منتخب اشعار برائے بیت بازی!

زیک

مسافر
یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
 

شمشاد

لائبریرین
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
(میرزا غالب)
 
یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
وہ بت ہے یا خدادیکھا نہ جائے


میں معذرت خواہ ہوں کے جب میں نے شعر پوسٹ کیا تو مقا بلہ الف سے آگے بڑہ چکا تھا اب میں تصیح کر رہا ہوں
 

زیک

مسافر
عبدالرحمان: یہ بیت‌بازی ہو رہی ہے۔ آپ کو شعر “ی“ سے لکھنا تھا نہ کہ الف سے۔

یہ بھی وقت آنا تھا، اب تو گوش برآواز ہے
اور میرے بربطِ دل میں صدا کوئی نہیں
 

رضوان

محفلین
ن سے حاضر ہے

ناحق ہم مجبوروں پر يہ تہمت ہے مختاري کي
چاہتے ہيں سو آپ کريں ہيں ہم کو عبث بد نام کيا
میر تقی میر
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
اُس کا آنا ناممکن تھا
میرا جانا ناممکن تھا
ایک تضاد تھا دونوں جانب
شہر بسانا ناممکن تھا​

(سعداللہ شاہ)
 

زیک

مسافر
یہ جو نشے ہیں سفر کے نہ اتر جائیں کہیں
کوئی منزل نہ سہی سامنے پر جائیں کہیں
 

شمشاد

لائبریرین
نظم الجھی ہوئی ہے سینے میں
مصرعے اٹکے ہوئے ہیں ہونٹوں پر
اڑتے پھرتے ہیں تتلیوں کی طرح
لفظ کاغذ پے بیٹھتے ہی نہیں
(گلزار)
 

شمشاد

لائبریرین
ایک تو شعر پوسٹ کرتے کرتے ایک اور شعر آ جاتا ہے، خیر اب ‘ے‘ سے بھی لکھ دیتا ہوں

یہی بہت ہے کہ دل اس کو ڈھونڈ لایا ہے
کسی کے ساتھ سہی وہ نظر تو آیا ہے
(امجد اسلام امجد)
 

شمشاد

لائبریرین
اس توبہ پر ناز مجھے زاہد اس قدر
جو ٹوٹ کر شریک ہوں حالِ تباہ میں
(داغ دہلوی)
 

الف عین

لائبریرین
نہیں معلوم ، کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگا
قیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا
غالب اور کون؟
 

شمشاد

لائبریرین
آج جانے کی ضد نہ کرو
یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو
ہائے مر جائیں گے، ہم تو لُٹ جائیں گے
ایسی باتیں کیا نہ کرو
(فیاض ہاشمی)
 

الف عین

لائبریرین
اگر پہلے ہو بھی گیا ہوے تو دوبارہ سن لو:
وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں۔
 
Top