پیر و مرشد وارث صاحب کی ایک غزل کی مزاحیہ تشریح

عمرو عیار

محفلین
جیہ اور سامعین
ذرا یہاں بھی توجہ کیجئے اوپر جس غزل کی مزاحیہ تشریح سے آپ لوگ لطف اندوز ہو رہے ہیں اس کی صیح تشریح بھی پڑھ لیجئے شاید آپ کچھ غور و فکر کر سکے۔

تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے
دنیائے بے نمو میں پھرایا گیا مجھے

شاعر یہاں قصہ معراج کا زکر کر رہا ہے سائنس آج تسلیم کرتی ھیں اک وقت دنیا میں ایسا گزرا جب وقت ساکت ھوا اور وہ تاریخ معراج تھی نبی اکرم صلی الللہ علیہ وسلم سے صحابہ رضوان اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ ٰآ پ نے کتنا وقت عرش میں گزارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جب میں واپس اپنے حجرے میں ٰآیا میرے دروازے کی کنڈی ہل رہی تھی جیسے ابھی اک لحمہ قبل بند کیا ہو۔

شاعر کی تا زہ ہوا کے جھونکے سے مراد وہ فرس ہے جس کی رفتار چھلانگ ایک قدم مشرق میں اور دوسرا مغرب میں ۔
( ٰاس پر والے گٰھوڑے کا بھی اک منفرد قصہ ہے جو یہاں ضروری نہں بیان کرنا )

شاعر کی دنیا بے نمو سے مراد عرش بالا ہے

میں آنکھ سے گرا تو زمیں کے صدف میں تھا
بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے

شاعر یہاں اس آنسو کی تعریف کر رہا ہے جو قصہ طائف میں نبی اکرم صلی الللہ علیہ وسلم کے آنکھوں سے فرش پر گرنے والا تھا اچانک جبریل علیہ السلام سرعت سے نازل ہوئے اور آنسو کو فرش میں گرنے سے پہلے عرش میں اٹھالئے ۔
جب جبریل علیہ السلام سے پوچھا گیا بتائے کب ایسا ھوا کے ٰآپ علیہ السلام کو زمین کی طرف بہت تیزی سے آنا پڑا تو جبریل علیہ السلام نے فرمایا اس وقت جب نبی اکرم صلی الللہ علیہ وسلم طائف کی سختیوں کے بعد تکلیف سے آنسو نکلے اس وقت مجھے اللہ عزوجل نے حکم دیا اے جبریل اگر میرے محبوب کے آنسو زمین میں نابود ہوگئے قسم میرے قدرت کی اس جہاں میں کوئی مخلوق سانس لینے والی نہ ہوگی ۔
جبریل علیہ السلام فرماتے ہے آسمان سے زمین تک پہنچنے کا وقت اور نبی اکرم صلی الللہ علیہ وسلم کا آنسو مبارک فرش سے گرنے سے قبل کا وقت مساوی تھا۔


چیخا کبھی جو دہر کے ظلم و ستم پہ میں
قسمت کی لوری دے کے سلایا گیا مجھے

تسخیرِ کائنات کا تھا مرحلہ اسد
یونہی نہیں یہ علم سکھایا گیا مجھے

ان اوپر کے دو مصرعوں پر شاید 20 سفحوں کی تشریح کرنی پڑجائے لیکن مختصر یہ ہے کہ شاعر نے یہاں قبل اسلام عرب سردار کے نویدہ غلام مسلمانوں پر ظلم و ستم اور ان کی مدد میں نکلی چینخ و پکار کو قسمتِ غلامی پر سلادیا گیا۔

شاعر یہاں آخری مصرے میں نبی اکرم صلی الللہ علیہ وسلم کی شان بیان کر رہا ہے۔

بہت خوب ماشااللہ ہر اک اچھے شاعر کی طرح شاعر نے خلاصہ مصرعہ بہت خوب رکھا۔
 

عمرو عیار

محفلین
ٰاک مصرعہ نگاہ سے اوجھل ہوگیا تھا چلیئے اس کی بھی تشریح بیان کردوں۔

بخشی گئی بہشت مجھے کس حساب میں
دوزخ میں کس بنا پہ جلایا گیا مجھے

یہاں شاعر اللہ عزوجل کی نقطہ نواز بیان کر رہا ہے
حضرت عمر رضی اللہ عنہٌ زارو قطار روتے تھے یہاں تک کے ان کی ڈارھی آنسو سے بھیگ جاتی تھی۔ صحابہ اجمعین نے سوال کیا آپ ایسے زارو قطار کیوں روتے ھے عمر رضی اللہ عنہٌ جواب میں فرمایا روزِ محشر والے دن اگر صرف اک شخص جھنم میں جانے کا حقدار ہوں تو اے عمر کہیں یہ تو نہ ہو۔ جب یہ سوچتا ہوں تو میرے آنسو نہیں رکتے۔ ( سبحان اللہ )
 
اس بے جا الزام تراشی و طبیعت خراشی پر بٹیا سے پروانہ معافی کے متلاشی ہیں نیز رشوت حسنہ بنام ہدیہ برادرانہ پیش کرنے کو بلا تذبذب راضی ہیں جس کے ہم عادی ہیں! :) :) :)
محبوب نرالے عالم یاد آ گئے! اس سلسلے کے مصنف آپ ہی تو نہیں؟
 

فاتح

لائبریرین
جیہ بہن، ہمیشہ کی طرح بہت ہی خوبصورت فکاہیہ تشریح۔۔۔
آپ بہت اچھا مزاح لکھ سکتی ہیں لہٰذا ہمارا مشورہ ہے کہ آپ سنجیدگی سے مزاح لکھا کریں ۔
 

جاسمن

لائبریرین
جیہ جی! بہت خوبصورت لکھا ہے۔اتنا اچھا طرزِ تحریر ہے آپ کا!
وارث بھائی کی غزل بھی اِس بہانے پڑھنے کو مل گئی۔ جو اپنی مثال آپ ہے۔پھر اتنی مزے کی تشریح۔۔۔واہ۔
 

شمشاد

لائبریرین
مجھے آدھ گھنٹہ لگا ہے غزل کو سمجھنے اور اس کی تشریح پڑھنے میں۔

تبصرہ آدھ گھنٹے بعد کروں گا۔
 

جیہ

لائبریرین
جیہ بہن، ہمیشہ کی طرح بہت ہی خوبصورت فکاہیہ تشریح۔۔۔
آپ بہت اچھا مزاح لکھ سکتی ہیں لہٰذا ہمارا مشورہ ہے کہ آپ سنجیدگی سے مزاح لکھا کریں ۔
شکریہ مگر مزاح لکھنے کے لئے موضوع کہاں سے لاؤں؟ اب ہرغزل کی تشریح کرنے سے تو رہی:)
 

عظیم

محفلین
شکریہ مگر مزاح لکھنے کے لئے موضوع کہاں سے لاؤں؟ اب ہرغزل کی تشریح کرنے سے تو رہی:)


موضوع تو پہلے سے ہی پیدا ہیں آپ یہ پوچھئے کہ لفظ کہاں سے لاؤں اور اگر کوئی جواب ملے تو ہمیں بھی بتا دیجئے گا : ) ہمیں بھی کُچھ لفظ درکار ہیں ایک سنجیدہ مزاح کی خاطر ۔
 
Top