پنجابیوں کی مذہب پسندی اور مہاجروں کا سیکولرزم

squarened

معطل
میں جو بات کرتا ہوں وہ مہاجروں کی دل کی بات ہے اور حق ہے۔
مہاجر اسلام پاکستان ایک ہی بات ہے۔ یہ بات کسی اور قومیت پر فٹ نہیں بیٹھتی
یادرکھیے۔ پنجابی انڈین بھی ہوسکتا ہے بلوچی ایرانی بھی اور پٹھان افغانی بھی اور سندھی انڈین بھی۔ مگر مہاجر صرف پاکستانی ہوگا کوئی اور نہیں اور مسلم بھی ہوگا

ضروری نہیں ہے کہ تمام اردو اسپیکنگ آپ جیسی سوچ ہی رکھتے ہوں، بعض ایسے بھی ہیں جو آپ کے جئے مہاجر کے نعرے کو بدبو دار نعرہ سمجھتے ہیں کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے بدبودار نعرہ کہا ہے

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم ایک جنگ میں تھے تو مہاجرین میں سے ایک نے ایک انصاری کو مارا انصاری نے پکار کر کہا کہ اے جماعت انصار! اور مہاجرنے پکار کر کہا کہ اے جماعت مہاجرین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ سنا تو فرمایا یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو مارا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جاہلیت کی اس پکار کو چھوڑو یہ برا کلمہ ہے۔
 
ضروری نہیں ہے کہ تمام اردو اسپیکنگ آپ جیسی سوچ ہی رکھتے ہوں، بعض ایسے بھی ہیں جو آپ کے جئے مہاجر کے نعرے کو بدبو دار نعرہ سمجھتے ہیں کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے بدبودار نعرہ کہا ہے

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم ایک جنگ میں تھے تو مہاجرین میں سے ایک نے ایک انصاری کو مارا انصاری نے پکار کر کہا کہ اے جماعت انصار! اور مہاجرنے پکار کر کہا کہ اے جماعت مہاجرین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ سنا تو فرمایا یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو مارا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جاہلیت کی اس پکار کو چھوڑو یہ برا کلمہ ہے۔
آپ نے غلط منطبق کیا ہے۔
جئے مہاجر کسی کی دشمنی میں نہیں ہے یہ تو ہر مسلم کو لگانا چاہیے۔یہ خوشبودار ہے۔
آپ کی۔بات درست ہے کہ عصبیت درست نہیں۔ یقین جانیے جئے مہاجر حب اسلام و مسلم ہے۔
 
ضروری نہیں ہے کہ تمام اردو اسپیکنگ آپ جیسی سوچ ہی رکھتے ہوں، بعض ایسے بھی ہیں جو آپ کے جئے مہاجر کے نعرے کو بدبو دار نعرہ سمجھتے ہیں کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے بدبودار نعرہ کہا ہے

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم ایک جنگ میں تھے تو مہاجرین میں سے ایک نے ایک انصاری کو مارا انصاری نے پکار کر کہا کہ اے جماعت انصار! اور مہاجرنے پکار کر کہا کہ اے جماعت مہاجرین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ سنا تو فرمایا یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو مارا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جاہلیت کی اس پکار کو چھوڑو یہ برا کلمہ ہے۔
بہت اچھے! یہ ہوئی نا بات میں بھی یہی کہہ رہا تھا کب سے۔
 

squarened

معطل
آپ نے غلط منطبق کیا ہے۔
جئے مہاجر کسی کی دشمنی میں نہیں ہے یہ تو ہر مسلم کو لگانا چاہیے۔یہ خوشبودار ہے۔
آپ کی۔بات درست ہے کہ عصبیت درست نہیں۔ یقین جانیے جئے مہاجر حب اسلام و مسلم ہے۔

یہاں دوستی دشمنی کا کیا سوال ہے؟
اور نہ ہی جئے مہاجر کا حب اسلام سے تعلق بنتا ہے
زبان ،علاقہ، قوم،قبیلہ،خاندان یہ سب تعارف، پہچان کا ذریعہ ہیں نہ کہ فخر بڑائی کا
اس آیت کا انطباق اپنے نعروں کی روشنی میں بتا دیں
يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ
اے لوگو! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے ، اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کرسکو، درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے ۔

ایک ماں باپ کی اولادوں میں علاقے کی بنیاد پر جب آپ تفریق کرتے ہیں کہ مسئلہ وہاں ہے تو یہ عصبیت نہیں تو کیا ہے؟
 

squarened

معطل
بہت اچھے! یہ ہوئی نا بات میں بھی یہی کہہ رہا تھا کب سے۔
بصد معذرت آپ بالکل بھی یہ نہیں کہہ رہے تھے۔ تمام متعفن پوسٹس پر آپ متفق کی ریٹنگ دیتے ہیں بلکہ آگے سے گرہ لگاتے ہیں کہ مہاجر خود کو پاکستانی نہیں کہتے اور مہاجر اس بات کا جواب بھی دیں آپ کو اور اب کہتے ہیں آپ عصبیت کے خلاف ہیں
اچھا یاد آیا آج فرسٹ اپریل ہے
 
یہاں دوستی دشمنی کا کیا سوال ہے؟
اور نہ ہی جئے مہاجر کا حب اسلام سے تعلق بنتا ہے
زبان ،علاقہ، قوم،قبیلہ،خاندان یہ سب تعارف، پہچان کا ذریعہ ہیں نہ کہ فخر بڑائی کا
اس آیت کا انطباق اپنے نعروں کی روشنی میں بتا دیں
يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ
اے لوگو! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے ، اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کرسکو، درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے ۔

ایک ماں باپ کی اولادوں میں علاقے کی بنیاد پر جب آپ تفریق کرتے ہیں کہ مسئلہ وہاں ہے تو یہ عصبیت نہیں تو کیا ہے؟

آپ کی بات درست ہے
دراصل مہاجر اینٹی عصبیت ہے۔ جب ہم۔ جئے مہاجر کہتے ہیں اسکا مطلب ہوتا ہے جیئے دو قوی نظریہ جئے نظریہ پاکستان اور جئے اسلام
کسی اور قومیت میں یہ بات نہیں
مہاجر اسلام اور پاکستان ایک ہیں
جئے مہاجر کہنا عصبیت نہیں۔ مگر کوئی اور قومیت کا نعرہ عصبیت ہوسکتا ہے
 

محمداحمد

لائبریرین
آپ کی بات درست ہے
دراصل مہاجر اینٹی عصبیت ہے۔ جب ہم۔ جئے مہاجر کہتے ہیں اسکا مطلب ہوتا ہے جیئے دو قوی نظریہ جئے نظریہ پاکستان اور جئے اسلام
کسی اور قومیت میں یہ بات نہیں
مہاجر اسلام اور پاکستان ایک ہیں
جئے مہاجر کہنا عصبیت نہیں۔ مگر کوئی اور قومیت کا نعرہ عصبیت ہوسکتا ہے

آپ کے انداز سے وہ دور یاد آتا ہے جب مقامی اراکین ٹی وی پر بیٹھ کر لندن والی سرکار کے بیان کی وضاحت معہ صراحت پیش کیا کرتے تھے۔ :)
 
آپ کے انداز سے وہ دور یاد آتا ہے جب مقامی اراکین ٹی وی پر بیٹھ کر لندن والی سرکار کے بیان کی وضاحت معہ صراحت پیش کیا کرتے تھے۔ :)
میرا ان سے کوئی تعلق نہ تھا نہ ہے نہ ہوگا

مہاجر کا مطلب پاکستان ہے اگر پاکستان کا مطلب اسلام ہے
 
آپ کے انداز سے وہ دور یاد آتا ہے جب مقامی اراکین ٹی وی پر بیٹھ کر لندن والی سرکار کے بیان کی وضاحت معہ صراحت پیش کیا کرتے تھے۔ :)

میرا ان سے کوئی تعلق نہیں

مہاجر کا مطلب پاکستان ہے اگر پاکستان کا اسلام سے کوئی تعلق ہے۔
مہاجر کا مطلب ہی عصبیت سے لاتعلقی ہے۔
 
یہاں دوستی دشمنی کا کیا سوال ہے؟
اور نہ ہی جئے مہاجر کا حب اسلام سے تعلق بنتا ہے
زبان ،علاقہ، قوم،قبیلہ،خاندان یہ سب تعارف، پہچان کا ذریعہ ہیں نہ کہ فخر بڑائی کا
اس آیت کا انطباق اپنے نعروں کی روشنی میں بتا دیں
يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ
اے لوگو! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے ، اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کرسکو، درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے ۔

ایک ماں باپ کی اولادوں میں علاقے کی بنیاد پر جب آپ تفریق کرتے ہیں کہ مسئلہ وہاں ہے تو یہ عصبیت نہیں تو کیا ہے؟

جئے مہاجر کا حب اسلام سے واسطہ۔

مہاجر کا نام ہجرت سے اخذ ہوتا ہے۔ یعنی اسلام کی خاطر وطن کو چھوڑ کر ایسی جگہ رہنا جہاں اسلام کا بول بالا کیا جاوے۔ اسی لیے میری نظر میں مہاجر اور اسلام کا مطلب ایک ہے۔

میرے تصور مہاجر اور مقامی تنظیموں کے تصور مہاجر میں فرق ہوسکتا ہے۔ مگر اکثریت مہاجروں کی مجھ سے متفق ہیں یعنی اسلام کی خاطر ترک وطن
 

squarened

معطل
ہمت بھائی کے مختلف نکات سے اختلاف رائے ہوسکتا ہے مگر اسلام اور پاکستان سے ان کی محبت پر کوئی شک و شبہ نہیں۔
کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اسلام اور پاکستان دونوں سے ہی محبت کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ ہر مسلمان اور پاکستانی سے بھی محبت کی جائے؟
 
Top