میں نے مانا کے تیرے ہونٹوں پر،
ہیں روایت کی بندشوں کے قفل
پھر بھی اظہار آرزو کے لیے
تیری آنکھوں سے میری آنکھوں تک
گفتگو کی ہزار راہیں ہیں۔۔۔۔
 
ﺗُﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺲ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﮈﺭﺍﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺭﻭﺯ
ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﮨﻮﮞ , ﺗﮑﺮﯾﻢ ﮐﺮ ﻣِﺮﯼ
ﻧﺬﺭ ﺟﺎﻭﯾﺪ
ﻻﺋﻞ ﭘﻮﺭ
 
کیا یہ شعر درست ہے؟؟ مفہوم واضح نہیں ہو سکا ہم پر۔
جی درست ہے۔۔
اس کا مفہوم مجازی معنوں میں ہوگا کہ محبوب کو کہا گیا ہے بہانے مت بناو مجھ سے منہ موڑنے کے نہ خدا کے خوف سے ڈراو کیونکہ خدا تو خود محبت ہے اور اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اس لیے تم بھی مجھ سے محبت کرو۔۔۔
اگر حقیقی معنوں میں لیا جائے تو یہ کہ پہلے خدا کے قاہر ہونے کا ذکر ہے اور پھر رحیم و کریم ہونے کا کہ انسان خدا کا محبوب ہے وہ بندے سے ایک ماں سے ستر گنا زیادہ پیار کرتا ہے۔۔۔
میرے نزدیک تو یہی مفہوم تھا باقی شاعر کے باطن تک رسائی کون کرے:)
 

لاریب مرزا

محفلین
جی درست ہے۔۔
اس کا مفہوم مجازی معنوں میں ہوگا کہ محبوب کو کہا گیا ہے بہانے مت بناو مجھ سے منہ موڑنے کے نہ خدا کے خوف سے ڈراو کیونکہ خدا تو خود محبت ہے اور اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اس لیے تم بھی مجھ سے محبت کرو۔۔۔
اگر حقیقی معنوں میں لیا جائے تو یہ کہ پہلے خدا کے قاہر ہونے کا ذکر ہے اور پھر رحیم و کریم ہونے کا کہ انسان خدا کا محبوب ہے وہ بندے سے ایک ماں سے ستر گنا زیادہ پیار کرتا ہے۔۔۔
میرے نزدیک تو یہی مفہوم تھا باقی شاعر کے باطن تک رسائی کون کرے:)
شعر سے زیادہ خوب تو آپ کا بیان کردہ مفہوم ہے۔ :)
 
Top