وقت میں برکت

جاسمن

لائبریرین
جن لوگوں کو اِس بات پہ یقین نہ ہو وہ بے شک آگے نہ پڑھیں۔
یہ حقیقت ہے کہ روزی کے ساتھ ساتھ دوسرے وسائل میں بھی برکت ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ میں نے برکت کے تصور پہ بہت غور کیا ہے۔ بسم اللہ پڑھنے سے ہمارے ہر کام میں بہت سے دوسرے فائدوں کے ساتھ برکت بھی شامل ہوتی ہے۔ کراچی سے میری دوست آئی ہوئی تھی اپنے میکہ۔ اُسے اپنے خاندان کے ساتھ میں نے اپنے گھر کھانے پہ بُلایا۔ ساتھ میں اپنی مشترکہ دوست کے پُورے خاندان کو۔ میرے اپنے گھر والے اور میکہ والے بھی تھے۔ اتنے میں میری خالہ زاد اپنے خاندان کے ساتھ آگئیں۔ کھانا زیادہ نہیں تھا۔ دل ہی دل میں فکرمند تھی کہ کیا ہو گا۔۔۔لیکن سب نے جی بھر کے کھانا کھایا اور بچ بھی گیا۔
اسی طرح ہمارے مادی وسائل میں برکت ہوتی ہے۔ لیکن آج میں جس موضوع پہ بات کرنا چاہ رہی ہوں وہ وقت میں برکت ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ اگر ساجرے اُٹھا جائے اور نماز کے ساتھ قُرآنِ پاک کی تلاوت بھی کی جائے اور پھر سویا نہ جائے تو وقت میں بہت برکت ہوتی ہے۔ اِس سے بڑھ کے میرے لئے ایک بات بہت حیران کرنے والی رہی ہے کہ شہر کی نسبت گاؤں میں وقت میں برکت زیادہ ہے۔ جو کام میں شہر میں پورے دن میں ختم نہ کر پاتی تھی،وہ گاؤں میں لےجانے پہ مکمل ہو جاتے تھے۔ اِس لئے میں اپنے سلائی کڑھائی والے کام زیادہ تر گاؤں میں ہی کرتی تھی۔شہر میں جو روز مرّہ کے کام سارے دن میں ختم نہیں ہو پاتے وہی کام گاؤں میں گیارہ بجے ختم ہو جاتے ہین اور ہم سوچتے ہیں اب کیا کریں۔
میرا ایک سوال ہے کہ آخر گاؤں میں ایسا کیا ہے جو شہر میں نہیں ہے؟ مجھے بہت تجسس ہے اس بات کو جاننے میں۔ میں نے گاؤں کی زندگی کا مشاہدہ کیا ہے۔ وہاں اب وہ سب کچھ ہونا شروع ہے جو جو کچھ شہروں میں عرصے سے ہو رہا ہے۔وہ فرق جو کبھی شہری اور دیہی زندگی میں عمرانیات کے طالب علم کو ملتے تھے،اب ذرا کم ہی ملتے ہیں۔پھر آخر ایسا کیا ہے گاؤں میں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
 
آخری تدوین:

گلزار خان

محفلین
میں کہیں پڑھا تھا کے دنیا میں سب کچھ کرنے کا وقت کسی کے پاس نہیں ہے لیکن اہم کام کرنے کا وقت ہر ایک کو دیا جاتا ہے۔
بات شہر یا دہیات کی نہیں ہے آپ ایک کمرے میں اکیلی بیٹھی ہیں اور لائٹ چلی جاتی ہے ایک گھنٹے کے لیئے تو وہ ایک گھنٹہ آپ کو ایک دن کے برابر لگے گا
جب آپ مصروف ہوں تو آپ کو وقت کا پتہ نہیں چلے گا اور جب آپ فارغ ہوں تو ٹائیم بھی نہیں گزرتا
 

سید عمران

محفلین
1) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ صبح کے وقت میں برکت ہے...
عام مشاہدہ ہے کہ فجر کے بعد جو کام کیا جائے وہ کم وقت میں زیادہ ہوجاتا ہے...
اور جہاں بارہ بجے وقت گویا پر لگا کر اڑنے لگا...
2) دوسری حدیث ہے کہ قرب قیامت میں وقت سے برکت ختم ہوجائےگی... سال مہینے. مہینہ ہفتے اور ہفتہ دن کےبرابر محسوس یوگا...
آج کل اس کا عملی مشاپدہ کیا جاسکتا ہے...
3) برکت کی تعریف علماء کرام نے یہ فرمائی یے..
قلیل کثیر النفع... یعنی قلیل شے سے کثیر کام ہوجائیں...
اور بے برکتی کی تعریف ہے...
کثیر قلیل النفع... بہت کثرت میں ہونے کے باوجود فائدہ بہت تھوڑا پہنچائے..
4) بزرگان دین سے وقت میں برکت کے بہت سے واقعات منقول ہیں...
اگر کوئی دلچسپی ظاہر کرے گا تو شیئر کردوں گا....
 
آخری تدوین:

فرحت کیانی

لائبریرین
جن لوگوں کو اِس بات پہ یقین نہ ہو وہ بے شک آگے نہ پڑھیں۔
یہ حقیقت ہے کہ روزی کے ساتھ ساتھ دوسرے وسائل میں بھی برکت ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ میں نے برکت کے تصور پہ بہت غور کیا ہے۔ بسم اللہ پڑھنے سے ہمارے ہر کام میں بہت سے دوسرے فائدوں کے ساتھ برکت بھی شامل ہوتی ہے۔ کراچی سے میری دوست آئی ہوئی تھی اپنے میکہ۔ اُسے اپنے خاندان کے ساتھ میں نے اپنے گھر کھانے پہ بُلایا۔ ساتھ میں اپنی مشترکہ دوست کے پُورے خاندان کو۔ میرے اپنے گھر والے اور میکہ والے بھی تھے۔ اتنے میں میری خالہ زاد اپنے خاندان کے ساتھ آگئیں۔ کھانا زیادہ نہیں تھا۔ دل ہی دل میں فکرمند تھی کہ کیا ہو گا۔۔۔لیکن سب نے جی بھر کے کھانا کھایا اور بچ بھی گیا۔
اسی طرح ہمارے مادی وسائل میں برکت ہوتی ہے۔ لیکن آج میں جس موضوع پہ بات کرنا چاہ رہی ہوں وہ وقت میں برکت ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ اگر ساجرے اُٹھا جائے اور نماز کے ساتھ قُرآنِ پاک کی تلاوت بھی کی جائے اور پھر سویا نہ جائے تو وقت میں بہت برکت ہوتی ہے۔ اِس سے بڑھ کے میرے لئے ایک بات بہت حیران کرنے والی رہی ہے کہ شہر کی نسبت گاؤں میں وقت میں برکت زیادہ ہے۔ جو کام میں شہر میں پورے دن میں ختم نہ کر پاتی تھی،وہ گاؤں میں لےجانے پہ مکمل ہو جاتے تھے۔ اِس لئے میں اپنے سلائی کڑھائی والے کام زیادہ تر گاؤں میں ہی کرتی تھی۔شہر میں جو روز مرّہ کے کام سارے دن میں ختم نہیں ہو پاتے وہی کام گاؤں میں گیارہ بجے ختم ہو جاتے ہین اور ہم سوچتے ہیں اب کیا کریں۔
میرا ایک سوال ہے کہ آخر گاؤں میں ایسا کیا ہے جو شہر میں نہیں ہے؟ مجھے بہت تجسس ہے اس بات کو جاننے میں۔ میں نے گاؤں کی زندگی کا مشاہدہ کیا ہے۔ وہاں اب وہ سب کچھ ہونا شروع ہے جو جو کچھ شہروں میں عرصے سے ہو رہا ہے۔وہ فرق جو کبھی شہری اور دیہی زندگی میں عمرانیات کے طالب علم کو ملتے تھے،اب ذرا کم ہی ملتے ہیں۔پھر آخر ایسا کیا ہے گاؤں میں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
سویرے اٹھنا ہی شاید برکت کا باعث ہے. اس وقت انسان کا بائیولوجیکل کلاک بھی شاید انتہائی چست ہوتا ہے. اور یہ صرف یہاں نہیں میں نے پاکستان سے باہر بھی دیکھا ہے کہ جو لوگ تڑکے جاگ کر کام میں لگتے ہیں ان کے وقت میں بہت برکت ہوتی ہے اور کام بھی تیزی سے مکمل ہوتے ہیں.
 

نور وجدان

لائبریرین
شہری زندگی بھی اسی طرح تبدیل ہورہی ہے جس طرح دیہاتی زندگی کے بارے راقم خیال کر رہی ہے ۔۔۔ انسانی شخصیت کی قیمت برانڈڈ ملبوسات ، جوتے سے لے کے استعمال کی ہر شے ۔۔۔۔ اس کی قیمت کا تعین کرتی ہے ۔ہم سب ایک ریس میں ہیں کہ معاشرہ اس سمت جارہا ہے جہاں روشنیاں و رنگ بو کا سیلاب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس زندگی کو پانے کے لیے زندگی مشین جیسی ہوگئی ۔آپ کسی سے سلام دعا تک ، کھانے پینے سے اوڑھنے تک -------غرض ہر چیز میں تصنع کا رویہ عام ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم سے رہنا والا ہر فرد واحد اپنی زندگی میں خود مختار ہوتے اپنے رشتوں کو توڑ بیٹھا ہے اور ہم بھی اپنی رشتوں کو ایک خاص دن میں منانے لگے ہیں جیسے فادر ڈے یا مدرز ڈے یا برسی کا دن یا عید کا دن ۔۔۔۔۔۔۔ایسے سب مواقع جہاں سبھی رشتے اکٹھے ہونے کا ایک موقع سا پاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔شہری زندگی ایک نیوکلیئر سیٹ اپ میں بدلتا جارہا ہے بالکل اسی طرح زندگی کی تیز دوڑ میں خواتین جوں ہی شامل ہوئیں تو اکثر مرد جیلسی اور اکثر عورتیں طاقت کے نشے میں رہنے لگے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیملی سنگل پیرنٹ تک محدود ہوگئی ۔بچے دونوں والدین کی مکمل توجہ پانے سے قاصر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستانی شہروں میں '' سلمز '' سے ترقی کا عنصر ہوتے ہوتے دیہی زندگی میں داخل ہوگیا ہے جہاں پر روایت کی جنگ ابھی جدت سے متصادم نہیں ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں روایت کے نام پر فرسودہ رسومات زندگی میں رواں دواں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس کے ساتھ خاندانی بڑے لوگ خاندانی زندگی کے کفیل ہوتے رشتوں کو توازن کی جانب لانے میں کامیاب ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہری زندگی میں جگہ کم پڑنے کی وجہ سے لوگ تنگ و تاریک فلیٹز میں رہنے پر مجبور ہیں جبکہ دیہی زندگی میں کھلی فضا بحر حال ایک عطیہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی جب دھواں دینے والی بس ، گاڑیوں اور متعفن فضا کے گرد گھومتی ہے دیہی زندگی میں اکا دکا ہارن ، چھوٹے چھابے اور موبائل فونز نئی نئی اربنائزیشن کی جانب قدم رکھتے دکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غرض شہری زندگی مشینی ہونے کے ساتھ ایڈوانس مشینی دور میں داخل ہونے کی سعی میں ہے جبکہ دیہات کو شہر کی تازہ تازہ ہوا لگی ہے
 

الشفاء

لائبریرین
میرا ایک سوال ہے کہ آخر گاؤں میں ایسا کیا ہے جو شہر میں نہیں ہے؟
فطرت کا قرب۔۔۔ ہم جتنا نیچر یعنی فطرت یا زمین یعنی مٹی کے قریب تر ہوں گے، اتنا ہی زیادہ سکون ، برکت اور رحمت کو اپنے قریب محسوس کریں گے۔۔۔ جو لذت ننگی زمین پر سجدہ کرنےسے حاصل ہوتی ہے، وہ جائے نماز یا قالین پر سجدہ کرنے سے حاصل نہیں ہو پاتی۔۔۔ :)
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
اصل بات فطرت سے قریب رہنا ہے چاہے شہر میں زندگی گزر رہی ہو چاہے گاؤں میں۔
رات کو جلد سونا اور صبح سویرے اٹھ جانا فطرت سے قریب رکھتا ہے ہمیں۔ صبح جس قدر جلد اٹھا جائے متعدد کام انجام دینے کی صلاحیت کیفیت و کمیت دونوں ہی لحاظ سے بہترین ہوتی ہے اور دن بارہ بجے تک ہشاش بشاش نہ صرف تمام کام انجام دیئے جا سکتے ہیں بلکہ کچھ یا کافی وقت بونس میں بچ بھی رہتا ہے۔
اس کے برعکس جو لوگ دیر سے اٹھتے ہیں ایسے لوگوں کا چہرہ بہت عجیب سا ہوتا ہے، سوجی شکل، ایسے افراد کی شکل دیکھنے کو دل نہیں کرتا۔ ایک تو اٹھتے دیر سے ہیں پھر باقی کا دن چڑ چڑ کرتے آس پاس کا ماحول بھی تباہ کرنے پر تلے رہتے ہیں۔
 

جاسمن

لائبریرین
یہ بات تو طے ہے کہ صبح کے وقت میں بہت برکت ہے۔
لیکن وقت کے ساتھ جگہوں سے بھی بہت فرق پڑتا ہے۔شہر ہو یا گاؤں،ہاسٹل ہو یا گھر۔۔۔مجھے سحر خیزی بہت بہت پسند ہے۔ اور مجھے گاؤں اور شہر دونوں جگہوں پہ رہنے کا موقع بھی ملا ہے۔لیکن صبح کے وقت میں بھی شہر کی نسبت گاؤں میں برکت زیادہ ہے۔ اور دن کا باقی حصہ بھی شہر کی نسبت گاؤں میں زیادہ بڑا ہوتا ہے۔ میں نے یہ تجربات اتنی مرتبہ کئے ہیں کہ تعداد یاد نہیں۔ شہر میں شروع کئے کام مکمل ہونے میں نہیں آتے اور وہی کام گاؤں میں لے جائیں تو بہت جلدی تکمیل پا جاتے ہیں۔ سو سو کے تھک جائیں تو بھی گاؤں میں دن نہیں ڈھلتا۔شہر میں دن اتنی تیزی سے ڈھلتا ہے کہ اکثر میں یہ کہتے ہوئے پائی جاتی ہوں کہ دن چھتیس گھنٹوں کا ہونا چاہیے تھا۔
بچپن میں گرمیوں کی چھٹیاں گذرنے میں نہیں آتی تھیں اور دن کس قدر بڑے ہوتے تھے۔ رفتہ رفتہ دن چھوٹے ہوتے گئے اور چھٹیوں کا پتہ بھی نہیں چلتا۔
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ زندگی،وقت اور وسائل سے برکت اُٹھتی جائے گی۔ کیا اب وہی وقت نہیں آتا جارہا!!!!
 

جاسمن

لائبریرین
فطرت کا قرب۔۔۔ ہم جتنا نیچر یعنی فطرت یا زمین یعنی مٹی کے قریب تر ہوں گے، اتنا ہی زیادہ سکون ، برکت اور رحمت کو اپنے قریب محسوس کریں گے۔۔۔ جو لذت ننگی زمین پر سجدہ کرنےسے حاصل ہوتی ہے، وہ جائے نماز یا قالین پر سجدہ کرنے سے حاصل نہیں ہو پاتی۔۔۔ :)
آپ نے یہ نتیجہ کیسے اخذ کیا؟
مجھے یہ کلک کرتا ہے۔ کیونکہ میں نے عمرانیات میں دونوں جگہوں کے بارے میں بہت پڑھا بھی ہے اور خود بھی بہت مشاہدہ کیا ہے۔ گاؤں میں کم و بیش وہی سب برائیاں ہیں جو شہروں میں ہیں۔آپ کا نتیجہ درست معلوم ہوتا ہے۔
 

سید عمران

محفلین
قرآن مجید فرقان حمید سے شروع کرتے ہیں...

1) سورہ کہف میں ہے کہ اللہ تعالی نے اصحابِ کہف کے لیے تین سو سال تک وقت کو ٹھہرا دیا تھا... جبکہ باقی سارے عالم کے لیے وقت اپنی سی چال چلتا رہا..

2) قرآن پاک کا دوسرا واقعہ...
پیغمبر حضرت عزیر علیہ السلام ایک بستی سے گزرے.. وہاں کی رونق دیکھ کر دل میں خیال آیا کہ کیا ایسی جیتی جاگتی زندگی سے بھرپور بستی پر بھی زوال آسکتا ہے؟؟
اللہ تعالی نے اسی وقت نیند طاری کردی... ان کے لیے وقت کو سو سال تک روک دیا...حالانکہ سارے عالم کا وقت اپنی رفتار سے چل رہا تھا...
سو سال بعد دوبارہ اٹھایا تو انہوں نے دیکھا کہ بستی کھنڈرات کا ڈھیر بن گئی... ان کا گدھا کب کا مر کھپ گیا... اس کی ہڈیاں بھی بھربھری ہوگئیں... البتہ ان کا کھانا جو ان کے ساتھ تھا وہ اسی طرح تر و تازہ تھا... ذرا بھی خراب نہیں ہوا تھا...

3) قرآن پاک کا تیسرا واقعہ...
جب اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو ایک فرشتے کو حضرت مریم علیھا السلام کے پاس بھیجا...
اس نے جیسے ہی اللہ کے حکم سے حضرت مریم پر پھونک ماری... اللہ نے اسی وقت ان کے لیے وقت کی رفتار تیز کردی... یہاں تک کہ اسی حالت میں کھڑے کھڑے چند سیکنڈوں میں ان پر نو مہینے کا وقت بیت گیا...اور درد زہ شروع گیا...
اور زمانہ اپنی عام رفتار چل رہا تھا...

4) جب حضرت داؤد علیہ السلام زبور کی تلاوت کیا کرتے تھے تو ان کے وقت میں اس قدر برکت ہوجاتی تھی گویا وقت ان کے لیے ٹھہر گیا ہو...
وہ گھوڑے پر سوار ہوتے ہوئے اپنا ایک پیر رکاب میں ڈالتے تو زبور کی تلاوت شروع فرماتے اور دوسرا پیر رکاب میں ڈالنے تک تلاوت مکمل فرمالیا کرتے تھے...
حالانکہ اس سارے عمل میں محض چند سیکنڈ کا وقفہ ہوتا ہے...

5) اب تک کے واقعات سے پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے مقبول اور برگزیدہ بندوں کے لیے وقت کی رفتار میں فرق کردیا... جبکہ زمانے کی رفتار میں فرق نہیں آنے دیا... زمانے کی رفتار کو بالکل نہیں چھیڑا... اس میں قطعا کوئی دخل اندازی نہیں فرمائی...

لیکن جب اپنے محبوب ترین بندے... زمانے کے سردار... سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس آسمانوں پر بلایا... یعنی معراج نصیب فرمائی تو ساری کائنات کی گردش کو روک دیا...
حتی کہ جب آپ آسمانوں سے واپس گھر تشریف لائے تو بستر آپ کے جسم اطہر کی گرمی سے ویسا ہی گرم تھا...
اور دروازے کی کنڈی ابھی تک ہل رہی تھی...
 
آخری تدوین:

گلزار خان

محفلین
قرآن مجید فرقان حمید سے شروع کرتے ہیں...

1) سورہ کہف میں ہے کہ اللہ تعالی نے اصحابِ کہف کے لیے تین سو سال تک وقت کو ٹھہرا دیا تھا... جبکہ باقی سارے عالم کے لیے وقت اپنی سی چال چلتا رہا..

2) قرآن پاک کا دوسرا واقعہ...
پیغمبر حضرت عزیر علیہ السلام ایک بستی سے گزرے.. وہاں کی رونق دیکھ کر دل میں خیال آیا کہ کیا ایسی جیتی جاگتی زندگی سے بھرپور بستی پر بھی زوال آسکتا ہے؟؟
اللہ تعالی نے اسی وقت نیند طاری کردی... ان کے لیے وقت کو سو سال تک روک دیا...حالانہ سارے عالم کا وقت اپنی رفتار سے چل رہا تھا...
سو سال بعد دوبارہ اٹھایا تو انہوں نے دیکھا کہ بستی کھنڈرات کا ڈھیر بن گئی... ان کا گدھا کب کا مر کھپ گیا... اس کی ہڈیاں بھی بھربھری ہوگئیں... البتہ ان کا کھانا جو ان کے ساتھ تھا وہ اسی طرح تر و تازہ تھا... ذرا بھی خراب نہیں ہوا تھا...

3) قرآن پاک کا تیسرا واقعہ...
جب اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو ایک فرشتے کو حضرت مریم علیھا السلام کے پاس بھیجا...
اس نے جیسے ہی اللہ کے حکم سے حضرت مریم پر پھونک ماری... اللہ نے اسی وقت ان کے لیے وقت کی رفتار تیز کردی... یہاں تک کہ اسی حالت میں کھڑے کھڑے ان پر نو مہینے کا وقت بیت گیا...اور درد زہ شروع گیا...
اور زمانہ اپنی عام رفتار چل رہا تھا...

4) جب حضرت داؤد علیہ السلام زبور کی تلاوت کیا کرتے تھے تو ان کے وقت میں اس قدر برکت ہوجاتی تھی گویا وقت ان کے لیے ٹھہر گیا ہو...
وہ گھوڑے پر سوار ہوتے ہوئے اپنا ایک پیر رکاب میں ڈالتے تو زبور کی تلاوت شروع فرماتے اور دوسرا پیر رکاب میں ڈالنے تک تلاوت مکمل فرمالیا کرتے تھے...
حالانکہ اس سارے عمل میں محض چند سیکنڈ کا وقفہ ہوتا ہے...

5) اب تک کے واقعات سے پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے مقبول اور برگزیدہ بندوں کے لیے وقت کی رفتار میں فرق کردیا... جبکہ زمانے کی رفتار میں فرق نہیں آنے دیا... زمانے کی رفتار کو بالکل نہیں چھیڑا... اس میں قطعا کوئی دخل اندازی نہیں فرمائی...

لیکن جب اپنے محبوب ترین بندے... زمانے کے سردار... سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس آسمانوں پر بلایا... یعنی معراج نصیب فرمائی تو ساری کائنات کی گردش کو روک دیا...
حتی کہ جب آپ آسمانوں سے واپس گھر تشریف لائے تو بستر آپ کے جسم اطہر کی گرمی سے ویسا ہی گرم تھا...
اور دروازے کی کنڈی ابھی تک ہل رہی تھی...
جزاک اللہ
 

جاسمن

لائبریرین
قرآن مجید فرقان حمید سے شروع کرتے ہیں...

1) سورہ کہف میں ہے کہ اللہ تعالی نے اصحابِ کہف کے لیے تین سو سال تک وقت کو ٹھہرا دیا تھا... جبکہ باقی سارے عالم کے لیے وقت اپنی سی چال چلتا رہا..

2) قرآن پاک کا دوسرا واقعہ...
پیغمبر حضرت عزیر علیہ السلام ایک بستی سے گزرے.. وہاں کی رونق دیکھ کر دل میں خیال آیا کہ کیا ایسی جیتی جاگتی زندگی سے بھرپور بستی پر بھی زوال آسکتا ہے؟؟
اللہ تعالی نے اسی وقت نیند طاری کردی... ان کے لیے وقت کو سو سال تک روک دیا...حالانکہ سارے عالم کا وقت اپنی رفتار سے چل رہا تھا...
سو سال بعد دوبارہ اٹھایا تو انہوں نے دیکھا کہ بستی کھنڈرات کا ڈھیر بن گئی... ان کا گدھا کب کا مر کھپ گیا... اس کی ہڈیاں بھی بھربھری ہوگئیں... البتہ ان کا کھانا جو ان کے ساتھ تھا وہ اسی طرح تر و تازہ تھا... ذرا بھی خراب نہیں ہوا تھا...

3) قرآن پاک کا تیسرا واقعہ...
جب اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو ایک فرشتے کو حضرت مریم علیھا السلام کے پاس بھیجا...
اس نے جیسے ہی اللہ کے حکم سے حضرت مریم پر پھونک ماری... اللہ نے اسی وقت ان کے لیے وقت کی رفتار تیز کردی... یہاں تک کہ اسی حالت میں کھڑے کھڑے چند سیکنڈوں میں ان پر نو مہینے کا وقت بیت گیا...اور درد زہ شروع گیا...
اور زمانہ اپنی عام رفتار چل رہا تھا...

4) جب حضرت داؤد علیہ السلام زبور کی تلاوت کیا کرتے تھے تو ان کے وقت میں اس قدر برکت ہوجاتی تھی گویا وقت ان کے لیے ٹھہر گیا ہو...
وہ گھوڑے پر سوار ہوتے ہوئے اپنا ایک پیر رکاب میں ڈالتے تو زبور کی تلاوت شروع فرماتے اور دوسرا پیر رکاب میں ڈالنے تک تلاوت مکمل فرمالیا کرتے تھے...
حالانکہ اس سارے عمل میں محض چند سیکنڈ کا وقفہ ہوتا ہے...

5) اب تک کے واقعات سے پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے مقبول اور برگزیدہ بندوں کے لیے وقت کی رفتار میں فرق کردیا... جبکہ زمانے کی رفتار میں فرق نہیں آنے دیا... زمانے کی رفتار کو بالکل نہیں چھیڑا... اس میں قطعا کوئی دخل اندازی نہیں فرمائی...

لیکن جب اپنے محبوب ترین بندے... زمانے کے سردار... سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس آسمانوں پر بلایا... یعنی معراج نصیب فرمائی تو ساری کائنات کی گردش کو روک دیا...
حتی کہ جب آپ آسمانوں سے واپس گھر تشریف لائے تو بستر آپ کے جسم اطہر کی گرمی سے ویسا ہی گرم تھا...
اور دروازے کی کنڈی ابھی تک ہل رہی تھی...
سبحان اللہ۔
جزاک اللہ خیرا۔
 

جاسمن

لائبریرین
نتیجہ یہ ہوا کہ وقت میں برکت دن کے مخصوص حصہ کے لحاظ سے،جگہ کے لحاظ سے تو ہوتی ہے،اشخاص کے لحاظ سے بھی ہوتی ہے۔
کیا کسی اللہ کے خاص بندے کی وجہ سے اُں کی موجودگی میں کسی ہمارے جیسے عام بندے کے وقت و وسائل میں بھی برکت ہو جاتی ہے؟
 
Top