نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ؛ ٹائم لائن

الف نظامی نے 'معیشت و تجارت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 12, 2014

  1. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    11,700
    موڈ:
    Brooding
    جون 28, 2016
    دستاویز کے مطابق، آغاز میں نیلم جہلم منصوبہ اکتوبر دو ہزار پندرہ میں مکمل کرنے کا دعویٰ ہوا، جسے بعد میں بڑھا کرنومبر 2016 کر دیا گیا، کچھ ماہ بعد منصوبے کی تکمیل کیلئے اگست 2017 کی تاریخ دی گئی اور اب اطلاع یہ ہے کہ منصوبہ 2018 میں پیداوار دے سکے گا۔
    ماہرین منصوبے کی مدت تکمیل میں توسیع کی وجہ بین الاقوامی ڈونرز کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی قرار دیتے ہیں، تاخیر سے منصوبے کی لاگت بھی 84 ارب سے بڑھ کر 404 ارب روپے ہوچکی ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    1,362
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    بدر الفاتح آپ کیا جانتے ہیں اس منصوبے کے بارے میں جو غیر متفق ہیں؟؟
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. بدر الفاتح

    بدر الفاتح محفلین

    مراسلے:
    2,035
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    میرے خیال میں آپ کا تعلق مظفر آباد سے ہے ، 2005 کے زلزلہ کے بعد سے آنے والی قدرتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہر سال دریائے نیلم میں آنے والے سیلاب اور اس سے ہونے والی تباہی اور جانی ومالی نقصان سے آپ بے خبر نہیں ہوں گے، اس کے سدباب کے سلسلے میں اس ٹنل سے بہترین متبادل کوئی نہیں ۔

    باقی رہی آپ کی بات کہ بجلی جائے گی لاہور تو صاحب آزاد کشمیر کو بجلی کے معاملے میں جتنی سہولت ہے پاکستان کے کسی بھی شہر کو شاید ہی ہو ، دوردراز کے گاؤں اور انتہائی بلند علاقوں تک بجلی پہنچائی گئی ہے ، اور صاحب مجھے یہ بھی بتائیے کہ مظفر آباد کے مضافات میں کتنے گاؤں بجلی کا بل ادا کرتے ہیں ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    1,362
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    آپ کو کس نے کہا ہے کہ مظفرآباد میں سیلاب سے تباہی اور جانی و مالی نقصان ہوتا ہے؟
    مظفرآباد میں سوائے ان دریاؤں کے اور کوئی قابل ذکر چیز نہیں ہے. اس منصوبے سے اب سارا سال پانی کمی ہوگی. جو مظفرآباد میں اس سے پہلے کبهی نہیں ہوئی. شہر کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا. اس سے پہلے سارا شہر کا گند ان دریاؤں میں ڈالا جاتا تها.اور یہ برداشت کر لیتے تهے. اب وہ کدهر جائے گا؟
    اس منصوبے میں خواہ مخواہ اتنے پیسے ضائع کیے ہیں پاکستانی گورنمنٹ نے. اور عین ممکن ہے کہ یہ فیل ہو جائے.
    آزاد کشمیر والوں کو ویسے بهی اس منصوبے سے ملنا کچھ بهی نہیں ہے. اور یہاں کے لوگ ویسے بهی اپنے حقوق کے لیے آواز کم ہی اٹهاتے ہیں. اس بات سے بهی پاکستانی قیادت واقف ہے. ورنہ ابهی بند کیے جائیں آزاد کشمیر کے بجلی والے منصوبے تو ہم بهی دیکهیں پاکستان کتنا روشن رہتا ہے. بجلی فی یونٹ یہاں ابهی بهی پاکستان سے دو گنی قیمت پر واپڈا بیچتا ہے.
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. بدر الفاتح

    بدر الفاتح محفلین

    مراسلے:
    2,035
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    سیلاب کے دنوں میں لگتا ہے پھر آپ شہر سے باہر ہوتے ہیں دریائے نیلم میں طغیانی اس قدر شدید ہوتی ہے کہ مظفر آباد اڈے سے اٹھمقمام کی جانب جانے والا روڈ (پر چہلہ پل سے پہلے) پانی میں ڈوب کر اوپر والے گھروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے جبکہ دریا کے دوسری جانب موجود گھر خطرناک حد تک دریا کے اندر واقع ہیں

    اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سارا سال پانی کی بندش رہے گی بلکہ بوقت ضرورت پانی کے نکاس کو کنٹرول کیا جائے گا اور آپ کے علم کیلئے ٹنل کے بعد سے مظفر آباد شہر تک اتنے بڑے بڑے نالے دریا میں آ کر گرتے ہیں جو برسات میں دریا سے زیادہ طغیانی لاتے ہیں

    دگنی قیمت والی بات بھی آپ کی کافی دلچسپ رہی

    اگر آپ کے خیال میں حق تلفی ہو رہی ہے اور اہل کشمیر اس بارے میں آواز کم ہی اٹھاتے ہیں تو اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟ انڈیا اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتا؟ اور آپ جیسے لوگ اس کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے آگے کیوں نہیں آتے ؟
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 8, 2016
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    19,844
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    میں پچھلے کئی سالوں سے نیلم جہلم سرچارج حکومت کو دے رہا ہوں۔ ساٹھ سے ستر روپے ہر ماہ کے بجلی کے بل میں شامل ہوتے ہیں، اوسطا اگر سالانہ سات سو روپے ہوں، اور دس بیس لاکھ بجلی کے بلوں میں اگر یہ رقم شامل ہو ( کئی گھروں میں ایک سے زیادہ بجلی کے میٹر ہوتے ہیں) تو سالانہ اربوں روپے بنتے ہیں، وہ کدھر ہیں؟ ان کا حساب کیا ہوا؟ اس سرچارج سے ہماری جان کب چھوٹے گی؟ شاید ہی کبھی کوئی بتلائے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  7. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    1,362
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    سیلاب کا آسان حل ڈٰیم بنانا تھا۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ڈیم اور پاور ہاؤس تعمیر کر کے بغیر ماحول کو تباہ کیے بجلی بنائی جا سکتی تھی۔
    میرے اپنے علاقے کے علم میں اضافہ کرنے کی آپ کو ضرورت نہیں ہے۔ میں اپنے علاقے کو آپ سے زیادہ پہچانتا ہوں مجھے معلوم ہے کہ اس منصوبے کے بعد کتنا پانی دریا میں ہوگا ۔ جتنا ہوگا اتنا شہریوں کی تمام ضروریات کے لیے ناکافی ہے۔
    اتنی تباہی کے بعد اصولی طور پر مظفرآباد کو لوڈشیڈنگ سے مکمل نجات مل جانی چاہیے تھی مگر اس منصوبے کی بجلی کا ذرا سا بھی حصہ نہیں دیا جا رہا۔
    انڈیا کے ٹھیکیدار آپ ہوں گے مجھے صرف اپنے علاقے کی فکر ہے۔ آواز اٹھانے والے تھے، خود مختار کشمیر والے۔ اب وہ بھی ختم ہوگئے ہیں۔ باقی پی پی ، نون وغیرہ والے آواز اٹھانے سے رہے۔ یہ صرف جی حضور کرنے والے ہیں پاکستانی قیادت کے آگے۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 10, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    11,700
    موڈ:
    Brooding
    1 اگست 2016
    نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی نے 145کلومیٹر طویل 500کے وی نیلم جہلم ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن پر کام کی رفتار تیز کردی ۔
    پراجیکٹ ڈائریکٹر ای ایچ وی منظور احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹرانسمیشن لائن کے تعمیری کام کو تین لاٹس (لاٹI،لاٹ IIاور لاٹ III) میں تقسیم کیا گیا اور مجموعی طور پر 68فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے جس میں ڈیزائن کے مطابق راستے کی کلیئرنس (Right of Way)، فاونڈیشنز، ایریکشن اور سٹرنگنگ (ٹاورز پر تاریں ڈالنے کا عمل)جیسے بڑے کام شامل ہیں ۔
     
  9. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    11,700
    موڈ:
    Brooding

اس صفحے کی تشہیر