لطیفوں کی دنیا۔۔۔

بیوی سےمحبت
سردار (دوست سے): جب میری نئی نئی شادی ہوئی تھی تو میری بیوی مجھے اتنی اچھی لگتی تھی کہ میرا دل کرتا تھا کہ اسے کھا جاؤں۔
دوست: تو اب؟
سردار: کھا ہی جاتا تو اچھا تھا۔
ا
 
بچوں کے درمیان وقفہ
سردار (دوست سے): جب میرے بچے ہوں گے تو ایک کو کراچی اور ایک کو لاہور چھوڑ آوْں گا۔
دوست: وہ کیوں؟
سردار: کل ٹی وی پہ کہہ رہے تھے کہ بچوں کے درمیان وقفہ ضروری ہے۔
 
ڈاکٹر کی نصیحت
ایک سردار اپنے بیٹے کو مار رہا تھا اور ساتھ ساتھ دوائی دے رہا تھا۔
پاس کھڑے ایک آدمی نے پوچھا! اسے کیوں مار رہے ہو۔
سردار: ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اینوں گولی کٹ کے دینی اے۔

 
حاضر دماغ سردار
کسی نے سردار سے پوچھا کہ ایسا کیا کریں کے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔

سردار: جوتے سے مار دو۔
 
سمجھ دار بیوی۔
سردار ساتویں منزل سے گر گیا۔

ڈاکٹر (چیک کرنے کے بعد): یہ مر گیا ہے۔
اتنے میں سردار کو ہوش آگیا اور وہ بولا میں زندہ ہوں۔

سردار کی بیوی: پیا رہ کنجرا تینوں ڈاکٹر نالوں بہتا پتا اے۔
 
درست جواب
سردار امتحان کے دوران جوابی کاپی پر اپنا ہاتھ بنا رہا تھا۔

نگران ٹیچر: پیپر میں تو کوئی ایسا سوال نہیں تم ہاتھ کیوں بنا رہے ہو؟
سردار: میں پیپر بنانے والے پہ لعنت بھیج رہا ہوں۔
 
لالچی پٹھان
بس میں ایک عورت اپنے بچے کو کہہ رہی تھی کہ بسکٹ کھا لو ورنہ میں کسی پٹھان کو دے دوں گی۔
ایک گھنٹہ عورت یہی کہتی رہی لیکن بچے نے نہیں کھائے۔
پچھلی سیٹ پر بیٹھا پٹھان تنگ آکر بولا:جو فیصلہ کرنا ہے جلدی کرلو میں پہلے ہی چار سٹاپ آگے نکل آیا ہوں۔
 
موبائل بند کردیں
پٹھان (دوست سے) :
آج میری جمعہ کی نماز رہ گئی۔
دوست : وہ کیسے ؟
پٹھان : امام صاحب نےکہا کہ اپنے اپنے موبائل بند کردیں۔
میرا موبائل تو گھر تھا جب میں بند کرکے واپس پہنچا تو جماعت ہو چکی تھی ۔
 
قرض کے فوائد
سردار نے بینک سے قرض پر کار لی۔ قسط ادا نہ کرنے کی وجہ سے بینک والے کار واپس لے گئے ۔
جب بینک والے کار لے گئے تو سردار سوچنے لگا کاش شادی بھی بینک سے قرض لے کر کی ہوتی۔
 
سردار کا جوابی ایس ایم ایس
سردار کو ایک ایس ایم ایس آیا جس میں لکھا تھا پڑھنے والا بے وقوف بھیجنے والا ہوشیار۔
سردار کو بہت غصہ آیا اور اس نے جواب لکھ کر بھیج دیا کہ بھیجنے والا بے وقوف پڑھنے والا ہوشیار۔
 
ناقابل برادشت خوشی
عورت (وکیل سے ):
میں اپنے سابقہ شوہرسے صلح کرنا چاہتی ہوں۔
وکیل (حیران ہوتے ہوئے): لیکن ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی تو آپ نے ان سے علیحدگی اختیار کی تھی۔
عورت: بات یہ ہے کہ جب سے وہ مجھ سے علیحدہ ہوئے ہیں تب سے وہ بہت خوش نظر آتے ہیں اور میں یہ برداشت نہیں کرسکتی۔
 
کوئی چور مکان میں داخل ہوا تو اس نے تجوری پر لکھا ہوا دیکھا”دائیں طرف لگے ہوئے بٹن کو دباےئے تو تجوری خود بخود کھل جائے گی“۔ چور نے اس ہدایت پر عمل کیا اور بٹن پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ سائرن بج پڑا اور چور پکڑا گیا عدالت میں جج نے چور سے پوچھا”کیا تم اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہو؟“۔ چور نے اداس سی حالت میں موجود لوگوں کو دیکھا اور کہا:”میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا کہ دنیا بڑی دھو کے باز ہو گئی ہے“۔
 
بش اور مش دونوں ہوائي جہاز ميں جا رہے تھے ۔ جناب بش کہنے لگے اگر ميں اس جہاز سے ڈالر پھينکنے شروع کر دوں تو تمام دنيا بہت خوش ہو گي ۔
جناب مش نے کہا اگر ميں وردي اتار کر پاکستان پر پھينک دوں تو پاکستاني قوم خوشي سے پاگل ہو جائے گي ۔
پائلٹ کہنے لگا نہيں صاحبان اگر ميں جہاز کو ہي نيچے پھينک دوں تو پوري دنيا خوشي سے پاگل ہو جائے گي ۔۔
(ويسے الفاظ ميں تبديلي ہو سکتي ہے )
 
کلاس میں ایک بچہ مسلمان باقی سب ٹیچر سمیت ہندو تھے۔
ٹیچر:بچو آپ کو میز نظر آرہی ہے ؟
بچے: جی ہاں۔
ٹیچر:آپ کو خدا نظر آتا ہے ؟
بچے :نہیں۔
ٹیچر: ہوتا تو نظر آتا ناں ۔
بچے بے شک
مسلمان بچہ : بچو آپ کو ٹیچر نظر آ رہے ہیں؟
بچے جی ہاں
مسلمان بچہ ٹیچر کی عقل نظر آرہی ہے ؟
بچے نہیں
مسلمان بچہ ہوتی تو نظر آتی ناں
بچے بے شک
 
رنجش

دو افراد جن کے درمیان کچھ رنجش تھی ایک ایسی گلی میں آمنے سامنے آگئے۔
جہاں دونوں اکٹھے نہیں گزر سکتے تھے۔
کم از کم ایک کو ضرور سائیڈ پر ہونا پڑنا تھا۔
...
اب کچھ دیر تو وہ کھڑے رہے۔
آخر ایک صاحب بولے: "میں گدھوں کو راستہ نہیں دیا کرتا۔"
یہ سن کر دوسرے صاحب مسکراتے ہوئے ایک طرف ہو گئے اور کہا:
"میں دے دیا کرتا ہوں۔
 
ٹھنڈا پانی
بڑی سخت سردی تھی۔ ایک بیوقوف مسلسل پانی بھرے جارہا تھا۔ ایک صاحب نے پوچھا تم صبح سے اتنا پانی کیوں بھر رہے ہو۔ آخر اتنے پانی کا کیا کرو گے؟
بیوقوف بولا: پانی بہت ٹھنڈا ہے، گرمیوں میں کام آئے گا۔
 
Top