اُس پارٹی یا اُمیدوار کو دیں جو دیانتدار اور مخلص ہوں ۔ گھر بیٹھ کر قسمت بدلنے کا انتظار نہ کریں
 
تحریکِ انصاف روایتی جماعتوں سے بہت مختلف ہے ۔اس کی قیادت کے پاس ایک واضح لائحہ ء عمل موجود ہے اور عمران خان صاحب کی ساکھ باقی تمام معاصرین کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر ہے۔

قطعی مختلف نہیں ہے۔ بلکہ روایتی جماعتوں سے بھی بری ہے۔ اسکی قیادت کے پاس مختلف لائحہ عمل ہے مثلا

جاویدہاشمی پہلے ن لیگ میں تھا - یہ ایک مخصوص گروپ کی نمائندگی کرتے ہیں - بے وفائی ان کی نشانی ہے
محمود قریشی- یہ جاگیر دار ہیں۔ پیری فقیری کرتے ہیں۔ ان کے حلقہ انتخاب ان کے مریدین کی وجہ سے ہیں۔ شوبازی کا شوق ہے۔ ہیلیری سے سر ٹکراتے رہے۔ وزیراعظم بننے کا شوق ہے۔ اسی چکر میں ریمنڈ دیوس کیس میں ایجینسوں کی لائن لے کر اپنی پارٹی پی پی پی سے بے وفائی کی اور منہ کی کھائی۔ اخر میں پی ٹی ائی جوائن کرنی پڑی۔ بے وفائی یہ کرچکے پہلے بھی ن سے۔
احمد رضا قصوری- جاگیر دار اور صعنت کار۔ ان کے خاندان نے پاکستان کے مخصوص حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تعلیم کو بھی تجارت بنادیا ہے۔ یہ پاکستان کو امریکہ بیچنے میں مشرف کے ساتھی ہیں۔ مشرف سے بے وفائی کی ۔ اخر پی ٹی ائی جوائن کرنی پڑی
شیریں مزاری- یہ محترمہ ایجنسیوں کے مخصوص ایجنڈے کی پروکار ہیں۔ خود ہی پی ٹی ائی چھوڑی کہ یہ لوگ ان کو اور ان کی بیٹی کو تنگ کرتے ہیں۔ پھر کسی اشارہ پر پھر پی ٹی ائی جوائن کی۔ لائحہ عمل اگرچہ موجود ہے ان کے پاس پر خفیہ ہے
یہ کچھ سیمپل ہے۔ پی ٹی ائی کے لیذر ز کے بارے میں پڑھتے جائیں اور شرماتے جائیںِ ۔ ایک ابرار الحق ہیں۔ شہرت گلوکاری۔ بلو دے گھر ان کا مشہھور گانا ہےا ور نچ پنجابن نچ بھی

عمران خان کی ساکھ سب سے بدتر ہے۔ یہ پلے بوائے ہوا کرتے تھے۔ خود ٹی وی پر اعتراف کرتے ہیں کہ توبہ کی۔ اچھا کیا۔مگر لیذر بنے کے اہل نہیں لگتے۔ کھلاڑی ہیں۔ غصہ پر کنٹرول نہیں رکھ سکتے
 
Top