پولیو ویکسین کا خفیہ ایجنڈا نائیجیرین سائنسدان نے بے نقاب کیا۔

دوست

محفلین
ایسی خبریں صرف امت کو ہی کیوں ملتی ہیں۔ باقی اخبار اندھے گونگے بہرے ہیں کیا؟ اس تضاد کے بارے بھی کچھ فرمائیں۔
 

قیصرانی

لائبریرین
ایسی خبریں صرف امت کو ہی کیوں ملتی ہیں۔ باقی اخبار اندھے گونگے بہرے ہیں کیا؟ اس تضاد کے بارے بھی کچھ فرمائیں۔
"بریکنگ نیوز" جب ایک نیوز سورس پر "توڑ" دی جائے تو باقی اس کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہیں تاکہ دوسرے کی مارکیٹ خراب ہو :rollingonthefloor:
 

سید ذیشان

محفلین
ایسی خبریں صرف امت کو ہی کیوں ملتی ہیں۔ باقی اخبار اندھے گونگے بہرے ہیں کیا؟ اس تضاد کے بارے بھی کچھ فرمائیں۔

یہ تو بڑی عجیب بات کر دی ہے۔ امت کافی اونچے درجے کا اخبار ہے۔ جس طرح سائنسی جریدوں میں "سائنس" یا "نیچر" کے جریدے ہی بہت عمدہ قسم کی تحقیقات اور دریافتیں پیش کرتے ہیں۔
 

dxbgraphics

محفلین
story2.gif
 

قیصرانی

لائبریرین
یعنی سارا زور اسی بات پر ہے کہ اگر کروڑوں بچوں نے قطرے پئے تو ان میں سے 104 کو یہ بیماری کیوں ہوئی۔ امت کے کسی رکن نے یہ بھی جاننے کی تکلیف کی کہ کتنے کروڑ بچے ان قطروں کو پینے کی وجہ سے ہی پولیو سے بچے؟
 

رمان غنی

محفلین
اور اگر ایسا ہے بھی تو ٹھیک ہے آدھے پاکستان کی نس بندی ہو جانی چاہیے ۔
آبادی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔
جس کی جاب ہے نا گھر ہے اس کے بھی 6-7 بچے ہیں جس کی وجہ سے معاشرتی بگاڑ کرائم اور سارے مسئلے ہیں ۔ پاکستان میں 2 بچوں کو پیدا کرنے کا حق صرف اسے ہو جس کی آمدنی 25 ہزار ماہانہ ہو اور 3 جس کی 75 ہزار سے اوپر ۔ ذرا سوچیں اگر پاکستانی 2-3 4 کروڑ ہوتے تو کتنا سکون امن پیسا ہوتا اس ملک میں ہر چیز وافر ہوتی

اب پتہ چلا کہ پاکستان دہشت گردوں پر پابندی عائد کیوں نہیں کرتا ہے۔۔۔!!!
 

عسکری

معطل
اب پتہ چلا کہ پاکستان دہشت گردوں پر پابندی عائد کیوں نہیں کرتا ہے۔۔۔ !!!

تمھیں کس نے کہا پاکستان میں دہشت گردی پر پابندی نہیں؟ پاکستانی افواج سے زیادہ کون لڑا دہشت گردی سے؟ اور پاکستانی عوام سے زیادہ کس نے قربانیاں دیں؟ تم بھارتی خوش رہو کہ تمھارا بارڈر افغانستان کے ساتھ نہیں ورنہ نانی یاد آ جاتی ۔
 

عسکری

معطل
آپ کا پیغام میری سمجھ سے بالا ہی بالا گذر گیا :(
وہ کہہ رہا ہے ہماری آبادی زیادہ ہے تو عوام دہشت گرد بن رہے ہیں جبکہ یہ بھول گیا کہ 400 ملین بھوکے ننگے انڈیا میں بستے ہیں اور دنیا میں سب سے زیادہ خؤد کشیاں بھوک سے بھارتی کر رہے ہیں ۔ چوٹ کرنے کی ناکام کوشش اور کیا ۔ ان کو بھارتی میڈیا نے جو کچھ فیڈ کیا ہے وہی جانتے ہیں آپریشنز حالیہ یا ماضی میں جو کچھ کیا پاکستانی افواج نے یا جو کچھ کیا جا رہا ہے اسے اس کی الف بے بھی نہیں پتہ ۔ اور نا اسے بھارتیوں نے بتایا کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو بھارتی دہشت گردی کا جو ٹاسک ملا ہوا ہے اس بارے میں۔
 

منصور مکرم

محفلین
میرے خیال میں مسئلہ زیادہ آبادی اور کم آبادی کا نہیں ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ بچے کی تربیت کون کرئے ،والدین یا حکومت؟ اگر ہم اسوقت یورپ کو دیکھ لیں تو وہاں سے ہمیں یہی سبق مل رہا ہے کہ بچہ پیدا ہوتے ہی حکومت کی سرپرستی میں آجاتا ہے۔اسکا علاج ،تعلیم وغیرہ سب حکومت کے ذمہ ہوتا ہے۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ وہاں کی حکومت والدین کو ہی اپنے بچوں کی تربیت کیلئے انکو تنخواہ دار بنا دیتی ہے۔تاکہ والدین معاشی مسائل سے فارغ رہ کر اپنے بچوں کی تربیت کر سکے۔

دور خلافت میں ہر بچے کا ماہوار وظیفہ مقرر ہوتا تھا۔تاکہ والدین یکسوئی سے بچے کی تربیت کرسکے۔

ہمارئے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ والدین معاش کے سلسلوں میں پھنسے ہوئے ہیں،مہنگائی اور لوٹ مار کے سبب ملکی معیشت پر برئے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔جسکی وجہ سے وہ اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ تو درکنار انکی روزی روٹی کیلئے پریشان ہوتے ہیں۔

ایک انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اسکی روزی کا ذمہ بھی رازق کے حوالے ہے۔
قران مجید میں ہے کہ [ARABIC] [ARABIC]واللہ خیر الرازقین[/ARABIC][/ARABIC]
دوسری جگہ ارشاد ہے
[ARABIC]وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ[/ARABIC]
ترجمہ: اور اپنی اوﻻد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں

اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کی کثرت سے کوئی نا ہمواری بیدا نہیں ہوتی۔ہاں جب اللہ تعالیٰ اسکو رزق دینے کا ارادہ کرتا ہے ،اور لوگ دوسروں کے منہ سے نوالے چھیننے لگے تو اب امتحان تو ہونا ہی ہے،جس سے رزق چینا جائے اسکا بھی اور جو چھینتا ہے اسکا بھی،دنیا کوئی مستقل پناہ گاہ توڑی ہی ہے ،یہ تو امتحانی حال جیسا ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ کہیں بھوک و پیاس کے سبب کوئی مرا ہو،ہاں کسی دوسرے انسان کے ظلما بندش طعام یا اسکے مکارانہ پالیسیوں کے سبب ہوا ہو تو الگ بات ہے۔
 

عسکری

معطل
میرے خیال میں مسئلہ زیادہ آبادی اور کم آبادی کا نہیں ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ بچے کی تربیت کون کرئے ،والدین یا حکومت؟ اگر ہم اسوقت یورپ کو دیکھ لیں تو وہاں سے ہمیں یہی سبق مل رہا ہے کہ بچہ پیدا ہوتے ہی حکومت کی سرپرستی میں آجاتا ہے۔اسکا علاج ،تعلیم وغیرہ سب حکومت کے ذمہ ہوتا ہے۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ وہاں کی حکومت والدین کو ہی اپنے بچوں کی تربیت کیلئے انکو تنخواہ دار بنا دیتی ہے۔تاکہ والدین معاشی مسائل سے فارغ رہ کر اپنے بچوں کی تربیت کر سکے۔

دور خلافت میں ہر بچے کا ماہوار وظیفہ مقرر ہوتا تھا۔تاکہ والدین یکسوئی سے بچے کی تربیت کرسکے۔

ہمارئے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ والدین معاش کے سلسلوں میں پھنسے ہوئے ہیں،مہنگائی اور لوٹ مار کے سبب ملکی معیشت پر برئے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔جسکی وجہ سے وہ اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ تو درکنار انکی روزی روٹی کیلئے پریشان ہوتے ہیں۔

ایک انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اسکی روزی کا ذمہ بھی رازق کے حوالے ہے۔
قران مجید میں ہے کہ [ARABIC] [ARABIC]واللہ خیر الرازقین[/ARABIC][/ARABIC]
دوسری جگہ ارشاد ہے
[ARABIC]وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ[/ARABIC]
ترجمہ: اور اپنی اوﻻد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں

اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کی کثرت سے کوئی نا ہمواری بیدا نہیں ہوتی۔ہاں جب اللہ تعالیٰ اسکو رزق دینے کا ارادہ کرتا ہے ،اور لوگ دوسروں کے منہ سے نوالے چھیننے لگے تو اب امتحان تو ہونا ہی ہے،جس سے رزق چینا جائے اسکا بھی اور جو چھینتا ہے اسکا بھی،دنیا کوئی مستقل پناہ گاہ توڑی ہی ہے ،یہ تو امتحانی حال جیسا ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ کہیں بھوک و پیاس کے سبب کوئی مرا ہو،ہاں کسی دوسرے انسان کے ظلما بندش طعام یا اسکے مکارانہ پالیسیوں کے سبب ہوا ہو تو الگ بات ہے۔


60 لاکھ بچے ہر سال بھوک سے مر جاتے ہیں
http://freethoughtblogs.com/taslima/2012/06/21/six-million-children-die-of-hunger-every-year/

اور اس کا زمہ دار وہ ہیں جو ان کو پیدا کرتے ہیں ۔ خدا نہیں


پچھلے سال ایک ارب لوگ بھوکے رہے جناب
http://www.independent.co.uk/news/world/politics/almost-a-billion-go-hungry-worldwide-8007759.html

ہر راز 17 ہزار بچے بھوک سے مر رہے ہیں اقوام متحدہ چیف
http://edition.cnn.com/2009/WORLD/europe/11/17/italy.food.summit/

اور یہ بھی دیکھ لیں
https://plus.google.com/117520666412794415990/posts/Vxyzot2JFTh
یہ بھوک ڈاٹ کام کے فیگرز ہیں جو بھارت کی سائٹ ہے


Hunger Facts
spacer.gif

spacer.gif

1.
Hunger remains the No.1 cause of death in the world. Aids, Cancer etc. follow.
spacer.gif

2.
There are 820 million chronically hungry people in the world.
spacer.gif

3.
1/3rd of the worldÂ’s hungry live in India.
spacer.gif

4.
836 million Indians survive on less than Rs. 20 (less than half-a-dollar) a day.
spacer.gif

5.
Over 20 crore Indians will sleep hungry tonight.
spacer.gif

6.
10 million people die every year of chronic hunger and hunger-related diseases. Only eight percent are the victims of hunger caused by high-profile earthquakes, floods, droughts and wars.
spacer.gif

7.
India has 212 million undernourished people – only marginally below the 215 million estimated for 1990–92.
spacer.gif

8.
99% of the 1000 Adivasi households from 40 villages in the two states, who comprised the total sample, experienced chronic hunger (unable to get two square meals, or at least one square meal and one poor/partial meal, on even one day in the week prior to the survey). Almost as many (24.1 per cent) had lived in conditions of semi-starvation during the previous month.
spacer.gif

9.
Over 7000 Indians die of hunger every day.
spacer.gif

10.
Over 25 lakh Indians die of hunger every year.
spacer.gif

11.
Despite substantial improvement in health since independence and a growth rate of 8 percent in recent years, under-nutrition remains a silent emergency in India, with almost 50 percent of Indian children underweight and more than 70 percent of the women and children with serious nutritional deficiencies as anemia.
spacer.gif

12.
The 1998 – 99 Indian survey shows 57 percent of the children aged 0 – 3 years to be either severely or moderately stunted and/or underweight.
spacer.gif

13.
During 2006 – 2007, malnutrition contributed to seven million Indian children dying, nearly two million before the age of one.
spacer.gif

14.
30% of newborn are of low birth weight, 56% of married women are anaemic and 79% of children age 6-35 months are anaemic.
spacer.gif

15.
The number of hungry people in India is always more than the number of people below official poverty line (while around 37% of rural households were below the poverty line in 1993-94, 80% of households suffered under nutrition).
spacer.gif
 

منصور مکرم

محفلین
60 لاکھ بچے ہر سال بھوک سے مر جاتے ہیں
http://freethoughtblogs.com/taslima/2012/06/21/six-million-children-die-of-hunger-every-year/

اور اس کا زمہ دار وہ ہیں جو ان کو پیدا کرتے ہیں ۔ خدا نہیں


پچھلے سال ایک ارب لوگ بھوکے رہے جناب
http://www.independent.co.uk/news/world/politics/almost-a-billion-go-hungry-worldwide-8007759.html

ہر راز 17 ہزار بچے بھوک سے مر رہے ہیں اقوام متحدہ چیف
http://edition.cnn.com/2009/WORLD/europe/11/17/italy.food.summit/

اور یہ بھی دیکھ لیں
https://plus.google.com/117520666412794415990/posts/Vxyzot2JFTh
یہ بھوک ڈاٹ کام کے فیگرز ہیں جو بھارت کی سائٹ ہے


Hunger Facts
spacer.gif

spacer.gif

1.
Hunger remains the No.1 cause of death in the world. Aids, Cancer etc. follow.
spacer.gif

2.
There are 820 million chronically hungry people in the world.
spacer.gif

3.
1/3rd of the worldÂ’s hungry live in India.
spacer.gif

4.
836 million Indians survive on less than Rs. 20 (less than half-a-dollar) a day.
spacer.gif

5.
Over 20 crore Indians will sleep hungry tonight.
spacer.gif

6.
10 million people die every year of chronic hunger and hunger-related diseases. Only eight percent are the victims of hunger caused by high-profile earthquakes, floods, droughts and wars.
spacer.gif

7.
India has 212 million undernourished people – only marginally below the 215 million estimated for 1990–92.
spacer.gif

8.
99% of the 1000 Adivasi households from 40 villages in the two states, who comprised the total sample, experienced chronic hunger (unable to get two square meals, or at least one square meal and one poor/partial meal, on even one day in the week prior to the survey). Almost as many (24.1 per cent) had lived in conditions of semi-starvation during the previous month.
spacer.gif

9.
Over 7000 Indians die of hunger every day.
spacer.gif

10.
Over 25 lakh Indians die of hunger every year.
spacer.gif

11.
Despite substantial improvement in health since independence and a growth rate of 8 percent in recent years, under-nutrition remains a silent emergency in India, with almost 50 percent of Indian children underweight and more than 70 percent of the women and children with serious nutritional deficiencies as anemia.
spacer.gif

12.
The 1998 – 99 Indian survey shows 57 percent of the children aged 0 – 3 years to be either severely or moderately stunted and/or underweight.
spacer.gif

13.
During 2006 – 2007, malnutrition contributed to seven million Indian children dying, nearly two million before the age of one.
spacer.gif

14.
30% of newborn are of low birth weight, 56% of married women are anaemic and 79% of children age 6-35 months are anaemic.
spacer.gif

15.
The number of hungry people in India is always more than the number of people below official poverty line (while around 37% of rural households were below the poverty line in 1993-94, 80% of households suffered under nutrition).
spacer.gif
عسکری بھائی اگر آپ میرے تبصرے کو دیکھیں تو وہاں میں نے لکھا ہے کہ
لوگ دوسروں کے منہ سے نوالے چھیننے لگے تو اب امتحان تو ہونا ہی ہے،جس سے رزق چینا جائے اسکا بھی اور جو چھینتا ہے اسکا بھی

یہ تمام حادثات وہاں ہوتے ہیں جہاں معاشرتی نا ہمواری ہو۔جہاں حکومت اپنی ذمہ داری کو اچھی طرح نہ نبھائے۔جہاں ٹنوں خوارک کو تو سمندر برد کیا جائے تاکہ اپنی کمپنی کی اجارہ داری قائم ہو،جہاں بھتے وصول کئے جانے لگیں۔جہاں بھتہ نا دینے پر فیکٹری جلا دی جائے اور مزدوروں کو فاقوں پر مجبور کیا جائے۔

اُن ممالک میں جہاں معاشرت اصلاحات نافذ ہیں اور جہاں حکومت اپنے جیب کے بجائے عوام کے فلاح کیلئے کام کرتی ہے،وہاں بچہ تو کیا کُتا بھی بھوک و پیاس سے نہ مرے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ویسے ہی نہیں کہا تھا کہ فرات کے کنارے اگر کُتا بھوک پیاس سے مرجائے تو عمر سے اسکے بارئے میں پوچھا جائے گا۔مقصد اسکا یہی تھا کہ خلافت کو فلاحی خلافت بنانا ہے۔

60 لاکھ بچے ہر سال بھوک سے مر جاتے ہیں​
http://freethoughtblogs.com/taslima/2012/06/21/six-million-children-die-of-hunger-every-year/​


اور اس کا زمہ دار وہ ہیں جو ان کو پیدا کرتے ہیں ۔ خدا نہیں​
رپورٹ کے شروع میں معاشی نا ہمواری اور انسانی ظلم کی بات کی گئی ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ
here are more than 1200 billionaires in the world. They have absolutely an insane amount of money. It is true that the number of billionaires is increasing.

اور پھر نیچھےلکھا ہے کہ

There is enough food available to feed the entire global population of 7 billion people.


خدا رزق دئے رہا ہے لیکن یہ بھیڑئے اسکو چھین رہے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ بطور امتحان انکو ڈھیل دئے رہا ہے۔ان بچوں کے موت کا سبب والدین سے نہیں پوچھا جائے گا بلکہ معاشی ناہمواری پیدا کرنے والوں سے پوچھا جائے گا۔
 
Top