یار خالد احمد، کیا یہ واقعی تم ہو؟ ---- عطاءالحق قاسمی

محمداحمد

لائبریرین
06_09.gif

بشکریہ جنگ۔
 
یہی مضمون تحریری شکل میں

خالد احمد اور شبنم شکیل کی وفات اردو ادب کے علاوہ میرے لئے ذاتی سانحہ کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔
خالد کے ساتھ میری دوستی کم و بیش چالیس برس پر محیط ہے، ہماری جب ملاقات ہوئی، ہم دونوں ”چھڑے چھانٹ“ تھے، پھر آگے پیچھے دونوں کی شادیاں ہوئیں، اس کے بعد ہم صاحب اولاد ہوئے، اور پر دادے اور نانے بھی بن گئے یہاں تک ہم نے سارا سفر اکٹھے طے کیا۔ مگر خالد احمد کوکسی انجانی بستی میں جانے کی جلدی تھی، چنانچہ وہ مجھے بتائے بغیر اس سفر پر روانہ ہو گیا لیکن ابھی میری خواہش کچھ دیر مزید قیام کی ہے۔
محبت ہو گئی ہے زندگی سے
ہمیں جینا بہت مہنگا پڑا ہے
لیکن جلد یا بدیر کونج سے بچھڑی ہوئی ڈاروں کو دوبارہ ملنا تو ہے، زندگی سے محبت کی قیمت خالد سے جدائی کی صورت میں کچھ دن برداشت تو کرنا پڑے گی!
خالد احمد صفِ اول کا شاعر تھا، میرے نزدیک اس کا نمائندہ شعری مجموعہ ”ہتھیلیوں پہ چراغ“ ہے، جس پر میں نے جملہ کستے ہوئے کہا تھا ”یار سیدھی طرح اپنے مجموعے کا نام ”بکف چراغ دارد“ رکھ لیتے، ترجمہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟“ جس پر حسب عادت اس نے بھرپور قہقہہ لگا کر جملے کی داد دی تھی۔ اس مجموعے کا پیش لفظ منظوم تھا، جس کا ایک شعر مجھے ابھی تک یاد ہے
بس ایک دھن میں پلٹتے چلو ورق پہ ورق
ہر ایک سطر میں دانائیاں نہیں ملتیں!
یہ شعر دنیا کی عظیم ترین کتابوں پر بھی صادق آتا ہے، اس مجموعے کے چند شعر مجھے اور بھی یاد ہیں!
ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں
لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں
ہر چند اختلاف کے پہلو ہزار تھے
وا کر سکا مگر لب گویا نہ تو نہ میں
…O…
بے جہت فکر کے ہاتھوں میں کماں کیوں دی تھی
اب ہدف تو ہے تو کیا تیر تو چل جانا تھا
اور اس کا یہ شعر تو میرا کلیجہ چیر کر رکھ دیتا ہے #
کوئی تو روئے لپٹ کر جوان لاشوں سے
اسی لئے تو وہ بیٹوں کو مائیں دیتا ہے
اس کے علاوہ اس کے ایک طویل نعتیہ قصیدے کی بھی بہت پذیرائی ہوئی۔ اس میں قصیدے کی روایت کے مطابق شکوہِ الفاظ کا التزام بھی موجود تھا چنانچہ مجھ ایسے ”ایم اے اردو“ کو کئی مقامات پر ڈکشنری کی مدد لینا پڑتی تھی، خالد احمد کی نعت کا یہ شعر بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی عشق کی گواہی دیتا ہے۔
خالد احمد تیری نسبت سے ہے خالد احمد
تو نے پاتال کی قسمت میں بھی رخصت لکھ دی
قومی سطح پر دیئے جانے والے سول ایوارڈز کمیٹی میں جب خالد احمد کا نام پرائیڈ آف پرفارمنس کے لئے پیش کیا گیا تو اس کمیٹی کے ارکان کی حیثیت سے میں اور شعیب بن عزیز خالد کا استحقاق ثابت کرنے کے لئے خالد کے اشعار سنانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جا رہے تھے تو صورتحال بیت بازی کی سی ہو گئی چنانچہ کمیٹی کے چیئرمین نے ہنستے ہوئے کہا ”بس کریں، استحقاق ثابت ہو گیا، باقی اشعار کے لئے خالد صاحب کو خصوصی دعوت پر یہاں بلائیں گے!“
زندگی میں جن دوستوں کے ساتھ میرا اور خالد احمد کا زیادہ سے زیادہ وقت گزرا ہے، ان میں امجد اسلام امجد، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، حسن رضوی، گلزار وفا چودھری اور نجیب احمد شامل ہیں لیکن خالد احمد اور نجیب احمد تو ”یک جان دو قالب“ تھے، آپ انہیں ”جڑواں دوست“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ نجیب ایک اعلیٰ درجے کا شاعر ہی نہیں بلکہ ایک عظیم انسان بھی ہے۔ خالد احمد اس کو ہر وقت کچوکے دیتا رہتا تھا۔ گالیاں دیتا تھا، اس کا مذاق اڑاتا تھا لیکن نجیب احمد کے علاوہ ہم سب دوستوں کو بھی اس ”راز“ کا علم تھا کہ خالد یہ سلوک کرتا ہی صرف ان دوستوں سے ہے جن سے وہ ٹوٹ کر پیار کرتا ہے۔ چنانچہ نجیب اپنی اس ”دھنائی“ پر مسلسل ہنستا رہتا، جب زیادہ زچ ہوتا تو کوئی ایک جملہ ایسا کہتا کہ خالد کی ”ڈیڈ“ ہوتی ہوئی بیٹر ی دوبارہ چارج ہو جاتی اور وہ نئے سرے سے اس پر ”حملہ آور“ ہو جاتا۔ نجیب احمد نے بہت عرصے تک شعر گوئی میں خالد احمد کی ”سنگت“ بھی کی اور وہ یوں کہ نجیب نسبت روڈ کی کسی سڑک پر لگے بجلی کے کھمبے پر اینٹ یا روڑے کھڑکاتے ہوئے ”تال“ دیتا اور خالد اس آہنگ پر شعر کہتا۔ بعد میں یہ کام پاک ٹی ہاؤس، نیشنل ہوٹل، فضل ٹی ہاؤس اور الحمراء کی ادبی بیٹھک کی میزوں پر ہاتھ کے طبلے کی صورت میں بھی لیا جاتا رہا۔ خالد جو ”لفظی تشدد“ نجیب احمد پر کرتا تھا، ویسا ہی تشدد آغا نثار، اعجاز رضوی وغیرہ پر بھی کیا کرتا تھا، چنانچہ اس کے جنازے پر جن کے آنسو تھمنے میں نہیں آتے تھے، انہیں لگتا تھا شاید انہیں یہ پیار دینے والا اب کوئی اور نہیں رہا!
خالد کی زندگی میں محرومیاں بھی بہت تھیں، جنہیں وہ اپنے جناتی قہقہوں میں اڑا دیتا تھا لیکن کئی حوالوں سے وہ بہت خوش نصیب بھی تھا۔ اس کی خوش نصیبیوں میں سے سب سے بڑی خوش نصیبی احمد ندیم قاسمی سے ملنے والی بے پناہ محبت کے علاوہ اس کے فرشتہ سیرت سسرالی بھی تھے، اسے ربانہ بھابی ایسی بے پناہ صابر شاکر اہلیہ ملی جس نے خالد کو شاعری کے لئے گھر کا پُر سکون ماحول اور رات گئے تک ادبی دوستوں کے ساتھ رہنے کی آزادی دی اور کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہ لائی… خالد کے برادر نسبتی عمران منظور ایسا محبت کرنے والا برادر نسبتی میں نے زندگی میں اور کوئی نہیں دیکھا، اس نے خالد کے لئے جہاں اور بہت کچھ کیا وہاں خالد کی مثبت مصروفیت کے لئے ایک خوبصورت ادبی مجلہ ”بیاض“ نکالا جس کی ادارت خا لد کے سپرد کر دی اور ”بیاض“ نے خالد کی تنہائی کم کرنے میں بہت مدد دی۔ اس کے گرد نوجوان شعراء کا جھمگٹا نظر آنے لگا جن کی وہ شعری تربیت کرتا اور انہیں ادبی دنیا میں روشناس کرانے کی کوشش کرتا۔ یہ سبق اس نے اپنے اور میرے مرشد احمد ندیم قاسمی سے سیکھا تھا۔ یہ سب نوجوان اس کے جنازے میں جمع تھے اور انہیں لگتا تھا کہ آج وہ یتیم ہو گئے ہیں۔
خالد صفِ اول کا شاعر ہی نہیں صف اول کا جملے باز بھی تھا۔ اس کی شادی میں دیگر مشاہیر کے علاوہ فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی اور حفیظ جالندھری بھی شریک تھے اور ”بحالت دولہا“ بھی وہ ان سے چہلیں کرنے میں مشغول تھا ایک بار مشاعرے میں حفیظ صاحب نے اپنی مشہور زمانہ غزل پڑھی جس کا مقطع تھا #
حفیظ اہل زبان کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا یہ
ا س پر سامعین میں بیٹھے ہوئے خالد نے بآواز بلند کہا ”حفیظ صاحب شاعری تو پھر بھی کام نہ آئی، ”ڈولے“ ہی کام آئے“ حفیظ صاحب خالد سے بے پناہ پیار کرتے تھے، چنانچہ وہ اس جملے پر بدمزہ نہیں ہوئے بلکہ مشاعرے کے اختتام پر خالد کی کلائی مروڑتے ہوئے کہا ”اوئے توں باز نئیں آنا!“ اسی طرح ہم ٹرین میں منڈی بہاء الدین جا رہے تھے، ظاہر ہے مشاعرے ہی کے لئے جا رہے تھے۔ مولانا ماہر القادری بھی ہمارے ہمراہ تھے جو صحت لفظی پر بہت اصرار کرتے تھے اور اپنے ماہنامہ ”فاران“ میں اس حوالے سے بڑے مدلل تنقیدی مضامین لکھا کرتے تھے… مولانا بھی خالد سے پیار کرتے تھے بلکہ عمر اور مرتبے کے فرق کے باوجود دونوں میں بے تکلفی بھی تھی۔ خالد نے اچانک مولانا کو مخاطب کیا اور کہا ”حضرت! یہ کیا آپ لفظوں کے ازار بند کھول کر ان کا مذکر، مونث ہونا چیک کرتے رہتے ہیں؟“ اس کے جواب میں مولانا کا وہ قہقہہ ہی سنائی دیا! میں یہاں خالد کی کالم نگاری کا ذکر نہیں کر رہا کیونکہ ہماری مشرقی روایت کے مطابق مرنے والے کی صرف خوبیاں بیان کی جاتی ہیں۔
میں یہ کالم مختصر کرنے کی کوشش میں بے شمار باتیں چھوڑتا چلا جا رہا ہوں، جو پھر کبھی سہی، فی الحال مجھے خود سے بھابی ربانہ سے ان کے بچوں سے عمران سے، نعمان سے اور سب دوستوں سے تعزیت کرنا ہے۔ اس شخص کی جو ادب کی اور محفلوں کی جان تھا وہ اب ہم میں نہیں رہا یا شاید وہ اب بھی ہم سب کے درمیان موجود ہے، مجھے یہ شک یوں گزرا ہے کہ ابھی ابھی مجھے اس کا قہقہہ سنائی دیا ہے۔ یار خالد احمد، کیا یہ آواز واقعی تمہاری تھی۔ یا میری خواہش نے تمہاری آواز کا روپ دھار لیا تھا؟

ربط
 
یہی مضمون تحریری شکل میں

خالد احمد اور شبنم شکیل کی وفات اردو ادب کے علاوہ میرے لئے ذاتی سانحہ کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔
خالد کے ساتھ میری دوستی کم و بیش چالیس برس پر محیط ہے، ہماری جب ملاقات ہوئی، ہم دونوں ”چھڑے چھانٹ“ تھے، پھر آگے پیچھے دونوں کی شادیاں ہوئیں، اس کے بعد ہم صاحب اولاد ہوئے، اور پر دادے اور نانے بھی بن گئے یہاں تک ہم نے سارا سفر اکٹھے طے کیا۔ مگر خالد احمد کوکسی انجانی بستی میں جانے کی جلدی تھی، چنانچہ وہ مجھے بتائے بغیر اس سفر پر روانہ ہو گیا لیکن ابھی میری خواہش کچھ دیر مزید قیام کی ہے۔
محبت ہو گئی ہے زندگی سے
ہمیں جینا بہت مہنگا پڑا ہے
لیکن جلد یا بدیر کونج سے بچھڑی ہوئی ڈاروں کو دوبارہ ملنا تو ہے، زندگی سے محبت کی قیمت خالد سے جدائی کی صورت میں کچھ دن برداشت تو کرنا پڑے گی!
خالد احمد صفِ اول کا شاعر تھا، میرے نزدیک اس کا نمائندہ شعری مجموعہ ”ہتھیلیوں پہ چراغ“ ہے، جس پر میں نے جملہ کستے ہوئے کہا تھا ”یار سیدھی طرح اپنے مجموعے کا نام ”بکف چراغ دارد“ رکھ لیتے، ترجمہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟“ جس پر حسب عادت اس نے بھرپور قہقہہ لگا کر جملے کی داد دی تھی۔ اس مجموعے کا پیش لفظ منظوم تھا، جس کا ایک شعر مجھے ابھی تک یاد ہے
بس ایک دھن میں پلٹتے چلو ورق پہ ورق
ہر ایک سطر میں دانائیاں نہیں ملتیں!
یہ شعر دنیا کی عظیم ترین کتابوں پر بھی صادق آتا ہے، اس مجموعے کے چند شعر مجھے اور بھی یاد ہیں!
ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں
لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں
ہر چند اختلاف کے پہلو ہزار تھے
وا کر سکا مگر لب گویا نہ تو نہ میں
…O…
بے جہت فکر کے ہاتھوں میں کماں کیوں دی تھی
اب ہدف تو ہے تو کیا تیر تو چل جانا تھا
اور اس کا یہ شعر تو میرا کلیجہ چیر کر رکھ دیتا ہے #
کوئی تو روئے لپٹ کر جوان لاشوں سے
اسی لئے تو وہ بیٹوں کو مائیں دیتا ہے
اس کے علاوہ اس کے ایک طویل نعتیہ قصیدے کی بھی بہت پذیرائی ہوئی۔ اس میں قصیدے کی روایت کے مطابق شکوہِ الفاظ کا التزام بھی موجود تھا چنانچہ مجھ ایسے ”ایم اے اردو“ کو کئی مقامات پر ڈکشنری کی مدد لینا پڑتی تھی، خالد احمد کی نعت کا یہ شعر بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی عشق کی گواہی دیتا ہے۔
خالد احمد تیری نسبت سے ہے خالد احمد
تو نے پاتال کی قسمت میں بھی رخصت لکھ دی
قومی سطح پر دیئے جانے والے سول ایوارڈز کمیٹی میں جب خالد احمد کا نام پرائیڈ آف پرفارمنس کے لئے پیش کیا گیا تو اس کمیٹی کے ارکان کی حیثیت سے میں اور شعیب بن عزیز خالد کا استحقاق ثابت کرنے کے لئے خالد کے اشعار سنانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جا رہے تھے تو صورتحال بیت بازی کی سی ہو گئی چنانچہ کمیٹی کے چیئرمین نے ہنستے ہوئے کہا ”بس کریں، استحقاق ثابت ہو گیا، باقی اشعار کے لئے خالد صاحب کو خصوصی دعوت پر یہاں بلائیں گے!“
زندگی میں جن دوستوں کے ساتھ میرا اور خالد احمد کا زیادہ سے زیادہ وقت گزرا ہے، ان میں امجد اسلام امجد، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، حسن رضوی، گلزار وفا چودھری اور نجیب احمد شامل ہیں لیکن خالد احمد اور نجیب احمد تو ”یک جان دو قالب“ تھے، آپ انہیں ”جڑواں دوست“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ نجیب ایک اعلیٰ درجے کا شاعر ہی نہیں بلکہ ایک عظیم انسان بھی ہے۔ خالد احمد اس کو ہر وقت کچوکے دیتا رہتا تھا۔ گالیاں دیتا تھا، اس کا مذاق اڑاتا تھا لیکن نجیب احمد کے علاوہ ہم سب دوستوں کو بھی اس ”راز“ کا علم تھا کہ خالد یہ سلوک کرتا ہی صرف ان دوستوں سے ہے جن سے وہ ٹوٹ کر پیار کرتا ہے۔ چنانچہ نجیب اپنی اس ”دھنائی“ پر مسلسل ہنستا رہتا، جب زیادہ زچ ہوتا تو کوئی ایک جملہ ایسا کہتا کہ خالد کی ”ڈیڈ“ ہوتی ہوئی بیٹر ی دوبارہ چارج ہو جاتی اور وہ نئے سرے سے اس پر ”حملہ آور“ ہو جاتا۔ نجیب احمد نے بہت عرصے تک شعر گوئی میں خالد احمد کی ”سنگت“ بھی کی اور وہ یوں کہ نجیب نسبت روڈ کی کسی سڑک پر لگے بجلی کے کھمبے پر اینٹ یا روڑے کھڑکاتے ہوئے ”تال“ دیتا اور خالد اس آہنگ پر شعر کہتا۔ بعد میں یہ کام پاک ٹی ہاؤس، نیشنل ہوٹل، فضل ٹی ہاؤس اور الحمراء کی ادبی بیٹھک کی میزوں پر ہاتھ کے طبلے کی صورت میں بھی لیا جاتا رہا۔ خالد جو ”لفظی تشدد“ نجیب احمد پر کرتا تھا، ویسا ہی تشدد آغا نثار، اعجاز رضوی وغیرہ پر بھی کیا کرتا تھا، چنانچہ اس کے جنازے پر جن کے آنسو تھمنے میں نہیں آتے تھے، انہیں لگتا تھا شاید انہیں یہ پیار دینے والا اب کوئی اور نہیں رہا!
خالد کی زندگی میں محرومیاں بھی بہت تھیں، جنہیں وہ اپنے جناتی قہقہوں میں اڑا دیتا تھا لیکن کئی حوالوں سے وہ بہت خوش نصیب بھی تھا۔ اس کی خوش نصیبیوں میں سے سب سے بڑی خوش نصیبی احمد ندیم قاسمی سے ملنے والی بے پناہ محبت کے علاوہ اس کے فرشتہ سیرت سسرالی بھی تھے، اسے ربانہ بھابی ایسی بے پناہ صابر شاکر اہلیہ ملی جس نے خالد کو شاعری کے لئے گھر کا پُر سکون ماحول اور رات گئے تک ادبی دوستوں کے ساتھ رہنے کی آزادی دی اور کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہ لائی… خالد کے برادر نسبتی عمران منظور ایسا محبت کرنے والا برادر نسبتی میں نے زندگی میں اور کوئی نہیں دیکھا، اس نے خالد کے لئے جہاں اور بہت کچھ کیا وہاں خالد کی مثبت مصروفیت کے لئے ایک خوبصورت ادبی مجلہ ”بیاض“ نکالا جس کی ادارت خا لد کے سپرد کر دی اور ”بیاض“ نے خالد کی تنہائی کم کرنے میں بہت مدد دی۔ اس کے گرد نوجوان شعراء کا جھمگٹا نظر آنے لگا جن کی وہ شعری تربیت کرتا اور انہیں ادبی دنیا میں روشناس کرانے کی کوشش کرتا۔ یہ سبق اس نے اپنے اور میرے مرشد احمد ندیم قاسمی سے سیکھا تھا۔ یہ سب نوجوان اس کے جنازے میں جمع تھے اور انہیں لگتا تھا کہ آج وہ یتیم ہو گئے ہیں۔
خالد صفِ اول کا شاعر ہی نہیں صف اول کا جملے باز بھی تھا۔ اس کی شادی میں دیگر مشاہیر کے علاوہ فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی اور حفیظ جالندھری بھی شریک تھے اور ”بحالت دولہا“ بھی وہ ان سے چہلیں کرنے میں مشغول تھا ایک بار مشاعرے میں حفیظ صاحب نے اپنی مشہور زمانہ غزل پڑھی جس کا مقطع تھا #
حفیظ اہل زبان کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا یہ
ا س پر سامعین میں بیٹھے ہوئے خالد نے بآواز بلند کہا ”حفیظ صاحب شاعری تو پھر بھی کام نہ آئی، ”ڈولے“ ہی کام آئے“ حفیظ صاحب خالد سے بے پناہ پیار کرتے تھے، چنانچہ وہ اس جملے پر بدمزہ نہیں ہوئے بلکہ مشاعرے کے اختتام پر خالد کی کلائی مروڑتے ہوئے کہا ”اوئے توں باز نئیں آنا!“ اسی طرح ہم ٹرین میں منڈی بہاء الدین جا رہے تھے، ظاہر ہے مشاعرے ہی کے لئے جا رہے تھے۔ مولانا ماہر القادری بھی ہمارے ہمراہ تھے جو صحت لفظی پر بہت اصرار کرتے تھے اور اپنے ماہنامہ ”فاران“ میں اس حوالے سے بڑے مدلل تنقیدی مضامین لکھا کرتے تھے… مولانا بھی خالد سے پیار کرتے تھے بلکہ عمر اور مرتبے کے فرق کے باوجود دونوں میں بے تکلفی بھی تھی۔ خالد نے اچانک مولانا کو مخاطب کیا اور کہا ”حضرت! یہ کیا آپ لفظوں کے ازار بند کھول کر ان کا مذکر، مونث ہونا چیک کرتے رہتے ہیں؟“ اس کے جواب میں مولانا کا وہ قہقہہ ہی سنائی دیا! میں یہاں خالد کی کالم نگاری کا ذکر نہیں کر رہا کیونکہ ہماری مشرقی روایت کے مطابق مرنے والے کی صرف خوبیاں بیان کی جاتی ہیں۔
میں یہ کالم مختصر کرنے کی کوشش میں بے شمار باتیں چھوڑتا چلا جا رہا ہوں، جو پھر کبھی سہی، فی الحال مجھے خود سے بھابی ربانہ سے ان کے بچوں سے عمران سے، نعمان سے اور سب دوستوں سے تعزیت کرنا ہے۔ اس شخص کی جو ادب کی اور محفلوں کی جان تھا وہ اب ہم میں نہیں رہا یا شاید وہ اب بھی ہم سب کے درمیان موجود ہے، مجھے یہ شک یوں گزرا ہے کہ ابھی ابھی مجھے اس کا قہقہہ سنائی دیا ہے۔ یار خالد احمد، کیا یہ آواز واقعی تمہاری تھی۔ یا میری خواہش نے تمہاری آواز کا روپ دھار لیا تھا؟

ربط
:thumbsup:
 
Top