بےخبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا۔ محسن بھوپالی

شیزان

لائبریرین
​
بےخبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا​
چاہے جانے کے سبھی عیب و ہُنر رکھتا تھا​
​
لاتعلق نظر آتا تھا بظاہر لیکن​
بےنیازانہ ہر اِک دل میں گزر رکھتا تھا​
​
اُس کی نفرت کا بھی معیار جدا تھا سب سے​
وہ الگ اپنا اِک اندازِ نظر رکھتا تھا​
​
بےیقینی کی فضاؤں میں بھی تھا حوصلہ مند​
شب پرستوں سے بھی اُمیدِ سحر رکھتا تھا​
​
مشورے کرتے ہیں جو گھر کو سجانے کے لیے​
اُن سے کِس طرح کہوں، میں بھی تو گھر رکھتا تھا​
​
اُس کے ہر وار کو سہتا رہا ہنس کر محسن​
یہ تاثر نہ دیا، میں بھی سپر رکھتا تھا​
​
محسن بھوپالی​
​
"گردِ مُسافت" سے انتخاب​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top