غزل برائے اصلاح

اداسی کا دیا جلتا رہا شب بھر
مرا دل خانۂ ویراں بھلا کب تھا
میں نوحہ خواں ہوا خود مرگ پر اپنی
مرا پندار غم پنہاں بھلا کب تھا
کہاں وسعت مری تنگیء داماں میں
مرے دل میں کوئی ارماں بھلا کب تھا

سر راحیل فاروق شاید اب تھوڑی خوبی نظر آئے، آپ کی توجہ چاہتا ہوں
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
امان بھائی، پہلے سے شاید بہتر ہوں۔ مگر میں آپ کو مشورہ دینا چاہوں گا کہ آپ اچھے شعرا کا مطالعہ زیادہ سے زیادہ فرمائیں اور دیکھیں کہ وہ اپنے کلام میں خوبی کیونکر پیدا کرتے ہیں۔ آپ کے ہاں تفکر کا عنصر مجھے غیر‌ضروری طور پر زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ ایسے شعرا کی زبان پیچیدہ ہو جاتی ہے جس سے ابلاغ کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ البتہ آپ کی محنت اور مہارت کے اب ہم منکر نہیں ہو سکتے۔ :)
 

امان زرگر

محفلین
اساتذہ اور احباب کی کرم نوازی کے بعد غزل کی جو موجودہ صورتِحال ہے وہ پیشِ خدمت ہے۔۔
اساتذہ کا شکر گزار ہوں جو میری کوتاہیوں سے صرفِ نظر فرماتے ہوئے اصلاح فرماتے ہیں۔
سر الف عین

سنو یہ عشق بھی آساں بھلا کب تھا
مگر میرا جنوں ناداں بھلا کب تھا

میں نوحہ خواں ہوا خود مرگ پر اپنی
مرا پندارِ غم پنہاں بھلا کب تھا

ترا کاغذ جو نامہ بر کے ہاتھ آیا
وہ میرے درد کا درماں بھلا کب تھا

تری فرقت نے آشفتہ سری بخشی
مری ہستی کا یہ عنواں بھلا کب تھا

اداسی کا دیا جلتا رہا شب بھر
مرا دل خانۂ ویراں بھلا کب تھا

کہاں وسعت مری تنگیء داماں میں
مرے دل میں کوئی ارماں بھلا کب تھا

لگا دی جان کی بازی تبھی اسودؔ
وفا رسوائی کا ساماں بھلا کب تھا

اسودؔ امان
 
آخری تدوین:
Top