غالب کے اڑیں گے پُرزے

واہ کیا خوب۔ لطف آ گیا۔
ایک ٹائپو ہے۔۔۔ درست کر لیجیے:
پھر شوق کررہا ہے جو دیدار کی طلب
جی درست کردی ہے ٹائیپو۔ ملاحظہ فرمائیے

غزل
محمد خلیل الرحمٰن
مدت ہوئی ہے اُن کو پریشاں کیے ہوئے
گھر میں کسی حسین کو مہماں کیے ہوئے
بیوی چھپا گئی ہے حسینوں کے سب خطوط
بیٹھے ہیں ہم تہیہّ طوفاں کیے ہوئے
پھر جی میں ہے کہ گھر پہ کسی کے پڑے رہیں
اور وہ بھی بس تصوّرِ جاناں کیے ہوئے
بیوی ہمیں نہ چھیڑ، غزل کے ہیں موُڈ میں
بیٹھے ہیں زلفِ یار پریشاں کیے ہوئے
چلتے ہیں یوں حسین جو سڑکوں پہ آج کل
اِک دعوتِ نگاہ کا ساماں کیے ہوئے
کرتا ہے غیر سے یونہی باتیں وہ ، کیا کریں
بتیّسی و نگاہ گلستاں کیے ہوئے
پھر شوق کررہا ہے جو دیدار کی طلب
کچھ دِن ہوئے ہیں دِل کو بلیداں کیے ہوئے
 

الف عین

لائبریرین
زبردست خلیل، بس ایک صلاح، بلیداں بجائے بلی دان کے درست نہیں، یہ ہندی لفظ ہے، یہاں ’قرباں‘ لانے کی کوشش کریں۔
 

بےمروت

محفلین
السلام علیکم
مجھ کوایک نظر چاہیے،بد نظر ہونے تک
پھر بھلا کون جیئے گا اس کے اثر ہونے تک
عاشقی حسن طلب ، اور تمنا کم ظرف
دل کو دوں کیسے تسلی ، خون ِ جگر ہونے تک
تم یہ مانوں کہ تغافل نہ کروں گا لیکن
من و سلوا وہ اڑا جائے گے خبر ہونے تک
غم ہستی کا اسد تم کس سے کرواو گے علاج
یہاں ہرتال تو چلتی ہے ، مرگ ہونے تک
 
21۔غالب کے کلام کی پیروڈی
نام نہاد شاعر کی غزل
محمد خلیل الرحمٰن
تری محفل میں اب اہلِ سُخن کی آزمائش ہے
ادب کے خوُش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے
ہم آئے بزم میں ، دیکھو! نہ کہیو پھر کہ غافِل تھے
کہ صبرِ شاعرِ بزمِ سخن کی آزمائش ہے
یہ نظمیں نثر میں ہیں، کچھ نئی بحریں پریشاں ہیں
ابھی شیرینی ء کام ودہن کی آزمائش ہے
ہمی غالب ہمی خود میر اور خود فیض بھی ٹھہرے
ہماری شاعری اربابِ فن کی آزمائش ہے
ہماری خواہشِ دیریں کہ ہم بس واہ وا سُن لیں
غزل ہے یاکہ اہلِ انجمن کی آزمائش ہے
ہمیں برداشت کرتے ہیں سبھی یہ حاضرین ایسے
رواداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے
خلیل اپنے سِوا اب کون سا شاعر ہے محفِل میں
نئے پیرائے میں طرزِ کُہن کی آزمائش ہے
 

الف عین

لائبریرین
بہت خوب خلیل، لیکن اس خود ستائشی میں ایک غلطی کر گئے، یا ممکن ہے کہ یہ دانستہ ہو۔
نثر میں نظم ہے اور کچھ نئی بحریں پریشاں ہیں​
اگر صلاح دی جا سکے تو یوں کہوں گا​
یہ نظمیں نثر میں ہیں، اور کچھ بحریں پریشاں ہیں​
 

یوسف-2

محفلین
خلیل اپنے سِوا اب کون سا شاعر ہے محفِل میں
نئے پیرائے میں طرزِ کُہن کی آزمائش ہے
واہ واہ ۔ کیا کہنے گویا ۔ سارے فورم پر ہوں میں چھایا ہوا. مستند ہے میرا فرمایا ہوا :notworthy:
 
بہت خوب خلیل، لیکن اس خود ستائشی میں ایک غلطی کر گئے، یا ممکن ہے کہ یہ دانستہ ہو۔
نثر میں نظم ہے اور کچھ نئی بحریں پریشاں ہیں​
اگر صلاح دی جا سکے تو یوں کہوں گا​
یہ نظمیں نثر میں ہیں، اور کچھ بحریں پریشاں ہیں​
شکریہ استادِ محترم۔ آپ کی اصلاح کے مطابق تدوین کردی ہے
نام نہاد شاعر کی غزل
محمد خلیل الرحمٰن
یہ نظمیں نثر میں ہیں، کچھ نئی بحریں پریشاں ہیں
ابھی شیرینی ء کام ودہن کی آزمائش ہے
 
زبردست خلیل، بس ایک صلاح، بلیداں بجائے بلی دان کے درست نہیں، یہ ہندی لفظ ہے، یہاں ’قرباں‘ لانے کی کوشش کریں۔

استادِمحترم
ہم نے
کچھ دِن ہوئے ہیں جان کو قرباں کیے ہوئے
تجویز کیا تھا لیکن چھوٹے بھائی محمد حفیظ الرحمٰن نے اسے ’ دن ہوگئے ہیں‘ کی تصحیح کے ساتھ اور بہتر بنا دیا ہے۔ ملاحظ فرمائیے۔

پھر شوق کررہا ہے جو دیدار کی طلب
دِن ہوگئے ہیں جان کو قرباں کیے ہوئے
 
22۔غالب کے کلام کی پیروڈی
ایک جلتی ہوئی غزل
محمد خلیل الرحمٰن
دل مرا سوزِ نہاں سے بے تحاشا جل گیا
اور بد خواہوں کا دِل سے ہر اندیشہ جل گیا
دیکھ کر لطف و کرم ان کے رقیبِ خاص پر
’’آتشِ خاموش کے مانند گویا جل گیا‘‘
اژدھے کی مِثل میں پھنکارتا ہی رہ گیا
میری آہِ آتشیں سے وہ سراپا جل گیا
پھونک ڈالا ہے مری آتش نوائی نے اُسے
جیسے ہی مجھ کو سنا، مارا حسد کا جل گیا
کڑھنے والے نے نکالا ایسا بدلہ دفعتاً
وہ تو ہنستا ہی رہا اور میں سراپا جل گیا
بُھس میں چنگاری تری تھی اور یہ دیکھا ہے خلیل
تو جونہی چلتا بنا، گھر میرا سارا جل گیا
 
23۔ایک اور پیروڈی حاضرِ خدمت ہے۔

غزل
محمد خلیل الرحمٰن
آج محبوبہ کے گھر جانے کی حسرت دِل میں ہے
بس نہیں چلتا ہے کچھ، یہ دِل بڑی مشکل میں ہے
ایسی محبوبہ ہے، تُف ایسا رقیبِ روسیاہ
بدلی بدلی سی فضا کچھ آج اِس محفِل میں ہے
کاش عاشق ہم پہ بھی ہوپاتی کوئی گُل فِشاں
کب سے اُس ظالِم کو تڑپانے کی حسرت دِل میں ہے
ابتدائے عِشق ہے لیکن ہمیں ایسا لگے
کب سے جانے وہ سراپا، شکل و صورت دِل میں ہے
عشق جتنے بھی کیے ، ناکامیاں ناکامیاں
بس یہی صورت ہماری’سعیٗ بے حاصَل میں ہے‘
اپنی بستی میں نئی لڑکی کو جوں دیکھا خلیلؔ
’میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دِل میں ہے‘
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
ایک اور پیروڈی حاضرِ خدمت ہے۔

غزل
محمد خلیل الرحمٰن
آج محبوبہ کے گھر جانے کی حسرت دِل میں ہے
بس نہیں چلتا ہے کچھ، یہ دِل بڑی مشکل میں ہے
ایسی محبوبہ ہے، تُف ایسا رقیبِ روسیاہ
بدلی بدلی سی فضا کچھ آج اِس محفِل میں ہے
کاش عاشق ہم پہ بھی ہوپاتی کوئی گُل فِشاں
کب سے اُس ظالِم کو تڑپانے کی حسرت دِل میں ہے
ابتدائے عِشق ہے لیکن ہمیں ایسا لگے
کب سے جانے وہ سراپا، شکل و صورت دِل میں ہے
عشق جتنے بھی کیے ، ناکامیاں ناکامیاں
بس یہی صورت ہماری’سعیٗ بے حاصَل میں ہے‘
اپنی بستی میں نئی لڑکی کو جوں دیکھا خلیلؔ
’میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دِل میں ہے‘

بے شک میرے دل میں ہے۔
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
یہ غزل بھائی خلیل نے ”آپ ہی کی طرف سے“ لکھی ہے ۔۔۔ ورنہ جملہ شادی شہداؤں کی طرح اب اُن میں بھی اتنی تاب کہاں کہ کسی کو کنکھیوں سے بھی دیکھ سکیں :D

جناب آپ اور خلیل صاھب اور تمام شادی شہداؤں کے لئے غوث خوامخواہ کا ایک خواہ مخواہ مشورہ
میں ایک انسان ہوں آخر عاشقی کب تک نہیں کرتا
میرے سینے میں جو دل ہے کیا وہ دھک دھک نہیں کرتا
مجھے اس عاشقی میں اس لیے بھی لطف آتا ہے
بڑھاپے کی وجہ سے کوئی مجھ پر شک نہیں کرتا
 
Top