کوچۂ آلکساں

گُلِ یاسمیں

لائبریرین

عبدالصمدچیمہ

لائبریرین
ایک آلکسی نے کہا تھا
اک بار ہی آزما تو لیتے
در بند نہ تھا بھڑا ہوا تھا

ویسے بھی جو لوگ دروازہ بند کرنے تک نہیں آرہے آپ کو لگتا ہے اٹھ کر چٹخنی چڑھانے آئیں گے۔۔۔
اتنا جان جوکھوں کا کام ہے اُٹھ کر دروازہ بند کرنا۔ اس میں سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ پھر کوئی آگیا تو اُٹھ کر کھولنا بھی پڑے گا۔
 
ٹھیک ہے ٹھیک ہے
اب نیرنگ خیال اب فیصل عظیم فیصل کو بتادیں کہ کوچہ تھا کُجا نہیں۔
میرا بھانجا ہے معظم لاہور میں اسٹیٹ ایجنسی کرتا ہے اسے ہم پیار سے موجو پکارتے تھے ۔ جب چھوٹا تھا تو جب کچھ کھانے لگتے وہ ان پہنچتا ۔ اب تین چار برس کا بچہ پیار کا حقدار تھا تو ہمارا ایک تکیہ کلام بن گیا ان دنوں





موج کر موجو کہ تیری موج کے دن تھوڑے ہیں ۔

یہاں موج سے مراد بچہ ہونے کی موج سے ہے
 
Top