کرسمس کا تہوار اور مبارکباد -- کس کھاتے میں ؟؟

یہ "باقاعدہ " طور پر دین کا علم حاصل کرنا کیا ہوتا ہے؟۔۔کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ باقاعدہ دین کا علم حاصل کرنے کا مطلب صرف یہی ہوتا ہے کہ مروجہ دینی مدارس سے درسِ نظامیہ یا اسی قسم کی سند کی جائے۔ اگر ایسا ہے تو کیا وجہ ہے کہ "باقاعدہ" طور پر اس طرح علم حاصل کرنے کے باوجود وہی لوگ آپس میں بیشمار معاملات پر اختلاف بھی کرتے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف کفر و ضلال کے فتوے بھی جاری کرتے ہیں۔ سر پھٹول بھی کرواتے ہیں۔ ایک مسلک کے لوگ دوسرے مسلک والے کے پیچھے نماز پڑھنے سے بھی منع کرتے ہیں ۔ میرے خیال میں "باقاعدہ علم" حاصل کرنے والوں نے جتنی کنفیوژن اور نفرت پھیلائی ہے، اتنی بے قاعدہ طالب علموں نے نہیں۔
معذرت چاہتا ہوں کہ میں آپ کے اس قاعدے سے متفق نہیں ہوں۔
میں نے تو یہ نہیں کہا کہ باقاعدہ دین کا علم حاصل کرنے سے مراد درس نظامیہ کی سند حاصل کرنا ہے۔ آپ کا اشارہ فرقہ واریت کی طرف ہے جس پر میں آپ سے سو فیصد متفق ہوں۔ فرقہ پرستی کی لعنت کی وجہ سے مسلمان زوال کا شکار ہیں۔ اگر ہم دین کی اصولی تعلیمات کو اپنائیں اور اختلافی مسائل میں جنگ و جدال اور فرقہ بازی سے بچیں تو ہم میں وحدت پیدا ہوگی اور مسلمانوں کو ترقی نصیب ہوگی۔ان شاء اللہ
میں نے ایک استاد کا عرض کیا تھا۔ ظاہر ہے علم حاصل کرنا ہے تو کسی استاد سے ہی حاصل کرنا ہوگا۔ جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا اور پھر تابعین نے صحابہ سے اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا۔آپ نے قرآن کی آیت سے ایک غیر اسلامی فعل کیلئے جواز نکالنے کی کوشش کی جو درست نہیں ہے۔ اس میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں نصاریٰ نہیں مناتے تھے تو یقینا ان سے پہلے بھی نہیں مناتے ہوں گے۔ یعنی یہ بدعت ہوئی جو کہ ممنوع ہے۔ اب ایک بدعت کیلئے آپ قرآن کی آیت سے استدلال کررہے ہیں ، یہ تو درست بات نہیں ہے۔
شہزاد احمد بھائی نے بالکل ٹھیک کہا کہ اس میں احتیاط بہتر ہے کیونکہ مبارکباد دینے میں ایمان اور عقیدہ توحید کے کمزور ہونے کا خطرہ ہے۔ نجانے بعض لوگ کیوں مخالفت برائے مخالفت کر رہے ہیں۔آپ سب تو ہمارے دینی بھائی ہیں اور ہمیں تو اپنے اور دوسروں کے ایمان کی زیادہ فکر ہونی چاہیے۔ zeesh بھائی کو میں بتاتا چلوں کہ یہ کسی پر کسی کے عقائد ٹھونسنے کی کوشش نہیں ہے۔ یہ تو صرف ایک نصیحت ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ دین نصیحت (خیرخواہی ) کا نام ہے۔
براہ کرم مخالفت برائے مخالفت سے پرہیز کریں۔ اللہ سے دعاہے کہ ہم سب کو عقل سلیم اور ہدایت نصیب فرمائے آمین۔
 

نایاب

لائبریرین
بچوں کی کہانی جو کہ مسلمان اور اس کے ایمان کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے ۔
اور سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ کسی مومن مسلمان کے حساب کے وقت اس سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تو نے ہولی ۔ دیوالی ۔ کرسمس کی مبارک باد کیوں دی ۔
اس سے جو پوچھا جائے گا وہ یہ کہانی بہت سادہ زبان میں سمجھا رہی ہے ۔

مومِن کسے کہتے ہیں
عارف محمود کسانہ سویڈن
بشکریہ سلیقہ میگ
http://saliqamag.com/kidz-stories-urdu-momeen/
بچوں کے لئے اسلامی اور معلوماتی کہانیوں کا سلسلہ
امی جان نانا ابو کہاں ہیں مجھے اُن سے ضروری کام ہے۔ شمائل نے اپنی امی سے پوچھا۔ بیٹا وہ اپنے کمرے میں ہوں گے۔ کیوں تمھیں کیا کام ہے۔ امی نے شمائل سے پوچھا۔ یہ تو میں انہیں ہی بتاؤں گا اور یہ کہہ کر شمائل نانا ابو کے کمرے کی طرف چلا گیا۔ انوشہ اور یاور بھی اُس کے پیچھے پیچھے نانا جان کے کمرے کی طرف گئے۔ شمائل نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے نانا ابو کو سلام کیا ۔ انہوں نے بڑے پیار سے جواب دیا ۔ اتنی دیر میں انوشہ اور یاور بھی آگئے اور ا نہوں نے بھی نانا ابو کو سلام کیا ۔ نانا جان نے انہیں بھی پیار کیا اور بیٹھنے کو کہا۔ شمائل کہنے لگا نانا جان میرے سکول میں تقریری مقابلہ ہورہا ہے جس کا عنوان ہے مومن کی زندگی۔ مجھے آپ سے اس سلسلہ میں مدد لینی ہے۔ آپ مجھے تفصیل سے بتائیں کہ مومن کسے کہتے ہیں اور مومن کی زندگی کس طرح کی ہوتی ہے تاکہ میں اچھی سی تقریر تیار کرسکوں۔
اچھا تو یہ بات ہے نانا جان نے کہا۔ بیٹا مومن عربی زبان کا لفظ ہے اور یہ لفظ امن سے نکلا ہے جس کا مطلب اطمینان ، خوف نہ ہونا، تصدیق کرنا اور بھروسہ کرنا ہوتا ہے لہذا مومِن کا مطلب ہوتا ہے وہ جو دِل کی سچائی کے ساتھ ایمان کو قبول کرلے ، دینِ اسلام کے مطابق چلے اور جس پر بھروسہ کیا جاسکے اور دوسروں کے لیے امن اور سلامتی کا باعث ہو۔ مومن، ایمان، مسلم اور تقوٰی جیسے الفاظ آپ نے سُنے ہوں گے اِ ن کا مفہوم ایک جیسا ہی ہے۔ اِسی طرح مسلمان اور مومن ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ جب کوئی اسلام کو دین کی حیثیت سے قبول کرتا ہے تو وہ مسلمان کہلاتا ہے اور جب وہ اپنی زندگی اُس کے مطابق گذارتا ہے تو وہ مومن کہلاتا ہے۔ یعنی جو خدا کو ایک مانتا ہے وہ مسلمان ہوتا ہے اور جو خدا کی ہر بات مانتا ہے وہ مومن ہوتا ہے۔
نانا جان قرآنِ مجید میں مومن کے بارے میں کیا کہا گیا ہے۔ انوشہ نے پوچھا
بیٹا قرآن پاک میں بہت سے مقامات پر اللہ تعالٰی نے مومن کی خوبیوں کے بارے میں بتایا ہے۔ سب سے پہلے یہ کہا ہے کہ مومن وہ ہوتے ہیں جو غائب پر ایمان لاتے ہیں یعنی جو چیزیں اُن کے سامنے نہیں ہوتیں یا جنہیں وہ نہیں دیکھ سکتے مگر اُن کا ذکر قرآن میں موجود ہے اُن پر ایمان لاتے ہیں جیسے مرنے کے بعد کی زندگی۔ اِسی طرح مومن عقل اور فکر سے کام لیتے ہیں، اِس کائنات پر غوروفکر کرتے ہیں ، علم حاصل کرتے ہیں۔ انصاف سے کام لیتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے اور سچی بات کرتے ہیں۔ ماپ تول پورا کرتے ہیں، ضرورت مندوں کو اپنی چیزیں دے دیتے ہیں، فضول باتیں نہیں کرتے، نہ تو تکبر کرتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کی بُرائی کرتے ہیں۔ نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں۔ اسی طرح مومن دوسروں کے بُرے نام نہیں رکھتے، نہ کسی پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں اور نہ ہی کسی کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہتے ہیں۔ جاہل لوگوں سے بحث نہیں کرتے، اگر کوئی امانت دے تو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ نرم دل ہوتے ہیں لیکن اللہ کے دشمنوں کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔
نانا جان کیا مومن غلط کام بالکل نہیں کرتے۔ کیا اُن سے کوئی گناہ کا کام نہیں ہوسکتا ۔ اب یاور نے سوال کیا۔
مومن سے بھی غلطی ہو سکتی ہے مگر مومن فورا توبہ کر لیتا ہے اور غلط کام کو چھوڑ دیتا ہے ۔ وہ بڑے گناہوں سے بچتا ہے
وہ زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے اور نہ ہی چِلا کر بولتے ہیں۔ وہ لوگوں سے تُرش روی سے پیش نہیں آتے، حسد نہیں کرتے، اپنی تعریفیں نہیں کرتے رہتے، اچھے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ہمیشہ صاف سیدھی اور دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ افواہیں نہیں پھیلاتے ا ور کوئی غلط بات اُن تک پہنچے تو اُسے آگے نہیں پھیلاتے۔ وعدہ پورا کرتے ہیں اور سچی گواہی دیتے ہیں چاہے اُن کے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ والدین، رشتہ داروں اور یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔ کسی کے ساتھ احسان کرکے اُسے جتلاتے نہیں بلکہ اُسے احساس بھی نہیں دلاتے۔ خود تنگی میں رہ کر دوسروں کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ اگر کسی نے اُن سے قرضہ لیا ہو تو واپسی کے لیے تنگ نہیں کرتے اور اگر ممکن ہو تو معاف بھی کر دیتے ہیں۔ پہلے اپنی اصلاح کرتے ہیں پھر دوسروں کو تلقین کرتے ہیں۔ اپنے غصہ پر قابو پاتے ہیں، اپنی نگاہ اور ذہن صاف رکھتے ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ وہ اپنی زندگی بغیر کسی خوف کے قرآن کے مطابق بسر کرتے ہیں۔ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
ہمارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی مومن کے بارے میں کچھ بتایا ہے۔ شمائل نے پوچھا
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی مومن کی خوبیاں بیان کی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ہے کہ وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ نہ ہوں۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مومن وہ ہے جو چیز اپنے لیے پسند کرے وہی اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔ اِسی طرح آپؐ نے فرمایا ہے کہ تم اُس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک مجھ سے یعنی حضور ؐ سے سب سے زیادہ پیار نہ کریں۔ جب ہم اُن سے پیار کریں گے توقرآن کے مطابق زندگی گذاریں گے کیونکہ آپؐ کی پوری زندگی قرآن کے مطابق ہی تھی۔ بچوں آپ کو میں نے مومن کی خوبیاں اور اُس کی زندگی کے بارے میں بتا دیا ہے امید ہے کہ آپ کو سب سمجھ آگئی ہوگی اور شمائل اب تم اس بارے میں اچھی سی تقریربھی تیار کرسکتے ہو۔
جی نانا جان جب آپ بتا رہے تھے میں ساتھ ساتھ لکھتا جارہا تھا اور اب میں بہت اچھی تقریرتیار کروں گا اور مجھے امید ہے کہ پہلا انعام بھی میرا ہی ہوگا۔
 

صائمہ نقوی

محفلین
بات نیت کی ہوتی ہے اگر ہم کسی کو مبارکباد اسکو خوش کرنے کیلئے یا اسوجہ سے کہ وہ بھی ہماری عید پر ہماری خوشی میں شریک ہوتے ہیں ہم کو بھی ہونا چاہئے اپنے ایک صاحبِ کتاب نبی کی پیدائش پر اب چاہے وہ انکے نزدیک اس دن ہی کیوں نہ ہو جس دن ہمارے نزدیک وہ پیدا نہیں ہوئے تھے تو کیا حرج ہے ہمارا ایمان تبدیل تو نہیں ہوگا ہم میری کرسمس نہیں کہیں تم کو "حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ولادت مبارک" جیسے الفاظ بولدیں ۔ میں نے جب میں اخبار جہاں پڑہتی تھی تو اہلِ سنت کے ایک مایہ ناز مفتی جناب احسان اللہ شریفی کا اس سوال کے جواب میں کہ کیا ہم کسی غیر مسلم کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھاسکتے ہیں جو ہمارا ملازم بھی ہے۔ تو آپ نے فرمایا ویسے تو اس کا خیال کرنا چاہیئے پر اسلامی تشخص اور اسکے دل میں اسلام کی محبت پیدا کرنے کیلئے اگر یہ کام کیا جائے تو الٹا ثواب ہوگا۔ تو بات نیت کی ہوئی نہ کہ انکا کلچر ایڈاپٹ کرنے کی۔
 

متلاشی

محفلین
نبی کریم کے زمانے میں عیسائی لوگ کرسمس مناتے ہی نہیں تھے۔۔اور دوسری بات یہ کہ میں اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام 25 دسمبر کو پیدا ہوئے تھے۔ اوپر ایک دو محفلین نے اس حوالے سے پوسٹ بھی کیا ہے۔
میرا پوائنٹ تو فقط اتنا ہے بھائی کہ اگر کچھ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی خوشی مناتے ہیں (کسی بھی تاریخ کو)، اور وہ لوگ ہمارے آس پاس رہتے ہیں ، کام کرتے ہیں ہماری خوشیوں میں وہ بھی Greetings پیش کرتے رہتے ہیں، تو کوئی حرج نہیں کہ ہم بھی انکو مبارکباد دے دیں۔ کیونکہ ہم انکو اس بات کی مبارک نہیں دے رہے ہونگے کہ مبارک ہو آپ کا خدا آج پیدا ہوا۔۔۔ ہماری مبارک توفقط اس قسم کی ہوگی کہ مبارک ہو، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش یقیناّ ایک خوشی کی بات ہے ہمارے لئے۔۔۔ That's it. براہِ کرم فرقہ وارانہ ذہنییت سے باہر نکل کر بھی کسی کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرلیا کیجئے۔
جہاں تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پر Greetingsکا معاملہ ہے تو خود قرآن میں سورہ مریم میں ہے کہ:
وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيّاً
یعنی حضرت عیسی علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ "سلام ہے مجھ پر اس دن جب مین پیدا ہوا، اور جس دن میں وفات پا جاؤں گا اور جس دن زندہ مبعوث کیا جاؤں گا۔
محمود بھائی جس طرح تشریحات و تاویلات آپ بیان کرتے ہیں ۔۔۔! پڑھ کر ہنسی چھوٹ جاتی ہے ۔۔۔!
آپ کی پیش کردہ آیت سے Greetingsکہاں پر ثابت ہو رہی ہیں۔۔۔۔؟
اور یہ آپ سے کس نے کہہ دیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عیسائی کرسمس نہیں مناتے تھے ۔۔۔بادلیل بات کیجئے گا۔۔۔!
 

عثمان

محفلین
بھئی ہم نے تو دوستوں کو کرسمس کی مبارکباد بھی دی اور تحائف کا لین دین بھی کیا۔
اب کسی کو ہمارا مراسلہ پڑھ کر درد اٹھتا ہے تو وہ اسے ناپسند کر کے اپنے تئیں "ثواب" حاصل کرے۔
 

عسکری

معطل
ہم نے اپنے پرانے استادوں- ساتھ والوں - انسٹرکٹروں کو مبارک باد کے پیغام بھیجے اس سے ہمارے مضبوط کفریہ عقائد پر کوئی چوٹ نہیں پہنچی :p
 

دوست

محفلین
مکہ اور مدینہ میں عیسائی گنتی کے تھے۔ انہیں میں سے ایک مکہ میں اماں خدیجہ رضی اللہ عنہا کے کزن جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی تصدیق کی۔ اس کے علاوہ چند ایک اور مکی عیسائی تھے، اسی طرح مدینہ میں چند ایک عیسائی تھے۔ ایک تو بڑا دشمن تھا مسلمانوں کا نام تھا اس کا عامر شاید، وہ بدر وغیرہ میں لڑا بھی قریش کی جانب سے۔ پھر ایک صحابی کے دو بیٹوں کا ایک تاجر مشنری کے ہاتھ عیسائیت قبول کرکے چلے جانے کا ذخر ملتا ہے۔ جس پر غالباً قرآنی آیت "دین میں کوئی جبر نہیں" نازل ہوئی، جب ان صحابی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع دی تو۔
مقصد یہ ہے کہ اس وقت مکہ یا مدینہ میں پوری عیسائی برادری مع چرچ تھی ہی نہیں تو وہ کرسمس کیا مناتے، نیز ان میں سے کوئی اسی نوے فیصد (درجن بھر یا زیادہ لوگوں میں سے) راہب ہو گئے تھے۔ اور آج والا کرسمس تو کئی صدیوں بعد جا کر "اسٹریم لائن" ہوا ہے اور آج والا کرسمس بنا ہے۔ جس میں عیسی علیہ اسلام کی ولادت منانے کے ساتھ ہر ملک کی اپنی ثقافت بھی موجود ہے۔ مجھے میرے سابق کولیگ (عیسائی) ہر عید پر لازماً مبارکباد دیتے ہیں۔ میں کبھی صرفِ نظر کر جاتا ہوں اور بھول جاتا ہوں بعد میں بہت شرمندگی ہوتی ہے کہ ایک بندہ اتنی محبت سے پیش آتا ہے اور میں ایسا کرتا ہوں۔ بھلا امتِ محمدیہ کے اخلاق سے بڑھ کر کس کا اخلاق ہونا چاہیئے۔ چنانچہ اس بار میں نے انہیں کرسمس پر مبارکباد اور نیک تمناؤں کا پیغام بھیجا۔
مولانا لفظوں سے نہ کھیلیں، میری کرسمس، یا ہیپی کرسمس کے کیا معانی ہیں یہ لسانیات والوں کا کام ہے کہ کس کا کیا مطلب ہے، معانی کہاں سے آتا ہے، معانی لفظ میں ہوتا ہے یا معانی بولنے والے کے ارادے میں چھپا ہوتا ہے، معانی سننے والے کے دماغ میں ہوتا ہے یا ان لفظوں میں، یا اس سیاق و سباق میں جس میں وہ لفظ منہ سے ادا کیا گیا ہوتا ہے۔ بڑی لمبی بحث ہے جی۔ ہمارا اسلام تو بڑا سیدھا سادھا ہے جی۔ غیر مسلم کوڑا بھی پھینکے تو نبی ﷺ سر جھکا کر گزر جاتا ہے، جس دن کوڑا نہ گرے تو نبی ﷺ خود جا کر عیادت کرتا ہے۔ لونڈے لُچے شہدے پتھر ماریں اور لہو لہان ہونے پر بھی نبی ﷺ بددعا نہیں کرتا۔ ہمارا اسلام یہ ہے سائیں۔
جذباتی باتاں لگ رہی ہوں گی، دین کے علم سے بے بہرہ، حدیث سے نابلد اور قرآن سے دس میل کے فاصلے پر موجود ایک دوغلا قسم کا مسلمان جو ایمان کے دائرے کی آخری لکیر پر کھڑا ہے اور پھونک لگنے سے باہر جا پڑ سکتا ہے۔ پر ہمارے لیے یہی ایمان ہے جی۔ ہمیں محمد ﷺ کو رحمت اللعالمین اور ربِ محمد ﷺ کو ارحم الرحمین سمجھنے کی عادت ہے۔
آپ کا موقف بھی درست ہو گا، بلکہ شاید آپ کا ہی درست ہو، پر کیا کریں سائیں دل نہیں مانتا۔ اس امید پر کہ اپنوں کے اعمال نے غیر مسلموں کو اسلام سے متنفر کر دیا، ہم کیا ہمارا اخلاق کیا، شاید اس طرح کوئی غیر مسلم مائل بہ اسلام ہو جائے۔
ذاکر نائیک صاحب اسے حرام کہتے ہیں، اور فرماتے ہیں کہ میں کرسمس کی مبارکباد نہیں دیتا بلکہ حوالے دیتا ہوں انہی کی کتاب سے کہ بتاؤ کہاں لکھا ہے کہ عیسی علیہ اسلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان موقف بھی درست ہو گا، آپ کا بھی درست ہو گا پر دل نہیں مانتا جی۔
کہہ دو کہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اسے کسی نے جنا اور نہ اس نے کسی کو جنا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں، ایمان ہے جی یہ۔ پر یہی ایمان دل میں رکھ کر مبارکباد دیتے ہیں ہم، ہم انہیں نبی سمجھتے ہیں اور نبی ہی سمجھیں گے۔ وہ تو دلوں کے حال جانتا ہے نا جی۔ عنقریب ہم سب کا فیصلہ ہونے والا ہے پھر سب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اللہ ہم سب پر اپنا کرم، عطاء، رحمت، فضل ہی رکھے۔
وما علینا الالبلاغ۔
 
بچوں کی کہانی جو کہ مسلمان اور اس کے ایمان کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے ۔
اور سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ کسی مومن مسلمان کے حساب کے وقت اس سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تو نے ہولی ۔ دیوالی ۔ کرسمس کی مبارک باد کیوں دی ۔
مومِن کسے کہتے ہیں
عارف محمود کسانہ سویڈن
بشکریہ سلیقہ میگ
http://saliqamag.com/kidz-stories-urdu-momeen/
مومن عربی زبان کا لفظ ہے اور یہ لفظ امن سے نکلا ہے جس کا مطلب اطمینان ، خوف نہ ہونا، تصدیق کرنا اور بھروسہ کرنا ہوتا ہے لہذا مومِن کا مطلب ہوتا ہے وہ جو دِل کی سچائی کے ساتھ ایمان کو قبول کرلے ، دینِ اسلام کے مطابق چلے اور جس پر بھروسہ کیا جاسکے اور دوسروں کے لیے امن اور سلامتی کا باعث ہو۔
جب کوئی اسلام کو دین کی حیثیت سے قبول کرتا ہے تو وہ مسلمان کہلاتا ہے اور جب وہ اپنی زندگی اُس کے مطابق گذارتا ہے تو وہ مومن کہلاتا ہے۔ یعنی جو خدا کو ایک مانتا ہے وہ مسلمان ہوتا ہے اور جو خدا کی ہر بات مانتا ہے وہ مومن ہوتا ہے۔

آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ نرم دل ہوتے ہیں لیکن اللہ کے دشمنوں کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔

مومن سے بھی غلطی ہو سکتی ہے مگر مومن فورا توبہ کر لیتا ہے اور غلط کام کو چھوڑ دیتا ہے ۔ وہ بڑے گناہوں سے بچتا ہے

وہ زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے اور نہ ہی چِلا کر بولتے ہیں۔ وہ لوگوں سے تُرش روی سے پیش نہیں آتے، حسد نہیں کرتے، اپنی تعریفیں نہیں کرتے رہتے، اچھے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ہمیشہ صاف سیدھی اور دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ افواہیں نہیں پھیلاتے ا ور کوئی غلط بات اُن تک پہنچے تو اُسے آگے نہیں پھیلاتے۔ وعدہ پورا کرتے ہیں اور سچی گواہی دیتے ہیں چاہے اُن کے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ والدین، رشتہ داروں اور یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔ کسی کے ساتھ احسان کرکے اُسے جتلاتے نہیں بلکہ اُسے احساس بھی نہیں دلاتے۔ خود تنگی میں رہ کر دوسروں کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ اگر کسی نے اُن سے قرضہ لیا ہو تو واپسی کے لیے تنگ نہیں کرتے اور اگر ممکن ہو تو معاف بھی کر دیتے ہیں۔ پہلے اپنی اصلاح کرتے ہیں پھر دوسروں کو تلقین کرتے ہیں۔ اپنے غصہ پر قابو پاتے ہیں، اپنی نگاہ اور ذہن صاف رکھتے ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ وہ اپنی زندگی بغیر کسی خوف کے قرآن کے مطابق بسر کرتے ہیں۔ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
ہمارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی مومن کے بارے میں کچھ بتایا ہے۔ شمائل نے پوچھا
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی مومن کی خوبیاں بیان کی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ہے کہ وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ نہ ہوں۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مومن وہ ہے جو چیز اپنے لیے پسند کرے وہی اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔ اِسی طرح آپؐ نے فرمایا ہے کہ تم اُس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک مجھ سے یعنی حضور ؐ سے سب سے زیادہ پیار نہ کریں۔ جب ہم اُن سے پیار کریں گے توقرآن کے مطابق زندگی گذاریں گے کیونکہ آپؐ کی پوری زندگی قرآن کے مطابق ہی تھی۔
کتنی خوبصورت اور سچی باتیں ہیں۔ خط کشیدہ جملے غور سے پڑھیں۔ میری بات بھی سمجھ میں آجائے گی۔ مومن وہی ہے جو کامل اللہ کی مانے ۔ تاویلات پیش نہ کرے۔ رسول کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کامل اتباع کرے۔ شارٹ کٹ راستے نہ نکالے۔ اللہ کو اور اللہ کی مانے۔ آپس میں نرم دل اور اللہ کے دشمنوں کیلئے سختی اختیار کرے ۔ کفار کی تالیف قلب کیلئے اپنے رب کو ناراض نہ کرتا پھرے۔
دین اسلام کو کامل حیثیت سے قبول کرے اور اس پر عمل پیرا ہو۔ فرقوں میں نہ بٹ جائے۔ اپنے فرقے کی حمایت میں توانائی نہ صرف کرتا رہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کردے۔
شکریہ نایاب بھائی ۔بہت اچھی شیئرنگ ہے۔ یقینا سب کو سمجھ آگیا ہوگا کہ مومن ہونے کی کیا کیا خصوصیات ہوتی ہیں۔
 
جی ٖ آپ ضرور تحقیق کیجئے۔ نجران کا عیسائی وفد مباہلہ کیلئے آیا تھا لیکن وہ ڈر گئے اور مباہلہ نہیں کیا بلکہ "جزیہ“ دینے پر راضی ہوگئے تھے۔ حوالے چاہیں تو میں آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا۔

میں نے تھوڑی سی تحقیق کی ہے۔ ایسی کسی حدیث کا وجود نہیں ہے جس میں کہا گیا ہو کہ نجران کے وفد نے مسجدِ نبوی میں عبادت نہیں کی تھی۔۔۔البتہ ایسی احادیث ضرور ہیں جن میں اس بات کا ذکر ہے کہ مسجدِ نبوی میں اس وفد نے اپنے طریق سے عبادت کی تھی۔ اگر کچھ لوگوں نے ان احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ یہ احادیث موضوع (جھوٹی)ہیں۔ چنانچہ میں تو اپنی بات کے حق میں دلیل رکھتا ہوں خواہ ضعیف حدیث ہی کی ہو، لیکن آپکے پاس ایسی ایک بھی حدیث نہیں جو اس بات کوجھٹلاتی ہو کہ اس وفد نے مسجدِ نبوی میں عبادت کی تھی۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث کا ذکر البدایہ والنہایہ میں ہے، سیرتِ ابن ہشام میں ہے، الروض الانف میں ہے اور طبقاتِ ابن سعد میں ہے۔۔اسکے علاوہ حافظ ابن القیّم الجوزی کی مشہورِ زمانہ کتاب زاد المعاد میں بھی اس حدیث کو کوٹ کیا گیا ہے۔۔۔تو بھائی جہاں اتنی کتب میں اعلیٰ پائے کے علماء اس حدیث کو بیان کر رہے ہیں وہاں آپ اتنی آسانی سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ جی اس حدیث کی تو بات ہی نہ کریں۔ کیوں نہ کریں؟ ابن القیم نے کیوں یہ حدیث بیان کی زاد المعاد میں اگر یہ جھوٹی تھی تو؟
دوسرے یہ کہ یہ بھی روایت ہے کہ دمشق کی مشہور اموی مسجد جو پہلے گرجا تھی، اس میں 70 برس تک اس انداز سے عبادت ہوتی رہی کہ آدھا دن اس میں مسلمان نماز ادا کرتے تھے اور آدھا دن عیسائی عبادت کرتے تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب دمشق کو فتح کیا گیا۔ شہر کی ایک جانب سے حضرت خالد ابن ولید نے بزور شمشیر قبضہ کیا تو شہر کی دوسری جانب سے حضرت ابوعبیدہ کے فوجی دستے عیسائیوں کی طرف سے صلح اور ہتھیار ڈال دینے کے بعد داخل ہوئے تھے۔ چنانچہ 70 برس تک اس مسجد میں اسی طریق سے عبادت ہوتی رہی۔۔۔واللہ اعلم بالصواب
 
آپ کی پیش کردہ آیت سے Greetingsکہاں پر ثابت ہو رہی ہیں۔۔۔ ۔؟
اور یہ آپ سے کس نے کہہ دیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عیسائی کرسمس نہیں مناتے تھے ۔۔۔ بادلیل بات کیجئے گا۔۔۔ !

اگر آپ کا اعتراض یہ ہے کہ قرآن کی آیت میں لفظ greeting کیوں نہیں آیاتو معذرت ، ورنہ عام محاورے میں کسی کو سلام کہنا یا سلام بھیجنا greetings میں ہی شمار ہوتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کسی روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عیسائی کرسمس مناتے تھے، تو ضرور شئیر کیجئے ۔ اس میں دیر کس بات کی۔
 
میں نے تھوڑی سی تحقیق کی ہے۔ ایسی کسی حدیث کا وجود نہیں ہے جس میں کہا گیا ہو کہ نجران کے وفد نے مسجدِ نبوی میں عبادت نہیں کی تھی۔۔۔ البتہ ایسی احادیث ضرور ہیں جن میں اس بات کا ذکر ہے کہ مسجدِ نبوی میں اس وفد نے اپنے طریق سے عبادت کی تھی۔ اگر کچھ لوگوں نے ان احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ یہ احادیث موضوع (جھوٹی)ہیں۔ چنانچہ میں تو اپنی بات کے حق میں دلیل رکھتا ہوں خواہ ضعیف حدیث ہی کی ہو، لیکن آپکے پاس ایسی ایک بھی حدیث نہیں جو اس بات کوجھٹلاتی ہو کہ اس وفد نے مسجدِ نبوی میں عبادت کی تھی۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث کا ذکر البدایہ والنہایہ میں ہے، سیرتِ ابن ہشام میں ہے، الروض الانف میں ہے اور طبقاتِ ابن سعد میں ہے۔۔اسکے علاوہ حافظ ابن القیّم الجوزی کی مشہورِ زمانہ کتاب زاد المعاد میں بھی اس حدیث کو کوٹ کیا گیا ہے۔۔۔ تو بھائی جہاں اتنی کتب میں اعلیٰ پائے کے علماء اس حدیث کو بیان کر رہے ہیں وہاں آپ اتنی آسانی سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ جی اس حدیث کی تو بات ہی نہ کریں۔ کیوں نہ کریں؟ ابن القیم نے کیوں یہ حدیث بیان کی زاد المعاد میں اگر یہ جھوٹی تھی تو؟
دوسرے یہ کہ یہ بھی روایت ہے کہ دمشق کی مشہور اموی مسجد جو پہلے گرجا تھی، اس میں 70 برس تک اس انداز سے عبادت ہوتی رہی کہ آدھا دن اس میں مسلمان نماز ادا کرتے تھے اور آدھا دن عیسائی عبادت کرتے تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب دمشق کو فتح کیا گیا۔ شہر کی ایک جانب سے حضرت خالد ابن ولید نے بزور شمشیر قبضہ کیا تو شہر کی دوسری جانب سے حضرت ابوعبیدہ کے فوجی دستے عیسائیوں کی طرف سے صلح اور ہتھیار ڈال دینے کے بعد داخل ہوئے تھے۔ چنانچہ 70 برس تک اس مسجد میں اسی طریق سے عبادت ہوتی رہی۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب
آپ تھوڑی سی تحقیق اور کرلیتے تو آپ کو ان روایات کا پایہ بھی معلوم ہوجاتا۔ کچھ لوگوں کیا مطلب ؟ جب حدیث کی سند میں سقم ہوگا تو اس پرحکم تو لگایا جائے گا۔آپ سے عرض کیا تھا کہ وفد نجران کا مسجد میں عبادت کرنے والی روایت منقطع السند ہے جس کی وجہ سے یہ ضعیف ہے اور ضعیف حدیث سے استدلال درست نہیں اور قابل قبول بھی نہیں۔السند المنقطع لا يُعتمد أبداً عند أهل العلم
(منقطع السند روایت کبھی بھی اہل علم کے نزدیک قابل اعتماد نہیں ہوتی )۔ اگر آپ مصر ہیں تو آپ کی مرضی۔ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ آپ علم حدیث سے نابلد ہیں۔ وفد نجران کا واقعہ صحیح بخاری و مسلم میں بیان ہوا جو احادیث کی کتابیں ہیں اور دونوں کتابوں میں وفد کا مسجد میں عبادت کا ذکر موجود نہیں ہے۔آپ کہتے ہیں کہ میرے پاس ایسی کوئی حدیث نہیں جو اس بات کو جھٹلائے کہ وفد نے مسجد میں عبادت کی۔ میں نے آپ کی پیش کردہ روایت کی حیثیت بتادی ، پھر آپ کیسے مجھ سے کوئی اور حدیث مانگ رہے ہیں۔ جس روایت سے آپ دلیل پکڑ رہے ہیں وہی صحیح نہیں تو مجھ سے کس بات کا سوال ۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے!!
اس روایت کے لیے آپ نے سیرت ابن ہشام ، طبقات ابن سعد اور امام ابن جوزی وغیرہ کی کتابوں کا ذکر ہے ۔ تو عرض یہ ہے کہ ان کتابوں میں اور بھی بہت کچھ بیان ہوا ہے ۔ ہمیں اس پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ یہ کتب سیر و تاریخ پر ہیں جس میں بہت سی روایات درج ہیں جو غیر مستند بھی ہیں۔ یہ علماء و محدثین کا کام ہے کہ روایات کی چھان پھٹک کریں۔امام ابن قیم کیا کوئی بھی محدث جان بوجھ کر جھوٹی حدیث درج نہیں کرتا۔ خود ابن اسحاق نے جان بوجھ کر تو یہ نہیں لکھی ہوگی۔ انہوں نے اس پر اعتماد کیا ہوگا اس لیے درج کی۔ تحقیق تو ہمارا فرض بنتا ہے ۔اسی لیے علماء نے بعد از تحقیق سند اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ آپ کی ذکر کردہ کتابیں تحقیق کے ساتھ عرب میں شائع ہوچکی ہیں ، آپ تخریج شدہ نسخے خریدیں۔ ترجمے پر کام نہ چلائیں۔ محض کتاب کا حوالہ کافی نہیں ہوتا اور فقط بڑے بڑے علماء کے ذکر کردینے سے بھی روایت قابل اعتماد نہیں ہوجاتی ۔حدیث کے معاملے میں ہمیشہ سند کا دھیان رکھا جاتا ہے۔ خدارا اس بات کو سمجھیں۔
اگر عربی جانتے ہیں تو اس روایت پر حکم ان روابط پر ملاحظہ کریں :
http://www.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=118857
http://www.salafvoice.com/article.php?a=5524
http://www.h-alali.net/f_open.php?id=993d560c-8614-102c-834e-00e04d932bf7
http://www.alwasatyah.com/vb/showthread.php?t=545

اگر آپ پھر اسی روایت کے حوالے سے بحث کریں گے تو معاف کیجئے ، مجھے اپنا وقت ضائع کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ اس روایت کے حوالے سے مزید کوئی بحث نہیں ہوسکتی۔ یہ میرا نہیں اہل علم کا اصول ہے۔
جامع مسجد دمشق کی روایت کا مجھے علم نہیں۔
 
آپکے پیش کردہ روابط میں سے پہلے پر ہی کلک کیا تو یہ سامنے آیا۔۔۔
وقد سبق لنا في الفتوى رقم: 72906 أن الإذن لهم بالصلاة في المسجد جائز إذا رجيت من ذلك مصلحة كترغيبهم في الدخول في الإسلام وتعريفهم بالعبادة، كما سبق أن ذكرنا مفصلاً أقوال العلماء في دخول الكافر المسجد إلا المسجد الحرام، وأن الراجح الجواز إذا دعت الحاجة لذلك، أو كان في دخوله مصلحة كدعوته إلى الإسلام، وراجع في ذلك الفتوى رقم: 26104، والفتوى رقم: 4041
http://www.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=118857

یعنی یہاں مفتی صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی مصلحت ہو (مثلاّ دعوت، یا اسلام میں دخول کیلئے ترغیب دینی ہو،) تو مسجد میں کسی کافر کو داخل ہونے اور عبادت کرنے کی اجازت دینے میں کوئی حرج نہیں سوائے مسجد الحرام کے۔۔۔
الحمدللہ آپکے پیش کردہ لنک سے بھی میرے موقف کی تائید ہوگئی۔
لگتا ہے آپ مھض کاپی پیسٹ کرنے والے محقق ہیں اور غور و فکر کرنے کی زحمت کم ہی فرماتے ہیں۔۔۔آپ ہی کا پیش کردہ لنک اور آپ ہی کے موقف کے خلاف جارہا ہے۔۔۔مان لیا کہ حدیث ضعیف ہے، لیکن ان مفتی صاحب نے پھر کس بنیاد پر اجازت دی ہے؟ جن مصلحتوں کے تحت یہ اجازت دے رہے ہیں ، انہی مصلحتوں کے تحت نبی کریم نے بھی نجران کے وفد کو اجازت دی ہوگی ۔۔۔کیا خیال ہے۔
کفایت ہاشمی صاحب میں سمجھتا ہوں کہ میں نے بھی اپنا موقف بیان کردیا ہے اور آپ نے بھی۔ نہ تو آپ دین میں کوئی اتھارٹی ہیں اور میرا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ وہی قران ہے اور وہی سنت۔۔آپ کو ان سےکچھ اور سمجھ آتا ہے اور مجھے کچھ اور۔ چنانچہ لکم دینکم ولی دین پر عمل کرلیتے ہیں۔ :)
والسلام
 
http://translate.google.com/#en/ar/Greeting
Greeting کا مطلب ہے تحیہ۔۔۔ اور وہ آیت تو متلاشی جی آپ نے سنی ہی ہوگی کہ تحیتھم فیھا سلام۔۔۔ یعنی جنت میں لوگوں کا ایک دوسرے کو greetings دینے کا طریقہ یہ ہوگا کہ وہ کہیں گے سلام۔۔۔
غزنوی صاحب ۔ خود سے مفسر نہ بنیں ۔ اگر اس آیت کے تحت آپ کے پاس کسی مفسر کا قول ہے جس نے نصاریٰ کیلئے تحیہ و تبریک کا جواز نکالا ہو تو وہ پیش کریں (افسوس کہ وہ صرف اور صرف آپ ہی ہیں :!: )۔ ان شاء اللہ آپ کو ایسا کوئی مفسر ملنے والا بھی نہیں۔
ایک بار پھر عرض کر رہا ہوں کہ قرآنی آیات کو من مانے معانی نہ پہنائیں۔
آیت "وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا (مریم-33) '' میں سلامتی سے مراد اللہ کی طرف سے ان پر نازل کردہ سلامتی ہے۔ دیکھیے اس آیت کے ضمن میں تفسیر ابن کثیر ، تفسیر جلالین ، تفسیر طبری، تفسیر قرطبی ، تفسیر متولی الشعراوی ۔نہ کہ آپ کی اخذ کردہ مبارکباد۔
http://www.alro7.net/ayaq.php?langg=arabic&aya=33&sourid=19
قرآن کو سلف صالحین کے ارشادات اورتفسیر کی روشنی میں سمجھیں ۔ خود سے رائے زنی نہ کریں۔
 
بھیاززز ہم یہاں اپنا اپنا پوائنٹ آف ویو بتاتے ہیں ناں ۔۔۔ اب ہر ایک کو اس کی آزادی ہے ناں تو غصہ نہیں ہونا چاہیے اور اپنے ویو کو دوسروں پر زبردستی نہیں تھوپنا چاہیے۔۔ اس لیے نو مور آرگومنٹس پلیز
جس کو وش کرنا ہے وہ ضرور کرے اور جن کو نہیں وہ ناں کریں۔۔۔ بات ختم :)
جی مقدس میرے خیال میں کفایت بھیا نے مبارک باد کے کسی دھاگے میں بحث شروع نہیں کی بلکہ اپنا نکتہ نظر بتانے کے لیے الگ سے دھاگا کھولا ہے ، اس لیے اسے اپنا موقف ٹھونسنا تو نہیں کہہ سکتے ؟ اگر کہیں ایک دھاگا کرسمس کی مبارک باد کا چل رہا ہے اور دوسرا اس کی مبارک باد کے متعلق شرعی احکام کا تو قارئین کے لیے آسانی ہے وہ دونوں موقف دیکھ لیں جو درست لگے اپنا لیں ۔
میری بہنا عقائد کے معاملے میں بعض سادہ سے الفاظ بڑے اہم ہوتے ہیں ۔ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک قاافلے میں تھے ، باتوں میں انہوں نے کہا : میری ماں کی قسم ، پیچھے سے آواز آئی : اللہ تعالی کی قسم کے سوا ہر قسم حرام ہے ۔ انہوں نے مڑ کر دیکھا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس کے بعد میں نے کبھی کسی اور کی قسم نہ اٹھائی ۔ آپ دیکھ سکتی ہیں کہ اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ذات باری تعالی کے متعلق کتنی باریکی سے اچھی باتیں بتانے کا ہتمام کرتے تھے ۔ دراصل یہی اللہ تعالی سے سچی محبت ہے کہ دنیا کے معاملات میں بے پرواہ ہو جائیں لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شدید احتیاط کی جائے ۔
 
آپ کا موقف بھی درست ہو گا، بلکہ شاید آپ کا ہی درست ہو، پر کیا کریں سائیں دل نہیں مانتا۔ اس امید پر کہ اپنوں کے اعمال نے غیر مسلموں کو اسلام سے متنفر کر دیا، ہم کیا ہمارا اخلاق کیا، شاید اس طرح کوئی غیر مسلم مائل بہ اسلام ہو جائے۔
ذاکر نائیک صاحب اسے حرام کہتے ہیں، اور فرماتے ہیں کہ میں کرسمس کی مبارکباد نہیں دیتا بلکہ حوالے دیتا ہوں انہی کی کتاب سے کہ بتاؤ کہاں لکھا ہے کہ عیسی علیہ اسلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان موقف بھی درست ہو گا، آپ کا بھی درست ہو گا پر دل نہیں مانتا جی۔
کہہ دو کہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اسے کسی نے جنا اور نہ اس نے کسی کو جنا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں، ایمان ہے جی یہ۔ پر یہی ایمان دل میں رکھ کر مبارکباد دیتے ہیں ہم، ہم انہیں نبی سمجھتے ہیں اور نبی ہی سمجھیں گے۔ وہ تو دلوں کے حال جانتا ہے نا جی۔ عنقریب ہم سب کا فیصلہ ہونے والا ہے پھر سب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اللہ ہم سب پر اپنا کرم، عطاء، رحمت، فضل ہی رکھے۔
وما علینا الالبلاغ۔
بھیا یہاں دل کی چلے گی نہیں ، جن معاملات میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم آ جائے وہاں ہمارے دل کی بات چلتی نہیں ہے ۔ ماشاء اللہ آپ سمجھ دار ہیں ۔ اس مسئلے پر خود سوچیے کہ صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم کیا ہے ؟
 
تو میرے بھائی انہوں نے اپنی طرح عبادت کی۔ مسلمانوں نے نہ ان کے ساتھ شمولیت اخیتار کی اور نہ ہی ایسا کوئی اردہ ظاہر کیا۔
بایں اسی طرح پاکستان میں عیسائی عبادت کرتے ہیں ہندو اپنے طریقے سے کرتے ہیں سکھ اپنے طریقے سے کرتے ہیں۔ تو کیا کرسمس کی طرح ان کے کہنے پر مسلمان ان میں شامل ہو جائیں۔
آج کے مسلمان کو تو اسی بات سے سبق حاصل کر لینا چاہیے تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایسا واقعہ پیش آیا تو آپ نے نہ تو اس میں شرکت کی اور نہ شرکت کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
جزاک اللہ خیرا وبارک فیک ۔
دل میں اگر کسی کے ہے الفت رسول ﷺ کی​
لازم ہے ہر عمل میں اطاعت رسول ﷺ کی !​
 

مقدس

لائبریرین
جی مقدس میرے خیال میں کفایت بھیا نے مبارک باد کے کسی دھاگے میں بحث شروع نہیں کی بلکہ اپنا نکتہ نظر بتانے کے لیے الگ سے دھاگا کھولا ہے ، اس لیے اسے اپنا موقف ٹھونسنا تو نہیں کہہ سکتے ؟ اگر کہیں ایک دھاگا کرسمس کی مبارک باد کا چل رہا ہے اور دوسرا اس کی مبارک باد کے متعلق شرعی احکام کا تو قارئین کے لیے آسانی ہے وہ دونوں موقف دیکھ لیں جو درست لگے اپنا لیں ۔
میری بہنا عقائد کے معاملے میں بعض سادہ سے الفاظ بڑے اہم ہوتے ہیں ۔ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک قاافلے میں تھے ، باتوں میں انہوں نے کہا : میری ماں کی قسم ، پیچھے سے آواز آئی : اللہ تعالی کی قسم کے سوا ہر قسم حرام ہے ۔ انہوں نے مڑ کر دیکھا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس کے بعد میں نے کبھی کسی اور کی قسم نہ اٹھائی ۔ آپ دیکھ سکتی ہیں کہ اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ذات باری تعالی کے متعلق کتنی باریکی سے اچھی باتیں بتانے کا ہتمام کرتے تھے ۔ دراصل یہی اللہ تعالی سے سچی محبت ہے کہ دنیا کے معاملات میں بے پرواہ ہو جائیں لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شدید احتیاط کی جائے ۔
آپ کو غلط فہمی ہوئی کہ میں نے کفایت بھیا کو ایسا بولا۔۔۔
یہاں پر سب ایڈالٹس ہیں اور موسٹلی اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ایک دوسرے کو ہرٹ بھی کر جاتے ہیں
اپنی بات سب کو کہنی چاہیے لیکن اتنی زیادہ بحث کرنا آئی ڈاؤنٹ تھنک از رائٹ۔۔
اب میں آپ کو اپنی مثال دوں۔۔۔ میں محفل میں اسلامک سیکشن انجوائے کرتی تھی لیکن اب ادھر تب ہی آتی ہوں
جب کوئی پوسٹ اپروو کرنی ہو یا کچھ رپورٹ ہوا دیکھنا ہو۔۔
 

نایاب

لائبریرین
اک صاحب علم ہستی نے اس کہانی کو غیر متفق قرار دیا ہے ۔
اس لیئے اس کہانی کو اب اس طرح پڑھا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاید کہ مومن و مسلم حقیقت میں ایسا ہی ہوتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچوں کی کہانی جو کہ مسلمان اور اس کے ایمان کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے ۔
اور سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ کسی مومن مسلمان کے حساب کے وقت اس سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تو نے ہولی ۔ دیوالی ۔ کرسمس کی مبارک باد کیوں دی ۔
اس سے جو پوچھا جائے گا وہ یہ کہانی بہت سادہ زبان میں سمجھا رہی ہے ۔
غیر متفق
یہ بچوں کی کہانی مسلمان اور اس کے ایمان کو بالکل غلط بیان کر رہی ہے ۔ کسی بھی مومن مسلم سے حساب کے وقت صرف یہی پوچھا جائے گا کہ تو نے ہولی دیوالی کرسمس کی مبارکباد کیوں دی ۔
جو کچھ اس کہانی میں مومن و مسلم سے پوچھے جانے بارے تحریر ہوا وہ بالکل غلط ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مومِن کسے کہتے ہیں
عارف محمود کسانہ سویڈن
بشکریہ سلیقہ میگ
http://saliqamag.com/kidz-stories-urdu-momeen/
بچوں کے لئے اسلامی اور معلوماتی کہانیوں کا سلسلہ
امی جان نانا ابو کہاں ہیں مجھے اُن سے ضروری کام ہے۔ شمائل نے اپنی امی سے پوچھا۔ بیٹا وہ اپنے کمرے میں ہوں گے۔ کیوں تمھیں کیا کام ہے۔ امی نے شمائل سے پوچھا۔ یہ تو میں انہیں ہی بتاؤں گا اور یہ کہہ کر شمائل نانا ابو کے کمرے کی طرف چلا گیا۔ انوشہ اور یاور بھی اُس کے پیچھے پیچھے نانا جان کے کمرے کی طرف گئے۔ شمائل نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے نانا ابو کو سلام کیا ۔ انہوں نے بڑے پیار سے جواب دیا ۔ اتنی دیر میں انوشہ اور یاور بھی آگئے اور ا نہوں نے بھی نانا ابو کو سلام کیا ۔ نانا جان نے انہیں بھی پیار کیا اور بیٹھنے کو کہا۔ شمائل کہنے لگا نانا جان میرے سکول میں تقریری مقابلہ ہورہا ہے جس کا عنوان ہے مومن کی زندگی۔ مجھے آپ سے اس سلسلہ میں مدد لینی ہے۔ آپ مجھے تفصیل سے بتائیں کہ مومن کسے کہتے ہیں اور مومن کی زندگی کس طرح کی ہوتی ہے تاکہ میں اچھی سی تقریر تیار کرسکوں۔
اچھا تو یہ بات ہے نانا جان نے کہا۔ بیٹا
مومن عربی زبان کا لفظ ہے اور یہ لفظ امن سے نکلا ہے جس کا مطلب اطمینان ، خوف نہ ہونا، تصدیق کرنا اور بھروسہ کرنا ہوتا ہے لہذا مومِن کا مطلب ہوتا ہے وہ جو دِل کی سچائی کے ساتھ ایمان کو قبول کرلے ، دینِ اسلام کے مطابق چلے اور جس پر بھروسہ کیا جاسکے اور دوسروں کے لیے امن اور سلامتی کا باعث ہو۔
غیر متفق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مومن عربی زبان کا لفظ نہیں ہے ۔ اور نہ ہی اس کا امن سے کوئی واسطہ ہے ۔
مومن ہمیشہ بے چینی اور خوفزدگی کی حالت میں ہر بات کو جھٹلاتا ملے گا نہ کسی پر بھروسہ کرے گا اور نہ اس پر کوئی بھروسہ کرے گا ۔ مومن کا معنی ہے کہ جھوٹے دل کے ساتھ زبانی کلامی ایمان کا اقرار کرے ۔ عمل سے دور رہے ۔ اور ہمیشہ دوسروں کے لیئے خوف و دہشت کی علامت بنا رہے
مومن، ایمان، مسلم اور تقوٰی جیسے الفاظ آپ نے سُنے ہوں گے اِ ن کا مفہوم ایک جیسا ہی ہے۔ اِسی طرح مسلمان اور مومن ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔
جب کوئی اسلام کو دین کی حیثیت سے قبول کرتا ہے تو وہ مسلمان کہلاتا ہے اور جب وہ اپنی زندگی اُس کے مطابق گذارتا ہے تو وہ مومن کہلاتا ہے۔ یعنی جو خدا کو ایک مانتا ہے وہ مسلمان ہوتا ہے اور جو خدا کی ہر بات مانتا ہے وہ مومن ہوتا ہے۔
غیر متفق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب کوئی اسلام کو دین کی حیثیت سے قبول نہ کرے تو مسلمان کہلاتا ہے ۔ اور اگر غلطی سے اپنی زندگی اس دین کے مطابق بسر کرے تو مومن بھی نہیں کہلاتا ۔ جو خدا کو ایک مانے وہ مسلمان نہیں ۔ اور جو خدا کی ہر بات مانے وہ مومن نہیں ہوسکتا ۔
نانا جان قرآنِ مجید میں مومن کے بارے میں کیا کہا گیا ہے۔ انوشہ نے پوچھا
بیٹا قرآن پاک میں بہت سے مقامات پر اللہ تعالٰی نے مومن کی خوبیوں کے بارے میں بتایا ہے۔ سب سے پہلے یہ کہا ہے کہ
مومن وہ ہوتے ہیں جو غائب پر ایمان لاتے ہیں
غیر متفق ۔۔۔۔۔۔۔۔ مومن وہ ہوتا ہے جو کسی بھی ان دیکھی چیز پر ایمان نہ لائے ۔
یعنی جو چیزیں اُن کے سامنے نہیں ہوتیں یا جنہیں وہ نہیں دیکھ سکتے مگر اُن کا ذکر قرآن میں موجود ہے اُن پر ایمان لاتے ہیں جیسے مرنے کے بعد کی زندگی۔ اِسی طرح
مومن عقل اور فکر سے کام لیتے ہیں،
غیر متفق ۔۔۔۔۔۔۔۔ مومن کبھی عقل و فکر سے کام نہیں لیتا ۔۔
اِس کائنات پر غوروفکر کرتے ہیں ، علم حاصل کرتے ہیں۔
غیر متفق ۔۔۔۔۔۔۔۔مومن اس کائنات پر غوروفکر نہیں کرتا ۔اور علم سے کوسوں دور بھاگتا ہے ۔
انصاف سے کام لیتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے اور سچی بات کرتے ہیں۔ ماپ تول پورا کرتے ہیں، ضرورت مندوں کو اپنی چیزیں دے دیتے ہیں، فضول باتیں نہیں کرتے، نہ تو تکبر کرتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کی بُرائی کرتے ہیں۔ نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں۔ اسی طرح مومن دوسروں کے بُرے نام نہیں رکھتے، نہ کسی پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں اور نہ ہی کسی کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہتے ہیں۔ جاہل لوگوں سے بحث نہیں کرتے، اگر کوئی امانت دے تو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ نرم دل ہوتے ہیں لیکن اللہ کے دشمنوں کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔
غیر متفق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مومن کبھی انصاف سے کام نہیں لیتا ۔ مومن ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے ۔ سچ سے دور رہتا ہے ۔ ناپ تول میں ڈنڈی مارتاہے ۔ ضرورت مند کی کبھی مدد نہیں کرتا ۔ فضول باتوں میں الجھا رہتا ہے ۔ تکبر ناک پر دھرا رہتا ہے ۔ ہمیشہ غیبت میں مصروف رہتا ہے ۔ فضول خرچی اور کنجوسی اک دوسرے سے بڑھ کر ہوتی ہیں ۔ مومن ہمیشہ دوسروں کے نام بگاڑتے ہیں ۔ جھوٹے الزام لگاتے ہیں ۔ بے سروپا مذاق کرتے ہیں ۔ مومن ہمیشہ آپس میں لڑتے رہتے ہیں ۔ جاہلوں والی بحث میں الجھے رہتے ہیں ۔ امانت میں خیانت کرتے ہیں ۔ آپس میں جھگڑالو اور اللہ کے دشمن کے سامنے سر جھکائے رکھتے ہیں ۔
نانا جان کیا مومن غلط کام بالکل نہیں کرتے۔ کیا اُن سے کوئی گناہ کا کام نہیں ہوسکتا ۔ اب یاور نے سوال کیا۔
مومن سے بھی غلطی ہو سکتی ہے مگر مومن فورا توبہ کر لیتا ہے اور غلط کام کو چھوڑ دیتا ہے ۔ وہ بڑے گناہوں سے بچتا ہے
وہ زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے اور نہ ہی چِلا کر بولتے ہیں۔ وہ لوگوں سے تُرش روی سے پیش نہیں آتے، حسد نہیں کرتے، اپنی تعریفیں نہیں کرتے رہتے، اچھے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ہمیشہ صاف سیدھی اور دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ افواہیں نہیں پھیلاتے ا ور کوئی غلط بات اُن تک پہنچے تو اُسے آگے نہیں پھیلاتے۔ وعدہ پورا کرتے ہیں اور سچی گواہی دیتے ہیں چاہے اُن کے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ والدین، رشتہ داروں اور یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔ کسی کے ساتھ احسان کرکے اُسے جتلاتے نہیں بلکہ اُسے احساس بھی نہیں دلاتے۔ خود تنگی میں رہ کر دوسروں کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ اگر کسی نے اُن سے قرضہ لیا ہو تو واپسی کے لیے تنگ نہیں کرتے اور اگر ممکن ہو تو معاف بھی کر دیتے ہیں۔ پہلے اپنی اصلاح کرتے ہیں پھر دوسروں کو تلقین کرتے ہیں۔ اپنے غصہ پر قابو پاتے ہیں، اپنی نگاہ اور ذہن صاف رکھتے ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ وہ اپنی زندگی بغیر کسی خوف کے قرآن کے مطابق بسر کرتے ہیں۔ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
غیر متفق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مومن ہمیشہ زمین پر اکڑ کر چلتا ہے ۔ ہمیشہ چلا چلا کر ترشروئی سے بات کرتا ہے ۔ بے انتہا حاسد ہوتا ہے ۔ ہمیشہ اپنی تعریف میں محو رہتا ہے ۔ اچھے کاموں میں پیچھے رہتا ہے ۔ کبھی صاف سیدھی سچی بات نہیں کرتا ۔ ہمیشہ افواہیں پھیلاتا ہے کبھی وعدہ پورا نہیں کرتا ۔ سچی گواہی دینے سے مومن کی جان جاتی ہے ۔ کسی سے اچھا سلوک نہیں کرتا ۔ احسان کر کے ہمیشہ جتلاتا ہے ۔ قرضدار کو کبھی مہلت نہیں دیتا ۔ قرضہ معاف کرنا تو ممکن ہی نہیں ۔ اپنی اصلاح کی جانب توجہ کیئے بنا دوسروں کو تبلیغ میں الجھا رہتا ہے ۔ غصے میں مبتلا اپنی نگاہ و ذہن کو ہمیشہ اوہام میں مبتلا رکھتا ہے ۔ نماز و زکوات کو کبھی ادا نہیں کرتا ۔ مختصر یہ کہ مومن ہمیشہ پریشان اور خوفزدگی کے عالم میں زندگی بسر کرتا ہے ۔
اور ایسے مومن پر دنیا وآخرت میں رحتیں نازل ہوتی ہیں ۔
ہمارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی مومن کے بارے میں کچھ بتایا ہے۔ شمائل نے پوچھا
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی مومن کی خوبیاں بیان کی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ہے کہ
وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ نہ ہوں۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مومن وہ ہے جو چیز اپنے لیے پسند کرے وہی اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔ اِسی طرح آپؐ نے فرمایا ہے کہ تم اُس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک مجھ سے یعنی حضور ؐ سے سب سے زیادہ پیار نہ کریں۔
غیر متفق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شخص مومن ہو ہی نہیں سکتا جس کے ہاتھ پاؤں سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔
جب ہم اُن سے پیار کریں گے توقرآن کے مطابق زندگی گذاریں گے کیونکہ آپؐ کی پوری زندگی قرآن کے مطابق ہی تھی۔ بچوں آپ کو میں نے مومن کی خوبیاں اور اُس کی زندگی کے بارے میں بتا دیا ہے امید ہے کہ آپ کو سب سمجھ آگئی ہوگی اور شمائل اب تم اس بارے میں اچھی سی تقریربھی تیار کرسکتے ہو۔
جی نانا جان جب آپ بتا رہے تھے میں ساتھ ساتھ لکھتا جارہا تھا اور اب میں بہت اچھی تقریرتیار کروں گا اور مجھے امید ہے کہ پہلا انعام بھی میرا ہی ہوگا۔
 
آپکے پیش کردہ روابط میں سے پہلے پر ہی کلک کیا تو یہ سامنے آیا۔۔۔
وقد سبق لنا في الفتوى رقم: 72906 أن الإذن لهم بالصلاة في المسجد جائز إذا رجيت من ذلك مصلحة كترغيبهم في الدخول في الإسلام وتعريفهم بالعبادة، كما سبق أن ذكرنا مفصلاً أقوال العلماء في دخول الكافر المسجد إلا المسجد الحرام، وأن الراجح الجواز إذا دعت الحاجة لذلك، أو كان في دخوله مصلحة كدعوته إلى الإسلام، وراجع في ذلك الفتوى رقم: 26104، والفتوى رقم: 4041
http://www.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=118857

یعنی یہاں مفتی صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی مصلحت ہو (مثلاّ دعوت، یا اسلام میں دخول کیلئے ترغیب دینی ہو،) تو مسجد میں کسی کافر کو داخل ہونے اور عبادت کرنے کی اجازت دینے میں کوئی حرج نہیں سوائے مسجد الحرام کے۔۔۔
الحمدللہ آپکے پیش کردہ لنک سے بھی میرے موقف کی تائید ہوگئی۔
لگتا ہے آپ مھض کاپی پیسٹ کرنے والے محقق ہیں اور غور و فکر کرنے کی زحمت کم ہی فرماتے ہیں۔۔۔ آپ ہی کا پیش کردہ لنک اور آپ ہی کے موقف کے خلاف جارہا ہے۔۔۔ مان لیا کہ حدیث ضعیف ہے، لیکن ان مفتی صاحب نے پھر کس بنیاد پر اجازت دی ہے؟ جن مصلحتوں کے تحت یہ اجازت دے رہے ہیں ، انہی مصلحتوں کے تحت نبی کریم نے بھی نجران کے وفد کو اجازت دی ہوگی ۔۔۔ کیا خیال ہے۔
کفایت ہاشمی صاحب میں سمجھتا ہوں کہ میں نے بھی اپنا موقف بیان کردیا ہے اور آپ نے بھی۔ نہ تو آپ دین میں کوئی اتھارٹی ہیں اور میرا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ وہی قران ہے اور وہی سنت۔۔آپ کو ان سےکچھ اور سمجھ آتا ہے اور مجھے کچھ اور۔ چنانچہ لکم دینکم ولی دین پر عمل کرلیتے ہیں۔ :)
والسلام
یہاں بھی آپ دھوکہ کھا رہے ہیں یا دوسروں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ آپ نے نجران کے وفد کی مسجد میں عبادت سے یہ دلیل پکڑی تھی کہ مسلمانوں کو بھی ان کے تہوار میں شامل ہونا چاہیے اور مبارکبادیں دینی چائیں ۔ میں نے اسی لیے تحقیق پیش کردی تھی کہ آپ اس روایت سے دلیل نہیں پکڑ سکتے۔
جہاں تک غیر مسلم کا مسجد میں دخول کا مسئلہ ہے ، اس پر نہ بات ہوئی تھی نہ میں نے مخالفت کی تھی۔ مفتی صاحب نے بھی مصلحت کا ذکر کیا ہے اور یاد کیجئے اور اگر یاد نہیں تو میری پوسٹ کا دوبارہ مطالعہ کیجئے جس میں میں نے کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل وسعت نظری پر مبنی تھا تاکہ وہ جبر کی بجائے اپنے یقین سے دین کو قبول کریں۔
جس بات کو ثابت کرنے کیلئے آپ اس روایت کو دلیل بنا رہے تھے وہ تو ضعف کی وجہ سے ناقابل قبول اور اب فتوی ٰ کے ابتدائی حصے کو بنا رہے ہیں جس سے پھر بھی آپ کے مؤقف کی تائید نہیں ہوتی کہ غیر مسلموں کے ساتھ ان کے تہوار منائیں جائیں اور نصاریٰ کو کرسمس کی مبارکباد دی جائے۔
آپ نے ٹھیک کہا کہ میں دین میں اتھارٹی نہیں۔ قران و و سنت ہی اساس ہے۔ افسوس کہ ہم انہی دو اساسوں میں اپنی رائے کو داخل کرکے شکوک و شبہات پھیلاتے ہیں۔ اللہ ہمیں ہدایت نصیب فرمائے آمین۔
 
Top