نکاح المتعہ کا تعارف (حصہ دوم)

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

dxbgraphics

محفلین
اور یہ ہم نہیں ہیں، بلکہ آپکی مسلسل روایات بیان کر رہی ہیں کہ صحابہ اوطاس سے پہلے خیبر میں، اور پھر خیبر کے بعد عمرۃ القضاء میں، اور پھر عمرۃ القضاء کے بعد فتح مکہ میں، اور پھر فتح مکہ کے بعد حنین میں، اور پھر حنین کے بعد تبوک میں، اور پھر اوطاس میں عقد المتعہ کرتے رہے۔
اور یہ سلسلہ یہاں ہی منقطع نہیں ہوا، بلکہ پھر بعد میں رسول اللہ ص کی وفات اور پھر اسکے بعد حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے دور تک مسلسل عقد المتعہ کرتے رہے۔

اور اس آیت کا اوطاس پر نزول ہونے کو مان کر تو الٹا آپ نے ہمارے مؤقف کو کئی گنا مضبوط کر دیا ہے اور اس سے اس پر تو کوئی فرق نہیں پڑا کہ عقد المتعہ مکہ میں "زوجہ" والی آیت سے حرام نہیں ہوا جیسا کہ آپ لوگوں کے ہاں مسلسل یہ الزام دہرایا جاتا ہے، بلکہ الٹا یہ ثابت ہو رہا ہے کہ خیبر ہو یا فتح مکہ یہ سب کے سب اوطاس سے پہلے ہوئے اور یہ سب کی سب روایات جھوٹی گھڑی ہوئی ہیں۔
شکر ہے اللہ تعالی کہ وہ میری منازل کو خود بخود آسان کرتا چلا جاتا ہے۔ اس آیت کا اوطاس پر نزول ابھی اور بہت کچھ ثابت کرنے والا ہے اور کیوں صحابہ ابو سعید خدری، ابن عباس، ابن مسعود اور ابن ابی کعب وغیرہ جو اس آیت کو متعہ سے منسوب سمجھتے تھے، انکا مؤقف اور واضح ہو گا۔
اور میں تو خود اس آیت کے اوطاس پر نزول کی طرف آنے والی تھی اور ریفرنس جمع کرنے کا ارادہ رکھتی تھی تاکہ فریق مخالف اسکا انکار نہ کر سکے۔ مگر اب شوکت کریم بھائی صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے مجھے اس تکلیف سے اور وقت کے ضیاع سے بچا لیا اور خود ہی یہ تمام انفارمیشن فراہم کر دی۔

اور یہ میری پچھلی پوسٹ ہے جس کو بھائی لوگ بقیہ مراسلوں کی طرح نظر انداز کرتے ہوئے نکل گئے، ورنہ اگر انہوں نے ذرا غور کیا ہوتا تو شاید وہ ذرا ہوشیار ہو جاتے۔

محترمہ آپ کے علم میں اضافہ کر دوں کہ مودودی صاحب بے شک ایک لائق انسان تھے لیکن وہ عالم نہیں تھے ۔ بلکہ وہ ایک متنازعہ شخصیت تھے۔ ان کی تفہیم القرآن جو 68 میں شائع ہوئی میرے پاس ابھی بھی موجود ہے جس کے ترجمے پر اہلسنت کا اعتراض ہے ۔ آپ کیا سمجھتی ہیں کہ مودودی صاحب کی تحریر سے اپنا من چاہا مطلب لیکر آپ زنا کو حلال کرنے میں‌ کامیاب ہوجائیں گی تو ایسا ہرگز نہیں۔اگر متعہ زنا واقعی حلال ہوتا تو زنا کا لفظ وجود میں ہی نہ آتا۔ اور لوگ حج و عمرے جتنا ثواب روزانہ کمارہے ہوتے اور نفس پر اتنا ظلم نہیں کرتے۔
 

dxbgraphics

محفلین



اب جبکہ آپ نے وقت نزول مان لیا ہے اوطاس 8 ہجری اب یہ جو اوپر آپ نے ہرزہ رسائی کی ہوئی ہے اس کو کیا کہیں گے ؟؟؟؟

سفید جھوٹ‌!!!!!!!!

کم علمی اور ناقص مذہبی معلومات !!!!!!!!!

دھوکہ اور دوستوں کی آنکھوں میں‌ دھول جھونکنا !!!!!!!!!

تقیہ صرف اور صرف تقیہ :grin:
 
ش

شوکت کریم

مہمان
اور میں تو خود اس آیت کے اوطاس پر نزول کی طرف آنے والی تھی اور ریفرنس جمع کرنے کا ارادہ رکھتی تھی تاکہ فریق مخالف اسکا انکار نہ کر سکے۔ مگر اب شوکت کریم بھائی صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے مجھے اس تکلیف سے اور وقت کے ضیاع سے بچا لیا اور خود ہی یہ تمام انفارمیشن فراہم کر دی۔

کیا کہنے محترمہ آپ کے میں محترم ناظمین کو مشورہ دوں گا کہ اس دھاگے کا نام بدل دیا جائے اور نیا نام رکھا جائے محترمہ مہوش کی قلابازیاں اور اگر اس نام پر پول بھی کروا لیا جائے تو کسی کو اعتراض‌کی گنجائش بھی نہیں رہی گی۔

بہرحال میں آپ کی سہولت اور معلومات کے لیے مزید آسانیاں‌ فراہم کرتا ہوں‌ کہ آپ نے تو بس رٹے رٹائے اور مانگے تانگے کے حوالوں‌ سے ہی کام چلایا ہے۔

سب سے پہلے تو یہ دیکھیں کہ قرآن سے حلال و حرام ثابت کرنے کے لیے انسان کے پاس کتنا اور کون کون سا علم ہونا چاہیے۔ اور پھر آپ خود کو دیکھیں کہ ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا اور 44 صفحات ہو گئے 438 مراسلے ہو گئے اور 7,109 دفعہ دھاگہ دیکھا جا چکا ہے اور سارا زور بیان ابتدائے مدینہ سے قرآن میں‌سے حلت کی دلیل دی جا رہی ہے اور اب آپ آیت حلت متعہ نزول کی طرف آنے والی تھیں اور ریفرنس جمع کرنے کا اردارہ رکھتی تھیں ۔ محترمہ آپ اس آیت کا نزول ابتدائے مدینہ میں‌ثابت کر چکی ہیں اور اس سے احکام متعہ بھی نکال چکی ہیں اور لوگوں‌ کو پیش بھی کر چکی ہیں۔

میں‌ منتظمیں‌ سے گذارش کرو گا کہ آپکے ایوارڈ‌ز میں ایک اور ایوارڈ کا اضافہ کر دیا جائے اور اس کا نام کیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہترین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کلاکارہ۔۔۔۔۔۔۔۔

حضور یہ تو بنیادی بات ہے جب آپ قرآن سے کسی بات کو ثابت کرتے ہیں تو آپ کو نزول، اسباب نزول، زمانہ نزول اور ناسخ منسوخ سب کا پتہ ہونا چاہیے جو کہ آپ کو ابھی تک پتہ نہیں تھا اور آپ سوچ رہی تھیں کہ ریفرنس ڈھونڈوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبحان اللہ

اب آپ دیکھیں کہ آپ کی پوزیشن کیا ہے صرف وقت نزول اوطاس ماننے سے آپکے تقریبا ایک درجن مراسلے جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں۔ اور اپنا یہ مراسلہ دیکھیں۔ لنک ۔۔۔ نزول اسباب نزول النسا آیت 24 اور محترمہ کے جھوٹے دعوے

النسا آیت 24 نزول و اسباب نزول اور محترمہ کے جھوٹے دعوے لنک 2

1۔ نہ آپ کو اس سورۃ کا زمانہ نزول اس بات سے روک سکتا ہے کہ آپ یہ دیکھنے کے قابل ہو سکیں کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی اور اس سورت کے نزول کے سال ہا سال بعد تک صحابہ کرام خود اللہ کے رسول ﷺ کے حکم و اجازت سے عقد المتعہ کرتے رہے (یعنی نہ صحابہ اور نہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کا کبھی وہ مطلب سمجھا جو آپ آج زبردستی نکال رہے ہیں)

سال ہا سال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آیت کا نزول اوطاس ماننے سے آپ کا یہ سال ہا سال ۔۔۔۔۔کہاں جائے گا۔


اور پھر یہ دیکھیں ۔۔۔۔۔۔

اب یہ سورتیں مکی سورتیں ہیں (یا پھر مدینہ کے ابتدائی سالوں کی) اور یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ آیات عقد متعہ کو منسوخ کر سکتی ہوں۔ اللہ تعالی نے اسی لیے ہمیں قرآن میں تدبر و تفکر کرنے کا حکم دیا ہے کہ حق کو باطل سے علیحدہ کر سکیں۔ (بدقسمتی قرآن و سنت پر ایسے جھوٹ ہر گروہ کے کچھ لوگوں نے اپنے اپنے عقائد ثابت کرنے کے لیے بولے ہیں۔ اللہ ہمیں انکے فتنے سے محفوظ رکھے)۔امین

اب جبکہ آیت 24 کا نزول آپ اوطاس 8 ہجری مان چکی ہیں تو پھر یہ بھی مانیں کہ اتنے عرصے تک یہی سورتیں راج کرتی رہیں تو پھر کون ہو سکتا تھا کہ جو اللہ کے واضح‌ حکم کے بعد حرام فرج کو حلال قرار دے۔ اور معاشرے میں متعہ عام ہوتا رہے بقول آپکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سا ل ہا سال۔ جبکہ اس آیت کے نزول کے کچھ ہی عرصے بعد تقریبا 2 سال بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما چکے تھے۔

ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے کہا تھا ناں‌کہ متعہ کبھی حلال نہ ہوا تھا اور یہ دور جاہلیت کی یادگار تھی.

PAGON CULTURE) تعریف یہاں دیکھ لیجئے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور نو مسلموں کی ازحد مجبوری کے پیش نظر انہیں‌ اجازت دی گئی تھی ایسے ہی جیسے مٖضطر کے احکامات ہیں۔ اور بہت پہلے میں نے لکھا تھا۔

یہ دیکھیں‌ کہ یہ اس وقت کے حالات کے مطابق تو حکم نہیں‌ دیا گیا تھا ؟؟؟ اگر یہ پہلے سے دائمی حکم ہوتا تو صحابہ کو پوچھنے کی کیا ضرورت تھی ؟؟؟ اجازت کیوں‌طلب کی گئی ؟؟؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاشرے میں‌جاری چلن تھا اور دین میں‌ دائمی حکم نہیں‌ تھا ۔

بلکہ حقائق اور اس دھاگے میں موجود سارے کا سارا مواد یہ ثابت کرتا ہے کہ متعہ کی ہر دفعہ اجازت مانگنے پر اجازت دی گئ۔ اور اجازت بھی جنگوں کے دوران دی گئی اور انہی لوگوں نے اجازت مانگی جو کہ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور وہ دور جاہلیت کے پرانے رواجات کے عادی مگر گناہ کا پھر بھی خوف رکھتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اجازت مانگی۔ اور جب دین مکمل ہو گیا لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے تو حتمی ممانعت ہو گئ۔
 

میر انیس

لائبریرین
میرے محترم آپ یہ دوغلا رویہ کب ترک کریں گے؟ ایک طرف تو آپ بار بار وقت کی قلت کا رونا روتے ہیں اور دوسری طرف اپنی ہر پوسٹ میں ایک متنازعہ بات کر جاتے ہیں، ایک سلگتی ہوئی بات کر جاتے ہیں کہ جس کے جواب میں گونگا بھی خاموش نہ رہے اور الزام آپ کا صدیق بھائی پر ہے، بغل میں‌ چھری منہ میں‌ رام رام، آپ تو اس کی مجسم تفسیر بنے ہوئے ہیں باتیں تو بڑے پیار سے شروع کرتے ہیں مگر بیچ میں‌ اس پیار کا لبادہ اوڑھ کر وہی الزام اور تعصب ہی ہوتا ہےاب مسئلہ یہ ہے کہ صدیق بھائی کو شاید یہ دو رخی کا طریقہ نہیں آتا اور وہ میری طرح سیدھی بات منہ پر کرنے کے عادی ہیں اسی لیےوہ سب ڈائریکٹ کہہ دیتے ہیں اور اسی کھری بات کی وجہ سے آپ آسانی سے ان پر متعصب ہونے کا لیبل لگا کر اپنا الو سیدھا کر لیتے ہیں، حالانکہ آپ کے تو مذہب کی %90 بنیاد ہی جھوٹ ہے اور جو جھوٹ نہ بولے، تقیہ نہ کرے وہ آپ کے مذہب کے نزدیک گمراہ ہے۔ یہ میں نہیں‌کہہ رہا آپ کے بڑے کہہ رہے ہیں، آپ کے سلف کہہ رہے ہیں، آپ کی ساری معتبر کتابیں کہ رہی ہیں اور خور آپ کا عمل چیخ چیخ کے کہہ رہا ہے۔ اور جہاں تک تذکرہ علی سلام اللہ علیہ کی بات ہے تو آپ نے اپنے مقصد کے لیے کتنی مکاری سے کام لیا ہےجناب من آپ کن صحابہ سلام اللہ علیہ کی بات کر رہے ہیں وہ جو آپ کے نزدیک تین کے علاوہ سب "گمراہ" ہو گئے تھے؟ آئیں‌نا میں‌آپ کو سنت صحابہ سلام اللہ علیہ کی یاد دلاوں جہاں تذکرہ علی سلام اللہ علیہ منافق اور مومن کی پہچان ہے وہیں تذکرہ عمر سلام اللہ علیہ مسلمان اور کافر کی بھی پہچان ہے او ر حدیث تو یہ ہے کہ عمر سلام اللہ علیہ کو دیکھ کر شیطان بھی اپنا راستہ بدل لیتا ہے، اور آج عمر سلام اللہ علیہ کا نام پڑھ کر پھونک مارو تو پتا چل جاتا ہے کہ کون کون شیطان کا چیلا ہے اور اپنے اصل گرو کے راستے پر چلتے ہوئے راستہ بدل کر بھاگ رہا ہے۔ ایک چھوٹا سا ٹیسٹ کرتے ہیں‌کہ میں‌یا علی علی کا نعرہ لگاتا ہوں‌اور کہتا ہوں کہ علی سلام اللہ علیہ پر میری جان بھی قربان، میرے ماں باپ بھی قربان، میری ہر سانس قربان، اب عمر سلام اللہ علیہ کے نعرے کی باری ہے اگر صدا نہ آئی تو پتا چل جائے گا کہ مومن ومنافق کا فرق کیا ہے اور مسلمان و کافر کا فرق کیا ہے؟؟؟؟؟؟؟
بے شک علی نام ہے حق کا اور فرق ہے مومن اور منافق کا مگر علی سلام اللہ علیہ کے بارے میں‌یہ حدیث بھی ہے کہ علی تیرے بارے میں‌ دو گروہ ہوں‌گے ایک وہ جو تجھ سے بغض رکھے گا اور ترا ذکر ان کو تکلیف میں‌ مبتلا کر دے گا ( گویا مومن اور منافق کی پہچان، اور جناب انیس آپ نے یہاں‌تک بیان کیا چلیں‌ آگے میری زبانی سنیں) اور دوسرا وہ گروہ جو تیری محبت میں اتنا غلو کرے گا کہ تجھے مافوق الفطرت بنا دے گا اور یہ دونوں گروہ گمراہ ہیں۔ اب یہ تو ساری دنیا جانتی ہے کہ علی سلام اللہ علیہ کی سچی محبت پر قائم رہتے ہوئے ان کے اصل تقد س کو کس نے محفوظ رکھا ہے اور ان کی محبت کو غلو بنا کر انھیں‌‌ خدا کس نے سمجھا ہے؟؟؟؟؟اور تاریخ گواہ ہے کہ علی سلام اللہ علیہ نے کس کو آگ میں‌ڈلوایا اور کیوں؟؟؟ جن کو آگ میں‌ ڈلوایا ان کا جرم یہ تھا کہ انھو ں‌نے کھل کر کہہ دیا کہ علی خدا ہیں اور یہی کام آپکا بھی ہے مگر ڈھکے چھپے انداز میں، یقین نہ آئے تو اپنی کتابیں غور سے پڑھیں‌ اور اگر پھر سمجھ نہ آئے تو مجھے بتا ئیں میں‌آپ کو یہ سب کچھ آپ ہی کی کتابوں‌سے نکا ل کر دکھاتا ہوں۔
اب خدارا اپنی دفعہ متعصب متعصب کی چیخ و پکار کرنے سے پہلے اسی پوسٹ کے اوپراپنا اقتباس ضرور پڑھ لیجیئے گا کہ یہ آپ کی اسی پوسٹ کا جواب بنتا ہے کہ نہیں؟؟ حالانکہ میں‌ تو آپ سے بار ہا استدعا کرتا رہا کہ خدارا موضوع پر قائم رہیں اور ادھر ادھر کی باتیں نہ کریں مگر آپ کہ جب بھی پوسٹ میں آئے آپ نے ہمیشہ یہی چھیڑ خانی کی ہے اور الزام سارا جناب صدیق صاحب پر رکھا ہے لیکن یہ بھول گئے ہیں کہ ان کو بھڑکانے کا کام آپ کا ہی ہے اور ابھی میری اس پوسٹ کا محرک بھی آپ کی یہی روش ہے۔ آپ نے دلیل والی اور نص والی کوئی بھی پوسٹ کی ہے کیا؟ اور آخر میں آ کر اپنی مرضی سے اپنے پسندیدہ پو ائنٹ اٹھا کر اپنی من چاہی بات بیان کر دی اور باقی سب چھوڑ دیا، یہ ہے آپ کی اصلاح کی حقیقتت؟؟؟؟ محرم کے روزے والے دھاگے کا آپ نے ذکر کیا تو جناب میں نے تو وہاں بالکل اصولی بات کی تھی اور اس کا اندازہ میری پوسٹ کے نیچے شکریہ کے ٹیگ سے لگا سکتے ہیں۔ اور میں نے جناب سویدا کو بھی غلط کہا تھا صرف آپ کو نہیں مگر انھوں‌ نے فراخدلی سے میرے پوائنٹ کو سمجھا اور میرا آپ کی طرح بجائے بھڑکنے کے شکریہ بھی ادا کیا اور آپ جو رواداری کا نعرہ لگاتے ہیں اور تعصب سے بچنے کا دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں آپ اتنی سی بات پر ہی بھڑک گئے اور اتنا ظرف نہ رکھا کہ میری اصولی بات کا شکریہ بھی ادا کر سکتے۔ یہ ہے آپ کی اصلاح‌کا اصل چہرہ؟؟؟؟؟؟

میرے بھائی مجھ کو لگتا ہے کہ آپ اسی گروہ کے پیچھے پیچھے چل پڑے ہیں جس کی نظروں میں اہلِ تشیع صدیوں سے کھٹک رہے ہیں اور انہوں نے بہتان اور سب کا سلسلہ مولا علی(ع) کے زمانے سے ہی شروع کردیا تھا۔ پر کتنی سپاہ ،جیش اور لشکر بنے بڑے بڑے بادشاہ شیعوں پر ظلم کر کر کے اپنے انجام کو پنہچ گئے جلوایا گیا دیواروں میں چنوایا گیا گدی سے زبان کھنچوائی گئی پر فقہ اہلِ بیت پر چلنے والوں کو ختم نہ کیا جاسکا فتنے اٹھتے رہے اور اللہ کی مدد سے آپ ہی آپ دم توڑتے رہے پر حسینی قافلہ نہ رک سکا ہے نہ تا قیامت رک سکے گا بلکہ انشاللہ اور بھی جزبے سے آگے بڑھتا رہے گا موجودہ دور میں ہی دیکھ لیں کہ عاشور کے روز دھماکے کہ بعد جہاں سب اپنی چپلیں تک چھوڑ کر عمو ماََ بھاگ جاتے ہیں ایک علم بھی کسی کے ہاتھ سے نہیں گرا دھماکے کی وڈیوز میں دھوئیں اور گرد و غبار ہ کےبعد بھی حسینی علم اسی طرح آتے نظر آرہے ہیں ۔اسکا مطلب ہے موت سے ہم نہیں ڈرتے۔
میں کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتا کہ مجھ پر بین لگ جائے کیونکہ مجھ کو اس بات پر کوئی حیرانی نہیں ہورہی ہے کہ میرے اور مہوش بہن کے بارے میں اور مزہبِ اہلِ بیت کے بارے میں اتنے غلط ریمارکس دینے پر اسکی بنیاد کو ہی 90 فیصد جھوٹ کہنے پر نبیل صاحب نے آپ کو ذرا سی تنبیہ کرنا بھی مناسب نہ سمجھا حالانکہ کشفی کو تو اس سے بھی زیادہ معمولی بات پر بین کردیا گیا تھا اور مہوش کو تنبیہ کئی دفعہ اس سے چھوٹی باتوں پر تنبیہ کی گئی ہے۔اسلئے کہ مجھے ایڈمن اور آپ کے درمیان رشتے کا علم ہے اس لئے آپ کو میرے بھائی آزادی ہے اس محفل میں جسکی چاہے عزت کا ستیا ناس کردیں۔ اور جیسی چاہے زبان استعمال کریں۔
اب آئیں مولا علی(ع) کے نعرے کی طرف تو یہ نعرہ تو وہ نعرہ ہے کہ خود حضرت عمر(ر) نے لگایا اور مولا علی کو مولا پکارنا بھی انہیں بزرگ نے شروع کیا تھااور اسکو تقویت آپ اسطرح دیتے تھے کہ کبھی یہ دعا کرتے کہ اللہ مجھے اُس مشکل تک زندہ ہی نہ رکھ جسکو حل کرنے کے لئے میری پاس علی موجود نہ ہوں اور کبھی کہتے کہ اگر آج علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوگیا ہوتا۔ تو جناب حضرت عمر (ر) کی تو زندگی کا دارومدار بقول خود حضرت عمر مولا علی(ع) پر ہوتا تھا اور یاد رکھیں کہ ان لوگوں کے نزدیک زندگی یہ ہماری مادی زندگی نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ اس سے انکی مراد ابدی زندگی اور آخرت کی ہلاکت ہوا کرتی تھی۔مولا علی کا نعرہ صدیوں سے ہر مشکل پر جزبہ ایمانی کو ابھارنے کیلئے ہر مسلمان لگاتا چلا آرہا ہے ہر جنگ و جہاد میں ہمارے سپاہی لگاتے ہیں یقین نہ آئے تو ابھی جاکر اپنی سرحدوں پر دیکھ لیں۔حضرت عمر کا نعرہ بھی لگانا کوئی بری بات نہیں ہے جب حضرت علی(ع) کا نعرہ لگیا جاسکتا ہے تو انکا بھی لگایا جاسکتا ہے گو کہ یہ نعرہ میں نے کبھی کسی جنگ میں یا اہلِ سنت کی بھی کسی محفل میں نہیں سنا پر میں اسکو بدعت نہیں کہ رہا خدا ناخواستہ کیوں کہ آپ لوگ میری ہر بات کا غلط مطلب نکال لیتے ہیں ہاں ایک بات کا آپ سے جواب ضرور مانگوں گا کہ آپ نے حضرت عمر کے القاب میں سلام علیہ جو استعمال کیا ہے تو یہ آپ کی کس مستند کتاب سے لیا گیا ہے کیونکہ میں نے تو حضرت ابوبکر(ر) کیلئے بھی کبھی اسکا استعمال کسی بڑے سے بڑے عالم کہ منہ سے بھی نہیں سنا۔آپ نے جو حدیث پیش کی وہ بھی میں نے کبھی نہیں سنی اور آج کل کا آپ کا یہ شیطان کو بھگانے کا طریقہ بھی کس سنت سے ثابت ہے اور کیا ہم کو چاہیئے کہ لاحول پڑہنے کی سنت ختم کرکے اس بات کو اپنایا جائے۔اسکی کوئی مضبوط دلیل مجھکو چاہیئے۔ اور اگر آپ مجھ سے حضرت عمر(ر)ک اور حضرت علی کے لیئے نعرہ لگوانے کی بات کرتے ہیں تو میں تو دل و جان سے نعرہ لگانے کو تیار ہوں اور صرف یہی دو شخصیات ہی کیوں میں تو ان سب صحابہ کے لیئے نعرہ لگانے کو تیار ہوں جو میرے نبی(ص) کے شانہ بشانہ اسلام کی خدمت میں اور تبلیغ میں پیش پیش رہے تھے ۔
آنحضرت(ص) کے تمام جاں نثار اور وفادار اصحاب پر میرے ماں باپ قربان[/size۔
رہی بات آپ کی اس ہرزہ سرائی کی کہ ہمارے مذہب کی بنیاد 90 فیصد جھوٹ پر ہے تو بھائی آپ حساب کتاب میں شاید تھوڑے کمزور واقع ہوئے ہیں ۔ ہمارے مذہب کی بنیاد 5 عقائد پر ہے جن کو ہم اصولِ دین کہتے ہیں 1-توحید2-عدل3-نبوت4-امامت5-قیامت ۔ ان میں سے صرف امامت کا عقیدہ آپ نہیں مانتے پر اگر آپ کا ایمان اگر باقی 4 پر نہیں تو آپ کو اب مجھے بھائی مخاطب کرتے ہوئے بھی سوچنا پڑے گا۔ اگر آپ باقی 4 کو ایمان کا جز سمجھتے ہیں تو پھر آپ دیکھلیں کہ یہ کتنا فیصد ہوگیا وہ بھی جب تب آپ عقیدہ امامت کو غلط ثابت کردیں۔
مجھکو معلوم ہے کہ یہ دھاگہ اپنے موضوع سے آپ ہی کی وجہ سے کافی ہٹ چکا ہے پر میں بھی مجبور ہوں کہ آپ کی غلط بیانی کا جواب دینا ضروری تھا۔ اب آپ سے گذارش ہے کہ ایک نیا دھاگہ کھول لیں ہمیں 90 فیصد جھوٹا ثابت کرنے کیلئے جس میں صرف میں اور آپ ہی بات کریں میں انشاللہ آپ کی ہر بات کا جواب دونگا۔باقی صرف اتنا مشورہ ضرور دونگا کہ اگر آپ کو ایڈمن کی طرف سے اگر کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے تو اتنا آزاد نہ ہوں یہ فورم مزہب کے حوالے سے ہے اسلیئے اخلاق سے گرے ہوئے اور گندے الفاظ سے پرہیز کریں ۔
 

میر انیس

لائبریرین
محترمہ آپ کے حواس آپ کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں، آپ قریب الشکست ہو کر ہاتھ پیر چھوڑ چکی ہیں اسے لیے اونگی بونگی مار رہی ہیں، ہو سکتا ہےمیرے یہ الفاظ آپ کو برے لگیں مگر کیا کروں‌ قرینہ ادب مجھے اس سے زیادہ سخت الفاظ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اور اگر آپ ٹھنڈے دل سے غور کریں گی تو آپ کو میری بات واقعی صیح لگے گی اور آپ پر اپنی حواس باختگی واضح‌ ہو جائے گی۔ مجھے یہ بتائیں‌کہ ہم نے یہ دعویٰ ہی کب کیا ہے ہم تو ہر وقت اور ہر جگہ یہ کہتے پھر رہے ہیں اور آپ کی کتابوں سے بھی حوالے نکال کر دے رہے ہیں‌کہ زن ممتوعہ نہ چار میں‌ ہے، نہ ستر میں بلکہ یہ تو صرف اور صرف ایک کرائے کی عورت ہے کہ جس سے مرد اپنی شہوت پوری کر کےدودھ میں‌ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیتا ہے اور پھر اس کے ساتھ وہی ہوتا ہے جو دودھ سے نکلی مکھی کا نصیب ہے۔ اور وہ صرف ایک کرائے کی عورت ہوتی ہے جو صرف ایک رنڈی کا مقام رکھتی ہے۔ تو ہم کیوں یہ ثابت کریں‌‌ کہ زن ممتوعہ چار میں سے تھی یا ہے؟؟؟؟ آپ نے یہ چیلنج ہمیں دیا ہی کیوں ہے یہ چیلنج تو ہم نے آپ کو دیا ہوا تھا کہ آپ ثابت کر کے دکھائیں زن ممتوعہ چار میں سے کبھی بھی تھی؟؟ واللہ آپ تو پاگل پن کی حد کو چھو کر ایسے اونگے بونگے چیلنج دے کر فضول پوسٹیں کر کے صرف اور صرف وقت برباد کر رہی ہیں۔ صاف بات ہے کہ آپ میں شکست قبول کرنے کا حوصلہ نہیں ہے، ظرف نہیں ہے۔ اب جو کسی نے سمجھنا تھا وہ سمجھ گیا تو چلیں ہم آپ کی مشکل آسان کرتے ہیں اور ایڈمن سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ خدارا اس دھاگے کو مقفل کر دیں۔ اس طرح آپ کی عزت بھی بچ جائے گی اور بات گول مول ہو کر جان بھی چھوٹ جائے گی۔ کیونکہ جی آخر " عزت سادات" بھی ہمیں نے تو بچانی ہے نا۔۔۔۔! ایڈمن پلیز آپ ووٹنگ کر لیں اور اس وقت کے ضیا ع کو روک دیں۔
میرے بھائی چیلنج کا سامنا کرنے کے بجائے اتنا گھبراگئے کہ شکست قبول کرلیں شکست قبول کرلیں کا نعرہ آپ نے بلند کرنا شروع کردیا اور چاہ رہے ہیں کہ مکمل شکست سے بچنے کیلیئے یہ دھاگی ہی مقفل کرادیا جائے اور ووٹنگ کی بات مجھکو پتہ ہے آپ اسی لئے کر رہے ہیں کہ آپ کو پتہ ہے کہ ہم تو صرف دو ہی ہیں اور آپ بہت سارے ۔ بھائی شوکت کریم کے علاوہ تو ایک بھی مدلل بات آپ میں سے کسی سے نہیں کی گئی صرف الزام تراشیوں سے کسی کو شکست نہیں دی جاسکتی مہوش نے ماشاللہ اتنے زبردسے دلائل دیئے ہیں کہ اگر کوئی غیر جانبداری سے دیکھے تو وہ کب کی آپ سب کو شکست دے چکی ہے پر جیسے ہی آپ کو شکست ہوتی ہے آپ لوگ خلافِ موضوع بات چھیڑ کر یا کوئی الزام لگا کر بات کا رخ تبدیل کردیتے ہیں ۔
 

میر انیس

لائبریرین
چھوڑین بھی نقوی صاحب۔ انیس صاحب کے جملے سب نے پڑھے ہیں ہر ایک فیصلہ کر سکتا ہے کہ کس مکاری سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے بغض نکالا جا رہا ہے۔ میں آپ سے متفق ہوں‌مگر کیا کیا جائے کہ یہ ہٹ دھرمی سے باز ہی نہیں‌آ رہے ہیں

آپ کی ان سب باتوں‌کا اثر اس لئے نہیں‌ہوگا کہ ان کی اب تک کی ساری عمر ایسی گزری ہے۔ اب سمجھ کیا خال آئے گی۔ اپنا دل میلا نہ کریں۔ ہم سب جان چکے ہیں‌کہ حقیقت کیا ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا " اللہ اللہ اصحابی، لا تتخذوھم من بعدی غرضا۔ فمن احبھم فبحبی احبھم۔ و من ابغضھم فببغضی ابغضھم۔

اللھم صل علی محمد و آلہ و صحبہ و سلم۔

میں نے حضرت عمر(ر) سے کوئی بغض نہیں نکالا ۔ میں نے صرف آپ لوگوں سے سوال کیا تھا کہ اگر آپ لوگوں کا عقیدہ حضرت عمر(ر) کے متعلق یہ ہے کہ آپ انکو معصوم عن الخطا مانتے ہیں تو میں اس رائے کا احترام کرونگا پر آپ میں سے کسی نے اس بات کا جواب دینے کے بجائے مجھ پر لعن طعن شروع کردی۔ چونکہ ہم حضرت عمر کا معصوم عن الخطا نہیں سمجھتے اس لئے سوچ سکتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ متعہ سے منع کرنا انکی ایک اجتہادی غلطی ہو ۔اور یہ کسی نام نہاد تقیہ کی وجہ سے میں حضرت عمر کا احترام آپ کے سامنے نہیں کر رہا بلکہ میں سمجھتا ہوں بلکہ میرا عقیدہ ہے کہ اگر میں باوجود اپنے کسی دوست یا مسلمان بھائی کے والد کو نہیں جانتا یا نہیں مانتا پر چونکہ وہ اسکے والد ہیں اور اسکے لیئے قابل احترام ہیں تو مجھکو کوئی حق نہیں پنہچتا کسی کی دل آزاری کا آپ یقین رکھیں میں آپ کے والد کا بھی اسی طرح احترام کروں گا جسطرح اپنے والد کا کرتا ہوں اور یہی میرے والدین کی تربیت ہے ۔
 

dxbgraphics

محفلین
میں نے حضرت عمر(ر) سے کوئی بغض نہیں نکالا ۔ میں نے صرف آپ لوگوں سے سوال کیا تھا کہ اگر آپ لوگوں کا عقیدہ حضرت عمر(ر) کے متعلق یہ ہے کہ آپ انکو معصوم عن الخطا مانتے ہیں تو میں اس رائے کا احترام کرونگا پر آپ میں سے کسی نے اس بات کا جواب دینے کے بجائے مجھ پر لعن طعن شروع کردی۔ چونکہ ہم حضرت عمر کا معصوم عن الخطا نہیں سمجھتے اس لئے سوچ سکتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ متعہ سے منع کرنا انکی ایک اجتہادی غلطی ہو ۔اور یہ کسی نام نہاد تقیہ کی وجہ سے میں حضرت عمر کا احترام آپ کے سامنے نہیں کر رہا بلکہ میں سمجھتا ہوں بلکہ میرا عقیدہ ہے کہ اگر میں باوجود اپنے کسی دوست یا مسلمان بھائی کے والد کو نہیں جانتا یا نہیں مانتا پر چونکہ وہ اسکے والد ہیں اور اسکے لیئے قابل احترام ہیں تو مجھکو کوئی حق نہیں پنہچتا کسی کی دل آزاری کا آپ یقین رکھیں میں آپ کے والد کا بھی اسی طرح احترام کروں گا جسطرح اپنے والد کا کرتا ہوں اور یہی میرے والدین کی تربیت ہے ۔

جناب تقیہ ہی تو ہے جو سب سے بڑا ہتھیار ہے آپ لوگوں کا۔ پچھلے سال چھوٹا بھائی عمرے کو گیا تھا تو ایک ایرانی دھیمی آواز سے چھ صحابہ کرام پر تبرا کر رہا تھا تو میرے بھائی نے اس کو ایک زور کی رسید کی تو اس کے دو ساتھیوں نے فورا موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے معاملے کو رفع دفع کرتے ہوئے اس کو بھگا دیا۔
 

dxbgraphics

محفلین
موجودہ دور میں ہی دیکھلیں کہ عاشور کے روز دھماکے کہ بعد جہاں سب اپنی چپلیں تک چھوڑ کر عمو ماَ بھاگ جاتے ہیں ایک علم بھی کسی کے ہاتھ سے نہیں گرا دھماکے کہ کی وڈیوز میں دھوئیں اور گرد و غبار ہ کےبعد بھی حسینی علم اسی طرح آتے نظر آرہے ہیں ۔اسکا مطلب ہے موت سے ہم نہیں ڈرتے۔
۔

جی ہاں انہی ویڈیوز میں دکانوں کے تالہ توڑنے اور لوٹ مار کرنے والے گاڑیوں کو آگ لگانے والے ۔۔۔۔۔ بھی دکھائے گئے تھے۔

نبیل صاحب نے آپ کو ذرا سی تنبیہ کرنا بھی مناسب نہ سمجھا حالانکہ کشفی کو تو اس سے بھی زیادہ معمولی بات پر بین کردیا گیا تھا اور مہوش کو تنبیہ کئی دفعہ اس سے چھوٹی باتوں پر تنبیہ کی گئی ہے

آپ کی اطلاع کے لئے کہ میں دو مہینے سے زیادہ عرصہ تک بین تھا۔ بڑی مشکلوں سے بحال ہوا

اب آئیں مولا علی(ع) کے نعرے کی طرف تو یہ نعرہ تو وہ نعرہ ہے کہ خود حضرت عمر(ر) نے لگایا اور مولا علی کو مولا پکارنا بھی انہیں بزرگ نے شروع کیا تھااور اسکو تقویت آپ اسطرح دیتے تھے کہ کبھی یہ دعا کرتے کہ اللہ مجھے اُس مشکل تک زندہ ہی نہ رکھ جسکو حل کرنے کے لئے میری پاس علی موجود نہ ہوں اور کبھی کہتے کہ اگر آج علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوگیا ہوتا۔ تو جناب حضرت عمر (ر) کی تو زندگی کا دارومدار بقول خود حضرت عمر مولا علی(ع) پر ہوتا تھا
ذرا حوالہ جات تو فراہم کر دیں۔
نیز حضرت علی نے پھر کیوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی؟

رہی بات آپ کی اس ہرزہ سرائی کی کہ ہمارے مذہب کی بنیاد 90 فیصد جھوٹ پر ہے تو بھائی آپ حساب کتاب میں شاید تھوڑے کمزور واقع ہوئے ہیں ۔ ہمارے مذہب کی بنیاد 5 عقائد پر ہے جن کو ہم اصولِ دین کہتے ہیں 1-توحید2-عدل3-نبوت4-امامت5-قیامت ۔ ان میں سے صرف امامت کا عقیدہ آپ نہیں مانتے پر اگر آپ کا ایمان اگر باقی 4 پر نہیں تو آپ کو اب مجھے بھائی مخاطب کرتے ہوئے بھی سوچنا پڑے گا۔ اگر آپ باقی 4 کو ایمان کا جز سمجھتے ہیں تو پھر آپ دیکھلیں کہ یہ کتنا فیصد ہوگیا وہ بھی جب تب آپ عقیدہ امامت کو غلط ثابت کردیں۔
آپ نے شاید اصول کافی میں تقیہ کا باب نہیں پڑھا شاید۔

میرے بھائی چیلنج کا سامنا کرنے کے بجائے اتنا گھبراگئے کہ شکست قبول کرلیں شکست قبول کرلیں کا نعرہ آپ نے بلند کرنا شروع کردیا اور چاہ رہے ہیں کہ مکمل شکست سے بچنے کیلیئے یہ دھاگی ہی مقفل کرادیا جائے اور ووٹنگ کی بات مجھکو پتہ ہے آپ اسی لئے کر رہے ہیں کہ آپ کو پتہ ہے کہ ہم تو صرف دو ہی ہیں اور آپ بہت سارے ۔ بھائی شوکت کریم کے علاوہ تو ایک بھی مدلل بات آپ میں سے کسی سے نہیں کی گئی صرف الزام تراشیوں سے کسی کو شکست نہیں دی جاسکتی مہوش نے ماشاللہ اتنے زبردسے دلائل دیئے ہیں کہ اگر کوئی غیر جانبداری سے دیکھے تو وہ کب کی آپ سب کو شکست دے چکی ہے پر جیسے ہی آپ کو شکست ہوتی ہے آپ لوگ خلافِ موضوع بات چھیڑ کر یا کوئی الزام لگا کر بات کا رخ تبدیل کردیتے ہیں

اردو محفل کے ماحول کو خوشگوار بنانے کی خاطر میرے چند بمع حوالہ پوسٹیں حذف کی جاچکی ہیں
 

گرائیں

محفلین
میں نے حضرت عمر(ر) سے کوئی بغض نہیں نکالا ۔ میں نے صرف آپ لوگوں سے سوال کیا تھا کہ اگر آپ لوگوں کا عقیدہ حضرت عمر(ر) کے متعلق یہ ہے کہ آپ انکو معصوم عن الخطا مانتے ہیں تو میں اس رائے کا احترام کرونگا پر آپ میں سے کسی نے اس بات کا جواب دینے کے بجائے مجھ پر لعن طعن شروع کردی۔ چونکہ ہم حضرت عمر کا معصوم عن الخطا نہیں سمجھتے اس لئے سوچ سکتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ متعہ سے منع کرنا انکی ایک اجتہادی غلطی ہو ۔اور یہ کسی نام نہاد تقیہ کی وجہ سے میں حضرت عمر کا احترام آپ کے سامنے نہیں کر رہا بلکہ میں سمجھتا ہوں بلکہ میرا عقیدہ ہے کہ اگر میں باوجود اپنے کسی دوست یا مسلمان بھائی کے والد کو نہیں جانتا یا نہیں مانتا پر چونکہ وہ اسکے والد ہیں اور اسکے لیئے قابل احترام ہیں تو مجھکو کوئی حق نہیں پنہچتا کسی کی دل آزاری کا آپ یقین رکھیں میں آپ کے والد کا بھی اسی طرح احترام کروں گا جسطرح اپنے والد کا کرتا ہوں اور یہی میرے والدین کی تربیت ہے ۔
ہاہاہاہا

آپ اچھی طرح جانتے ہیں‌میں‌نے بار بار آپ کی تحریر کا حوالہ دے کر آپ سے پوچھا کہ آپ اپنے اس دعوے کو ثابت کریں‌کہ متعہ کو حرام قرار دینے کے نتیجے میں اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ سزا دی کہ انھوں‌نے اپنے بیٹے پر خؤد حد جاری کی۔

میں آپ کی تحریر کا اقتباس پہلے بھی دے چکا ہوں، اور جو لوگ مسلسل اس دھاگے پر آ رہے ہیں‌وہ میری اس بات کی تصدیق کریں‌گے، مگر آپ بات ہر بار گول کر جاتے ہیں۔ یہ جذباتی تقریر کہیں‌اور کیجئے گا اور اپنے دعوے کا ثبوت دیجئے ورنہ میں‌ اپنی بات دہراؤں‌گا،

ہاتھ کنگن کو آر سی کیا۔
 

مہوش علی

لائبریرین
ثابت تو بہت کچھ ہو گیا ہے اور ہو گا۔ پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محترمہ یہ آیت اور اس کا سبب نزول اور وقت نزول اس وقت جو آپ کے گلے پڑا ہوا ہے پہلے اس کا تو حل کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر آپ میری دی ہوئی حدیثوں سے ہی وقت نزول مانتی ہیں تو پھر آپ کو ان ہی حدیثوں میں دیا ہوا سبب نزول بھی ماننا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو ہے اوطاس کی قیدی عورتوں‌ کا شادی شدہ ہونا۔ جو ان سب حدیثوں‌میں اور تمام معتبر تفسیروں میں موجود ہے اور سب کے لنکس بھی دیئے ہوئے ہیں۔

اللہ کی شان بہت بلند ہے اور اللہ تعالی سب سے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔

یہ اللہ کا کیسا احسان ہے کہ جن صحابی ابو سعید خدری کی روایت کو اس آیت کے پہلے جز کے متعلق نقل کیا جا رہا ہے، یہی ابو سعید خدری وہ ہیں جو بذات خود عقد المتعہ کے حلال ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں اور صاف صاف حضرت عمر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انہوں نے عقد المتعہ کو عمر بن حریث کے واقعے کے بعد منع کر دیا تھا۔

ابو سعید خدری کے متعلق ابن حجر العسقلانی والا ریفرنس پہلے گذر چکا ہے۔ اور ابو سعید خدری کے متعلق بخاری کی شارح علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں:

عن أبي سعيد الخدري وجابر بن عبد الله قالا: تمتعنا إلى نصف من خلافة عمر رضي الله عنه حتى نهى عمر الناس عنها في شأن عمرو بن حريث
ترجمہ:
ابو سعید خدری اور جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے: ہم نے جناب عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کےنصف تک متعہ کیا حتی کہ جناب عمر نے عمرو بن حریث کے واقعے کے بعد اسکی ممانعت کر دی۔
حوالہ: عمدۃ القاری از علامہ بدر الدین عینی، جلد 17، صفحہ 246

اور اللہ کی شان دیکھئے کہ وہ غلط چالوں کو کیسے ناکام بناتا ہے کہ یہ قتادہ ہیں جو کہ حضرت ابو سعید خدری سے حنین کے اوطاس کی جانب لشکر روانہ کرنے والی روایت نقل کر رہے۔ مگر یہی قتادہ وہ ہیں جو اس آیت کے دوسرے جزو کے متعلق روایت نقل کرتے ہیں کہ یہ عقد المتعہ کے حکم کو بیان کر رہا ہے۔

حَدَّثَنَا اِبْن بَشَّار , قَالَ : ثنا عَبْد الْأَعْلَى , قَالَ : ثنا سَعِيد , عَنْ قَتَادَة , قَالَ : فِي قِرَاءَة أُبَيّ بْن كَعْب : " فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ إِلَى أَجَل مُسَمًّى [تفسیر الطبری آنلائن لنک ]

اور پھر عبداللہ ابن عباس، جنہیں خود آپ لوگوں نے "ترجمان القران" کا لقب دیا ہوا ہے، وہ آپکی یا ہماری طرح جاہل نہیں ہیں، بلکہ بہت اچھی طرح بذات خود جانتے ہیں کہ اس آیت کا پہلا جزو قیدی عورتوں کے متعلق ہے. مثلا امام طبرانی لکھتے ہیں:

وأخرج الطبراني عن ابن عبا س قال نزلت يوم حنين لما فتح الله حنينا أصاب المسلمين نساء من نساء أهل الكتاب لهن أزواج وكان الرجل إذا أراد أن يأتي المرأة قالت إن لي زوجا فسئل صلى الله علية وسلم عن ذلك فأنزل الله والمحصنات من النساء الآية
اب یہی "ترجمان القران" اور "حبر الامہ" حضرت ابن عباس ہیں جو کہ صاف صاف گواہی دے رہے ہیں کہ اس آیت کا پہلا جزو اوطاس میں قیدی عورتوں کے متلق حکم بیان کر رہے جبکہ دوسرا جزو عقد المتعہ کے متعلق حکم کو بیان کر رہا ہے۔

اور یہ فقط اور فقط آپ کی ضد بازی اور ڈبل سٹینڈرڈز ہیں کہ انہی صحابہ و تابعی کی ایک بات کو قبول کر رہے ہیں، مگر جب یہی صحابہ و تابعی آپکے مرضی کے خلاف بات کہہ رہے ہیں تو انکی گواہی کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ آپ کا اپنا رویہ اتنا شرمناک ہے اور اس پر پھر آپ جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ہم پر پتا نہیں پچھلے مراسلوں میں کیسے کیسے الزامات لگا رہے ہیں۔

اسی لیے شکر ہے مولا کا کہ انسان چالیں چلتا ہے مگر میرا مولا میرا پالنے والا رب سب سے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔

اے اہل انصاف،
دیکھو کہ ایک ابو سعید خدری کی اکیلی گواہی پر ایمان لانے والوں نے کیسے اپنی کتابوں میں عقد المتعہ کے متعلق اس آیت کے دوسرے جزو کے متعلق صحابہ و تابعین کی اپنی کتابوں میں موجود صحیح حدیث اور گواہیوں کو کیسے ٹھکرایا ہوا ہے:

صحابہ و تابعین کی گواہیاں کہ یہ آیت عقد المتعہ کے حق میں نازل ہوئی


صحابہ کرام میں سے کوئی ایک ایسا صحابی نہیں جس نے اس بات کا انکار کیا ہو کہ یہ آیت متعہ کے جواز میں نہیں۔ اسی وجہ سے آج کے دور کے برخلاف (جہاں انکار حدیث کا دور دورہ ہے)، جمہور سلف علماء اور مفسرین قرآن اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ یہ آیت عقد متعہ کے جواز میں نازل ہوئی۔
پہلی روایت:
امام عبدالرزاق اور ابن منذر نے حضرت عطاء کے واسطہ سے حضرت ابن عباس رضہ اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالی حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے نکاح متعہ اللہ تعالی کی رحمت تھی جو اس نے امت محمد پر کی۔ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس سے منع نہ کرتے تو بدبخت ہی زنا کرتا۔ کہا یہ سورۃ النساء میں مذکور ہے "فما استمتعتم بہ منھن" اتنی مدت کے لئے اور یہ معاوضہ ہو گا جب کہ انکے درمیان وراثت نہ ہو گی۔ اگر مدت مقررہ کے بعد بھی راضی ہوں تو بھی ٹھیک ہے۔ اگر جدا ہونے پر راضی ہوں تو بھی ٹھیک ہے جب کہ ان دونوں کے درمیان کوئی نکاح نہیں ہو گا۔ انہوں نے یہ خبر بھی دی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ اب بھی اس کو حلال سمجھتے ہیں [مصنف عبدالرزاق، جلد 7، صفحہ 497، روایت 14021، گجرات ہند]
دوسری روایت:
حدثنا ‏ ‏مسدد ‏ ‏حدثنا ‏ ‏يحيى ‏ ‏عن ‏ ‏عمران أبي بكر ‏ ‏حدثنا ‏ ‏أبو رجاء ‏ ‏عن ‏ ‏عمران بن حصين ‏ ‏رضي الله عنهما ‏ ‏قال ‏
أنزلت ‏ ‏آية المتعة ‏ ‏في كتاب الله ففعلناها مع رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏ولم ينزل قرآن يحرمه ولم ينه عنها حتى مات قال ‏ ‏رجل ‏ ‏برأيه ما شاء ‏‏[صحیح بخاری لنک ]
ترجمہ: صحابی عمران بن حصین کہتے ہیں:"آیت متعہ قرآن میں نازل ہوئی اور ہم رسول اللہ ص کے عہد میں متعہ کرتے تھے اور قرآن میں اسکے بعد کچھ اور نازل نہیں ہوا جو اس کی ممانعت کرتا اور نہ ہی رسول اللہ ص نے اسکی ممانعت کی حتی کہ آپ ص کا انتقال ہو گیا۔ مگر اسکے بعد ایک شخص (عمر ابن الخطاب) نے اپنی مرضی سے جو چاہا وہ کہا۔ [حوالہ: تفسیر کبیر از امام ثعلبی، تفسیر کبیر از امام فخر الدین رازی، تفسیر ابن حیان، تفسیر نیشاپوری، یہ سب اس روایت کو سورۃ نساء کی اسی آیت متعہ کے تحت نقل کرتے ہیں]
امام بخاری نے آیا یہاں غلطی کی یا پھر جان بوجھ کر بددیانتی سے کام لیا اور اس روایت کو "متعہ الحج" کےباب کے ذیل میں نقل کر دیا۔ ایسی بددیانتی ایسے گروہ کے سامنے تو چل جاتی ہے جو آنکھیں بند کر کے شخصیت پرستش میں مبتلا ہو۔
مگر ہمارا مخاطب یہاں پر یہ صحابہ پرستی میں مبتلا گروہ ہے ہی نہیں، بلکہ وہ لوگ مخاطب ہیں جو اللہ کو گواہ بناتے ہوئے انصاف کرنے اٹھے ہیں اور کسی قسم کی شخصیت پرستی میں مبتلا نہیں، اور اپنی "عقل" کی تضحیک اور اسکو گالی نہیں دینا چاہتے اُن کے لیے بات بہت صاف ہے کہ تاریخ میں کبھی حج کے متعہ کی آیت کے منسوخ ہونے کی سرے سے کوئی بحث ہی نہیں چلی بلکہ پوری تاریخ گواہ ہے کہ یہ بحث متعہ النساء کی آیت پر چلی ہے اور لوگوں نے اسے ہر ہر طریقے سے منسوخ ثابت کرنا چاہا ہے اور اسی کی طرف صحابی عمران بن حصین کا اشارہ ہے۔
اور اسی لیے بذات خود اہلسنت کے یہ کبیر علماء امام ثعلبی، امام فخر الدین کبیر رازی، ابن حیان، امام نیشاپوری، تفسیر حقانی وغیرہ امام بخاری سے زمانے کے لحاظ سے بعد میں آنے کے باوجود امام بخاری کی اس غلطی/بددیانتی کو ماننے کے لیے تیار نہیں اور خود عقد متعہ کے خلاف ہونے کے باوجود گواہی دے رہے ہیں کہ یہ روایت عقد متعہ کے جواز میں ہے۔ اسی طرح ابن حزم اور دیگر بہت سے علماء نے عقد متعہ پر لمبی بحث کی اور اُن صحابہ کے نام نقل کیے جو متعہ النساء کے جواز کے قائل تھے اور انہوں نے عمران بن حصین کا نام اس لسٹ میں شامل کیا۔
امام قرطبی اپنی تفسیر میں نقل کرتے ہیں:
وقال أبو بكر الطرطوسي‏:‏ ولم يرخص في نكاح المتعة إلا عمران بن حصين وابن عباس وبعض الصحابة وطائفة من أهل البيت‏.‏[آنلائن لنک]
یعنی:۔۔۔او ابوبکر الطرطوسی سے منقول ہے کہ عمران بن حصین اور ابن عباس عقد متعہ کی اجازت دیتے تھے اور اسی طرح اہلبیت علیہم السلام اور انکے اصحاب بھی۔
تیسری روایت:
حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن الْمُثَنَّى , قَالَ : ثنا مُحَمَّد بْن جَعْفَر , قَالَ : ثنا شُعْبَة , عَنْ الْحَكَم , قَالَ : سَأَلْته عَنْ هَذِهِ الْآيَة : { وَالْمُحْصَنَات مِنْ النِّسَاء إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانكُمْ } إِلَى هَذَا الْمَوْضِع : { فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ } أَمَنْسُوخَة هِيَ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ الْحَكَم : قَالَ عَلِيّ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ : لَوْلَا أَنَّ عُمَر رَضِيَ اللَّه عَنْهُ نَهَى عَنْ الْمُتْعَة مَا زَنَى إِلَّا شَقِيّ [تفسیر الطبری آنلائن لنک ]
عبد الرزاق اور ابو داؤد سے کتاب ناسخ میں درج ہے اور ابن جریر نے الحکم سے روایت کی ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ آیت متعہ منسوخ ہو چکی ہے، جس پر آپ نے کہا کہ نہیں (یہ منسوخ نہیں ہوئی) اور پھر کہا کہ علی ابن ابنی طالب نے فرمایا ہے اگر عمرعقد متعہ کی ممانعت نہ کر دیتے تو کوئی شقی القلب ہی ہوتا جو زنا کرتا۔
یہ صحیح روایت ہے: مُحَمَّد بْن الْمُثَنَّى (امام ذہبی کہتے ہیں کہ یہ ثقہ ہیں)، مُحَمَّد بْن جَعْفَر الهذلى (امام ذہبی کہتے ہیں کہ یہ بہترین راوی ہیں) شعبة بن الحجاج بن الورد العتكى الأزدى (امام ذہبی کہتے ہیں یہ حدیث میں امیر المومنین ہیں)،الحكم بن عتيبة الكندىہ (امام ذہبی کہتے ہیں یہ ثقہ اور صاحب سنت ہیں)
چوتھی روایت:
حَدَّثَنِي مُحَمَّد بْن عَمْرو , قَالَ : ثنا أَبُو عَاصِم , عَنْ عِيسَى , عَنْ اِبْن أَبِي نَجِيح , عَنْ مُجَاهِد : { فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ } قَالَ : يَعْنِي نِكَاح الْمُتْعَة. [تفسیر الطبری آنلائن لنک ]
امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے حضرت مجاہد سے "فما استمتعتم" کی یہ تفسیر نقل کی ہے یعنی نکاح متعہ
پانچویں روایت:
حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن الْحُسَيْن , قَالَ : ثنا أَحْمَد بْن مُفَضَّل , قَالَ : ثنا أَسْبَاط , عَنْ السُّدِّيّ : " فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ إِلَى أَجَل مُسَمًّى فَآتُوهُنَّ أُجُورهنَّ فَرِيضَة وَلَا جُنَاح عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْد الْفَرِيضَة " . فَهَذِهِ الْمُتْعَة الرَّجُل يَنْكِح الْمَرْأَة بِشَرْطٍ إِلَى أَجَل مُسَمًّى , وَيُشْهِد شَاهِدَيْنِ , وَيَنْكِح بِإِذْنِ وَلِيّهَا , وَإِذَا اِنْقَضَتْ الْمُدَّة فَلَيْسَ لَهُ عَلَيْهَا سَبِيل وَهِيَ مِنْهُ بَرِيَّة , وَعَلَيْهَا أَنْ تَسْتَبْرِئ مَا فِي رَحِمهَا , وَلَيْسَ بَيْنهمَا مِيرَاث , لَيْسَ يَرِث وَاحِد مِنْهُمَا صَاحِبه .[تفسیر الطبری آنلائن لنک ]
یعنی:۔۔۔ سدی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا فما استمتعبتم بہ منھن الہ اجل مسمی فاتو ھن اجودھن الخ (آیت کی تلاوت میں الی اجل مسمی کا فقرہ درمیان میں اضافہ کر دیا) اور کہا کہ اس سے مراد متعہ ہے جس کی صورت یہ ہے کہ مرد عورت سے نکاح کرے صورت یہ ہے کہ مرد عورت سے نکاح کرے اور اس میں دو آدمیوں کو گواہ کرے اور ولی کی اجازت سے ہو اور جب مدت گذر جائے تو پھر اس کو عورت پر کوئی اختیار نہ رہے اور وہ عورت اس سے آزاد ہوجائے اور اس عورت پر اتنا عدہ رکھنا ضروری ہو کہ حمل کا انکشاف ہوسکے۔ اور ان میں آپس میں میراث ثابت نہ ہو۔ یعنی کوئی ایک دوسرے کا وارث نہ ہو۔
“الی اجل مسمی” کی قرآت والی روایات

نوٹ:
"الی اجل مسمی" کے معنی ہیں "ایک مقررہ مدت تک"۔ چنانچہ ابن عباس، ابن ابی کعب، عبداللہ ابن مسعود، سعید بن جبیراور دیگر بہت سے اصحاب کی قرآت تھی"۔۔۔ اور جن عورتوں سے تم تمتع کرو ایک مقررہ مدت تک، تو انہیں انکی اجرت بطور فریضہ ادا کرو۔۔۔"۔ چنانچہ یہ قرآت بالکل واضح کرتی ہے کہ یہ آیت عقد المتعہ کے جواز میں نازل ہوئی تھی۔
چھٹی روایت:
7182 - حَدَّثَنَا حُمَيْد بْن مَسْعَدَة , قَالَ : ثنا بِشْر بْن الْمُفَضَّل , قَالَ : ثنا دَاوُد , عَنْ أَبِي نَضْرَة , قَالَ : سَأَلْت اِبْن عَبَّاس عَنْ مُتْعَة النِّسَاء , قَالَ : أَمَا تَقْرَأ سُورَة النِّسَاء ؟ قَالَ : قُلْت بَلَى . قَالَ : فَمَا تَقْرَأ فِيهَا : " فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ إِلَى أَجَل مُسَمًّى " ؟ قُلْت : لَا , لَوْ قَرَأْتهَا هَكَذَا مَا سَأَلْتُك ! قَالَ : فَإِنَّهَا كَذَا. [تفسیر الطبری آنلائن لنک ]
امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن الانباری نے مصاحف میں اور حضرت حاکم رحمہ اللہ نے مختلف طرق سے نضرہ سے روایت کی ہے کہ میں نے ابن عباس سے متعہ النساء کے متعلق دریافت کیا انہوں نے کہا کیا تم سورۃ نساء کی تلاوت نہیں کرتے ہو؟ کہ فما استمتعتم بہ منھن الی اجل مسمی میں نے کہا نہیں تو۔ اگر اسی طرح پڑھتا ہوتا تو آپ سے دریافت کیوں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ اچھا تو معلوم ہونا چاہیے کہا آیت یہ یونہی ہے۔
عبدالاعلی کی روایت میں بھی ابونضرہ سے اسی طرح کا واقعہ منقول ہے۔ تیسری روایت میں بھی ابو نضرہ سے نقل ہے کہ میں نے ابن عباس کے سامنے یہ آیت پڑھی۔ فما استمتعتم بہ منھن ابن عباس نے کہا۔ الی اجل مسمی۔ میں نے کہا میں تو اس طرح نہیں پڑھتا ہوں انہوں نے تین مرتبہ کہا خدا کی قسم خدا نے اس کو اسی طرح نازل کیا ہے۔
امام حاکم اور امام ذہبی کی گواہی کہ یہ روایت صحیح ہے

اس روایت کو امام حاکم نے اپنی مستدرک کی جلد دوم صفحہ 334 پر نقل کیا تھا اور اسے بخاری و مسلم کی شرائط پر صحیح قرار دیا تھا۔ جبکہ امام الذہبی نے مستدرک کے حاشیے پر اسے امام مسلم کی شرائط پر صحیح روایت قرار دیا ہے۔ اس روایت کا آنلائن عکس دیکھئیے
ساتویں روایت:
7181 - حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب , قَالَ : ثنا يَحْيَى بْن عِيسَى , قَالَ : ثنا نُصَيْر بْن أَبِي الْأَشْعَث , قَالَ : ثني حَبِيب بْن أَبِي ثَابِت , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : أَعْطَانِي اِبْن عَبَّاس مُصْحَفًا , فَقَالَ : هَذَا عَلَى قِرَاءَة أُبَيّ . قَالَ أَبُو كُرَيْب , قَالَ يَحْيَى : فَرَأَيْت الْمُصْحَف عِنْد نُصَيْر فِيهِ : " فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ إِلَى أَجَل مُسَمًّى " [تفسیر الطبری آنلائن لنک ]
یعنی:۔۔۔ابو ثابت کا بیان ہے کہ ابن عباس ؓ نے مجھ کو ایک مصحف دیا اور کہاکہ یہ ابی ابن کعب کی قرآت کے مطابق ہے یحیی بن عیسی جو اس روایت کے ناقل ہیں نصیر بن ابی الاشعت سے ان کا بیان ہے کہ میں نے اس مصحف کو نصیر کے پاس دیکھا اس میں لکھا تھا کہ فما استمتعم بہ منھن الی اجل مسمی۔
آٹھویں روایت:
حَدَّثَنَا اِبْن الْمُثَنَّى , قَالَ : ثنا أَبُو دَاوُد , قَالَ : ثنا شُعْبَة , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ عُمَيْر : أَنَّ اِبْن عَبَّاس قَرَأَ : " فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ إِلَى أَجَل مُسَمًّى " .[تفسیر الطبری آنلائن لنک ]
یعنی:۔۔۔ابو اسحاق کی روایت ہے کہ ابن عباس نے پڑھا۔ فما استمتعتم بہ منھن الی اجل مسمی
نویں روایت:
حَدَّثَنَا اِبْن بَشَّار , قَالَ : ثنا عَبْد الْأَعْلَى , قَالَ : ثنا سَعِيد , عَنْ قَتَادَة , قَالَ : فِي قِرَاءَة أُبَيّ بْن كَعْب : " فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ إِلَى أَجَل مُسَمًّى [تفسیر الطبری آنلائن لنک ]
یعنی۔۔۔ قتادہ کہتے ہیں کہ صحابی ابی ابن کعب کی قرآت فما استمتعتم بہ منھن الی اجل مسمی کی تھی۔
دسویں روایت:
حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى , قَالَ : ثنا أَبُو نُعَيْم , قَالَ : ثنا عِيسَى بْن عُمَر الْقَارِئ الْأَسَدِيّ , عَنْ عَمْرو بْن مُرَّة أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيد بْن جُبَيْر يَقْرَأ : " فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ إِلَى أَجَل مُسَمًّى فَآتُوهُنَّ أُجُورهنَّ "[تفسیر الطبری آنلائن لنک ]
یعنی۔۔۔عمرہ کہتے ہیں انہوں نے سعید بن جبیر کو قرآت کرتے سنا کہ: فما استمتعتم بہ منھن الی اجل مسمی
گیارھویں روایت:
امام ابن ابی داؤد نے مصاحف میں صحابی حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابی بن کعب کی قرات میں الی اجل مسمی کے الفاظ ہیں [حوالہ: تفسیر در منثور، حافظ جلال الدین سیوطی]
بارہویں روایت:
عبداللہ ابن مسعود بھی اس آیت کی قرآت کے ساتھ الی اجل مسمی کا اضافہ کرتے تھے۔
حوالے:
1۔ امام نووی کی شرح صحیح مسلم، جلد 9، صفحہ 179
2۔ عمدۃ القاری، شرح صحیح بخاری از امام بدر الدین عینی، جلد 18، صفحہ 208
3۔ تفسیر روح المعانی، جلد 5، صفحہ 5 [آنلائن لنک]
اور شیخ الاسلام علامہ شوکانی نے بھی "نیل الاوطار" جلد ۶ ص ۴۴ میں ابن حزم کی یہ عبارت نقل کی ہے۔
اما قراۃ ابن عباس و ابن مسعود و ابی بن کعب و سعید بن خیبر فما استمتعتم بہ منھن الی اجل مسمی فلیست بقرآن عند مشترطی
یعنی۔۔۔ ان کے بیان سے معلوم ہوا کہ ابن مسعود بھی آیت متعہ کو الی اجل مسمی کے اضافہ کے ساتھ پرھتے تھے۔
حبر الامہ، ترجمان القرآن ابن عباس کا رتبہ

کچھ لوگ ابن عباس کی کمسنی کا عذر پکڑ کر بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں جو لاحاصل ہے۔ ابن عباس فقیہ اور بلند ترین پائے کی مفسر قرآن تھے۔ ابن کثیر نے انکی یہ روایات اپنی تفسیر میں جگہ جگہ درج کی ہیں، اور اپنی کتاب البدایہ والنہایہ جلد 8، صفحہ299 پر لکھتے ہیں:
"ابن عباس اس معاملے میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے شخص تھے کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول محمد صلعم پر کیا نازل فرمایا ہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ قران کا مفسر ابن عباس ہے۔ اور وہ ابن عباس کو کہا کرتے تھے: "تم نے وہ علم حاصل کیا ہے جو ہم حاصل نہ کر پائے، تم خدا کی کتاب کے متعلق سب سے زیادہ ماہر ہو۔"
امام بخاری اور مسلم نے اپنی صحیین میں ابن عباس سے 1660 روایات نقل کی ہیں۔ [وکیپیڈیا پر ابن عباس پر مفصل مضمون]
****************


از شوکت کریم:
اور جب آپ وقت نزول مان گئی ہیں تو پھر جواب دیجئے ان درجنوں دعوں کا جن سے یہ دھاگہ بھرا ہوا ہے کہ 8 ہجری تک آپ کیسے اس آیت سے متعہ حلال کرتی رہی ہیں۔
آپکے دعوے کہ متعہ اس آیت کی روشنی میں ہوتا رہا۔
آپکے مزید دعوے کے متعہ اس آیت کی روشنی میں ہوتا رہا۔

ان بھائی صاحب نے لگتا ہے کہ قسم کھائی ہوئی ہے کہ ہمارے مراسلے پڑھنے ہیں، نہ ان میں دلائل پر غور کرنا ہے اور بس فقط الزامات پر الزامات کی بارش کرتے چلے جانا ہے۔

یہ فریق مخالف (انہی بھائی صاحب کے مکتبہ فکر) کا دعوی تھا جو یہ چیخ چیخ کر صدیوں سے کرتے چلے آئے ہیں کہ عقد المتعہ جاہلیت کے زمانے کی رسم تھی جو کہ اسلام میں داخل ہو گئی اور جس طرح آہستہ آہستہ شراب حرام قرار دی گئی اسی طرح آہستہ آہستہ عقد المتعہ حرام قرار دیا گیا اور اسکی حرمت انہیں خیبر میں نظر آئی، یا پھر فتح مکہ میں صحابہ نے رسول اللہ ص کے حکم سے متعہ کیا، اور پھر اوطاس میں رسول ﷺ کے حکم سے انکی روایت کے مطابق صحابہ نے متعہ کیا۔ اور پھر ان موقعوں میں سے ہر ایک پر متعہ "قیامت" تک کے لیے حرام ہوتا تھا ۔۔۔۔ چونکہ یہ لوگ اپنے گریبان میں نظر ڈالنے کے قائل نہیں اور خود پر ہزار خون معاف رکھتے ہیں، اس لیے آج تک انہوں نے یہ معمہ حل کرنے کی کوشش ہی نہ کی کہ جو چیز خیبر میں ہمیشہ کے لیے تاقیامت حرام ہو گئی، وہی چیز پر فتح مکہ پر کیسے دوبارہ عمل پذیر ہو رہی ہے،۔۔۔ اور پھر فتح مکہ میں دوبارہ ہمیشہ کے لیے تاقیامت تک حرام ہو جاتی ہے، مگر پھر اوطاس میں دوبارہ متعہ ہونے لگتا ہے۔ اسکے بعد پھر اوطاس میں دوبارہ حرام ہو جاتا ہے۔

شوکت کریم بھائی صاحب،
آپ اپنے الزامات کو بار بار بار بار دہرانے اور بڑا بڑا کر کے لکھنے اور ہم پر جارحانہ رویہ اپنانے کی بجائے سیدھا سیدھا اپنی کتابوں کو نذر آتش کیوں نہیں کر دیتے کیونکہ جب تک یہ موجود ہیں اُس وقت تک ثابت ہوتا رہے گا کہ رسول اللہ ص کی اپنی اجازت، منادی اور حکم سے عقد المتعہ ہوتا رہا، اور صحابہ و صحابیات رسول اللہ ص کی وفات تک عقد المتعہ کرتے رہے، پھر حضرت ابو بکر کے پورے دور میں صحابہ و تابعین عقد المتعہ کرتے ہیں، اور پھر حضرت عمر کی خلافت کا کم از کم نصف آ جاتا ہے اور عقد المتعہ جاری رہتا ہے۔۔۔۔۔۔ کیسا احمقانہ و بے وقوفانہ و جاہلانہ بہانہ ہے کہ صحابہ و صحابیات اس طویل عرصے تک قرآن و سنت سے اپنی لاعلمی و جہالت کہیے کہ جس کی بنا پر متعہ کے نام پر زناکاری کرتے رہے۔
جی ہاں، سب سے بڑے عالم و قرآن کے معنی جاننے والے تو یہی منکر حدیث حضرات اور انہی لوگوں کا ٹولہ ہے جو صبح اٹھ کر کلی کرنے سے قبل قرآن سے دسیوں آیات پیش کر کے عقد المتعہ کو حرام قرار دے دیتا ہے، ورنہ صحابہ و تابعین بے چارے تو ایسے تھے کہ حضرت عمر کا دور کیا، رسول ﷺ کی وفات کے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گذر جانے کے باوجود بھی قرآن میں ایک آیت بھی نہ نکال سکے کہ جس سے عقد المتعہ حرام ہوتا۔ نہیں اسکے بالکل برعکس وہ برابر قڑآن سے عقد المتعہ کے حق میں آیت کے نزول کا عقیدہ رکھتے آئے۔
******************
انشاء اللہ اگلے ویک اینڈ تک کچھ اہم روایات اور پیش کر کے موضوع کو آگے بڑھایا جائےگا۔ نیز میں آجکل متعہ الحج پر پڑھ رہی تھی اور مجھے لگتا ہے کہ متعہ النساء پر آگے جانے سےقبل متعہ الحج پر ایک تفصیلی مراسلہ لکھا جائے کیونکہ یہاں چند بہت اہم روایات موجود ہیں اور پتا چلے گا کہ صحابہ کیسے بیان کر رہے ہیں کہ یہ صرف عقد المتعہ ہی نہیں بلکہ حضرت عمر نے دونوں متعوں کی ممانعت کی تو صحابہ ان دونوں متعوں سے بہ یک وقت کیسے رک گئے۔
اب متعہ الحج کے لیے تو کوئی بہانہ چل نہ سکے گا کیونکہ یہاں تو صاف صاف رسول اللہ ص کی سنت اور قرآن کی واضح آیت سے حلال تھا، مگر اس سلسلے میں پھر بھی صدیوں تک عذر تراشیاں کی گئیں، پھر جھوٹی روایات کا پلندہ تیار کیا گیا، حالانکہ حضرت عمر نے صاف صاف کہا تھا کہ وہ اپنی طرف سے ہی متعہ الحج کی ممانعت کر رہے ہیں اور اسکی وجوہات بھی بتلائی کہ انہوں نے اپنی طرف سے رسول ص کی اس سنت کو کیوں تبدیل کیا ہے ۔ ایک دفعہ متعہ الحج کا یہ مسئلہ واضح ہو جائے تو پھر متعہ النساء کا مسئلہ بھی اہل انصاف کو بہت اچھی طرح سمجھ آنے لگے گا۔ انشاء اللہ۔
 

S. H. Naqvi

محفلین
ماشاءاللہ آپ مشہور "مرثیہ خواں" میر انیس صاحب کےہم نام بھی ہیں لیکین معذرت چاہتا ہوں مسٹر انیس کہ اس وقت میں آپ کی ہرزہ سرائی کا خاطر خواہ جواب نہیں دے سکوں گا۔ براہ مہربانی اس وقت جو چل رہا ہے اسے چلنے دیں اور اس موضوع سے منحرف نہ ہوں۔ حالانکہ کے میں چاہوں تو آپ کے ہر ہر لفظ کا جواب دے سکتا ہوں اور ایسا جواب کہ منتظمین اسے شائع بھی کریں گے اور آپ کا شافی علاج بھی ہو جائے گا مگر میں محفل کا احترام ملحوظ خاطر رکھتا ہوں اور پہلے بھی آپ سے موضوع پر رہنے کی اپیل کی ہے مگر اب یہ میری خود سے اپیل ہے کیونکہ آپ کو جواب دینے کے چکر میں مجھے بھی موضوع سے ہٹنا پڑتا ہے اور دوسرا میری اپیل آپ پرتو اثر نہیں کرتی ۔ اور میں اپنی اپیل خود مانتے ہوئے آپ کی کسی بھی بات کا جواب دینے سے گریز کرتا ہوں اور یہ بہتر سمجھتا ہوں کہ موجودہ موضوع پر ہی بات کرنا زیادہ مناسب ہو گا اور اگر موضوع سے متعلقہ کوئی بات ہوئی تو تبھی پوسٹ کروں گا اور آپ کوبھی ایک دفعہ پھر استدعا کرتا ہوں کہ آپ بھی صرف تعریفیں کرنے کے بجائے کوئی مفید چیز پوسٹ کر سکیں تو زیادہ بہتر ہے اور آپ کے وقت کا اچھا استعمال ہو گا۔ باقی مجھے حیرانی کی بات ہے آپ نے ایڈمن کے ساتھ میرا کونسا نیا رشتہ ڈھونڈ لیا ہے جو میرے اپنے علم میں بھی نہیں ہے؟؟ ایڈمن کے ساتھ تو میرا جو رشتہ ہے وہ وہی ہے جو کسی بھی محفل میں نئے آنے والے کا ہو سکتا ہے اور میری طرح کوئی بھی محفل میں آنے والا اگر محسوس کرے تو ایڈمن کو ایک باظرف، کشادہ دل اور ضرورت پوری کرنے والا ہی پائے گا جیسا کہ میں نے پایا۔ دوسرا ایڈمن کی وسعت قلبی ہی محفل میں آنے والوں کو محفل کا گرویدہ بناتی ہے اور ہر کوئی اپنی اپنی ضرورت پوری کر لیتا ہے۔ جہاں تک میرے مراسلوں کی اشاعت کا تعلق ہے تو ایڈمن یقینًا بہتر سمجھتے ہیں، میں نے نہ تو ان مراسلوں کی اشاعت کے لیے ایڈمن سے کوئی بات اور نہ کوئی رعایت مانگی، صرف یہ کوسش کی کہ حدود جہاں تک اجازت دیتی ہیں اور قرینہ ادب جہاں تک اجازت دیتا ہے اسی میں رہ کر آپ کی عیاریوں کا پردہ چاک کر سکوں آگے ایڈمن نے مناسب سمجھا تو اسی لیے انھوں نے شائع کیا اور پھر محفلیں نے اچھا جانا تو شکریہ ادا کیا نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!میں نے کسی " مراثی"کی طرح ڈھول تو نہیں پیٹا تھا کہ آپ کو اتنا برا لگا؟؟؟
بہرحال آپ کےجو بھی الزامات ہوں، چیلنج ہوں لیکن میں اس وقت آپ کے کسی الزام کا جواب نہیں دیتا ہوں مبادا کہ اس الزام در الزام کی صورت حال میں ہم موضوع سے بھٹک جائیں۔ باقی مجھے بھاگنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں، جو پولنگ کا میں نے کہا تھا تو وہ صرف آپ کی اس ذہنیت کی وجہ سے کہ" مہوش نے ماشاللہ اتنے زبردست دلائل دیئے ہیں" اور " آپ لوگ خلافِ موضوع بات چھیڑ کر یا کوئی الزام لگا کر بات کا رخ تبدیل کردیتے ہیں "۔، تو چلیں‌ میں کڑوا گھونٹ بھر کر آپ کے اعتراضآت کو فی الحال پی جاتا ہوں اور کسی بھی تبصرے سے گریز کرتےہوئے آپ کو دعوت تقلید دیتا ہوں۔ باقی میں‌ اس محفل میں‌کوئی نیا دھاگہ کھولنے کے حق میں نہیں ہوں ہاں‌ آپ کو ایک نئے فورم پرآنےکی دعوت پہلے بھی دی تھی اور اب بھی دیتا ہوں کہ ایسی جو بحث بھی مزید کرنی ہے اسی فورم پر کریں گے مگر براہ مہربانی کچھ ٹھہر جائیں۔ اور یہ محفل تو نفرتوں سے پاک ہونی چاہیے اور اسی کی موجودہ شکل ہی باقی رہنےدیں۔ کیونکہ اس محفل کی محبت اور اپنا پن ہی اس کی انفرادیت اور کشش ہے جسے قائم رکھیں۔ :)
 

مہوش علی

لائبریرین
از میر انیس:
اقتباس:
اصل پيغام ارسال کردہ از: گرائیں
چھوڑین بھی نقوی صاحب۔ انیس صاحب کے جملے سب نے پڑھے ہیں ہر ایک فیصلہ کر سکتا ہے کہ کس مکاری سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے بغض نکالا جا رہا ہے۔ میں آپ سے متفق ہوں‌مگر کیا کیا جائے کہ یہ ہٹ دھرمی سے باز ہی نہیں‌آ رہے ہیں

آپ کی ان سب باتوں‌کا اثر اس لئے نہیں‌ہوگا کہ ان کی اب تک کی ساری عمر ایسی گزری ہے۔ اب سمجھ کیا خال آئے گی۔ اپنا دل میلا نہ کریں۔ ہم سب جان چکے ہیں‌کہ حقیقت کیا ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا " اللہ اللہ اصحابی، لا تتخذوھم من بعدی غرضا۔ فمن احبھم فبحبی احبھم۔ و من ابغضھم فببغضی ابغضھم۔

اللھم صل علی محمد و آلہ و صحبہ و سلم۔
میں نے حضرت عمر(ر) سے کوئی بغض نہیں نکالا ۔ میں نے صرف آپ لوگوں سے سوال کیا تھا کہ اگر آپ لوگوں کا عقیدہ حضرت عمر(ر) کے متعلق یہ ہے کہ آپ انکو معصوم عن الخطا مانتے ہیں تو میں اس رائے کا احترام کرونگا پر آپ میں سے کسی نے اس بات کا جواب دینے کے بجائے مجھ پر لعن طعن شروع کردی۔ چونکہ ہم حضرت عمر کا معصوم عن الخطا نہیں سمجھتے اس لئے سوچ سکتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ متعہ سے منع کرنا انکی ایک اجتہادی غلطی ہو ۔اور یہ کسی نام نہاد تقیہ کی وجہ سے میں حضرت عمر کا احترام آپ کے سامنے نہیں کر رہا بلکہ میں سمجھتا ہوں بلکہ میرا عقیدہ ہے کہ اگر میں باوجود اپنے کسی دوست یا مسلمان بھائی کے والد کو نہیں جانتا یا نہیں مانتا پر چونکہ وہ اسکے والد ہیں اور اسکے لیئے قابل احترام ہیں تو مجھکو کوئی حق نہیں پنہچتا کسی کی دل آزاری کا آپ یقین رکھیں میں آپ کے والد کا بھی اسی طرح احترام کروں گا جسطرح اپنے والد کا کرتا ہوں اور یہی میرے والدین کی تربیت ہے ۔

میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ ہمارا اختلاف حضرت عمر سے اتنا زیادہ نہیں ہے، بلکہ اصل اختلاف اُن بعد میں آنے والے لوگوں سے ہے جنہوں نے اپنا مؤقف ثابت کرنے کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھنے شروع کر دیے۔ حضرت عمر نے صاف طور پر عقد المتعہ کی ممانعت اپنی طرف منسوب رکھی تھی۔ اور بعینہ یہی اختلاف ہمارا حضرت عمر سے متعہ الحج کے معاملے پر ہے۔ اور طوعا و کرہا ہی سہی، مگر متعہ الحج کے معاملے میں کم از کم فریق مخالف نے مانا تو سہی کہ ہاں حضرت عمر نے اپنی رائے کے مطابق اس میں تبدیلی کر لی تھی۔
سنت رسول اور حلال اللہ سے انصاف یہ ہے کہ اسے اپنی جگہ رکھا جائے۔ اگر متعہ الحج پر حضرت عمر سے ہمارا اختلاف مکاری و بغص کے زمرے میں نہیں آتا تو پھر متعہ النساء کے معاملے پر پھر آپ لوگوں کو زبان سنبھال کر بات کرنی چاہیے کیونکہ اس میں بھی بہت بہت واضح اختلاف ہے اور ہم سے پہلے آپ کو پھر مکاری و بغص کا یہ الزام صحابہ و تابعین کی بڑی تعداد پر لگانا ہو گا جو صاف صاف طور پر سنت رسول و حلال اللہ کے سامنے کسی شخص کی ذاتی رائے کو اہمیت نہیں دے رہے بلکہ اس سے اختلاف کر رہے ہیں۔ آپ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ بات "دلائل" پر ہوتی ہے جیسا کہ قرآن کا حکم ہے کہ "دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو"۔ مگر جب دلیل چھوڑ کر آپ مکاری و بغض کے الزامات پر آ جائیں گے تو پھر قرآن کیا اور قڑان کا دلیل لانے کا حکم کیا، بس پھر فتنہ و فساد ہی ہو گا۔
 

گرائیں

محفلین
میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ ہمارا اختلاف حضرت عمر سے اتنا زیادہ نہیں ہے، بلکہ اصل اختلاف اُن بعد میں آنے والے لوگوں سے ہے جنہوں نے اپنا مؤقف ثابت کرنے کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھنے شروع کر دیے۔ حضرت عمر نے صاف طور پر عقد المتعہ کی ممانعت اپنی طرف منسوب رکھی تھی۔ اور بعینہ یہی اختلاف ہمارا حضرت عمر سے متعہ الحج کے معاملے پر ہے۔ اور طوعا و کرہا ہی سہی، مگر متعہ الحج کے معاملے میں کم از کم فریق مخالف نے مانا تو سہی کہ ہاں حضرت عمر نے اپنی رائے کے مطابق اس میں تبدیلی کر لی تھی۔
سنت رسول اور حلال اللہ سے انصاف یہ ہے کہ اسے اپنی جگہ رکھا جائے۔ اگر متعہ الحج پر حضرت عمر سے ہمارا اختلاف مکاری و بغص کے زمرے میں نہیں آتا تو پھر متعہ النساء کے معاملے پر پھر آپ لوگوں کو زبان سنبھال کر بات کرنی چاہیے کیونکہ اس میں بھی بہت بہت واضح اختلاف ہے اور ہم سے پہلے آپ کو پھر مکاری و بغص کا یہ الزام صحابہ و تابعین کی بڑی تعداد پر لگانا ہو گا جو صاف صاف طور پر سنت رسول و حلال اللہ کے سامنے کسی شخص کی ذاتی رائے کو اہمیت نہیں دے رہے بلکہ اس سے اختلاف کر رہے ہیں۔ آپ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ بات "دلائل" پر ہوتی ہے جیسا کہ قرآن کا حکم ہے کہ "دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو"۔ مگر جب دلیل چھوڑ کر آپ مکاری و بغض کے الزامات پر آ جائیں گے تو پھر قرآن کیا اور قڑان کا دلیل لانے کا حکم کیا، بس پھر فتنہ و فساد ہی ہو گا۔


دلیل یہ ہے محترمہ۔

اب آپ سے درخواست ہے کہ نشان زد جملوں‌کا ثبوت دے دیں۔ ورنہ میں‌سمجھوں‌گا کہ میں‌حق پر تھا۔ انھی نشان زد جملوں‌کو میر انیس صاحب کمال ہوشیاری سے مسلسل نظر انداز کر کے اپنی ہانکے جا رہے ہیں۔

واضح رہے میرا ارادہ ان جملوں‌اور اس طویل اقتباس کے دوبارہ نقل کرنے کا ہر گز نہ تھا جیسا کہ پچھلے مراسلے میں‌میں‌نے عرض‌کیا، مگر اب ریکارڈ کی درستگی کی خاطر من و عن میر انیس صاحب کی تقریر نقل کر رہا ہوں۔

امید ہے انتظامیہ اس امر کو نظر انداز کر دے گی۔

میرے بھائی اسکا صاف مطلب ہے کہ جسطرح سلمان رشدی اور تسنیمہ نسرین باوجود مسلمان مصنف ہونے کیلیئے ہم پر حجت نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے جن نظریات کا اظہار کیا وہ نظریات اسلام کے بنیادی نظریات کی نفی کرتے ہیں اسی طرح جب کسی ایک شخص کے نظریات ہم سے مطابقت نہیں رکھیں گے تو وہ ہمارے لیئے حجت کیسے بن سکتے ہیں ۔
اس موضوع پر میں نے ایک بات شروع سے نوٹ کی ہے کہ قران اور صحیح احادیث کو یکسر فراموش کرکے صرف اپنی بات منوانے کی ہر طرح سے کوشش کی جارہی ہے ۔ مہوش بہن کے علاوہ کسی نے بھی کوئی مضبوط دلیل نہ تو قران سے پیش کی نہ ہی حدیث سے کبھی کوئی معاشرہ کو لے کر آگیا تو کبھی صدیق صاحب(گرافکس) کی طرح کوئی تعصب سے لبریز ہوکر بے جا طنز اور بہتان کا سہارہ لیتا نظر آیا ۔ پہلے تو متعہ سے موجود قرانی آیت کا ہی انکار کیا گیا پر جب وہ نہ کرپائے اور یہ ثابت ہوگیا کہ یہ آیت متعہ کو جائز قرار دے رہی ہے تو کہا گیا کہ فلاں فلاں جگہ متعہ کی حرمت کا اعلان کیا گیا اول تو یہ ساری روایات ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں دوسرے ایک عام اصول ہے کہ جب کوئی بھی حکم قران میں موجود ہوتا ہے تو وہ ساری احادیث پر نص ہوتا ہے۔ پھر کئی روایات اور صحابہ کے خود متعہ کرنے سے بھی یہ صاف صاف ظاہر ہورہا ہے کہ متعہ کو منع نہیں کیا گیا۔ اور سب سے بڑی دلیل یہ کہ خود حضرت عمر کا یہ قول بھی 2 متعہ آنحضرت کے زمانے میں حلال تھے پر میں انسے منع کرتا ہوں اور اگر اب کوئی یہ کرے گا تو حد جاری کرونگا یہ قول چیخ چیخ کر کہ رہا ہے کہ اس سے حضرت عمر نے ہی روکا اور حضرت ابوبکر نے ایسی کوئی بات نہیں کی اور انکے زمانے میں متعہ ہوتا رہا اور لوگ زنا سے بچے رہے پر جیسے ہی حضرت عمر نے پابندی لگائی خود انکے صاحبزادے کو ہی شیطان نے بہکادیا اور آپ نے انکو اتنے کوڑے لگوائے کہ انکی وفات ہوگئی۔ حضرت عمر میرے لیئے بہت قابل احترام ہیں ہوسکتا ہے انہوں نے اس دور کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ ذاتی طور پر کیا ہو یا جسطرح ہمارے بھائی اب تک متعہ کو نہیں سمجھ پارہے ہیں انکو بھی اسکے بارے میں غلط فہمی ہوگئی ہو ۔
میں نے جو 2 واقعات آپ کو سنائے تھے آپ کو کیا لگتا ہے کہ اس سے کوئی کیا حرام میں پڑا یا حرام سے محفوظ رہا۔ متعہ کا مطلب صرف جسمانی تعلق ہی نہیں ہوتا یہ تو 99 فیصد کیا ہی جب جاتا ہے جب انسان کو یقین ہو کہ وہ حرام میں مبتلہ ہوجائے گا ایک لڑکی چاہے آپ کو یقین ہی کیوں نہ ہو کہ اس سے ایک یا دو مہینہ یا سال دو سال بعد آپ کی شادی ہوجائے گی آپ کے لیئے نا محرم ہے اسکا ہاتھ پکڑنا اسکے چہرے اور بالوں کو دیکھنا یہاں تک کہ بالکل اکیلے اسکے ساتھ ایک کمرہ میں بیٹھنا بھی حرام ہے اور آپ یہاں جتنا بھی اس بات سے انکار کریں پر دل سے ضرور مانیں گے کہ یہ ہمارے گھرانوں میں 100 فیصد نہیں تو 90 فیصد تو ضرور ہوتا ہے جنکی شادی طے ہوچکی ہو گائوں دیہات کا مجھکو نہیں پتہ پر کراچی اور لاہور کا میں جانتا ہوں۔ اگر وہ لوگ منگنی کرلیں اور پھر یہ سب کام کریں تو وہ حرام ہی کریں گے اس سے اچھا یہ نہیں کہ وہ متعہ کرلیں چاہے اس میں یہ شرط ہو کہ ہم کوئی جسمانی تعلق قائم نہیں کریں گے تو بتائے یہ عمل منگنی سے زیادہ اچھا ہے یا نہیں ۔ ہم میں سے وہ سارے ماں باپ جو جانتے بوجھتے ہوئے بھی لڑکا لڑکی کو ایک دوسرے سے ملنے دیتے ہیں وہ ذمہ دار ہیں انکی ساری بد فعلیوں کے اور انکو اسکی یقیناََ سزا بھی ملے گی ۔ پھر ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اس خام خیالی میں مبتلہ ہوتے ہیں کہ ہمارا بیٹا یا بیٹی 20 سال ہونے کہ باوجود شہوت سے دور رہیں گے وہ تو فرشتہ ہیں پر میرے بھائیو وہ میڈیکلی ان فٹ نہیں ہیں اللہ نے جو فطرت دی ہے وہ اس پر ہی چلیں گے میں یہ نہیں کہتا کہ سب زنا جیسی لعنت میں پڑ جاتے ہیں پر نت نئے قسم کے گناہ ضرور کرتے ہیں اور بّض تو جیسے میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ایک تو زنا جیسا گناہِ کبیرہ دوسرے اس نوزائیدہ کو قتل کرنے کا س سے بھی بڑا گناہ ان سب کا ذمہ دار کون ہے متعہ کی بحث تھوڑی دیر کے لیئے چھوڑ کر بس مجھ کو اسکا حل بتادیں۔ صرف یہ بتادیں کہ ایدھی کو جھولے کیوں رکھوانے پڑے تھے۔
دراصل جوڑے بنانے کا مقصد اللہ کے نزدیک تھا ہی یہی کہ فطری ضرورت پوری کرنے کا حق تو ہر کسی کو ہے اور اللہ نے خود تولید کا اور نسل بڑھانے کا ایک طریقہ رکھا ہے تو نسل بڑھانے کیلیئے تو جنگلی جانور بھی کوشاں رہتے ہیں پر اگر انسان بھی جانوروں کی طرح ہوتا اور اپنی بیوی نہیں بناتا تو پھر بچوں کی پرورش کیسے ہوتی جب کسی کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ کس کا باپ کون ہے تو کوئی ایسے بچے کی زمہ داری کیسے اٹھاتا اسلئے اسلام میں اللہ نے بلکہ ہر مذہب نے اپنے مطابق شادی اور نکاح کا طریقہ رکھا ۔ تاکہ باپ اپنے بچوں کا کفیل بنے اور دنیا کو پتا ہو کہ اسکا باپ کون ہے عدت بھی اسی لئے ہوتی ہے ۔ ہاں زنا میں یہ نہیں ہوتا ایک زنا کرنے والی عورت اگر کسی بچے و جنم دیتی ہے تو اسکے باپ کی زمہ داری کوئی نہیں اٹھاتا پر متعہ میں باپ کا پتا ہوتا ہے اور وہ اولاد باپ کے ساتھ ہی منسوب ہوتی ہے نہ عورت پر کوئی الزام لگاسکتا ہے نہ ہی بچے کو کوئی یہ طعنہ دیسکتا ہے کہ تمہارے باپ کا نہیں پتہ۔
بات بہت لمبی ہوگئی وہ بھی صرف اسوجہ سے کہ میں چاہتا ہوں کہ اب اس موضوع کو ختم کیا جائے بحث برائے بحث سے کچھ حاصل نہیں جسکو میری یا مہوش کی باتیں سمجھ نہیں آرہیں تو وہ کبھی نہیں آئیں گی یقین کریں اگر ان لوگوں کے پاس کوئی مضبوط دلیل ہوتی تو میں خود مان جاتا اور مہوش کے خلاف ہوکر آپ لوگوں کے ساتھ مل جاتا پر کوئی تو آیت لائیں جس نے متعہ والی آیت کو منسوخ کیا ہو کوئی تو مضبوط دلیل احادیث سے لائیں اب نہیں لا سکتے تو پھر اسطرح تو ہر روز کوئی نا کوئی آتا جائے گا اور نئے سرے سے بحث شروع کرتا جائے گا مانے گا کوئی کسی کی نہیں ۔ آپ خود انصاف کریں کہ آپ میں سے کتنے آتے گئے اور پھر چپ ہو ہو کر بیٹھتے گئے میں تو ابنِ حسن بھائی کی دلیلوں کا انتظار کر رہا تھا کیوں کہ انہوں نے اپنی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ میں مہوش کے دلائل مکمل ہونے کا انتظار کر رہا ہوں پھر میں یہ کروں گا اور وہ کروں گا پر انکے دلائل بھی کوئی جاندار نہیں نکلے۔دوست آئے بازوق آئے نقوی صاحب آئے ابنِ حسن شوکت کریم کنعان اور صدیق صاحب کی تو خیر بات ہی کیا تو اب ہم اپنا یہاں وقت کیوں برباد کر رہے ہیں کیوں نہ کسی اور طرح خدمت کریں۔
 

میر انیس

لائبریرین
ماشاءاللہ آپ مشہور "مرثیہ خواں" میر انیس صاحب کےہم نام بھی ہیں لیکین معذرت چاہتا ہوں مسٹر انیس کہ اس وقت میں آپ کی ہرزہ سرائی کا خاطر خواہ جواب نہیں دے سکوں گا۔ براہ مہربانی اس وقت جو چل رہا ہے اسے چلنے دیں اور اس موضوع سے منحرف نہ ہوں۔ حالانکہ کے میں چاہوں تو آپ کے ہر ہر لفظ کا جواب دے سکتا ہوں اور ایسا جواب کہ منتظمین اسے شائع بھی کریں گے اور آپ کا شافی علاج بھی ہو جائے گا مگر میں محفل کا احترام ملحوظ خاطر رکھتا ہوں اور پہلے بھی آپ سے موضوع پر رہنے کی اپیل کی ہے مگر اب یہ میری خود سے اپیل ہے کیونکہ آپ کو جواب دینے کے چکر میں مجھے بھی موضوع سے ہٹنا پڑتا ہے اور دوسرا میری اپیل آپ پرتو اثر نہیں کرتی ۔ اور میں اپنی اپیل خود مانتے ہوئے آپ کی کسی بھی بات کا جواب دینے سے گریز کرتا ہوں اور یہ بہتر سمجھتا ہوں کہ موجودہ موضوع پر ہی بات کرنا زیادہ مناسب ہو گا اور اگر موضوع سے متعلقہ کوئی بات ہوئی تو تبھی پوسٹ کروں گا اور آپ کوبھی ایک دفعہ پھر استدعا کرتا ہوں کہ آپ بھی صرف تعریفیں کرنے کے بجائے کوئی مفید چیز پوسٹ کر سکیں تو زیادہ بہتر ہے اور آپ کے وقت کا اچھا استعمال ہو گا۔ باقی مجھے حیرانی کی بات ہے آپ نے ایڈمن کے ساتھ میرا کونسا نیا رشتہ ڈھونڈ لیا ہے جو میرے اپنے علم میں بھی نہیں ہے؟؟ ایڈمن کے ساتھ تو میرا جو رشتہ ہے وہ وہی ہے جو کسی بھی محفل میں نئے آنے والے کا ہو سکتا ہے اور میری طرح کوئی بھی محفل میں آنے والا اگر محسوس کرے تو ایڈمن کو ایک باظرف، کشادہ دل اور ضرورت پوری کرنے والا ہی پائے گا جیسا کہ میں نے پایا۔ دوسرا ایڈمن کی وسعت قلبی ہی محفل میں آنے والوں کو محفل کا گرویدہ بناتی ہے اور ہر کوئی اپنی اپنی ضرورت پوری کر لیتا ہے۔ جہاں تک میرے مراسلوں کی اشاعت کا تعلق ہے تو ایڈمن یقینًا بہتر سمجھتے ہیں، میں نے نہ تو ان مراسلوں کی اشاعت کے لیے ایڈمن سے کوئی بات اور نہ کوئی رعایت مانگی، صرف یہ کوسش کی کہ حدود جہاں تک اجازت دیتی ہیں اور قرینہ ادب جہاں تک اجازت دیتا ہے اسی میں رہ کر آپ کی عیاریوں کا پردہ چاک کر سکوں آگے ایڈمن نے مناسب سمجھا تو اسی لیے انھوں نے شائع کیا اور پھر محفلیں نے اچھا جانا تو شکریہ ادا کیا نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!میں نے کسی " مراثی"کی طرح ڈھول تو نہیں پیٹا تھا کہ آپ کو اتنا برا لگا؟؟؟
بہرحال آپ کےجو بھی الزامات ہوں، چیلنج ہوں لیکن میں اس وقت آپ کے کسی الزام کا جواب نہیں دیتا ہوں مبادا کہ اس الزام در الزام کی صورت حال میں ہم موضوع سے بھٹک جائیں۔ باقی مجھے بھاگنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں، جو پولنگ کا میں نے کہا تھا تو وہ صرف آپ کی اس ذہنیت کی وجہ سے کہ" مہوش نے ماشاللہ اتنے زبردست دلائل دیئے ہیں" اور " آپ لوگ خلافِ موضوع بات چھیڑ کر یا کوئی الزام لگا کر بات کا رخ تبدیل کردیتے ہیں "۔، تو چلیں‌ میں کڑوا گھونٹ بھر کر آپ کے اعتراضآت کو فی الحال پی جاتا ہوں اور کسی بھی تبصرے سے گریز کرتےہوئے آپ کو دعوت تقلید دیتا ہوں۔ باقی میں‌ اس محفل میں‌کوئی نیا دھاگہ کھولنے کے حق میں نہیں ہوں ہاں‌ آپ کو ایک نئے فورم پرآنےکی دعوت پہلے بھی دی تھی اور اب بھی دیتا ہوں کہ ایسی جو بحث بھی مزید کرنی ہے اسی فورم پر کریں گے مگر براہ مہربانی کچھ ٹھہر جائیں۔ اور یہ محفل تو نفرتوں سے پاک ہونی چاہیے اور اسی کی موجودہ شکل ہی باقی رہنےدیں۔ کیونکہ اس محفل کی محبت اور اپنا پن ہی اس کی انفرادیت اور کشش ہے جسے قائم رکھیں۔ :)

میرے بھائی بات کو موضوع سے دوسری طرف لے جانے کا سہرا آپ لوگوں کہ سر ہی جاتا ہے میں تو متعہ کے بارے میں ہی بات کر رہا تھا کہ حضرت عمر (ر) کے صاحبزادے کی جب بات آئی تو آپ لوگوں نے اسو غلط رنگ دیا میں نے اپنی کئی پوسٹیں ضائع کیں اور کہا کہ بھائی آپ لوگ بات دوسری طرف لے جارہے ہیں اور آپ سمیت صدیق صاحب اور گرائیں بھائی چراغ پا ہوتے رہے ۔ اور ایک موقع پر آپ نے کہا کہ آپ کا تو مذہب کی تو بنیاد ہی 90 فیصد جھوٹ پر مبنی ہے میری پچھلی پوسٹیں دیکھلیں میں نے ہمیشہ بھائی چارے کی بات کی ہے پر اگر کوئی 7 سال کا بچہ بھی یہ بات سنے گا تو برداشت نہیں کرسکے گا لہٰذا میں بھی نہیں کرسکا ۔ اگر آپ غور کریں تو میں نے جتنی بار مہوش کا شکریہ ادا کیا ہے لگ بھگ اتنا ہی شوکت کریم بھائی کا بھی کیا ہوگا ۔ میں نے ہر اچھی بات پر شوکت کریم کی تعریف کی آپ میری پچھلی تحاریر ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ پر کیا کروں ہر بات کا جواب مہوش کی طرف سے بہت مدلل آجاتا ہے تو پھر مجھکو انکی حوصلہ افزائی بھی کرنی پڑتی ہے کیونکہ انکی حوصلہ افزائی کا اور کسی کے پاس حوصلہ بھی نہیں ہے۔
دوسرے میرا اصل نام میر انیس نہیں ہے یہ تو میں نے محترم میر انیس سے متاثر ہوکر ہی رکھا ہے کیونکہ میں انکا زبردست مداح ہوں۔
 

میر انیس

لائبریرین
ہاہاہاہا

آپ اچھی طرح جانتے ہیں‌میں‌نے بار بار آپ کی تحریر کا حوالہ دے کر آپ سے پوچھا کہ آپ اپنے اس دعوے کو ثابت کریں‌کہ متعہ کو حرام قرار دینے کے نتیجے میں اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ سزا دی کہ انھوں‌نے اپنے بیٹے پر خؤد حد جاری کی۔

میں آپ کی تحریر کا اقتباس پہلے بھی دے چکا ہوں، اور جو لوگ مسلسل اس دھاگے پر آ رہے ہیں‌وہ میری اس بات کی تصدیق کریں‌گے، مگر آپ بات ہر بار گول کر جاتے ہیں۔ یہ جذباتی تقریر کہیں‌اور کیجئے گا اور اپنے دعوے کا ثبوت دیجئے ورنہ میں‌ اپنی بات دہراؤں‌گا،

ہاتھ کنگن کو آر سی کیا۔
میری تحریر دوبارا پڑھیں میں نے یہ کب کہا کہ
اللہ نے حضرت عمر کو سزادی بلکہ مولا علی(ع) کا وہ قول آپ کو بتایا تھا کہ اگر متعہ کو منع نہ کیا جاتا تو کوئی ملعون ہی زنا کرتا اور اسی کی مناسبت سے یہ واقع سنایا تھا۔ کہ حضرت عمر کے ایک صاحبزادے نے شراب میں مدہوش ہوکر ایک خوبصورت لڑکی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرلیا تھا ۔ جب آپ نے یہ روایت نہیں مانی تو میں نے ذور بھی نہیں دیا کہ لازمی میری بات مانیں ۔ جیسے میرے بہت سارے بھائیں نے کہا کہ انہوں نے شراب ضرور پی تھی پر زنا نہیں کیا تھا تو میں نے آگے بحث نہیں کی۔
 
ش

شوکت کریم

مہمان
کیونکہ تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ کم از کم 7 ہجری تک(یعنی رسول ص کی وفات کے تین سال قبل تک) صحابہ اور صحابیات نے رسول اللہ ص کی اجازت بلکہ حکم سے عقد متعہ کیے۔ چنانچہ جب یہ لوگ متعہ کو زناکاری کا الزام دیں گے تو یہ چیز ان صحابہ اور صحابیات کے لیے سب سے پہلے گالی بن جائے گا جو رسول اللہ ص کی اجازت بلکہ حکم پر عقد متعہ کرتے رہے۔ کاش کہ یہ لوگ اس بات کو سمجھ سکیں۔

1۔ آپ قرآن کو کھولیں۔2۔ اور پھر ان دونوں سورتوں (سورۃ المومنون اور سورۃ المعارج) کے زمانے نزول کو دیکھیں۔
3۔ ان دونوں سورتوں سے قبل بالاتفاق آپ کو لکھا نظر آئے گا "المکیۃ" یعنی مکی دور میں نازل ہونے والی سورتیں۔
4۔ اب بتلائیں کہ آپ اس عقدے کو کیسے حل کریں گے کہ عقد متعہ جو باالاجماع کم از کم مدینے کے پہلے 7 سالوں (یعنی فتح خیبر یا 8 سالوں یعنی فتح مکہ) تک جاری و ساری رہا ہے اور صحابہ و صحابیات رسول ص کی اجازت بلکہ حکم سے عقد متعہ کرتے رہے۔

سورۃ النساء مدنی دور کے ابتدائی سالوں میں نازل ہوئی جبکہ عقد متعہ بالاتفاق خود آپکی اپنی زبانی 8 ہجری تک جاری و ساری رہا۔میں اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتی ہوں کہ اللہ تعالی بلاشبہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ اہل عقل و انصاف کے لیے الحمدللہ دلیل کافی ہے کہ وہ حق کو باطل سے جدا کر سکیں۔

پوری امت مسلمہ (سوائے بعد میں پیدا ہونے والے منکریں حدیث کے گروہ کے) کا اس بات پر اجماع ہے کہ عقد متعہ کم از کم سن 7 ہجری (فتح خیبر) یا پھر سن 8 ہجری (فتح مکہ) تک رسول اللہ ص کے حکم سے جاری و ساری رہا۔اختلاف اسکے بعد کے وقت کا ہے کہ آیا رسول نے اسے اپنی وفات سے تین یا دو سال قبل حرام قرار دیا یا نہیں


اہل تشیع کے نزدیک عقد متعہ کے متعلق قرآن کی سورۃ النساء کی آیت 24 نازل ہوئی۔

سورۃ النساء کی آیت 24 پر تفصیلی بحث
عقد المتعہ کے جواز کا حکم سورۃ النساء کی آیت 24 میں اللہ نےخود نازل فرمایا:
[القرآن 4:24] والمحصنات من النساء الا ما ملكت ايمانكم كتاب الله عليكم واحل لكم ما وراء ذلكم ان تبتغوا باموالكم محصنين غير مسافحين فما استمتعتم به منهن فاتوهن اجورهن فريضة ولا جناح عليكم فيما تراضيتم به من بعد الفريضة ان الله كان عليما حكيما

سورۃ النساء مدنی دور کے ابتدائی سالوں میں نازل ہوئی جبکہ عقد متعہ بالاتفاق خود آپکی اپنی زبانی 8 ہجری تک جاری و ساری رہا۔
میں اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتی ہوں کہ اللہ تعالی بلاشبہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ اہل عقل و انصاف کے لیے الحمدللہ دلیل کافی ہے کہ وہ حق کو باطل سے جدا کر سکیں۔

اب یہ سورتیں مکی سورتیں ہیں (یا پھر مدینہ کے ابتدائی سالوں کی) اور یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ آیات عقد متعہ کو منسوخ کر سکتی ہوں۔ اللہ تعالی نے اسی لیے ہمیں قرآن میں تدبر و تفکر کرنے کا حکم دیا ہے کہ حق کو باطل سے علیحدہ کر سکیں۔ (بدقسمتی قرآن و سنت پر ایسے جھوٹ ہر گروہ کے کچھ لوگوں نے اپنے اپنے عقائد ثابت کرنے کے لیے بولے ہیں۔ اللہ ہمیں انکے فتنے سے محفوظ رکھے۔امین

ایک بار پھر مختصرا بات کہ سورۃ النساء ابتدائی دور کی سورۃ ہے اور آپ فقط تفسیر بالرائے کرتے ہوئے اسکی بنیاد پر عقد متعہ کو حرام ٹہرا رہے ہیں حالانکہ آپ کے اپنے قول کے مطابق صحابہ و صحابیات کم از کم سن 7 یا 8 ہجری تک عقد متعہ کرتے رہے۔


عقد المتعہ کے جواز کا حکم سورۃ النساء کی آیت 24 میں اللہ نےخود نازل فرمایا:
[القرآن 4:24] والمحصنات من النساء الا ما ملكت ايمانكم كتاب الله عليكم واحل لكم ما وراء ذلكم ان تبتغوا باموالكم محصنين غير مسافحين فما استمتعتم به منهن فاتوهن اجورهن فريضة ولا جناح عليكم فيما تراضيتم به من بعد الفريضة ان الله كان عليما حكيما

مکمل طور پر واضح کیا تھا کہ زمانہ نزول کے اعتبار سے لاکھ سر پٹخ لیں مگر سورۃ النساء کی اس آیت سے عقد المتعہ حرام نہیں ہو سکتا۔ اسکا جواب تو کیا لاتے الٹا پھر سے وہی منکر حدیث حضرات کی روش کی پیروی میں دلائل شروع ہو گئے۔

آپکی طرف سے تو اسکا جواب نہیں آیا۔ مگر ادھر غور سے سورۃ النساء کو دیکھیں:
آیت 24: ۔۔۔۔ اس میں اللہ تعالی نکاح المتعہ کا حکم دے رہا ہے۔۔۔

1۔ متعہ بھی "نکاح" کی ہی ایک قسم ہے
2۔ ان آزاد خواتین سے نکاح المتعہ کا حکم آیت نمبر 24 میں آ گیا ہے۔
3۔ اسکے بعد پھر آیت 25 میں اللہ فرما رہا ہے کہ اگر تم میں آزاد عورتوں کا خرچ برداشت کرنے کی استطاعت نہیں (یعنی نہ تم ان سے نکاح دائمی کر سکتے ہو اور نہ نکاح المتعہ) تو پھر تم کنیز عورتوں سے اپنی خواہش پوری کر سکتے ہو۔
4۔ چنانچہ یہ صبر کا حکم کنیز باندیوں کے ساتھ مباشرت اور نکاح (جو بذات خود عارضی تعلق ہے) سے مخصوص ہے نہ کہ آزاد عورت سے نکاح دائمی یا نکاح المتعہ کے ساتھ، اور یہی وہ واحد وجہ نظر آتی ہے جسکی وجہ سے رسول اللہ ص نے صحابہ کو صبر کرنے کی بجائے حکم دے کر عقد المتعہ کروایا۔

نہیں، اب آپ کو آپکی اس گمراہی سے کوئی نہیں روک سکتا:

1۔ نہ آپ کو اس سورۃ کا زمانہ نزول اس بات سے روک سکتا ہے کہ آپ یہ دیکھنے کے قابل ہو سکیں کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی اور اس سورت کے نزول کے سال ہا سال بعد تک صحابہ کرام خود اللہ کے رسول ﷺ کے حکم و اجازت سے عقد المتعہ کرتے رہے (یعنی نہ صحابہ اور نہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کا کبھی وہ مطلب سمجھا جو آپ آج زبردستی نکال رہے ہیں)

یہ اللہ کا کیسا احسان ہے کہ جن صحابی ابو سعید خدری کی روایت کو اس آیت کے پہلے جز کے متعلق نقل کیا جا رہا ہے، یہی ابو سعید خدری وہ ہیں جو بذات خود عقد المتعہ کے حلال ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں اور صاف صاف حضرت عمر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انہوں نے عقد المتعہ کو عمر بن حریث کے واقعے کے بعد منع کر دیا تھا۔

محترمہ ایسے تو آپ دامن نہ چھڑا سکیں گی میں نے جو اوپر تلے پوسٹوں میں درجنوں اقتباسات لگائے ہوئے ہیں کہ جن سے آپ حلت متعہ ابتدائے مدینہ سے ثابت کر رہی ہیں پہلے ان کا تو جواب دیں۔ النسا آیت 24 کو اوطاس کو نازل ہونے نے آپ کی ساری کہانی کی بنیاد ہلا کر رکھ دی ہے۔ اور آپ کتنے آرام سے ابتدائے مدینہ سے انتہائے مدینہ کی طرف منتقل ہو گئی ہیں۔ کیا آپ میں تھوڑی سی بھی وہ چیز نہیں کہ آپ یہ ہی بتا دیتیں یا معذرت ہی کر لیتیں کہ قرآن نے متعہ کو ابتدائے مدینہ میں نہیں‌ بلکہ شوال 8 ہجری کو حلال کیا تھا۔

ابو سعید خدری کے متعلق ابن حجر العسقلانی والا ریفرنس پہلے گذر چکا ہے۔ اور ابو سعید خدری کے متعلق بخاری کی شارح علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں:

مجھے سمجھ نہیں آرہی آپ کر کیا رہی ہیں جو اعتراضات آپ پر کیے گئے ہیں ان کا جواب دیں۔ اور میں نے اوپر مراسلے میں صیح مسلم ، سنن ابوداؤد، نسائ، اور ترمذی سے مکمل احادیث آن لائن لنکس کے ساتھ پیش کی ہیں کہ جن میں متعہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اور اسی مراسلے میں الإمام أبو الحسن علي الواحدي النيسابوري کی اسباب نزول کا لنک بھی دیا ہوا ہے اور وہاں بھی ایسا کچھ ذکر نہیں۔مراسلے کا لنک۔آپ نے پھر وہی فطری کتربیونت شروع کر دی ہے جو کہ نہیں‌ چلے گی۔ یہی احادیث نزول بھی بتا رہی ہیں اور اسباب نزول بھی۔

اسی لیے شکر ہے مولا کا کہ انسان چالیں چلتا ہے مگر میرا مولا میرا پالنے والا رب سب سے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔

مولا تو بہترین چالیں چلنے والا ہے مگر اس دھاگے میں جو چالیں آپ نے چلیں ان کا تو جواب دیں۔ جو اوپر اقتباسات کی شکل میں آپ کی علمیت اور ہٹ دھرمی کا پول کھول رہی ہیں۔

“الی اجل مسمی” کی قرآت والی روایات

الی اجل مسمی قرآن کا حصہ نہیں ہے پھر کیوں آپ بار بار اسے پیش کر رہی ہیں ۔۔۔۔ اگر آپ اسے قرآن کا حصہ سمجھتی ہیں تو کیا اس ے یہ مطلب ہوا کہ آپ موجودہ قرآن کو غلطی سے پاک تصور نہیں‌ کرتیں۔ اور اگر یہ بات ہے تو لائیں وہ حوالہ کہ جس میں یہ الفاظ آیت 24 کے ساتھ دیے گئے ہوں۔ اور اگر نہیں ہے اور ہر گز نہیں لا سکتیں آپ کہ اس کا محافظ اللہ ہے اور یہ ایک زیر زبر کے ہیر پھیر سے پاک ہے تو پھر یہ تو پھر تین الفاظ ہیں ہمارے نزدیک ان کی زیادہ سے زیادہ حیثیت تفسیر جتنی ہے اور وہ تفسیر بھی متعہ کے خلاف جاتی ہے حق میں نہیں۔

یہ فریق مخالف (انہی بھائی صاحب کے مکتبہ فکر) کا دعوی تھا جو یہ چیخ چیخ کر صدیوں سے کرتے چلے آئے ہیں کہ عقد المتعہ جاہلیت کے زمانے کی رسم تھی جو کہ اسلام میں داخل ہو گئی اور جس طرح آہستہ آہستہ شراب حرام قرار دی گئی اسی طرح آہستہ آہستہ عقد المتعہ حرام قرار دیا گیا اور اسکی حرمت انہیں خیبر میں نظر آئی، یا پھر فتح مکہ میں صحابہ نے رسول اللہ ص کے حکم سے متعہ کیا، اور پھر اوطاس میں رسول ﷺ کے حکم سے انکی روایت کے مطابق صحابہ نے متعہ کیا۔ اور پھر ان موقعوں میں سے ہر ایک پر متعہ "قیامت" تک کے لیے حرام ہوتا تھا ۔۔۔۔ چونکہ یہ لوگ اپنے گریبان میں نظر ڈالنے کے قائل نہیں اور خود پر ہزار خون معاف رکھتے ہیں، اس لیے آج تک انہوں نے یہ معمہ حل کرنے کی کوشش ہی نہ کی کہ جو چیز خیبر میں ہمیشہ کے لیے تاقیامت حرام ہو گئی، وہی چیز پر فتح مکہ پر کیسے دوبارہ عمل پذیر ہو رہی ہے،۔۔۔ اور پھر فتح مکہ میں دوبارہ ہمیشہ کے لیے تاقیامت تک حرام ہو جاتی ہے، مگر پھر اوطاس میں دوبارہ متعہ ہونے لگتا ہے۔ اسکے بعد پھر اوطاس میں دوبارہ حرام ہو جاتا ہے۔

دعویٰ‌تھا نہیں‌ہے اور الحمد للہ اس کے ثبوت قبل از اسلام چائنہ والے مضمون اور ہینڈ فاسٹنگ PAGON Culture کی شکل میں پیش کر چکا ہوں ۔ اور سب سے بڑا ثبوت آیت 24 کا اوطاس میں نزول ہونا ہے کہ جس سے آپ ابتدائے مدینہ سے 8 ہجری تک متعہ حلال کر رہی تھیں۔ جبکہ آپ کی کہی ہوئی دلیل نازل ہی 8 ہجری میں ہو رہی ہے۔

آپ اپنے الزامات کو بار بار بار بار دہرانے اور بڑا بڑا کر کے لکھنے اور ہم پر جارحانہ رویہ اپنانے کی بجائے سیدھا سیدھا اپنی کتابوں کو نذر آتش کیوں نہیں کر دیتے کیونکہ جب تک یہ موجود ہیں اُس وقت تک ثابت ہوتا رہے گا کہ رسول اللہ ص کی اپنی اجازت، منادی اور حکم سے عقد المتعہ ہوتا رہا،

اس لیے کہ آپ اپنے جھوٹ در جھوٹ پر پھر جھوٹ کر پردہ ڈالنا چاہ رہی ہیں۔ اب نے اب تک نہیں‌بتایا کہ آپ باربار ابتدائے مدینہ کی رٹ لگا کر سب کو کیا ثابت کرنا چاہ رہی تھیں۔

انشاء اللہ اگلے ویک اینڈ تک کچھ اہم روایات اور پیش کر کے موضوع کو آگے بڑھایا جائےگا۔ نیز میں آجکل متعہ الحج پر پڑھ رہی تھی اور مجھے لگتا ہے کہ متعہ النساء پر آگے جانے سےقبل متعہ الحج پر ایک تفصیلی مراسلہ لکھا جائے کیونکہ یہاں چند بہت اہم روایات موجود ہیں اور پتا چلے گا کہ صحابہ کیسے بیان کر رہے ہیں کہ یہ صرف عقد المتعہ ہی نہیں بلکہ حضرت عمر نے دونوں متعوں کی ممانعت کی تو صحابہ ان دونوں متعوں سے بہ یک وقت کیسے رک گئے۔

لگتا ہے کچھ گنجائش رہ گئی ہے۔۔۔ اگر اہل سنت کے خلاف ایک اور دھاگہ کھلے گا تو میرا نہیں خیال کہ منتظمین ہمیں جوابی دھاگہ کھولنے نہ دیں گے۔ اور اگر منتظمین یہ منظور کرتے ہیں تو پھر ٹھیک ہے ایک دھاگہ آپ کھولیں اور ایک دھاگہ ہم کھولیں گے کہ یہی عین انصاف ہو گا۔

رسول ص کی اس سنت کو کیوں تبدیل کیا ہے ۔ ایک دفعہ متعہ الحج کا یہ مسئلہ واضح ہو جائے تو پھر متعہ النساء کا مسئلہ بھی اہل انصاف کو بہت اچھی طرح سمجھ آنے لگے گا۔ انشاء اللہ۔

اور آپ اب حد سے گزر رہی ہیں۔ یہ دھاگہ جس مقصد کے لیے ہے اسے اس کے لیے ہی رہنے دیں اور اس کو موضوع کے دلائل ہی سے ثابت کریں اور اگر یہ نہیں کر سکتیں اور جو کہ نہیں‌ کر سکیں ہیں اس لیے اب دوسرے موضوعات کو چھیڑ کر سوائے فتنہ و فساد برپا کرنے کے اور کچھ آپ کا مقصد نہیں ہے۔

حد ہے جو اعتراضات ایک درجن اقتباسات کی صورت میں‌ کیے گئے ان کے جواب تو دے نہیں سکتیں کہ گلے میں پھنسے ہوئے ہیں اور نئے نئے موضوعات پر دھاگے کھولنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

بہت ہی شوق ہے فتنہ و فساد برپا کرنے کا تو ہمیں بھی تو اعتراضات ہیں شیعہ سے، ان اعتراضات پر تو دھاگہ کھولتی نہیں، کھولیں ایک دھاگہ تقیہ پر، ایک دھاگہ امامت پر ایک دھاگہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
ش

شوکت کریم

مہمان
میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ ہمارا اختلاف حضرت عمر سے اتنا زیادہ نہیں ہے، بلکہ اصل اختلاف اُن بعد میں آنے والے لوگوں سے ہے جنہوں نے اپنا مؤقف ثابت کرنے کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھنے شروع کر دیے۔ حضرت عمر نے صاف طور پر عقد المتعہ کی ممانعت اپنی طرف منسوب رکھی تھی۔ اور بعینہ یہی اختلاف ہمارا حضرت عمر سے متعہ الحج کے معاملے پر ہے۔ اور طوعا و کرہا ہی سہی، مگر متعہ الحج کے معاملے میں کم از کم فریق مخالف نے مانا تو سہی کہ ہاں حضرت عمر نے اپنی رائے کے مطابق اس میں تبدیلی کر لی تھی۔

سفید جھوٹوں کے بارے میں سنا تھا مگر دیکھا اس دھاگے میں ہی بے۔ آپ لوگوں کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اختلاف کتنا ہے اس کا ثبوت کاشان، اصفھان ایران میں ابولولو مجوسی لعنۃ اللہ کا شاندار آتش کدہ ہے۔ اور جسے لکھا جاتا ہے حضرت ابو لولو فیروز جسے بابا شجاع (دلیر) کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔ اور لوگ اسے حریت و بہادری کا نشان کہتے ہیں۔ العیاذ باللہ۔
 

دوست

محفلین
حضور والا پھر ان ملعونوں کا کیا کیجیے گا جو دور رسول میں بھی زنا کرتے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر حد بھی جاری کرتے رہے۔ تب متعہ جاری کیوں نہ ہوا؟ عجیب بات ہے متعہ ایک نارمل معاشرے میں حالت امن میں جاری نہیں ہوتا اس وقت ہوتا ہے جب افراتفری ہے، اسلام اختیار کرنا سیاسی چال بنتا جارہا ہے، لوگ چڑھتے سورج کی پوجا کررہے ہیں، حالت جنگ ہے، وطن سے باہر ہیں۔ تب متعہ کی اجازت اور ممانعت ہوتی ہے۔ اور کتاب اللہ بھی اس سلسلے میں خاموش ہے۔ یار لوگوں‌ کو اس میں سے متعہ ثابت کرنے کے لیے اتنی محنت کوشش کرنی پڑتی ہے اور پھر جاکر ایک صحابی سے یہ ثابت کرپاتے ہیں کہ فلاں‌ صحابی فلاں‌آیت کو فلاں‌طریقے سے پڑھتا تھا چناچہ یہ آیت متعہ ہے۔ عجیب گورکھ دھندا ہے ویسے۔ ایک طیب اور حلال چیز کو ثابت کرنے کے لیے کتنی کوشش کرنی پڑتی ہے اور بات پھر کسی کے پلے نہیں‌ پڑتی۔ سارے عقل کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور اسے ہی افضل گردانتے ہیں جیسا کہ الکافی کے پہلے باب میں بھی عقل کو فضیلت دی گئی ہے۔
 
ش

شوکت کریم

مہمان
حضور والا پھر ان ملعونوں کا کیا کیجیے گا جو دور رسول میں بھی زنا کرتے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر حد بھی جاری کرتے رہے۔ تب متعہ جاری کیوں نہ ہوا؟

دوست بھائی یہاں‌ میں‌ وضاحت کرتا‌ چلوں کہ دور رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں‌‌‌‌ ایسے واقعات بہت کم ہوئے ہیں اور جب کسی نے ایسا گناہ کیا تو خود کو سنگسار کروانے کے لیے پیش کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اورپاک صاف ہو کر اللہ سبحان و تعالیٰ‌کے‌حضور پیش ہونے کے لیے چلا گیا۔ یہ سب کیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا نتیجہ تھا۔ حالانکہ اللہ تعالی قران کریم سورۃ‌ الزمر آیت 53 میں‌ فرماتے ہیں اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو کہدو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ اللہ تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے بیشک وہی تو ہے بڑا بخشنے والا بڑا مہربان۔
اتنی بڑی پیشکش کےباوجود ان لوگوں‌ نے اللہ کے حضور اس طرح جانا مناسب نہ سمجھا اور خود کو حد کے لیے پیش کر دیا۔ آپ ان لوگوں کے ایمان کی حالت دیکھیں۔

اور جس نے ایمان کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اس دیکھنے نے اس کو اس درجہ تک پہنچا دیا کہ قیامت تک آنے والا نیک سے نیک بندہ بھی اس کے پاؤں کی خاک تک نہیں پہنچ سکتا۔ لہذا ہم امتیوں کا بس اتنا ہی کافی ہے۔ کہ رضی اللہ و رضو عنہ۔

اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہو کر اپنے اپور اللہ سبحان و تعالیٰ کی حد جاری کرواتا ہے اس کا خاتمہ ایمان پر ہونے میں کوئی شک نہیں ہو سکتا۔ اللہ ہم سب کو معاف فرمائے۔آمین۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top