ممنوعہ سرزمین: ایک پاکستانی کا سفرِ اسرائیل

شاہد شاہنواز

لائبریرین
پچھلے سو سال میں کل جتنے فلسطینیوں کو اسرائیلیوں نے مارا وہ کل تعداد دنیا کے بڑے معرکوں کے ایک دن کی اموات سے کم ہے۔
جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوا کرتی۔ بہتر تو یہ تھا کہ اس بات پر بھی کوئی سیاسی حل نکالا جاسکتا، لیکن فی الوقت اس کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ موت کسی ایک آدمی کی بھی ہو، اس سے انسانوں کی ایک پوری نسل ختم ہوجاتی ہے کیونکہ جو شخص جاتا ہے، اس کے ساتھ ایک عہد چلا جاتا ہے۔ اس کا جو فائدہ انسانیت کو ہوسکتا تھا، انسانیت اس سے محروم رہ جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسلام نے کہا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے، سو میری نظر میں دیکھنا یہ نہیں کہ کس نے زیادہ مارا اور کس نے کم۔ دیکھنا یہ ہے کہ مارا تو کیوں اور کیا مارے بغیر بات بنانے کا کوئی اور طریقہ موجو دتھا یا نہیں؟
 

عارضی کے

محفلین
برطانیہ نے 14 مئی 1948 کو فلسطین سے انخلا کیا اور اسی روز فلسطینی یہودیوں نے آزاد و خودمختار یہودی ریاست اسرائیل کا اعلان کر دیا۔
برطانیہ نے حق نمک ادا کیا تھا۔ دوسری جنگ ِ عظیم میں برطانیہ اور اتحادیوں کو فتح دلانے میں یہودی سرمایہ داروں ، سائنسدانوں،ماہرین اور سود خوروں نے جو مدد کی تھی یہ اس ڈیل کا دوسرا رُخ تھا۔ جو پورا کرکے دیا گیا۔
اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا!
 

عارضی کے

محفلین
کیا آپ فلسطینی ہیں؟ اگر نہیں تو کشمیریوں کے حقوق بارے بھی کچھ ارشاد فرمائیں۔
میں بھی مسلمان ہوں اور مظلوم فلسطینی بھی ۔ میں نے تمام مذاہب اور ادیان اور ان کے پیروکاروں کا مطالعہ کیا ہے۔ اسلام سے بہترین مذہب مجھے کوئی اور نہیں ملا ہے۔ تمام مسلمان ایک جسم کے مانند ہیں۔ چاہے وہ کشمیر میں رہنے والے مظلو م مسلمان ہوں افغانستان یا فلسطین، چیچنیا، بوسنیا، انڈونیشیا یا دیگر خطوں میں۔ 1857 تک جب مسلمان اپنے عروج میں تھے دنیا کے کسی بھی خطے میں کسی غیر مذہب کے افراد پر کسی قسم کا تشدد یا عدل سے روگردانی نہیں برتی گئی۔ ہر جگہ امن تھا۔ لیکن جب سے عیسائی لُٹیروں اور مکار یہودیوں کو دنیا کی بھاگ ہاتھ آئی ہے۔ دنیا کو تباہ وبرباد کیا گیا، اور کیا جارہا ہے۔ جدید دور کے ان حکمران دہشت گرد نسل اور ذہنیت کو جب تک شکست فاش نہیں دی جاتی تب تک اس دنیا میں امن نہیں آسکتا۔ اپنے لیے ایٹم بم بنانا تحفظ گردانا جائے اور دوسروں کے لیے دہشت گردی؟ یہ کون سا مذاق ہے؟؟؟؟ خود اسلحہ بنا کر بیچ جنگ کی آگ بھڑکائی اور بڑھائی جائے اور پھر امن کے نام پر مگر مچھ کے ٹھسوے بہائے جائے۔۔۔!
اللہ تعالیٰ کے بہترین دین کو اپنی حسد اور بغض کی وجہ سے ختم کرنے اور اپنے مفادات کے حصول کا مقصد گردانا جائے تو ایسے وحشیوں کا وجود یہی تباہی پھیلاتی رہے گی۔ دنیا کو بے وقوف بنانے کے لیے ”اقوامِ متحدہ“ اور ”سلامتی کونسل“ کے نام سے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو تو الگ ریاست کا حق دیا جائے لیکن مظلوم فلسطینیوں، کشمیریوں ، مظلوم انڈونیشی، چیچن، ا ور بوسنیائی مسلمانوں کی نسل کُشی کو اور تحریک دیا جانا کیا کسی کو سمجھ نہیں آرہا؟؟؟؟؟
 
Top