فیض نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا - فیض احمد فیض

نیلم

محفلین
ہممممم زبردست یہ ہوگیا،،،:rollingonthefloor:
لیکن یہ آپ کےمیسج سےڈاریکٹ نہیں ہوتا۔جواب پہ کلک کرکے ۔جواب بھیجیں والے حصے سے کاپی ہوتاہے،،تھوڑی محنت ہے لیکن بیسٹ۔
بہت شکریہ:)
 

محمداحمد

لائبریرین
یعنی جب ہم نے یہ غزل پوسٹ کی تھی تب "زبردست" کی ریٹنگ ایجاد نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔! ورنہ فیض کا کلام تو تب بھی اثر انگیز ہی تھا :D
 

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
یعنی جب ہم نے یہ غزل پوسٹ کی تھی تب "زبردست" کی ریٹنگ ایجاد نہیں ہوئی تھی۔۔۔ ۔! ورنہ فیض کا کلام تو تب بھی اثر انگیز ہی تھا :D
میں نے غور کیا ہے کہ پرانی تمام پوسٹس پر بہت کی کم زبردست کی ریٹنگ دی گئی ہیں
غالبا اب زیادہ دریا دل لوگ محفل پر پائے جاتے ہیں
یا پھر شائد کسی ایسی ٹیچر کی طرح کہ جو بہترین معیار پر بھی صرف اس لیئے کم نمبرز دیتی ہیں کہ بچے اور محنت کریں خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہیں
 

محمداحمد

لائبریرین
میں نے غور کیا ہے کہ پرانی تمام پوسٹس پر بہت کی کم زبردست کی ریٹنگ دی گئی ہیں
غالبا اب زیادہ دریا دل لوگ محفل پر پائے جاتے ہیں
یا پھر شائد کسی ایسی ٹیچر کی طرح کہ جو بہترین معیار پر بھی صرف اس لیئے کم نمبرز دیتی ہیں کہ بچے اور محنت کریں خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہیں

دراصل پہلے زبردست وغیرہ کی ریٹنگ نہیں تھی، صرف ایک ہی ریٹنگ تھی "شکریہ" کی۔۔۔۔!

اس سلسلے میں ہمارا ایک شکوہ آپ یہاں دیکھ سکتی ہیں۔
 

عروہ خان

محفلین
ش
غزل


نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹا دیا

مرے چارہ گرکو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو
و ہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا

کرو کج جبیں پہ سرِ کفن ، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن ، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا

اُ دھر ایک حرف کے کشتنی ، یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
جو کہا تو ہنس کے اُڑا دیا ، جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا

جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یاد گار بنا دیا

فیض احمد فیض
شاندار کلام قابل ستائش
 
Top