رئیس فروغ غزل ۔ سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے ۔ رئیس فروغ

محمداحمد

لائبریرین
غزل​
​
سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے​
آسیب اپنے کام سے، ہم اپنے کام سے​
​
نشّے میں ڈگمگا کے نہ چل، سیٹیاں بجا​
شاید کوئی چراغ اُتر آئے بام سے​
​
غصّے میں دوڑتے ہیں ٹرک بھی لدے ہوئے​
میں بھی بھرا ہُوا ہوں بہت انتقام سے​
​
دشمن ہے ایک شخص بہت، ایک شخص کا​
ہاں عشق ایک نام کو ہے ایک نام سے​
​
میرے تمام عکس مرے کرّ و فر کے ساتھ​
میں نے بھی سب کو دفن کیا دھوم دھام سے​
​
مجھ بے عمل سے ربط بڑھانے کو آئے ہو​
یہ بات ہے اگر، تو گئے تم بھی کام سے​
​
ڈر تو یہ ہے ہوئی جو کبھی دن کی روشنی​
اُس روشنی میں تم بھی لگو گے عوام سے​
​
جس دن سے اپنی بات رکھی شاعری کے بیچ​
میں کٹ کے رہ گیا شعرائے کرام سے​
​
رئیس فروغ​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top