میں گریویٹیشنل ویوز پہ کیوں ایمان لایا

عباس اعوان

محفلین
بہت ہی عمدہ تحریر۔
پڑھ کر لطف آیا۔ بہت بہت شکریہ صاحبِ تحریر کا۔
کیا تحریر کے فونٹ کو نستعلیق کیا جا سکتاہے؟ محترم محمد وارث صاحب ؟
نسخ میں تحریر کی لطافت متاثر ہو رہی ہے۔ شکریہ۔
 

عباس اعوان

محفلین
کوشش کے باوجود میں اسکا فونٹ بدلنے سے قاصر ہوں۔
میں نے سوچا شاید زین فورو اپ گریڈ کے بعد یہ مسئلہ حل ہو گیا ہو گا (ماضی میں ایک دفعہ میرے مراسلے کے ساتھ ایسا ہوا تھا۔ غالباً کاپی شدہ مواد کے ساتھ ایسا ہوتا ہے)۔
معاملہ سدھارنے کے لیے کوشش کا بہر طور شکریہ۔
جزاک اللہ تعالیٰ
 
ہم پہلی بار کشش کی لہروں پہ اس وقت ایمان لائے جب ہمارا میٹرک کا نتیجہ آیا۔ نتیجہ کیا ہونا تھا ہمیشہ کی طرح پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ والی بات ہوئی۔ ہم اپنا نامہ اعمال جو کہ ہمارے بائیں ہاتھ میں دیا گیا تھا لے کر کچھ وقت بازیچہ اطفال میں کھیلے۔ پھر کوئے گھر کی جانب بڑھے۔ دروازہ کھول کر ایک عجیب قنوطیت کا احساس لے کر اندر داخل ہوئے۔ گھر کے تمام افراد کی نظریں ہمارے نامہِ اعمال کے کاغذی پیراہن پہ تھیں۔ باباجان کسی ملکی وے کی طرح ہمارا مشاہدہ کر رہے تھے۔ بغل میں بیٹھی امی کے چہرے پہ مارکس کی من پسند لالی آئی ہوئی تھی۔ جوں ہی داخل ہوا تو بائیں جانب اپنے چچا کو دیکھا جو اکثر میری ناکامیوں پہ ستار العیوب ہوتے تھے۔ ابھی میں چچا کو ٹھیک سے دیکھ نہیں پایا کہ بابا گویا ہوئے۔
“ برخوردار کامیابی ملی یا بے آبرو ہو کر کوچے سے نکلے ہو؟ ”
اب ہم کیا بتاتے۔ نامہِ اعمال کو ان کے روبرو پیش کیا۔ انہوں نے طائرانہ نگاہ ڈالی۔ لیکن یہ نگاہ فزکس، کیمسٹری اور حیاتیات پہ آ کے رکی۔ کچھ تامل کیا۔ پھر انہوں نے ایک ڈنڈا اٹھایا اور ہم پر کسی پولیس تھانیدار کی طرح ٹوٹ پڑے۔ حالانکہ ہمارے اور ان کے درمیان تقریباً کچھ فٹ کا فاصلہ تھا۔ لیکن انہوں نے سپیس اینڈ ٹائم کی پرواہ کیے بغیر یہ سفر چند ملی سیکنڈز میں طے کیا اور اس سائنسی آلے ‏( ڈنڈے ‏) سے ہمیں یورینیم سمجھ کر تجربات میں مشغول ہو گئے۔ کافی ٹائم تجربہ کیا۔ ہمارے جسم کا ایک ایک حصہ بابا کے سائنسی تجربے کا بانگ درا سے اعلان کر رہا تھا۔ بابا کچھ دیر بعد فارغ ہوئے اور نیا نظریہ دینے کی بجائے باہر نکل گئے۔
اس تجربے کے بعد ہماری آنکھیں بلیک ہولز کی طرح کافی دن سیاہ رہیں۔ گال زمین کے پھیلاؤ کی طرح پوری طرح سے پھیل چکا تھا۔ کمر کی پلیٹیں پورے جسم میں زلزلہ برپا کررہی تھیں۔ ٹانگوں کی گریویٹی تقریباً ڈبل ہو گئی تھی۔ پاس بیٹھے میرے چچا مجھے ہیگل کی ڈائلیکٹک نگاہوں سےدیکھ رہے تھے۔ کچھ کہہ نہیں پا رہے تھے۔ البتہ ماں کے آنسو فضا میں نمی بڑھا رہے تھے۔ بابا کے ان روز روز کے تجربات سے ان کا دل تنگ آ چکا تھا۔ وہ ہمیں اکثر کہتی تھیں :
“ تو کیوں سٹیفن ہاکنگ کی طرح خاموش ہے؟ کچھ بولا کر میرا بیٹا۔ گوگل بن گوگل۔ ”
المختصر کچھ دنوں تک ہمارے جسم پر ہونے والے سائنسی اثرات جو بابا کے تجربات کا منہ بولتا ثبوت تھے، مٹنے لگے اور ہم اپنے جسم کو مولوی کے دماغ کی طرح خالی اور صاف سمجھنے لگے۔
لیکن ایک چیز ہمارے لیے تشویش کا باعث تھی کہ ہمارے اور ابو کے درمیان تو اتنا فاصلہ تھا جتنا سائنس اور مولوی کے درمیان۔ پھر انہوں نے یہ فاصلہ اتنی جلدی کیسے طے کیا؟ کافی تفکر و تعقل کے بعد سمجھ میں آیا یہ کشش کی لہروں کا اثر ہے، بس اسی دن ہم ان لہروں پر ایمان لائے اور آج اللہ کے فضل سے ثابت بھی ہو گیا۔
 
میں نے سوچا شاید زین فورو اپ گریڈ کے بعد یہ مسئلہ حل ہو گیا ہو گا (ماضی میں ایک دفعہ میرے مراسلے کے ساتھ ایسا ہوا تھا۔ غالباً کاپی شدہ مواد کے ساتھ ایسا ہوتا ہے)۔
معاملہ سدھارنے کے لیے کوشش کا بہر طور شکریہ۔
جزاک اللہ تعالیٰ
یہ بعض موبائل کی ٹائپنگ میں یونیکوڈ کوڈز کا پرابلم ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
تبصرہ نگارکو تبصرہ دیتے ہوئے کچھ باتوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر تبصرہ دینا چاہئے ۔۔۔
(1) لکھنے والے کی دل آزاری نہ ہو (2)تنقید نہ ہو(3)حوصلہ افزائی کا پہلو مد نطر رکھے(4)تحریر کی خامیوں پر متنبہ ہی نہ کرے بلکہ ان کی درستگی کی راہ بھی دکھائے (5)اصلاح کرتے ہوئے شدت پسندی نہ اختیار کرے(6)مراتب کا خیال رکھے عمر علم اور عمل کو بھی دیکھے (7)اچھي بات اور اچھا مشورہ دے ( 8 )بے جا ہنسی مذاق اور یاوہ گوئی سے احتراز کرے۔۔

بہت ہی عمدہ تحریر ہے ۔۔۔۔۔اسی لیے تو کہا جاتا ہے (من جد وجد۔۔۔جو محنت کرتا ہے وہ پا لیتا ہے )اور جو محنت نہیں کرتا ہو بھی پا لیتا ہے اور آپ سوچ رہے ہوں گے وہ کیا تو جناب وہ ہیں (ڈنڈے)جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کاتب تحریر کو پڑے ہیں ۔۔۔میں تو ان کو پڑھائی میں دل لگانے کا مشورہ دوں گا کہیں یہ پھر شجر سے (میٹرک) سے ہی نہ پیوستہ رہ جائیں۔۔اور امید بہار(ڈنڈو ں کی برسات) کے حقدار نہ قرار پائیں۔۔

ویسے وقت کافی گزر چکا ہے اب تو پتہ نہیں کس کس چیز پر ایمان لا چکے ہوں گے۔۔خوش رہیں مدثر صاحب۔۔
 

ہادیہ

محفلین
بڑی سائنسی سی تحریر ہے:LOL: رزلٹ سے پہلے بھی اور رزلٹ کے بعد بھی اس کے اثرات تو بہت نمایا ں ہیں۔o_O
وقت کے ساتھ ہر زخم مٹ بھی جاتا اور کم بھی ہوجاتا ہے لازمی۔:p
تجربہ تو بہت عمدہ آزمایا گیا ہے ۔ایک دو تجربے مزید ہوگئے تو آپ تو گئے کام سے۔o_O:p
ابھی تو صرف ایک سائنس کے قانون پر ایمان لائے ہیں پھر تو لگتا سائنس کے ہر قانون پر ایمان لے آئیں گے ۔:LOL::ROFLMAO:
بڑی دلچسپ تحریر ہے بس اتنا واضح کر دیں یہ آپ کا "ذاتی تجربہ پلس ایمان" والی تحریر تو نہیں۔:cautious:ہم ایویں آپ کی تعریف کرتے رہیں اور انجانے میں آپ کے زخم پھر سے ہرے بھرے ہوجائیں مطبل آ پ کا ایمان تازہ ہوجائےo_O:ROFLMAO:
 
Top