ناصر کاظمی " تِیرگی ختْم ہوئی، صُبْح کے آثار ہُوئے "

طارق شاہ

محفلین
​
تِیرگی ختْم ہوئی، صُبْح کے آثار ہُوئے ​
شہْرکے لوگ نئےعزْم سے بیدار ہُوئے​
​
شب کی تارِیکی میں جوآئے تھے رہزن بن کر ​
صُبْح ہوتے ہی وہ رُسوا سرِ بازار ہُوئے ​
​
جگمگانے لگِیں پھرمیرے وطَن کی گلِیّاں ​
ظُلم کے ہاتھ سِمَٹ کر پسِ دِیوار ہُوئے​
​
ہم پہ احساں ہے تِرا، شہْر کی اے نہرِعَظِیم ​
تو نے سِینے پہ سَہَے، شہْر پہ جو وار ہُوئے​
​
شاخ در شاخ چَمَکنے لگے خوشبُو کے چِراغ ​
عالمِ خاک سے پیدا نئے گُلزار ہُوئے​
​
ناصر کاظمی​
 

سید زبیر

محفلین
بہت اعلیٰ شاہ صاحب
تِیرگی ختْم ہوئی، صُبْح کے آثار ہُوئے
شہْرکے لوگ نئےعزْم سے بیدار ہُوئے
واہ ، کیا بات ہے
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top