"عظیم ارضی سیاروں کی زندگی۔۔۔۔" (۔۔۔۔۔THE LIFE OF SUPER-EARTHS)

محمد سعد

محفلین
زہیر بھائی مطلق صفر کی بجائے "انتہائی منفی" زیاد موزوں لگتا ہے یہاں۔ :)
مطلق صفر یا absolute zero سے مراد صفر درجے کیلون ہوتا ہے۔ میرے نزدیک یہ ترجمہ بالکل مناسب اور عام فہم ہے اگر قارئین سائنسی لٹریچر سے تھوڑی دلچسپی رکھنے والے ہوں۔
 

زہیر عبّاس

محفلین
فوق ارضی سیاروں کی زندگی ...از دیمیتر سیسی لوف

حصّہ دوم - حیات کا ماخذ

بابہشتم - حصّہ سوم(آخری حصّہ)

سیارے ہی کیوں؟

انتہائی شدید درجے حرارت کے علاقے ضخیم سیاروں اور کہکشاں کے مرکز کے قریبی علاقے ہیں۔ ہم سالموں کے ٹوٹنے کی برداشت کو جانتے ہیں ، اور زیادہ تر اونچے درجہ حرارت ان کی برداشت سے باہر ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے کچھ بہت زیادہ سخت جان ہوتے ہیں جیسا کہ کاربن مونو آکسائڈ جو اونچے نجمی درجہ حرارت (کم کثافت میں وہ ٦ ہزار کیلون پر بھی بچے رہ سکتے ہیں )، کوئی بھی سالمہ جو تین جوہروں سے زیادہ پر مشتمل ہو وہ صرف اسی درجہ حرارت پر قائم رہ سکتا ہے جو ستاروں کے درجہ حرارت سے بھی کم ہو۔ کہکشاؤں کے مرکزی علاقوں میں موجود بادلوں میں بھی سالمے باقی نہیں رہ سکتے۔ ستاروں سے نکلنے والی ایکس ریز اور بالائے بنفشی شعاعیں اور عظیم نوتارے کے دھماکے سے نکلنے والی توانائی کہکشاؤں کی گیس کو اچھا خاصا گرم رکھتی ہے۔

کم درجہ حرارت کے اپنے مسائل ہیں - خامرے باقی تو رہتے ہیں لیکن اپنے کیمیائی عمل کو کھو دیتے ہیں۔ جیسا کہ ہم اپنے ذاتی تجربے کی بدولت جانتے ہیں ( اور اس کا استعمال ریفریجریشن کے ذریعہ کرتے بھی ہیں )، کہ نچلے درجہ حرارت پر کیمیائی عمل بہت ہی سست پڑ جاتا ہے۔ اگر بہت ہی زیادہ سخاوت کا مظاہرہ کریں تو درجہ حرارت ١٠٠ کیلون سے ٦٠٠ کیلون تک ٹھیک ہے لیکن اگر ہم زمین کی اس حیاتیات کی بات کریں جو ہم دور حاضر میں جانتے ہیں تو درجہ حرارت کا پیمانہ اور تنگ ہو جائے گا۔

یہ ایک غیر معمولی نتیجہ ہے ۔ ایک ایسی کائنات جہاں درجہ حرارت دسیوں لاکھوں ڈگری کا ہونا ایک عام سی بات ہو ، حیات ایک کم درجہ حرارت پر وقوع پذیر ہونے والا مظہر ہے۔ اتنے نچلے درجہ حرارت پر کائنات میں صرف چند ہی ایسی بڑی چیزیں ہیں جو لمبے عرصے قائم رہ سکتی ہیں – جیسے ستاروں کے درمیان گیس کے بادل جن کو سالماتی بادل کہتے ہیں اور سیارے (اس کے علاوہ ان کے سیارچے اور دوسرے چھوٹے سیاروی اجسام )۔

توانائی تک رسائی ایک اور اہم ماحولیاتی شرط ہے۔ درج بالا درجہ حرارت کے پیمانے میں صرف دو خفیف ، پائیدار اور لمبے عرصے تک قائم رہنے والی توانائی کے ذرائع ہیں : ستاروں کی روشنی اور سیاروں کی اپنی اندرونی حرارت۔ ستارے سے اتنا دور رہنا جیسا کہ زمین سورج سے فاصلے پر ہے ایک اچھی جگہ ہے۔ توانائی کا بہاؤ تسلسل کے ساتھ اور لمبے عرصے چلنے والا ہونا چاہئے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بڑے سالموں کے اجسام کو تباہ کیے بغیر ان کی توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس نجمی توانائی تک رسائی کے لئے حیات کو صرف سیاروں پر ہونا لازمی نہیں ہے۔ دوسری طرف سیاروی ہائیڈرو تھرمل ریخیں جیسا کہ یلو اسٹون نیشنل پارک میں یا آئس لینڈ میں موجود ہیں ، یا پھر سمندر کی تہ میں موجود ہیں ، یہ اس اندرونی حرارت کی اچھی مثال ہیں جو ویسی ہی توانائی مقامی اور عالمگیر سطح پر سیارے کو دیتی ہے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ ستارے سے کتنی دور ہے۔ سیارے آہستگی کے ساتھ ٹھنڈے ہوتے ہیں ، خاص طور پر بڑے عظیم ارضی سیارے اور ان کا توانائی کا یہ منبع ایک کافی لمبے عرصے تک تسلسل کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے۔ حرارت کے علاوہ ، یہ ریخیں زرخیز کیمیا کے منبع کے طور پر بھی کام کرتی ہیں جو توانائی کے ذرائع کے طور پر کام میں آسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ہائیڈروجن سلفائڈ ایک ایسا کیمیا ہے جو میرے اور آپ کے لئے زہریلا ہو سکتا ہے ، لیکن ریخ میں رہنے والا ایک جرثومہ اس کو ایک ایسے عمل کے ذریعہ استعمال میں لاتا ہے جس کو کیمیائی تالیف کہتے ہیں اور جس کے نتیجے میں وہ اپنے خلیوں کو توانائی فراہم کرتا ہے۔

کیمیا کی بات کرتے ہوئے ، ایک تیسری اہم ماحولیاتی شرط ہے – بظاہر حیات کو ایک ایسے ماحول کی ضرورت ہے جو کیمیائی تعاملات کرنے کی اجازت دے۔ کائنات میں موجود زیادہ تر ماحول رقیق ہیں۔ نسبتاً پیچیدہ سالموں کو سالمی بادلوں میں بننے کا مشاہدہ کیا گیا ہے لیکن ان کی مرکزیت ہمیشہ بہت ہی رقیق رہی ہے۔ یہ بات انتہائی خطرناک طریقے سے سالموں کی پیچیدگی اور ان کے آپس میں ایک دوسرے سے برتاؤ کو محدود کر دیتی ہے۔ گیسی دیو ہیکل سیارے جیسا کہ مشتری اور زحل ہیں وہ بھی ایک دوسری ایسی مثال ہیں جو کیمیائی طور پر انتہائی مہین جگہیں ہیں۔ ان کے ابر آلود ماحول اور چمکیلے رنگ ہی وہاں موجود ہیں - کوئی ٹھوس یا مائع سطح وہاں پر موجود نہیں ہے۔ جیسے ہی بادلوں کی گہرائی میں اتریں ، گیس کثیف اور گرم تر ہوتی جائے گی اور چھوٹے سالموں کو چھوڑ کر سب تباہ ہو جائیں گے۔ زمین پر حیات کو خلیوں اور تھیلیوں کی صورت میں ملفوفات درکار ہوتے ہیں تاکہ وہ اپنے کیمیائی اجزاء کو کام کی جگہوں پر استعمال کر سکیں ؛ اس قسم کے عدم توازن کو قائم رکھنے کے لئے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

نسبتاً نچلے درجہ حرارت ، تسلسل کے ساتھ توانائی اور کیمیائی ارتکاز مل کر ایک ایسی جگہ ہی چھوڑتے ہیں جو سیارے کی شکل میں بہترین ہو سکتی ہے ، اگرچہ صرف یہ واحد جگہ نہیں ہے جہاں حیات کے سالمے اور ان کے باہمی تعاملات ظہور پذیر ہو کر قائم رہ سکتے ہیں۔ کسی دوسری جگہ میں یہ تمام شرائط پوری نہیں ہوتیں۔ اور کچھ دوسرے سیارے جیسا کہ گیسی دیو ہیں وہ بھی اچھی جگہ نہیں ہو سکتے۔ میدانی سیارے منفرد ہوتے ہیں جو زرخیز مرتکز کیمیائی عمل ، توانائی کے ذرائع اور محفوظ ماحول فراہم کرتے ہیں۔ یہ ایک عمیق فہم ہے !

 

آوازِ دوست

محفلین
مطلق صفر یا absolute zero سے مراد صفر درجے کیلون ہوتا ہے۔ میرے نزدیک یہ ترجمہ بالکل مناسب اور عام فہم ہے اگر قارئین سائنسی لٹریچر سے تھوڑی دلچسپی رکھنے والے ہوں۔
بالکل بجا فرمایا ہے آپ نے لیکن دیکھئیے غالبا" میٹرک کی پڑھی ہوئی یہ بات کہ: مطلق صفر اور صفر میں فرق ہوتا ہے مجھے بھول چُکی تھی اَب آپ کے توجہ دلانے سےچیک کیا تو یاد آیا اور دیگر دوستوں کے لیے بھی شئیر کردیا تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے اور یہ بھرم بھی قائم رہے کہ بندہ سائنسی لٹریچرسے تھوڑی بہت دِلچسپی بہرحال رکھتا ہے۔ :) :)
مطلق صفر کی تعریف:
the lowest temperature theoretically attainable (at which the kinetic energy of atoms and molecules is minimal); 0 Kelvin or -273.15 centigrade or -459.67 Fahrenheit
 

زہیر عبّاس

محفلین
فوق ارضی سیاروں کی زندگی ...از دیمیتر سیسی لوف

حصّہ دوم - حیات کا ماخذ

باب نہم - حصّہ اوّل

حیات بطور سیاروی مظہر


جنوبی افریقہ میں کیپ آف گوڈ ہوپ سے شمال مغرب میں آدھے دن کے سمندری سفر کے بعد کیپ ٹاؤن ہے ۔ آج بھی یہ شہر ایک فوجی چوکی کے ہونے کا احساس دلاتا ہے ، ایک آرام دہ لیکن مضطرب بندرگاہ جو دنیا کے کنارے پر موجود ہے۔ الغرض جنوب میں انسانی آنکھ کو دیکھنے کے لئے صرف برف کے علاوہ کوئی دوسری چیز موجود نہیں ہے ، ایک منجمد جنوبی سمندر کرۂ ارض کی سب سے کم قابل رہائش زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔

اجنبی جدولی پہاڑ کے سائے میں ،نومبر ١٨٧٣ء میں ایک غیر معمولی برطانوی جنگی جہاز جس کا نام ایچ ایم چیلنجر تھا اس نے ایک لمبے صبر آزما سفر کا آغاز انٹارکٹکا کے برفیلے ساحل سے آسٹریلیا اور دنیا کے گرد شروع کیا۔ ایچ ایم ایس بیگل کے چارلس ڈارون کے ساتھ شہرہ آفاق سفر کے چالیس سال بعد ، ایچ ایم ایس چیلنجر پھر سے ایک چار سال کے سفر پر روانہ ہوا تاکہ نئے جہانوں کی کھوج سمندری دنیا کی گہرائی میں جا کرکر سکے۔ ایچ ایم ایس چیلنجر کے اس سفر میں جہاز کے عملے کے ساتھ چھ سائنس دان زاد سفر تھے اور جہاز کے عرشے پر آلات کی بھرمار تھی :جن کا کام سمندر کا درجہ حرارت ، گہرائی اور رو کو ناپنا ، سمندر کے نمونے حاصل کرنا اور جو بھی سمندری مخلوق ہاتھ لگتی اس کے زندہ نمونے جمع کرنے تھے ۔

نتیجوں نے سائنس دانوں اور عام آدمی دونوں کے ایک جیسا ہی حیرت زدہ کیا۔ مکمل تاریکی اور زبردست دباؤ جو آٹھ یا اس سے زیادہ کلومیٹر نیچے سمندر کی گہرائی میں موجود تھا ، وہاں سے ایم ایس چیلنجر نے چھ سو سے زائد نمونوں کو جمع کیا۔ ثمر آ ور نتیجے نے اس بات کو ثابت کیا کہ سمندر کے اندر پانی کی دنیا کوئی ویران صحرا نہیں ہے۔ سیارے کی سطح پر ہر جگہ حیات موجود تھی۔

حالیہ دور میں پچھلے بیس برسوں میں ہونے والی تحقیق نے دو مزید حیرت انگیز چیزوں کا ادراک فراہم کیا۔ پہلا صرف زمین نے حیات کو گھر مہیا نہیں کیا بلکہ وہ حیات کے ذریعہ پوری طرح بدل گئی جو اس کے ساتھ لگ بھگ 4.5 ارب سال پہلے اس کی تخلیق کے ساتھ سے ہی چپکی ہوئی ہے۔ مزید یہ کہ حیات سطح سے چپکی ہوئی جس قدر نازک لگتی ہے جس کو شدید کائناتی واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ اتنی نازک نہیں ہے ۔ ہم نے جو سیکھا ہے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کرۂ ارض پر حیات کو مجازی طور پر تباہ نہیں کیا جا سکتا ۔ ثبوت اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ ایسی طرح سے کافی لمبے عرصے سے ہے شاید ٣ ارب سال پہلے سے۔ زمین پر موجود تمام حیات کے خاتمے کے لئے لازمی ہے کہ زمین کو سورج کا قلب پگھلا دے۔ حیات کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ ناصرف زمین کے گرد گھومنے والے تمام خلائی جہازوں کی تعدیم کی جائے بلکہ ان خلائی جہازوں کو بھی فنا کیا جائے جن کو ہم خلاء میں دوسری جگہیں کھوجنے کے لئے بھیج چکے ہیں۔ اگرچہ اس بات کی امید تو نہیں ہے کہ مریخ کو ہم نے کچھ جرثوموں کے ساتھ بسا دیا ہوگا ؛ لیکن کچھ انتہاء درجے کے لچک دار جرثومے پچھلے تیس برسوں میں دریافت کیے جا چکے ہیں اور کچھ مثلاً ڈینوکوکس ریڈیو ڈورنس(Deinococcus radiodurans) اتنے سخت جان ہیں کہ مریخ کے سفر تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ اصلی خلائی مسافر !

ارضی حیاتی کرۂ کا اپنے آپ کو تباہی سے بچانے کا راز بے میل بوقلمونی اور ان جانداروں کی اختراعیت ہے جو ہمارے سیارے پر حکمرانی کرتے رہے ہیں - یعنی کہ جرثومے۔ ان میں سب سے زیادہ سخت جان ایکسٹریمو فائلز (Extremophiles)کہلاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انتہائی شدید ماحول میں بھی بس جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو ٢٥٠ فارن ہائیٹ (١٢٢ سینٹی گریڈ ) میں گرم موسم بہار میں اور سمندر کی تہ میں موجود"بلیک –سموکر " گرم آتش فشانی ریخوں میں بھی بچے رہے تھے۔ جبکہ کچھ دوسرے اونچے دباؤ پر بھی زندہ رہے ہیں ، مثال کے طور پر جب سنگترے کے رس کی جراثیم ربائی(Sterilizing) کی گئی یا بحرالکاہل میں موجود مریانا کھائی کے قدرتی مسکن میں آٹھ سو گنا زیادہ دباؤ میں رہنے والے جرثومے۔ ان کے علاوہ بھی دوسرے جرثومے اپنا گھر چٹانوں کے ننھے سوراخوں میں زمین کی سطح سے چار کلومیٹر کی گہرائی میں بناتے ہوئے دریافت ہوئے۔ تاریخ اپنے آپ کو پھر دہرا رہی تھی ، اکیسویں صدی کے جنگی بیڑے نے چیلنجر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سمندر کی سطح میں سوراخ کیا۔

سائنس دان شاید ابھی تک زمینی حیاتی کرۂ کی تہ تک نہیں پہنچ سکے۔ جرثومے جو زمین کی پرت کی گہرائی میں رہتے ہیں ان کو اکثر سیلائم (ایس ایل آئی ایم ای - سب سرفیس لیتھو اوتھو ٹروپک مائکروبل ایکو سسٹم )سماج کہتے ہیں۔ ان کا انحصار سطح کی کسی بھی چیز پر نہیں ہوتا۔ حرارت سیارے کی گہرائی سے آتی ہے ، کیمیائی چیزیں اور پانی پہلے سے ہی وہاں پر موجود ہے اور سورج کی روشنی کی ان کو ضرورت نہیں ہوتی۔ اگرچہ ماحول کافی شدید ہوتا ہے لیکن پھر بھی ان کے لئے وہ محفوظ ہوتا ہے۔

یہ کوئی خلاف معمول مخلوق نہیں ہیں۔ تہ زمین کی وہ جگہ ہے جہاں حیات بظاہر آج کے دور میں ناقابل معدوم ہے کیونکہ سطح کے نیچے کا یہ ماحول سیارے کی کافی زیادہ حیات کو اپنے اندر رکھتا ہے۔ کچھ سائنس دان جیسا کہ کورنیل یونیورسٹی کے آنجہانی تھامس گولڈ کہتے تھے کہ حقیقت میں حیوی کمیت (Biomass)کی اکثریت سطح کے نیچے ہے۔ حالیہ تخمینوں کے مطابق تین کھرب ٹن کاربنی حیوی کمیت کا مقابلہ پورے بر اعظم کی سطح پر موجود حیوی کمیت سے کیا جا سکتا ہے یہ زیادہ تر نباتاتی حیات ہے۔ اس گہرے حیاتی کرہ میں موجود جراثیمی سماج چٹانوں اور سمندری گاد میں رہتے ہیں جو لگ بھگ سمندر کی تہ کے پانچ سو سے ایک ہزار میٹر کی گہرائی میں موجود ہیں ؛ ایک کیس میں تو بحر اوقیانوس کی تہ سے سولہ سو میٹر نیچے بھی حیات کو پایا گیا ہے۔ سیارے کی سطح کا ستر فیصد سمندر کی سطح نے ڈھکا ہوا ہے ، اور تہ کی نیچے کی گاد کے ہر مکعب سینٹی میٹر میں دس لاکھ خلیے پائے گئے ہیں اور جو زمین پر پائے جانے والے تمام جرثوموں سے آدھے سے بھی زیادہ ہیں۔

حالیہ دور میں ، حیاتی کرۂ کی گہرائی کی کھوج کرنے والوں نے پہلی غیر جرثومی حیات کو ایک سے ساڑھے تین کلو میٹر کی گہرائی میں جنوبی افریقہ میں دیکھا ہے - ایک ننھا کیڑا جو سطح کے نیچے رہنے والے جرثوموں کو بطور خوراک استعمال کرتا ہے۔ یہ بات زمین کی گہری پرت میں موجود حیات کی زرخیزی کے بارے میں بیان کرتی ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔
 

زہیر عبّاس

محفلین
فوق ارضی سیاروں کی زندگی ...از دیمیتر سیسی لوف

حصّہ دوم - حیات کا ماخذ

باب نہم - حصّہ دوم

حیات بطور سیاروی مظہر

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جرثومے سورج کی روشنی اور آکسیجن کے بغیر میلوں کی گہرائی میں موجود چٹانوں میں زندہ رہ سکیں جہاں غذا اور پانی کی قلت ہے ؟سوراخ کرکے حاصل کردہ نمونوں سے معلوم ہوا کہ وہاں پر ایسے جرثوموں کا غلبہ ہے جو نہ صرف زبردست دباؤ کو برداشت کر سکتے ہیں بلکہ خاص طور پر بقائے توانائی کے اصول پر کاربند رہتے ہوئے انتہائی آہستگی کے ساتھ صدیوں پر محیط وقت کے پیمانے پر پھلتے پھولتے (تعداد کو دوگنا کرتے)ہیں ! اگر ان کو کوئی ذمہ داری بھی ہوتی ہے تو وہ کم از کم سطح پر رہنے والے ہم جانداروں کے بارے میں نہیں ہوتی۔ اگرچہ یہ بات واضح طور پر عیاں ہے کہ کروڑوں سال پہلے ان کے آباؤ اجداد بھی سمندر کی تہ میں اور سطح پر رہنے والے تھے۔ یہ بات ان کے جینیاتی نقشے سے معلوم ہوئی ہے۔ الغرض یہ کوئی بہت ہی غیر معمولی نہیں ہیں۔

زمین پر حیات کی تاریخ بہت ہی تیز رفتار مطابقت پذیری دکھاتی ہے اور اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ جہاں کہیں بھی پانی ہے وہاں حیات اپنا مسکن بنا لیتی ہے ، چاہئے وہاں جو بھی درجہ حرارت ، دباؤ یا ترشی ہو۔ گہرے پانی کا چکر - سطح کا پانی جو سمندر کی سطح کے نیچے زمین کی پرت کی گہرائی میں پہنچتا ہے – اپنے ساتھ حیات کو لے کر جاتا ہے شاید یہ اس وقت سے ہی ہے جب سے حیات سیارے پر نمودار ہوئی۔

حیات کے لئے زیادہ تر خطرات آسمان سے ہی نازل ہوئے۔ سب سے زیادہ ڈرامائی خطرہ کائناتی ہی ہیں : سیارچوں اور دم دار ستاروں کے تصادم ، اور کبیر ماحولیاتی تبدیلیاں جس میں پورے کرۂ فضائی کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ جی ہاں ڈرامائی ، ضروری نہیں ہے کہ وہ سیارے کی حیات کو مکمل طور پر معدوم کر دینے والے ہوں۔

سیارچوں کے تصادم سیاروی نظام میں کی حیات کا لازمی حصّہ ہیں۔، سیارچے ، ایک میل کے حجم کے (اکثر کئی میل کے حجم کے بھی ) چٹانی سیاروں کے بچے ہوئے ٹکڑے ہوتے ہیں ان کے مدار ایسے ہوتے ہیں کہ بڑے سیاروں کے زیر اثر آتے رہتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان میں سے کئی بڑے سیاروں سے جا ٹکراتے ہیں یا وہ انہیں دور اٹھا کر پھینک دیتے ہیں ، جیسا کہ نظام شمسی میں موجود مشتری ہے۔ لیکن ان میں سے زیادہ تر اس پٹی میں موجود ہیں جو مشتری اور مریخ کے درمیان واقع ہے۔ لمبے عرصے میں سیاروں کے ثقلی اثرات ان سیارچوں پر اس قدر پڑتے ہیں کہ وہ ان کو آپس میں یا دوسرے سیاروں سے تصادم کی راہ پر گامزن کر دیتے ہیں۔

دو کلومیٹر کے سیارچے سے زمین کا ٹکراؤ انسانیت کے لئے تباہی ہو سکتا ہے لیکن گہرے حیاتی کرۂ میں موجود زیادہ تر جرثوموں کو تو اس تصادم کا پتا بھی نہیں چلے گا۔ کوئی بھی عطارد جتنا جسم اگر زمین سے ٹکرائے تب ہی زمین کی پرت اور سمندر تباہ ہوں گے اور شاید تب ہی جرثوموں کی تمام بستیاں جو سطح سے میلوں دور ہیں ختم ہو سکیں گی۔ بہرحال اکیسویں صدی کی ابتداء میں ہی ہمارے فلکیات دانوں نے نظام شمسی میں موجود ان سیارچوں کا مکمل شمار کرلیا ہے جو زمین کے مدار میں سے گزریں گے۔ ہم ان تمام اجسام کو جانتے ہیں جن کا حجم دو کلومیٹر سے زیادہ ہے اور جو ہم سے ٹکرا سکتے ہیں۔ فلکیات دان ابھی تک کسی بھی ایسے سیارے کے بارے میں نہیں جانتے جو زمین کے لئے خطرہ ثابت ہو سکے۔

سیارچوں اور سیارے کے درمیان تصادم ، سیاروں کی تشکیل کے دور میں بہت ہی زیادہ عام ہوں گے اور یہ سلسلہ سیاروں کے بننے کے ٥٠ کروڑ سال بعد تک بھی جاری رہا ہوگا۔ ہمیں یہ بات دوسرے نظام ہائے شمسی کو بنتے دیکھنے کے دوران معلوم ہوئی ہے۔ اگر بڑے سیاروی تصادم زیادہ عام ہوتے تو سیاروں کے مدار کے درمیان گھومنے والے چھوٹے ذرّات ہمارے جانے پہچانے سیاروں کے مداروں میں اتنی زیادہ تعداد میں ہوتے کہ ہماری نظروں سے چھپ نہیں سکتے تھے۔ ایسی "ملبے کی ٹکیائیاں"(Debris Disks) کہلانے والی چیزیں کافی جانی پہچانی ہوتی ہیں اور آسانی کے ساتھ ہماری جدید زیریں سرخ ٹیکنالوجی کے ذریعہ دیکھی جا سکتی ہیں۔ اسپٹزر خلائی دوربین ، جو زیریں سرخ دوربین ہے اور ہبل خلائی دوربین کی دور کی رشتے دار ہے ، اس کی فراہم کردہ معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ ہمارا نظام شمسی دوسرے نظام ہائے شمسی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔

تو پھر قیامت خیز ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں کیا خیال ہے - زمین کے مکمل کرۂ فضائی کے خاتمے اور باقی بچے ہوئے سمندروں کے منجمد ہونے کا۔ یہ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب چاند کے حجم کا کوئی ضخیم سیارچہ زمین سے آ کر ٹکرا جائے یا پھر قریب میں کوئی نجمی دھماکا ہو : کسی عظیم نو تارے کا دھماکہ یا پھر گیما شعاعوں کی بوچھاڑ۔

گیما شعاعیں سب سے زیادہ قوی برقی مقناطیسی موجیں ہوتی ہیں۔ گیما شعاعوں کی بوچھاڑ ان تمام واقعات جن سے ہم باخبر ہیں اس میں سب سے زیادہ پر تشدد واقعہ ہوتی ہیں اور کسی بھی کہکشاں میں کبھی کبھار وقوع پذیر ہو جاتی ہیں۔ اس بات سے صرف نظر ، فلکیات دان دن میں ایک کا سراغ پھر بھی لگا لیتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کی انتہاء درجے کی تابانی اور سرایت کرنے کی خوبی ہے۔ ہم پورے قابل مشاہدہ کائنات میں ان کی بوچھاڑ کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اس حتمی دھماکے کے نتیجے میں خارج ہوتی ہیں جو بہت ہی وزنی ستارے (عظیم نو تارے کے خصوصی دھماکے ) اور دو مرغولہ کھاتے نیوٹران ستارے پیدا کرتے ہیں۔ بہرحال یہ دونوں واقعات نایاب اور دور دراز کائنات میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ ایک عام شرح اور اوسط فاصلے سے جو ہمیں پریشان کرنے والا اثر یہ ڈال سکتے ہیں وہ اوزون کی تہ ہے۔ کسی بھی ایسے دور دراز امکان میں جس میں ہم سے پچاس نوری برس کے فاصلے پر کوئی ایسی بوچھاڑ ہو جائے تو ہم مصیبت میں آ سکتے ہیں۔ زمین کا کرۂ فضائی مکمل طور پر ختم ہو جائے گا اور سطح پر موجود تمام حیات معدوم ہو جائے گی۔ لیکن وہ حیات معدوم نہیں ہوگی جو پرت کے اندر موجود ہوگی۔

ایک اچانک ہونے والے واقعہ میں کرۂ فضائی کا نقصان زمین کے لئے ارضیاتی وقتی پیمانے پر عارضی طور پر ہوگا۔ کیونکہ زمین کی اندرونی ساخت زیادہ تبدیل نہیں ہوگی، بنیادی ٹیکٹونک پلٹیں اور آتش فشانوں کے ذریعہ سیارے کے اندرون سے نکلنے والی گیسیں آتش فشانی حرکت میں نکلتی رہیں گی۔ آتش فشانوں سے نکلنے والا کاربن ڈائی آکسائڈ کرۂ فضائی کو دوبارہ سے بھر دے گا کیونکہ کاربن ڈائی آکسائڈ ایک سبز نباتاتی خانے کی گیس ہے جو منجمد سمندروں(یا اس میں سے جو بھی کچھ باقی بچا ہوگا اس ) کو پگھلا دے گی۔ اگر اس نے اسے جزوی طور پر بھی پگھلا دیا تو پانی کی کرۂ فضائی میں تبخیر کاربونیٹ سیلیکٹ کے چکر کو دوبارہ شروع کر دے گا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔
 

زہیر عبّاس

محفلین
فوق ارضی سیاروں کی زندگی ...از دیمیتر سیسی لوف

حصّہ دوم - حیات کا ماخذ

باب نہم - حصّہ سوم (آخری حصّہ)

حیات بطور سیاروی مظہر

کاربونیٹ سلیکیٹ کا چکر بالکل اس سے ملتا جلتا ہے جسے آج ہم غیر نامیاتی کاربن کا چکر یا کاربن ڈائی آکسائڈ کا چکر کہتے ہیں۔ یہ بنیادی سیاروی چکر اس کثیر گیس کاربن ڈائی آکسائڈ کا ہے جو زمین کے اندرون سے اوپر اٹھ کر سطح اور سمندر کے اوپر موجود کرۂ فضائی میں جا کر تبدیل ہوتی ہے اور پھر آخر میں واپس زمین کے اندر چلی جاتی ہے۔ کاربونیٹ سلیکیٹ چکر کے مخصوص چکر کا ایک خاص وقت کا پیمانہ ہے - ایک خاص وقت جو تبدیلی کو رونما کرتا ہے۔ سیارے زمین کے لئے یہ وقت کا پیمانہ چار لاکھ سال ہے۔ لہٰذا اگر گیما شعاعوں کی بوچھاڑ نے زمین کا کرۂ فضائی تباہ کر دیا ، تو اس کو واپس اپنی پائیدار حالت میں آنے کے لئے صرف چند دسیوں لاکھ سال درکار ہوں گے یا شاید اس سے بھی کم۔ کوئی بھی جرثومہ جو پرت کی گہرائی میں بچا رہ جائے گا - اور ایسے کئی ہوں گے - اس کے پاس کافی موقع ہوں گے کہ وہ زمین کی سطح پر دوبارہ سے بس جائے۔ مثال کے طور پر جرثوموں کے وہ سماج جو ٹیکساس میں گہری کھدائی کے دوران پائے گئے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کا سطح سے رابطہ ٨ کروڑ سال پہلے منقطع ہو گیا تھا یہ وقت اس سے کہیں زیادہ ہے جو دسیوں لاکھ سال سطح کو دوبارہ بسانے کے لئے درکار ہیں۔

بیشک اگر کوئی بھی ایسی آفات نازل ہوئی تو زمین کا کرۂ فضائی ڈرامائی طور پر تبدیل ہو جائے گا :آج کرۂ فضائی میں موجود گیسوں میں سے دو اہم گیسیں نائٹروجن اور آکسیجن فضا سے غائب ہو جائیں گی اور آتش فشانوں اور سمندر کی تبخیر سے دوبارہ نہیں بھریں گی۔ بلاشبہ یہ سطح کے نیچے رہنے والے خرد بینی جانداروں کے لئے جو دوبارہ سے سطح پر ہجرت کر رہے ہوں گے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوگا؛ ان کو اپنی حالیہ جگہ پر آکسیجن کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور وہ پرانی دنیا میں بننے والے نئے جہاں میں اچھے طریقے سے اس وقت تک رہ لیں گے جب تک ان کو پرت میں موجود نائٹروجن کی باقیات کے منبع تک رسائی ہوگی۔ ہو سکتا ہے کہ اگر انھیں ایک ارب سال کا عرصہ ملے تو وہ ان گیسوں کو واپس کرۂ فضائی میں پہنچا دیں کیونکہ یہ گیسیں ان خرد بینی حیات کی ضمنی پیداوار ہوتی ہیں بعینہ جیسے کہ انہوں نے زمین پر دو ارب سال پہلے کیا تھا۔

یہ تو صرف انسان اور پیچیدہ حیات کی شکلیں ہیں جن کی بقاء کائنات کی تبدیلیوں کے نازک توازن پر قائم ہے۔ زمینی حیات جو کہ زیادہ تر بیشمار اور قدیمی خرد بینی جانداروں پر مشتمل ہے وہ ہمارے چھوٹے سیارے پر اس وقت تک مورچہ بند رہے گی جب تک سورج اپنی زندگی پوری کرکے زمین کو پوری طرح سے ڈھانک نہیں لیتا۔ ذرا اس بارے میں سوچیں کہ اگر زمین کا مدار غیر متوازن ہو کر مشتری سے تصادم کی جانب گامزن ہو جائے اور مشتری زمین کو اٹھا کر نظام شمسی سے باہر دور پھینک دے تو کیا ہوگا۔ سننے میں ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ ختم ہو جائے گا ، کیونکہ تاریکی اور گہری ٹھنڈ سطح کو پوری طرح سے ڈھک لے گی۔ بہرحال ہائیڈرو تھرمل سرگرمی بغیر کسی تعطل کے جاری رہی گے۔ کالا دھواں پینے والی زیادہ تر حیات تو کافی عرصے تک زندہ رہے گی۔ پرت ایک بہترین کمبل کی طرح کام کرے گی جو زمین کے اندرون سے نکلنے والی اس حرارت کو قید کر لے گی جو زمین نے بنتے وقت حاصل کی تھی۔ اس کے علاوہ وہ حرارت بھی قید ہو جائے گی جو زمین تابکاری کے نتیجے میں ان عناصر سے خارج کرتی ہے جیسے کہ یورینیم ، پوٹاشِيَم ٤٠ اور تھوریم۔ حقیقت میں اندرونی خارج ہونے والی حرارت کو آج ٨٧ ملی واٹس فی مربع میٹر ناپا گیا ہے۔ یہ توانائی گھر میں استعمال ہونے والے روشنی کے قمقمے میں استعمال ہونے والی توانائی سے قریباً ایک ہزار گنا زیادہ کم ہے ، ایک ٢٥ واٹ روشنی کے بلب کو روشن کرنے کے لئے ایک کالج کی جماعت سے بھی زیادہ جگہ کی توانائی کو جمع کرکے اس بلب کو جلایا جا سکے گا۔ اکیسویں صدی میں انسانی سماج کی درکار توانائی کے پس منظر میں یہ سمندر میں صرف ایک قطرے کی مانند لگتا لیکن یہ ان خرد بینی جانداروں کے لئے کافی ہوگا جو زمین کی گہری پرت اور سمندر کی تہ میں ہائیڈرو تھرمل ریخوں کے پاس رہتے ہیں۔ خلاء میں بھٹکتی ہوئی زمین اندرونی حرارت کو حالیہ شرح سے خارج کرنے کے بعد بھی کم از کم ٥ ارب سال تک اپنے رہائشیوں کو اس حرارت کے بل بوتے پر زندہ رکھ سکتی ہے۔

زمین پر حیات کافی لچک دار ہے اور یہ بات اس نے اپنی تاریخ سے بھی ثابت کی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ خود کو ماحول کے مطابق ڈھال لینا اور بدلتی صورتحال کا فائدہ کر یہاں تک کہ شدید ماحول میں بھی رہ لینا ہے۔ اس عمل کے دوران نہ صرف یہ ماحول کو تبدیل کرتی ہے بلکہ نیا ماحول بھی بنا لیتی ہے جو آخر کار پورے سیارے کی سطح کو بدل دیتا ہے۔ سیارہ زمین اس سیارے سے بہت مختلف ہے جس پر شروع میں حیات نمودار ہوئی تھی اس کی وجہ نمودار ہونے والی حیات ہی تھی۔

مزید براں زمین نہایت سخت طریقے سے ارب ہا سال تک اپنے پر نمودار ہونے والی نئی حیات کے لئے ناسازگار بھی رہی ہے ،جس کی وجہ اس دور کی حیات اور اونچے درجے کی تکسیدی تیزابی ماحول کا ماحول تھا۔ حیات اصل میں سیاروی مظہر ہی ہے اور سیاروں کا ارتقاء ، متحرک پن اس کے ساتھ سختی سے جڑا ہوا ہے۔ سیارے حیات کے دوام کے لئے ایک اچھی جگہ ہو سکتے ہیں لیکن ہمیں ابھی تک اس بات کا جواب نہیں مل سکا کیا زمین حیات کے نمودار ہونے کے لئے ایک مثالی جگہ ہے ؟
 

زہیر عبّاس

محفلین
فوق ارضی سیاروں کی زندگی ...از دیمیتر سیسی لوف

حصّہ دوم - حیات کا ماخذ

باب دہم - حصّہ اوّل


وہ ٹھکانے جنہیں ہم اپنا گھر کہہ سکتے ہیں

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک ہمارے ہی جیسی کہکشاں میں ایک ستارہ پیدا ہوا ۔ جلد ہی سیارے بھی پید ا ہونے شروع ہو گئے۔ جن میں سے تین سیارے اپنے ستارے کے قریب پیدا ہوئے ۔ وہ بہت زیادہ بڑے نہیں تھے اور پورے کے پورے چٹانی سیارے تھے۔

ان میں سے سب سے چھوٹے اور سرد ترین سیارے کے کرۂ فضائی میں آتش فشانوں سے پیدا ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ اور سلفر ڈائی آکسائڈ موجود تھی۔ انہوں نے نباتاتی خانے کے اثر (Greenhouse Effect)کے طور پر اپنی سطح کو گرم کرنا شروع کیا جس کے نتیجے میں کسی طرح سے سطح پر موجود پانی کی تھوڑی مقدار مائع میں بدل گئی۔ کرۂ فضائی اور سمندروں نے مل کر سیارے کی سطح پر مختلف قسم کے کیمیائی عمل کو شروع کیا - اور حیات کو نمودار ہونے کا ایک اچھا موقع فراہم کیا۔ یہ سکھی دور چند کروڑ سال کے بعد ختم ہو گیا۔ ارضیاتی پیمانے پر اگر دیکھا جائے تو اس دور کا دورانیہ الاسکا میں پڑنے والی گرمی کے موسم سے زیادہ نہیں تھا ۔ چھوٹے سیارے ہونے کی بدولت اس کو اپنے کرۂ فضائی کو سنبھال کر رکھنا اور دوبارہ سے اس ارضیاتی سرگرمی کے چکر کو جاری رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ اپنے آپ کو اندر یا باہر سے گرم نہیں رکھ سکا۔

دوسرے دونوں سیارے کیونکہ تیسرے سے بڑے تھے لہٰذا ان میں کافی پانی اور معقول کرۂ فضائی موجود تھا اگرچہ وہ بھی اندر سے پورے چٹانی تھے۔ ان میں سے ایک ستارے سے قریب سیارہ اپنے دور کے چھوٹے رشتے دار کی طرح سے تیزی سے تبدیل ہونے والا تھا اگرچہ یہ تبدیلی اس سے بالکل متضاد قسم کی تھی۔ اس کے سمندروں نے ستارے کی گرمی کے زیر اثر تبخیر ہو کر اڑنا شروع کر دیا تھا یوں اس کے کرۂ فضائی میں پانی بھی شامل ہو گیا تھا جہاں پر اس نے ایک زبردست نباتاتی خانے کے اثر کے طور پر کام کیا - اس طرح ایک بے قابو نباتاتی اثر نے باقی بچے ہوئے پانی کو ضائع کر دیا اور آخر میں اپنے پیچھے صرف ایک چٹانی بنجر زمین چھوڑ دی۔

ہرچند کہ دونوں سیاروں پر شروع میں تو کیمیائی عمل میں تنوع تھا لیکن ارضی کیمیا بہت تیزی کے ساتھ محدود ہو گیا اور بتدریج ایک غیر عامل توازن میں جم گیا۔ ایسے سیاروں کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی نہایت آسانی کے ساتھ کی جا سکتی ہے - یعنی ان کے مستقبل کو طبیعیات اور کیمیا کے بنیادی قوانین کی رو سے آسانی سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ جلد ہی انہوں نے کہکشاں کے دوسرے اجسام- گیسی دیو سے لے کر ستاروں کی باقیات تک - سے گھل مل گئے – ایک آہستہ اور کند عمل کے ذریعہ ٹھنڈے ہوتے گئے ان میں اب مزید کوئی کیمیائی تبدیلی رونما نہیں ہوگی اب صرف وہ قوّت ثقل کے بل بوتے پر ہی ادھر ادھر گھومتے رہیں گے۔

تیسرا سیارہ ذرا خوش قسمت نکلا تھا – یہ اتنا بڑا اور گرم تھا کہ اپنے کرۂ فضائی کو دوبارہ سے بھرکر اس کو قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی سطح پر موجود مادّے کی باز یافتگی بھی کر سکے۔ ان تمام باتوں کے باوجود وہ بہت زیادہ گرم نہ تھا لہٰذا وہ اپنی سطح پر موجود زیادہ تر پانی کو پکڑ کر رکھ سکتا تھا۔ اس سیارے پر موجود کیمیا بھی بہت تنوع کی حامل اور دلچسپ تھی اور یہ اپنے چھوٹے رشتے داروں سے کہیں زیادہ عمل پذیر تھی۔ پہلے سے موجود کاربن ڈائی آکسائڈ کے ارضی کیمیائی چکر نے جلد ہی سیارے کی بالیدگی کی سمت کا تعین اس توازن سے دور سے دور کر دیا۔ کچھ ہٹ کر ہونا شروع ہو گیا۔ اس چکر میں دو ارب سال گزر گئے جس کے دوران کرۂ فضائی اور سمندر بہت ہی زیادہ عامل آکسیجن سے بھرتے چلے گئے۔ کیمیا کا اصل کام تو اب شروع ہوا تھا!

اگرچہ کند توازن نے بہت سختی کے ساتھ پہلے دو سیاروں کو جکڑ لیا تھا، لیکن تیسرا ذرا زیادہ وحشی ہو گیا تھا اور اس نے باہری آفات مثلاً کسی وقت علی التواتر سے سیارے کی سطح پر برسنے والے سیارچوں کے تصادم کا سامنا پیچیدہ طریقوں سے کرنا شروع کر دیا ۔ یہ سلسلہ چار ارب سال تک چلتا رہا ، اگرچہ سیارچوں کے تصادم تو بالآخر اس وقت اختتام پذیر ہو گئے تھے جب پیچیدہ کیمیا نے اچھی خاصی مقامی توانائی کو قابو کرلیا تاکہ سطح کے چھوٹے ٹکڑے (اور اپنے آپ کو ) مدار میں چھوڑ سکے، بالآخر وہ اپنے چاند پر پہنچی اور پھر واپس آئی ۔ آخر میں وہ اپنے ستارے سے دور ہوتی ہوئی اپنی کہکشاں سے بھی دور ہو گئی۔

مذکورہ بالا منظر کے نقطہ نگاہ سے ان تین سیاروں کی بیان کردہ قسمت کو اگر دور دراز کے ستارے سے بیٹھ کر دیکھا جائے تو یہ بہت ہی قدرتی سا لگے گا۔ ستارے سیاروں کی با نسبت کہیں زیادہ سادہ لیکن ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ، بعینہ سیارے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور ان میں سے کچھ پیچیدہ کیمیا اختیار کر لیتے ہیں۔ ستاروں سے دیکھی جانے والی حیات کو کسی بھی کیمیائی عمل سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا اگر کچھ دیکھا جا سکتا ہے تو وہ اس پیچیدہ عمل کا ماحصل ہی ہے۔ بعینہ جیسے ہم پانی کے سیارے بارے میں اس کے کیمیائی ماحصل سمندر کی وجہ سے بات کریں تو ہو سکتا ہے کہ ہم نجمی شعور میں سیارے کی زندگی کے بارے میں بات کریں کیونکہ اگر ہم اس کے اجزاء اور اس کے نظام شمسی میں مقام کو مد نظر رکھیں تو یہی وہ چیز ہے جو اس کی کیمیا کی رہنمائی کرتی ہے۔ اور جس طرح مائع سمندر کسی بھی قسم کے سیارے کی تاریخ کا حصّہ ہو سکتے ہیں ، تو حیات کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔
 

زہیر عبّاس

محفلین
فوق ارضی سیاروں کی زندگی ...از دیمیتر سیسی لوف

حصّہ دوم - حیات کا ماخذ

باب دہم - حصّہ دوم


وہ ٹھکانے جنہیں ہم اپنا گھر کہہ سکتے ہیں

یہ جان کر آپ کو زیادہ حیرت نہیں ہوگی کہ جن تین سیاروں کے بارے میں اوپر بیان کیا گیا ہے آپ ان کو بہت اچھی طرح سے - مریخ ، زہرہ اور زمین کے نام سے جانتے ہیں۔ اس منظر نامے میں صرف زمین ہی حیات کے لئے ایک موزوں جگہ ہو سکتی ہے۔ لیکن کیا زمین حیات کے لئے مثالی جگہ ہے ؟ میں اس سوال پر واپس آتا ہوں جو میں کتاب کے شروع میں اٹھایا تھا۔ اب میں اس کا جواب دینے کی کوشش کروں گا۔ اور جواب ہے نہیں۔ فوق ارض کافی بہتر ہیں۔

جس سیارے کو بھی ہم پاتے ہیں چاہئے وہ فوق ارض ہو یا نہ ہو ، ہم اس کے قابل رہائش ہونے کی جانچ کرتے ہیں۔ یہ ذرا مشکل بات ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم کسی بھی جگہ کو قابل رہائش اس لئے بیان کریں کہ ہم انسان وہاں بغیر کسی خصوصی حفاظت کے رہ سکیں تو زمین پر کئی ایسی جگہیں ہوں گی جو ایسا ماحول مہیا کرنے میں ناکام ہوں گی۔ اگر ہمیں اس بات کی اجازت ہو کہ ہم اپنی بہترین ٹیکنالوجی کے ساتھ زندہ رہ سکیں تو مریخ کا خط استواء بھی قابل رہائش جگہ ہو سکتی ہے تاہم آگ کی بھٹی زہرہ نہیں۔ زمین کے کچھ خرد بینی جاندار اتنے سخت جان ہوتے ہیں کہ وہ مریخی مٹی میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ واضح طور پر کسی بھی سیارے کی سکونت پذیری اس کے محل وقوع پر منحصر ہوتی ہے :سورج سے بہت زیادہ دور وہ سیارہ بہت ٹھنڈا ہوگا ، اور قریب ہونے کی صورت میں بہت گرم ہوگا۔ یہ اطمینان بخش فاصلہ سکونت پذیر علاقہ(Habitual Zone) کہلاتا ہے اور اس کی پہچان یہ ہے کہ پانی سطح کے اوپر موجود ہوتا ہے۔ ہر ستارے کے پاس ایک ایسا علاقہ ضرور ہوتا ہے۔

میں ایسے ماحول کی تلاش میں ہوں جو پیچیدہ سالماتی کیمیائی عمل کے لئے مناسب ہو۔ میری دلچسپی کائنات میں حیات کے راستے(اس کے اصل ماخذ ) میں ہے ، لہٰذا میں ایسے سیاروں کی تلاش کر رہا ہوں جو سطح کے درجہ حرارت پر مائع پانی کو باقی رکھ سکیں تاکہ اس میں بڑے سالمے زندہ رہ کر کیمیائی ارتکاز حاصل کر کے وقت کے دوران پائیدار بھی رہ سکیں۔ اگرچہ قابل سکونت تصوّر درجہ حرارت کے لحاظ سے تو مدد گار ہو سکتا ہے لیکن صرف یہ ہی کافی نہیں ہے۔ کئی دوسرے ایسے بھی عوامل ہیں جو سیارے کی سکونت پذیری میں اپنا حصّہ ڈالتے ہیں۔ فوق ارض سے متعلق اپنے انتہائی قلیل علم کو مد نظر رکھتے ہوئے اس وقت تک جب ہم مستقبل کے کسی دن وہاں کا سفر نہیں کر لیتے میں ان کے سکونت پذیری کی قابلیت کے بارے میں ہی بات کرنا پسند کروں گا۔

پہلے دریافت شدہ ہوئے فوق ارضی سیاروں میں کتنی سکونت پذیری کی صلاحیت موجود ہے ؟ چلیں ان میں سے کچھ کو دیکھتے ہیں۔ گلیز ٨٧٦ ڈی ایک چھوٹے بونے ستارے کے گرد ہر دو دن میں ایک چکر مکمل کر رہا ہے ! اس کا مطلب ہے کہ اس کا مدار سورج سے زمین کے فاصلے کا صرف دو فیصد ہی ہے۔ اگرچہ اس کا مرکزی ستارہ سورج کے وزن اور حجم کے مقابلے میں ایک تہائی ہے اور یہ سورج کے مقابلے میں آدھا گرم ہے ،اس کے باوجود ستارے سے نزدیکی کا مطلب یہ ہے کہ گلیز ٨٧٦ ڈی کی سطح کا درجہ حرارت زہرہ کے تپش دار درجہ حرارت (لگ بھگ ٧٣٠ کیلون ) سے بھی زیادہ ہوگا۔ فوق ارض گلیز ٨٧٦ ڈی سکونت پذیر علاقے میں نہیں ہے اور اس میں فی الوقت سکونت پذیری کی کوئی قابلیت نہیں ہے۔(خاکہ10.1)۔

اس ماورائے نظام شمسی میں دو اورمشتری جیسے سیارے موجود ہیں۔ ان کو ٢٠٠٠ء میں جیف مارسی اور کیلی فورنیا کارنیگی ٹیم نے دریافت کیا تھا اور ان کا نام گلیز ٨٧٦ ب اور ٨٧٦ ج دیا تھا ان کی کمیت بالترتیب لگ بھگ ٢ اور ٠۔٦ مشتری کے تھی۔ سکونت پذیر علاقے میں موجود ہونے کے باوجود یہ سیارے گیسی دیو ہیں جس میں کسی بھی قسم کی ٹھوس سطح نہیں ہے لہٰذا ان میں کسی بھی قسم کی سکونت پذیری کی قابلیت موجود نہیں ہے۔ بہرحال ان میں سے کسی کے بڑے چاند بھی ہو سکتے ہیں جن میں زبردست سکونت پذیری کی صلاحیت موجود ہو سکتی ہے۔ بدقسمتی سے یہ دونوں مشتری جیسے سیارے ایک دوسرے کے کافی نزدیک ہیں اور آپس میں ثقلی طور پر کافی تعامل کرتے ہیں جس کی وجہ سے غالب امکان ہے کہ وہ بڑے چاند نہیں رکھتے ہوں گے۔

10.1 by Zonnee, on Flickr
دو سیاروی نظام اور ان کے سکونت پذیر علاقے۔ گلیز ٨٧٦ میں اندرونی سیارہ ڈی ایک فوق ارض ہے۔ گلیز ٥٨١ کا اندرونی سیارہ ب اصل میں ایک تپتا ہوا نیپچون ہے۔ سیارے گلیز ٥٨١ ڈی صرف وہ فوق ارض ہے جو بمشکل اس مدار میں موجود ہے جہاں سکونت پذیری ممکن ہے، اس کا مدار تھوڑا سا کج رو ہے گلیز ٥٨١ ای ، چوتھا سیارہ ہے جو یہاں نہیں نظر آ رہا ہے اس کا حجم زمین کے حجم کا بمشکل دوگنا ہے لیکن وہ ستارے کے سیارے ب کے مدار کے بھی اندر گردش کر رہا ہے اور بہت زیادہ گرم ہے۔

ایک اور ایم بونا ستارہ ، گلیز ٥٨١ کے بھی تین عظیم ارضی سیارے ہیں (خاکہ 10.1) ایک تپتا ہوا نیپچون جو ٢٥ ایم ای کے برابر ہے اور (گلیز ٥٨١ ب) کہلاتا ہے جس کو ہم ٢٠٠٥ء سے جانتے ہیں ، یہ اپنے ستارے کے گرد صرف5.4 دن میں ایک چکر مکمل کر لیتا ہے۔ بعد میں مچل میئر کی جنیوا کی ٹیم نے دو چھوٹے سیارے جو فوق ارض سے کافی ملتے جلتے تھے دریافت کیے اور یہ بمشکل سکونت پذیر علاقے میں مدار میں چکر لگاتے ہوئے لگتے تھے۔ کیونکہ گلیز ٥٨١ اور ٨٧٦ ایک جیسے ستارے ہیں ، لہٰذا ان کے نظام سیارگان اور قابل سکونت علاقوں کا موازنہ کرنا بہت آسان ہے۔ یہ سادہ خیال کہ فوق ارضی سیاروں کا کرۂ فضائی ضرور موجود ہونا چاہئے ۔ خاکے میں دکھائے گئے سکونت پذیر علاقوں کو فرینک سیلسیس اور اس کے رفقائے کاروں کے کام سے ہی بنایا گیا ہے۔ فوق ارض سیارہ جس میں سب سے زیادہ سکونت پذیری کی صلاحیت موجود ہے وہ گیلز ٥٨١ ڈی ہے جس کا حجم زمین کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ ہے اور یہ اپنے ستارے سے کافی دور ہے ، تاہم اس کا کرۂ فضائی اس کو گرم رہنے میں کافی مدد دے گا۔ گلیز ٥٨١ سی کی کمیت زمین سے پانچ گنا زیادہ ہے وہ کافی گرم لگتا ہے اور اس سے بھی گرم تر فوق ارض ای ، ب کے مدار میں موجود ہے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔
 

زہیر عبّاس

محفلین
فوق ارضی سیاروں کی زندگی ...از دیمیتر سیسی لوف

حصّہ دوم - حیات کا ماخذ

باب دہم - حصّہ سوم


وہ ٹھکانے جنہیں ہم اپنا گھر کہہ سکتے ہیں

گلیز ٥٨١ نظام ہائے سیارگان ایک اور طرح سے انتہائی دلچسپی کا حامل ہے :تمام تو نہیں تاہم زیادہ تر سیارے اپنے مرکزی ستارے سے کافی دور پیدا ہوئے ہوں گے۔ اس کی وجہ ہے ، سب سے پہلے تو ابتدائی سیاروی قرص میں اتنا مادّہ موجود نہیں ہوتا ہے کہ ضخیم سیارے جیسا کہ تپتا ہوا نیپچون ہے بن سکے ، گلیز ٥٨١ ب جیسے حجم کے سیارے اپنے ستارے سے دور بنتے ہیں۔ دوسری وجہ قرص میں ضخیم سیاروں کو زیادہ مادّہ جمع کرکے بننے کے لئے درجہ حرارت بہت زیادہ ہوگا۔ لہٰذا غالب گمان یہ ہے کہ تپتے ہوئے نیپچون ، تپتے ہوئے ان مشتریوں کی طرح جن کو پہلے بیان کیا جا چکا ہے، قرص کے دور دراز علاقے میں پیدا ہوئے اور پھر قرص نے ان کو دھکا دے کر ستارے سے قریب کر دیا۔ اگر یہ قیاس درست ہوا تو یہ دونوں ارضی سیارے بھی ستارے سے کافی دور سیاروی قرص میں پیدا ہوئے ہوں گے۔ وہ سمندری سیارے بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ اس خط سے باہر پیدا ہوئے ہوں گے جس کو برفیلا خط کہتے ہیں جہاں پانی آسانی سے منجمد ہو کر جم جاتا ہے۔ جب سیارے ستارے سے نزدیک آئے ہوں گے تو سطح پر موجود اس پانی میں سے کچھ ضرور مائع بن گیا ہوگا۔ الغرض ممکن ہے کہ وہ گیسوں سے لبریز سیارے ہوں جیسا کہ حالیہ دریافت شدہ سیارہ جی جے ١٢١٤ ب ہے جس کو ڈیوڈ چاربونو نے دریافت کیا تھا یا وہ سیارے جو کیپلر ١١ نظام میں موجود ہیں۔ ان تمام کی ایک جیسی کمیت ہے - صرف زمین سے چند گنا زیادہ اور ان میں سب کی کثافت انتہائی کم ہے جس کے نتیجے میں انھیں چھوٹے یورینس اور نیپچون کہا جاتا ہے۔


دو چیزیں ایسی ہیں جو فوق ارضی سیاروں کو ہمارے جیسے سیارے جیسی جسامت والے کسی بھی سیارے سے زیادہ قابل سکونت بناتی ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ زیادہ ضخیم ہونے کی وجہ سے یہ سیارے اپنے کرۂ فضائی کو آسانی سے قائم رکھ کر پانی کو بھی بخارات بن کر اڑنے سے روک سکتے ہیں۔ یہ ان سیاروں کے لئے بہت ہی اہم بات ہے جو اپنے ستارے سے نزدیک مدار میں موجود ہوتے ہیں۔ یوں کہہ لیں کہ جتنا مریخ سورج سے قریب ہے اتنا قریب۔ دوسری وجہ ہمارے نظریاتی نمونے کے مطابق اگر وہ چٹانی فوق ارضی سیارے ہوں گے تو ان کی ٹیکٹونک پلیٹ کی سرگرمی زمین جتنی یا اس سے بھی زیادہ ہوگی۔ یہ بات حیات اور اس کے ماخذ کے لئے بہت ضروری ہے۔ ہمارے نظام شمسی میں مریخ کی کبھی بھی حرکی پلٹیں نہیں رہیں جبکہ زہرہ کی پلٹیں بہت ہی خفیف ہلتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہماری زمین بھی بمشکل پلیٹوں کو ہلا پائی ہے !


ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرگرمی کا ہم بر اعظمی بہاؤ کی صورت میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ جدید جی پی ایس ٹیکنالوجی ہمیں اس حرکت کو ناپنے کا موقع دیتی ہے۔ لیکن یہ حیات کے لئے فائدہ مند کیوں ہیں ؟ مختصراً اس کا جواب تسلسل اور کیمیائی ارتکاز کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ ارب ہا سال گزر جانے کے باوجود زمین نے اپنی سطح کا درجہ حرارت قائم رکھا۔ مثال کے طور پر سمندر ہمیشہ سے مائع ہی رہے۔ ہم اس چیز کو ارضیاتی ثبوتوں کی مدد سے جانتے ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سورج اپنی پیدائش سے لے کر اب تک تیس فیصد سے زیادہ تاباں ہو گیا ہے۔ اس معمے کو عالمگیری ارضی کیمیائی چکر حل کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ زمین ایک بڑی گیند کی مانند ہے جو بہت گرم اور اندر سے کھول رہی ہے۔ سطح پر یہ توانائی چٹانی براعظم اور سمندری پلیٹوں کو حرکت دیتی رہتی ہے۔ سیاروی ٹیکٹونک پلیٹوں کے بارے میں ضروری چیز ان کا آپس میں تبادلہ کرنا ہے۔ پگھلا ہوا اندرون بصورت معکوس کیمیائی عناصر کو سطح اور کرۂ فضائی سے ادل بدل کر سکتا ہے عناصر اس چکر میں صرف بازیافتہ نہیں ہوتے بلکہ ان کی تبدیلی اور ارتکاز توانائی کو ایک زرخیز متحرک توازن میں تبدیل کرتے ہیں۔ اس کا متبادل بہت ہی غریب حالت ہے - ایک ساکن توازن جو اندرون اور سطح میں بغیر مقامی توانائی کے بیٹھ جائے۔ لہٰذا ٹیکٹونک پلیٹ سیارے کو نیا ، متحرک اور حیات بخش بناتی ہیں۔ جیسا کہ وارڈ اور براؤن لی نے لکھا ہے کہ ٹیکٹونک پلیٹیں ماحول کی پیچیدگی کو بڑھوتری دیتی ہیں۔ یہ تبادلہ عالمگیری چکر کے نتیجے میں ہوتا ہے۔

10.2 by Zonnee, on Flickr
10.2 کاربن ڈائی آکسائڈ کا چکر (جس کو عرف عام میں کاربونیٹ سلیکیٹ کا چکر بھی کہتے ہیں) جو آتش فشانوں سے شروع ہوتا ہے جن کو بائیں جانب دکھایا ہے یہ کاربن ڈائی آکسائڈ مہیا کرتے ہیں ، جو کرۂ فضائی میں پانی کے ذریعہ جذب ہو جاتی ہے ، پھر بارش کے ذریعہ سطح پر برستی ہے ، بر اعظموں کو کاٹتی ہے اور بازیافتہ ہو کر ٹیکٹونک پلیٹوں کے ذریعہ زمین کے گرم اندرون میں واپس باہر نکلنے کے لئے آ جاتی ہے ۔

سب سے جانا پہچانا اور غالب عالمگیری سیاروی چکر کاربونیٹ سلیکیٹ کا چکر ہے (خاکہ10.2 دیکھیں )۔ یہ چکر اس وقت شروع ہوتا ہے جب آتش فشاں کاربن ڈائی آکسائڈ کو کرۂ فضائی میں چھوڑتے ہیں جہاں وہ پانی کے قطروں میں آسانی سے جذب ہو جاتی ہے۔ پھر یہ زمین کی سطح پر بارش کے قطروں میں مل کر برستی ہے ، کاربونیٹیڈ پانی چٹانوں اور مٹی کو سمندر میں بہنے میں مدد کرتا ہے ، جہاں یہ کاربن سے لبریز چٹانوں مثلاً چونے کے پتھر میں جذب ہو جاتی ہے ۔ ٹیکٹونک کی پلیٹیں کاربن کو پھر زمین کی پرت میں لے جاتی ہیں ، جہاں وہ پگھل کر ، مل کر ،بازیافتہ ہو کر کرۂ فضائی میں آتش فشانوں کے ذریعہ دوبارہ پہنچ جاتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے پچھلے باب میں دیکھا ہے ، یہ چکر ہمارے سیارے کے کرۂ فضائی کی بقاء کے لئے انتہائی ضروری ہے ، لیکن یہ چکر اس سے بھی کچھ زیادہ کام کرتا ہے :یہ ایک تھرموسٹیٹ کی طرح کام کرتا ہے کیونکہ کاربن ڈائی آکسائڈ ایک نباتاتی خانے کے اثر کی حامل گیس ہے اور اس کے چکر میں ایک فیڈبیک حلقہ بھی شامل ہوتا ہے جو زمین کے درجہ حرارت کو اوسط درجہ حرارت پر لے آتا ہے (خاکہ10.3 ملاحظہ کیجئے )۔ نباتاتی خانے کے اثر والی گیس سورج کی روشنی کی حرارت کو اندر سطح پر آنے کی اجازت دیتی ہے اور اس حرارت کو کمبل کی طرح روکنے میں مدد کرتی ہے۔ پانی کے قطرے اور میتھین بھی ایک طرح سے نباتاتی خانے کے اثر کی حامل گیسیں ہیں۔ اگر زمین کا درجہ حرارت ذرا سا بھی بڑھتا ہے ، تو کاربن ڈائی آکسائڈ کا فضا میں تناسب کم ہو جاتا ہے کیونکہ گیس بڑھتے ہوئے عمل تبخیر کے نتیجے میں پانی میں زیادہ حل ہو جاتی ہے اور بارش اس کو سطح پر لے جاتی ہے یوں چٹانوں میں ٹوٹ پھوٹ اور سمندر میں اس کو دوبارہ جمع کرنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ اس سے کرۂ فضائی میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور نباتاتی خانے کا اثر کمزور ہو جاتا ہے اور زمین کا درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے۔ جب سطح کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے تو بارش کم ہونے کے سبب سے کاربن ڈائی آکسائڈ کا کرۂ فضائی میں حصّہ بڑھ جاتا ہے۔ نتیجے میں مزید کاربن ڈائی آکسائڈ نباتاتی خانے کے اثر کو مضبوط کرتی ہے اور گرمی بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں زمین کا درجہ حرارت واپس معمول پر آ جاتا ہے۔ واقعی کیا ایک بے عیب درجہ حرارت کو قابو کرنے والا آلہ ہے یہ !
10.3 by Zonnee, on Flickr
10.3کاربن ڈائی آکسائڈ کا چکر زمین، اور اس جیسے کسی بھی سیارے کے کرۂ فضائی کے لئے ایک تھرموسٹیٹ کی طرح کام کرتا ہے۔ اگر درجہ حرارت بہت زیادہ گرم ہوگا (بائیں طرف) تو نباتاتی خانے کے اثر والی زیادہ گیس اس میں سے نکل جائے گی اور درجہ حرارت واپس گر جائے گا ؛ اگر یہ بہت زیادہ گر جائے گا (دائیں طرف) ، تو کاربن ڈائی آکسائڈ جمع ہو کر سیارے کو پھر سے گرم کر دے گی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔
 

زہیر عبّاس

محفلین
فوق ارضی سیاروں کی زندگی ...از دیمیتر سیسی لوف

حصّہ دوم - حیات کا ماخذ

باب دہم - حصّہ چہارم - (آخری حصّہ )


وہ ٹھکانے جنہیں ہم اپنا گھر کہہ سکتے ہیں

ہو سکتا ہے کہ مکمل بے عیب کہنا کچھ زیادہ بڑی بات ہو جائے گی کیونکہ زمین نے برفیلے دور کو بھی برداشت کیا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائڈ کا چکر جس کے نتیجے میں درجہ حرارت قابو میں آتا ہے اس کا عرصہ کافی لمبا (چار لاکھ سال کا ) ہوتا ہے۔ بہرحال برفانی دور زمین پر موجود حیات کے لئے چھوٹی موٹی پریشانی تھی۔ یہاں تک کہ بنی نوع انسان بھی پچھلے دس ہزار سال سے زندہ رہے ہیں جبکہ چھوٹے جاندار جیسا کہ زمین دوز خرد بینی حیات کو تو پتا بھی نہیں چلا کہ سطح کے اوپر ہوا کیا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائڈ کے چکر نے ہمارے سیارے کو ارب ہا سال سے کسی بھی سنجیدہ مسئلے سے محفوظ رکھا ہوا ہے اور یہ اس عمل کو اس وقت تک مزید اگلے دو سے تین ارب برس تک جاری رکھے گی جب تک سورج زیادہ روشن نہیں ہو جاتا۔ اگر شمسی حرارت بڑھتی رہے گی تو ایک وقت ایسا آئے گا (زہرہ بھی ماضی میں اس وقت اس صورتحال سے گزر چکا ہے )جب تھرموسٹیٹ ٹوٹ جائے گا۔

متشکک قاری کو کاربن ڈائی آکسائڈ کے تھرموسٹیٹ کا چکر ہمارے سیارے کی مخصوص خاصیت لگے گی۔ لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ کاربن اور آکسیجن کائنات میں بہت ہی عام پائے جانے والے عنصر ہیں ، لہٰذا ہماری کہکشاں میں موجود وہ سیارے جو زیادہ تر ستاروں کے گرد چکر کاٹ رہے ہیں ان کے پاس کافی زیادہ کاربن ڈائی آکسائڈ موجود ہوگی۔ آتش فشاں ان کے کرۂ فضائی کو ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت کے بغیر بھی دوبارہ سے بھر رہے ہوں گے۔ ہمارے نظام شمسی میں زہرہ اور مریخ کے کرۂ فضائی میں کاربن ڈائی آکسائڈ کا ہی غلبہ ہے۔ ہماری زمین پر بھی اس کا غلبہ ہوتا ، وہ تو بھلا ہو چھونے کے پتھر اور سمندروں کا جنہوں نے اس کے زیادہ تر حصّے کو قید کر لیا ہے۔ اور ممکن ہے کہ حیات نے (جو زیادہ تر سمندری سیپیوں کی شکل میں تھی ) کاربن ڈائی آکسائڈ کے چکر میں کافی اہم کردار ادا کیا ہو لیکن یہ چکر ان کے بغیر بھی آسانی کے ساتھ رواں دواں رہ سکتا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائڈ کے تھرموسٹیٹ چکر کو مائع پانی اور ٹیکٹونک پلیٹ کی سرگرمی کی ضرورت ہے۔ مریخ اور زہرہ بظاہر اتنے چھوٹے لگتے ہیں کہ وہ اپنا پانی فرار ہونے سے نہیں روک سکتے اور نہ ہی ان میں ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرگرمی جاری رہ سکتی ہے۔ زمین نے بھی یہ کام بمشکل کیا ہے ! فوق ارضی سیاروں کے لئے یہ کام بہت آسان ہوگا لہٰذا وہ ایک لمبے عرصے تک پائیدار ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔

تائیدی نقطہ نظر ہمیں بتاتا ہے کہ زمین ایک ایسا سیارہ ہے جس نے بمشکل ٹیکٹونک پلیٹ کی سرگرمیوں کو جاری رکھا ہے یہ ایک ایسی تحقیق ہے جو ارضیاتی تاریخ کے دوران سرگرمی کی سست رفتاری یا لمبے عرصے کے جمود کا عندیہ بھی دے رہی ہے ۔ کئی عناصر زمین کے غلاف سے نکل کر ختم ہو گئے ہیں جن کو ٹیکٹونک پلیٹ کی حرکت کے نائب کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ زمین کی بڑھتی عمر اور سرد ہونے کے ساتھ اس کا اندرون بتدریج حل پذیری اور تحتی تداخل(قشر زمین کے کسی بھی تختے یا قطعے کا نیچے اور پہلو کی طرفکھسک کر کسی دوسرے تختے کے نیچے گھسنے ) کے عمل میں کئی عناصر کو کھوتا جا رہا ہے۔ زمین کے اندرون میں چاندی کی تقابلی نسبت نیوبیئم سے تھوریم اور ہیلیئم کے دو ہم جاؤں (4He/3He) کا موازنہ کریں تو زمین کی تخلیق کے وقت سے لے کر اب تک گردشی چکر میں تبدیلی(بجائے بتدریجی عمل )کے نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق ٹیکٹونک کی پلیٹوں کی سرگرمی گزرے وقت کے دوران سست ہو گئی ہے بلکہ اکثر اوقات تو رک بھی گئی تھی اور پھر بعد میں دوبارہ شروع ہوئی۔ یہ چکر پچھلے تین سے چار ارب سال میں کئی دفعہ ہوتا ہوا نظر آیا ہے۔

ڈائنا ویلنشیا اور رک ا و کونیل کے ساتھ کام میں ہم نے اس بات کی تفتیش کی تھی کہ کیا ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرگرمی فوق ارضی سیاروں میں زیادہ ، کم یا پھر زمین کے جتنی ہی ہوگی۔ اس بارے میں اب تک کوئی چیز زیادہ واضح نہیں تھی - جب ٹیکٹونک پلیٹوں کی بات آتی ہے تو کوئی بھی چیز سادہ نہیں لگتی ہے۔ ایک طرف ہم یہ کہتے ہیں کہ فوق ارضی سیارے اپنے اندرون میں(ارب ہا برس گزرنے کے بعد ) بہت گرم ہوں گے کیونکہ وہ بڑے ہیں۔ اندرون میں زیادہ درجہ حرارت کا مطلب زیادہ ابال ہے یوں زیادہ حرکت اور غلاف میں زیادہ توانائی پیدا ہوگی جو زیادہ دباؤ، دھکیل اور پرت پر نیچے کی جانب سے زور لگائے گی ۔ قدرتی طور پر اس کے نتیجے میں توڑ پھوڑ ہوگی کیونکہ ان کو اوپر نیچے سے دھکا لگے گا جس کے نتیجے میں تحتی تداخل وقوع پذیر ہوگا اور ہلکے عناصر بھاری اور کثیف عناصر سے اوپر آ جائیں گے۔ بدقسمتی سے اس کا ایک اور بھی اثر ہوگا جس کو ہمیں مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے ، بہتے ہوئے غلافی مادّے کی چپچپاہٹ کا درجہ حرارت پر کافی زیادہ انحصار ہوتا ہے - جیسا کہ شہد کو جب ہم گرم کرتے ہیں تو وہ آسانی کے ساتھ بہہ کر گرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے : اگرچہ فوق ارضی سیارے گرم تو ہوتے ہیں اور ان کا غلاف بھی تیزی سے ابلتا ہے ، تاہم گرم غلاف کم چپچپا ہوتا ہے اور ٹھوس پرت کو کھسکائے بغیر خود آسانی کے ساتھ کھسک سکتا ہے۔ جیسا کہ سائنس دان کہتے ہیں کہ دونوں اثر ایک دوسرے کو زائل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جو سب سے اہم بات ہے۔ جب ہم مزید احتیاط کے ساتھ اس سرگرمی کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ایک تیسرا اثر ملتا ہے جو سب کچھ بدل ڈالتا ہے۔ بلند درجہ حرارت فوق ارض کو دبیز پرت بنانے دیتا ہے۔ بالآخر ہمارے پاس تمام فوق ارضی سیاروں کے بارے ایک بہت ہی طاقتور نتیجہ نکلتا ہے - کم ہوتی پرت کی دبازت اور بڑھتا ہوا غلافی دباؤ مل کر توانا اور صحت مند ٹیکٹونک پلٹوں کی سرگرمی پیدا کرتے ہیں۔

زمین کا موازنہ اگر ہم مختلف حجم کے نظریاتی فوق ارضی سیاروں سے کریں تو ہمیں زمین جیسے پائیدار سیاروی ماحول کی کافی زرخیز بوقلمونی ملے گی۔ حقیقت میں ہم ایسے سیاروں کے خاندان کو پاتے ہیں جس میں زمین بمشکل شامل ہے ۔ یہ سیارے اس گروہ میں اپنی کمیت ، ٹیکٹونک سرگرمی اور لمبے عرصے تک درجہ حرارت کی پائیداری کی وجہ سے شامل ہیں۔ چھوٹے ہونے کی وجہ سے زمین کئی قسم کے کائناتی حادثوں کا زیادہ شکار ہو سکتی ہے۔ اپنے مادری سیارے کے تعصب سے قطع نظر زمین اس سیاروی خاندان میں کوئی بہت ہی ہونہار بچہ نہیں ہے ! یہ زمینی وطن پرستی کرنے والوں کے لئے ایک بری خبر ہوگی ، تاہم یہ کائنات میں حیات کی موجودگی کے لئے ایک بہت ہی زبردست خبر ہوگی - کائنات میں حیات کے لئے کافی اچھی جگہیں موجود ہیں جہاں اس کا ظہور ہو سکتا ہے اور وہاں وہ ایک لمبے عرصے تک قائم و دائم بھی رہ سکتی ہے۔

ہمارے لئے سوال یہ ہے کہ فی الوقت سیاروں کا کیا شمار ہے ؟ حیات کا خاندان کتنا بڑا ہو سکتا ہے ؟
 

ابو کاشان

محفلین
اس کو پڑھ کر پی ٹی وی کی "کوسموس" سیریز یاد آ گئی جو 80-90 کی دہائی میں جمعہ کو دس-گیارہ بجے صبح آتی تھی۔
 

زہیر عبّاس

محفلین
فوق ارضی سیاروں کی زندگی ...از دیمیتر سیسی لوف

حصّہ دوم - حیات کا ماخذ

باب یازدہم


وقت کا سفر

کائنات نوخیز ، حیات نوخیز تر ہے۔


ہماری کہانی میں وقت کے سفر کو سمجھنا بہت ضروری ہے تاکہ حیات کو کائنات کے پس منظر میں سمجھا جا سکے۔

جہاں میں کام کرتا ہوں اس کی عمارت کے برابر میں ہارورڈ کالج رصد گاہ واقع ہے جو ١٨٣٩ء میں تعمیر ہوئی تھی۔ یہ ہارورڈ صحن کے اوپر پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے۔ یہاں سے پہاڑی بمشکل نظر آتی ہے۔ اس کے چہار اطراف میں اونچے درخت اور عمارتیں موجود ہیں۔ بننے کے وقت سے لے کر اب تک کافی چیزیں ،آبادی ، ترقی، عمارتوں اور ارضی منظروں کی وجہ سے بدل چکیں ہیں۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود جو چیز نہیں بدلی ہے وہ پہاڑی کی قدیمی گرینائیٹ کی چٹانیں ہیں۔

خوش قسمتی سے ہمارے سیارے پر موجود ٹیکٹونک سرگرمی نے اصل میں ان چٹانوں کو جب سے یہ رصد گاہ میسا چوسٹس کی باقی چیزوں اور پورے شمالی امریکہ کے ساتھ بنی ہے، مغرب میں 3.2 میٹر تک (میرے کار کی لمبائی جتنا) دھکا دیا ہے۔ اس حرکت کے بارے میں عام طور پر ہم نہیں جانتے ہیں۔

براعظم اس شرح سے حرکت کرتے ہوئے مکمل طور پر بیس کروڑ سال میں از سر نو ترتیب پا سکتے ہیں۔ مزید براں ہم اس حرکت کی آزاد ذرائع سے حاصل ہونے والے ثبوتوں سے بھی تصدیق کر سکتے ہیں ۔ یہ ثبوت ہمیں دنیا میں موجود چٹانوں کی پرتوں کی جانچ سے حاصل ہوتے ہیں۔ یہ ہمہ وقت بدلتے سیارہ زمین کے ارضیاتی نقشے براعظموں کی از سرنو ترتیب کے چکر کے ساتھ بناتے ہیں۔

میں جب بظاہر اس غیر متغیر امر واقعہ کو دیکھتا ہوں مثال کے طور پر زمین کے پہاڑوں کی ارضیات کو - تو میں کوشش کرتا ہوں کہ اپنے دماغ میں یہ بات ڈال سکوں کہ میں ایک ایسی مخلوق بن گیا ہوں جو ارب ہا برس سے زندہ رہ رہی ہے۔ ان کے دل کی ایک دھڑکن ہمارے ایک ہزار برس کے برابر ہے جبکہ ان کا ایک منٹ ہمارے اسی ہزار برس کے برابر ہوگا۔ میں زمین سے اوپر ارضی ساکن مدار میں محو گردش موسمی سیارچوں میں معلق ہوں۔ مجھے زمین کیسی دکھائی دے رہی ہے ؟ جب میں دیکھتا ہوں تو براعظم مکمل طور پر از سر نو ترتیب پائے ہوئے نظر آتے ہیں - بڑے چھوٹوں میں بٹ گئے ، اور ایک دوسرے سے بہہ کر دور جا رہے ہیں اور اس چکر میں ایک دوسرے سے شائستگی کے ساتھ ٹکرا کر ضم ہوتے ہوئے پہاڑوں کی صورت میں نمودار ہو رہے ہیں، تہ ہور ہے ہیں اور اس عمل میں کٹ پھٹ بھی رہے ہیں۔ میرے ان نئی آنکھوں کے سامنے نیا سیارہ اب ٹھوس اور غیر متغیر نہیں رہا بلکہ ایک بہتا ہوا اور متحرک بن گیا جس طرح سے چولہے پر کوئی برتن رکھ کر گرم کیا جاتا ہے۔

ایسا کوئی بھی منظر وقت کے سفر میں اتنا زیادہ دلفریب نہیں ہوگا۔ ایک پتنگا بن کر سوچیں جس کی حیات صرف ایک دن کی ہی ہے۔ ممکن ہے اس کی نظر میں ہری بھری چراگاہ اور سبز جنگل ابدی ہو۔ جب بات سیارہ ارض کے چکر کی آتی ہے تو ہم انسان اس پتنگے کی طرح پتیوں کو ہوا میں گرتا ہوا دیکھتے ہیں تاہم موسم کے گزرنے کا احساس نہیں کرتے۔ زمین پر حیات چار ارب سال پہلے سے موجود ہے اور ارضیاتی" موسموں "اور سیاروی تقلب کے تابع ہے۔

اگر ہم حیات کی تاریخ کے بارے میں اپنے وقت کے پیمانے کے بجائے حیات کے وقت کے پیمانے پر سوچیں تو اہم عوامل سامنے ابھر کر آئیں گے۔ مثال کے طور پر حیات زمین پر پچھلے چار ارب سال سے موجود اور نشو نما پا رہی ہے ۔ حیات کی اس عمر کا کائنات کی لگ بھگ ١٤ ارب سال کی عمر سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی اہم حقیقت ہے جس کو سائنس دان "غیر معمولی حقیقت "کہتے ہیں۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حیات کی نمو اور ارتقاء سیاروی، ستاروی یہاں تک کہ کہکشانی نظام کی تشکیل و ارتقاء کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ کئی طریقوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ حیات کی ارتقاء کا عمل ایک "عام " کائناتی عمل ہو۔

دوسری طرف ہم یہ بات بنی نوع انسان کے لئے نہیں کہہ سکتے کیونکہ وقت کا پیمانہ دونوں کے لئے ایک جیسا نہیں ہے۔ سب سے قدیم انسانی باقیات صرف بیس لاکھ سال پہلے کی ہیں۔ انسان کو جس چیز نے مختلف بنایا ہے وہ ہے زبان اور ٹیکنالوجی جو دونوں حال ہی میں شاید صرف چالیس ہزار برس پہلے ہی نمودار ہوئی ہیں۔

انسان اور کائناتی وقت کے پیمانے پر موجود تفاوت بہت ہی زیادہ ہے۔ جبکہ حیات کی تاریخ اور انسانی تاریخ میں ایک اور ایک لاکھ کی نسبت ہے۔ اس نسبت کی بھی اپنی انتہائی اہمیت ہے۔ یہ دو باتوں کی جانب اشارہ کرتی ہے : (١) یا تو بہت ہی مختصر عمل (انسانی سماج کا ارتقاء ) بہت ہی طویل عمل کے دوران نمودار ہوا ہے ؛(٢)یا پھر ہم کچھ زیادہ ہی خوش قسمت واقع ہوئے ہیں کہ ایک انتہائی مختصر عرصے کے عمل کی ابتداء میں موجود ہیں۔ موخّرالذکر کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس پیش بینی کی بہت ہی مختصر صلاحیت ہے۔

پیش خبری کی صلاحیت کا حامل ہونا سائنس کی دنیا میں انتہائی اہم ہوتا ہے کیونکہ زیادہ تر حالات میں اس کا مطلب رواں حالات کی ٹھوس سمجھ بوجھ ہے۔ کیونکہ ہم قانون ثقل کو سمجھ سکتے ہیں لہٰذا مستقبل میں چاند کے مدار میں اس کی جگہ کی پیش بینی کر سکتے ہیں اور اس کے بعد ہم خلائی جہاز کو بھیج کر اس کی سطح پر انتہائی درستگی کے ساتھ اتر سکتے ہیں۔ دوسری شرط وقت کا موازنہ واضح طور پر اپنی محدودیت کی وجہ سے ایک بدقسمت انتباہ ہوگا۔

دوسری طرف پہلی حالت کافی ترسا دینے والی ہے ! یہ ہمیں بتاتا ہے کہ سیاروی عمل (حیات بذات خود) حیات کی اشکال (انسان)کے ارتقاء کے لئے سیاروی وقت کے پیمانے پر لازمی ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ شاید حیات ایک کائناتی مظہر ہے جو سیاروں پر سیاروی وقت کے پیمانے پر ارتقاء پاتی ہے لیکن یہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتی ہے جو سیاروی پیمانے پر دوسرے سیاروں سے جداگانہ طور پر نمو پانا شروع کر دیتی ہے یعنی کہ یہ کسی مخصوص سیاروی وقت پر انحصار نہیں کرتی بلکہ اپنا ہی علیحدہ سیاروی وقت بنا لیتی ہے جس کے ساتھ ساتھ یہ ارتقاء پاتی ہے یا کم از کم اپنا ماحول بدل دیتی ہے۔ بہر کیف یہ عمل اس سطح پر پہنچنے کے لئے ایک طویل سفر کرتا ہے۔ دوسری حالت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ انسان جیسی حیات سیاروی وقت کے پیمانے کا حصّہ ہے اور بالآخر یہ اس عمل کے آخری حصّے میں نمودار ہوتا ہے تاہم یہ عمل لمبے عرصے تک قائم رہنے والی کائنات کی ساتھ چلتا نہیں ہے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔
 
آخری تدوین:

زہیر عبّاس

محفلین
فوق ارضی سیاروں کی زندگی ...از دیمیتر سیسی لوف

حصّہ دوم - حیات کا ماخذ

باب یازدہم - حصّہ دوم


وقت کا سفر

کائنات نوخیز ، حیات نوخیز تر ہے۔

کم از کم اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہ عمل کائنات کے ساتھ چلنے کے قابل تو ہے - انسانوں نے یہ بات چاند کی سطح پر اتر کر تو ثابت کی۔ کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں موجود میرے ایک رفیق اس بات کو اکثر دہراتے ہیں کہ اگر قانون طبیعیات کسی عمل کی اجازت دیتا ہے تو کائنات میں وہ عمل کہیں پر وقوع پذیر ہو رہا ہوگا۔ تفنن برطرف ، لیکن ہمارے امکان اور معقولیت کو جانچنے میں ایک گہری سچائی موجود ہے۔ میرے مطابق صرف سیارے کے وجود کے موافق قابلیت کے بھروسے پہلے ہی آج سیارہ زمین پر ہمارا وجود اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ ایسا کائنات میں کہیں اور بھی ( کسی اور وقت !) ہو سکتا ہے چاہے ہم اپنا وجود برقرار رکھ سکیں یا نہیں۔ اس موافقت پذیری کے وقوع پذیر ہونے کا انحصار اس بات پر ہے کہ کیا ہماری کائنات میں حیات کے مستقبل کو دوام دینے کی صلاحیت ہے۔ کیا حیات کے ماخذ کا دور اپنے جوبن پر ہے یا اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے ؟ یا شاید اس کی ابھی شروعات ہی ہوئی ہے ؟

سائنس دان اس سوال کا جواب دینے کے لئے بالکل بے بس ہیں ، بہرکیف اب وہ تھوڑا بہت حیات کے مہربان ماحول کے ارتقاء کے بارے میں جانتے ہیں۔ حیات کو بطور سیاروی مظہر سمجھنے کا عمل سائنس دانوں کو مستقبل کے بارے میں نئی پیش گوئیاں کرنے کے قابل بناتا ہے۔ حیات سے متعلق وقت کے پیمانے کے مراتب کافی دلچسپ ہیں اور یہ امکانی حیات کے پیمانے کے ساتھ گندھے ہوئے ہیں۔ بڑا سالماتی پیمانہ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں اوسطاً 10-7 میٹر ہوتا ہے اور ایک ڈی این اے کا اپنی نقل بنانے کا کیمیائی عمل 10-3 سیکنڈ میں انجام پذیر ہو جاتا ہے۔ یہ جوہری پیمانے پر کافی سست رفتار ہے کیونکہ اس پیمانے پر ننھے حجم یعنی 10-7میٹر پر پھیلے ہوئے جوہر بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ بہرکیف یہ کسی بھی سیاروی عمل کے مقابلے میں بہت ہی برق رفتار عمل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حیات بطور ایک عمل (یا اعمال کا مجموعہ ) ایسا مظہر ہے جس کے پاس ڈھلنے ، جماعت میں رہنے یا صرف قائم رہنے کے لئے لمبے ارضیاتی پیمانے مثلاً عالمگیر درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ یا براعظموں کی از سرنو ترتیب ؛ کا وقت موجود ہے ۔ لیکن کیمیائی عمل تو کیمیائی عمل ہوتا ہے اور سیاروی ارضی کیمیائی عمل زیادہ تر درپردہ دسیوں ہزار کیمیائی عمل کا مجموعہ ہوتا ہے۔ لہٰذا تمام انفرادی ارضی کیمیائی عمل ایک جیسے (مختصر) وقت کے پیمانے پر بعینہ اس طرح جیسے انفرادی حیاتیاتی کیمیائی عمل نمودار ہوتے ہیں جو حیات کے عمل کو تشکیل دیتے ہیں۔

پھر کس طرح سے حیات کا عمل سیاروی ماحول کی تباہ کن کیمیا کے بل بوتے پر نمودار ہو گیا؟ اگر ان کو پورا کرنے کے لئے اتنا ہی وقت درکار ہوتا ہے تو عام کیمیا اس میں جیت جائے گی۔ حیات اور اس کی حیاتیاتی کیمیا کو غلبہ حاصل کرنے کے لئے اپنا وقت کا پیمانہ مختصر کرنا ہوگا۔ زمین پر حیات دو ترکیبوں کی مدد سے مسابقت حاصل کرتی ہے۔ ایک ترکیب میں تو اپنے اس عمل کو اسراع دینے کے لئے خصوصی سالمات (عمل انگیز خاص طور پر خامرے کہلانے والے سالمات)سے حاصل شدہ مدد ہے ؛ اور دوسری ترکیب ان کے کام کرنے کے انداز پر قابو رکھنا ہے۔ با الفاظ دیگر ، حیاتیاتی کیمیا ستھرے طریقے سے تعاملات کی ترتیب کا حکم دیتی ہے جو اس عمل (جیسا کہ توانائی کا ذخیرہ اور اس کا اخراج ، خول بنانا وغیرہ )کو بہت اچھی طرح اور تیز رفتاری سے سرانجام دیتا ہے۔ مزید براں ایک خاص سالمہ ان احکامات کے سلسلے پر نظر رکھتا ہے تاکہ ان احکام کو ہر مرتبہ دوبارہ ایجاد نہ کرنا پڑے۔ ہم ان سالمات کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں - ہم سب کے پاس یہ موجود ہوتے ہیں اور ان کو ہم ڈی این اے اور آراین اے کہتے ہیں۔

حیات پر موجود موروثی سالمات ، ڈی این اے اور آراین اے بہت ہی منفرد اور ارضی حیاتی کیمیا میں فراواں موجود ہیں۔ ان کی پیچیدگی ایک طویل ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ یہ بات انتہائی دلچسپی کی حامل ہے کہ سالمہ میں ایک رمزی سلسلے والی ساخت ہو سکتی ہے جو اس رمز کی نقل کرکے آگے موروثیت کی شکل میں منتقل بھی کر سکتی ہے۔ بعینہ ایسے ہی آراین اے بھی دلچسپی کا حامل ہے اور یہ بات کئی مرتبہ تجربہ گاہ میں ثابت ہو چکی ہے کہ یہ اپنے عمل انگیزی کی نقل کرنے کے قابل ہے۔ ان دونوں کی ان خصوصیات کے سبب حیاتی کیمیا کے وقت کا پیمانہ بہت ہی مختصر ہو جاتا ہے - تیز رفتار شرح جو سیاروی ماحول کے تباہ کن کیمیا کے سینے پر نمو پا سکتی ہے۔

کائنات میں طویل عرصے تک اپنی شناخت رکھ سکنے والے اجسام یا تو کافی بڑے( مثلاً کہکشائیں ) ہیں یا پھر کافی پائیدار (مثلاً ستارے اور سیارے ) ہیں۔ ہمارا سورج ایک ایسا ستارہ ہے جو اپنی 10 ارب سال کی عمر کے دوران انتہائی کفایت شعاری سے اپنا ایندھن خرچ کرے گا؛ درحقیقت یہ انتہائی پائیدار ستارہ ہے۔ لیکن حیات ان دو ترکیبوں کے طفیل ایک تیسری چیز پیش کرتی ہے۔ اپنے انفرادی ، مختصر دورانیے کی حیات اور مقامی جاندار اکائیوں کی بدولت، جو بدلتی فضا سے تیز کیمیا گیری کرتے ہوئے ماحول کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت کی لچک رکھتے ہیں ، حیات ثابت قدم اور دیرپا رہتی ہے۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر یہ مقامی اور مختصر عرصے والی حیات لمبے عرصے زندہ رہنے والی حیات اور عالمگیر موجودات مثلاً پوری آبادی یا نوع سے متوازن رہتی ہے۔ یہ بڑی جماعتیں کافی لچک دار ہوتی ہے اور اپنے اراکین کو زندہ رہنے کے لئے مختلف چیزوں کی کوششوں کو جاری رکھنے کی اجازت دیتی ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی ایجاد ہے !ہم صرف یہ بات جانتے ہیں کہ اس کے وسیلے سے حیات ایک ایسا کائناتی مظہر ہو سکتی ہے جو ایک دفعہ نمودار ہو جائے تو پھر ایک غیر معین وقت تک جاری رہ سکتی ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔
 

زہیر عبّاس

محفلین
فوق ارضی سیاروں کی زندگی ...از دیمیتر سیسی لوف

حصّہ دوم - حیات کا ماخذ

باب یازدہم - حصّہ سوم


وقت کا سفر

کائنات نوخیز ، حیات نوخیز تر ہے۔

انسانی حیات کا وقفہ نہایت مختصر ہے ، لیکن بطور نوع ہم ہمیشہ مستقبل بعید کے بارے میں سوچتے اور منصوبے بناتے ہیں۔ ماضی میں اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا تھا کہ اپنی اس نسل کی فکر کرنا جو ہم سے زائد مدت تک سیارہ زمین کو اپنا مسکن بنائے رکھے، ہم مستقبل کے منصوبے بطور سماج بناتے ہیں۔ مکان و زمان کے افق سے بھی دور تک پرواز کرتے ہمارے مجرد خیالات کو سوچنے کی قابلیت ہی ہماری سب سے منفرد اور اہم خاصیت ہے۔ خرد بینی حیات کائنات کی جانب سے پھینکے جانے والے اکثر ہتھیاروں سے بچ کر اپنا وجود برقرار رکھنے کے قابل ہے لیکن جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ سورج ایک دن اس سیارے پر حیات کے خاتمے کا سبب بن جائے گا۔ اگر ماضی میں محدود سیاروی حیات میں کوئی چیز ثابت قدم رکھ سکی ہے تو وہ صرف ہماری سوچنے کی صلاحیت ہی ہے۔

حیات بطور سیاروی مظہر کے استدلال کے علاوہ دوسرے اہم مضمرات بھی ہیں۔ اکثر ہم کائنات میں اپنا مقام ایسا سمجھتے ہیں جیسا کہ ہم اپنی زندگی کا مشاہدہ اور اپنے رہنے والی جگہ کا سمجھتے ہیں۔ اسی لئے ہار ورڈ کالج رصدگاہ کے چٹانوں کے ٹکڑوں کو دائمی سمجھنا ہمارے لئے انتہائی آسان ہے ، ہم ایک ایسی دائمی اور جامد کائنات کا تصوّر کرتے ہیں جہاں ہم اور حیات پیدا ہوئے ہیں ، پروان چڑھے ہیں اور عمر کی منزلیں طے کی ہیں ؛ ہم تو صرف کئی نسلوں میں سے ایک ہیں، لیکن کائنات بذات خود ہمارے وہم و گمان سے بھی کافی زیادہ عمر کی ہے۔

یہ بہت ہی جھوٹی بات ہے! ہم جانتے ہیں کہ کائنات ایک محتاط اور اب تک کے بہترین لگائے ہوئے اندازوں کے مطابق لگ بھگ چودہ ارب برس پرانی ہے جبکہ زمین پر حیات صرف چار ارب سال پرانی ہے : حیات اور کائنات قریب قریب ہم عصر ہی ہیں۔ اس بات کو ہم اپنے سمجھنے کے لئے کچھ ایسے کہے دیتے ہیں ، اگر کائنات کی عمر ٥٥ برس کی ہے ، تو حیات کی عمر سولہ سال کی ہو گئی۔ مزید براں یہ کہ کائنات میں کچھ بھی مستقل یا دوامی نہیں ہے۔

یہ تمام باتیں گھما پھرا کر ہمیں پھر اسی سوال کی جانب لے جاتی ہیں ، ہمارا اس نوجوان دنیا میں کیا مقام ہے ؟ یہ ایک نہایت ہی عمیق سوال ہے، اور بہت سارے ایسے طریقے موجود ہیں جس میں یہ بات پوچھی جا سکتی ہے۔ ان میں سے ایک تو سادہ طور پر یہ سوال ہے کہ کیا ہم اکیلے ہیں ؟ میں اس سوال کا ایک ہی حصّہ زیر بحث کروں گا جو زیادہ تر کائنات کے متعلق ہماری حالیہ سمجھ بوجھ کے ارد گرد گھومے گا جس سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ کائنات ابھی تو اپنے عہد شباب میں ہے اور یہ اب بھی تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہی ہے۔

کئی وجوہات کی بنا پر اس سوال کا جواب مثبت ہو سکتا ہے۔ ان میں سے ایک بات تو یہ ممکن ہے کہ ہم (صرف انسان نہیں بلکہ حیات ) اکیلے ہی ہوں کیونکہ حیات ایک انتہائی عنقا چیز ہو سکتی ہے اور کائنات کی تیرہ ارب ستر کروڑ برس کی تاریخ میں صرف ہم نے ہی جنم لیا ہو۔ دوسری طرف ہم اس لئے بھی اکیلے ہو سکتے ہیں کہ ہم بعد میں اس جہاں میں آئے ہیں۔ ہمارے سورج اور زمین کے جنم سے پہلے نو ارب سال کا عرصہ گزر چکا تھا ، لہٰذا یہ امکان اپنی جگہ موجود ہے کہ ہمارے علم میں آئے بغیر حیات کائنات میں کسی جگہ پہلے ہی نمودار ہو کر اپنی عمر تمام کر چکی ہے۔ یا ہو سکتا ہے کہ ہم پہلے ہوں!

اس بحث کا اہم حصّہ خود ساختہ فرمی کا تناقض ہے ، اس کو ایک شہرہ آفاق طبیعیات دان اینریکو فرمی کے نام پر یہ سوال اٹھانے کی وجہ سے رکھا تھا "وہ کہاں ہیں ؟" اس سوال کے پیچھے یہ قیاس موجود ہے کہ اگر جدید تہذیبیں موجود ہیں تو فلکیات دانوں کو ان کا مشاہدہ کرنا چاہئے۔ کیونکہ یقینی طور پر کسی بھی جدید تہذیب کو اس قدر قوّت کا حامل ہونا چاہئے کہ وہ کہکشاں کو اس حد تک بدل سکے کہ ہم اس کا مشاہدہ کر لیں۔ فرمی دلائل دیتا ہے کہ کائنات کی لمبی عمر اور انسانی ٹیکنالوجی کو مختصر وقت کے پیمانے پر ترقی حاصل کرنے کے امکان کو مد نظر رکھتے ہوئے، ہماری کہکشاں میں موجو ہم سے عمر میں برتر د دوسری تہذیبیں اور حیات کے ماخذ غیر معمولی طور پر ہم سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہوں گے۔ زیادہ ترقی یافتہ ہونے کی صورت میں ان کی توانائی کی ضرورت نجمی اور کہکشانی سطح کی ہو گی جس کا ہم صرف مشاہدہ کرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں کر سکتے۔ اگر ہم نے ابھی تک کسی چیز کا مشاہدہ نہیں کیا ہے تو اس بات کا غالب امکان ہے کہ ہم اپنی کہکشاں میں اکیلے ہی ہیں اور ٹیکنالوجی کی حامل تہذیبیں بہت ہی نایاب ہوں گی۔( مجھے یہاں پر آرتھر کلارک کا وہ جملہ یاد آتا ہے : کسی بھی جدید تہذیب کی ٹیکنالوجی کو جادو سے علیحدہ کرنا مشکل ہوگا ،" یہ جملہ مجھے میرا اعتماد اس بات پر کم کر دیتا ہے ہمیں معلوم ہی نہیں ہوگا کہ ہمیں کیا دیکھنا ہے ۔)

١٩٩٠ء میں ہار ورڈ کی طبیعیات کے شعبے کے پال ہوروویٹز(Paul Horowitz) نے ہرب یارک (Herb York)اور فل موریسن(Phil Morrison) کے فرمی کے مشہور سوال کے ماخذ کے یاد داشتی کام کو قلمبند کیا۔ لوس الاموس میں ١٩٥٠ء کی گرمیوں کا موسم تھا جب متعدد امریکی طبیعیات دان جمع ہوئے تھے، یہ مین ہٹن منصوبے کے چند برسوں بعد کی بات ہے جس میں ہائیڈروجن بم بنایا گیا تھا۔ فرمی کو طبیعیات دانوں سے کھانے کے دوران کے وقفے میں اپنے اس خطیبانہ سوال کا پوچھنا اور پھر اس کا جواب دینا نہایت پسند تھا۔ یارک کے یاد داشتی کام کو قلمبند کرنے کے مطابق کسی ایک ایسے ہی موقع پر اس نے اپنی میز کے گرد موجود بیٹھے لوگوں سے پوچھا ،" آپ لوگوں کو کبھی حیرت نہیں ہوئی کہ سب لوگ کہاں ہے ؟" فرمی نے کہکشاں میں موجود ستاروں اور ان میں موجود نظام ہائے سیارگان کی کثرت و فراوانی اور ان کی قدیمی عمر کو مد نظر رکھتے ہوئے دلائل دیے ، اگر حیات کہیں اور پروان چڑھ گئی اور اس نے ٹیکنالوجی بھی حاصل کر لی تو وہ ہم سے کہیں زیادہ جدید ہوگی اور ایسی کسی تہذیب نے کہکشاں میں اپنی بستیاں قائم کر لی ہوں گی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔
 

زہیر عبّاس

محفلین
فوق ارضی سیاروں کی زندگی ...از دیمیتر سیسی لوف

حصّہ دوم - حیات کا ماخذ

باب یازدہم - حصّہ چہارم


وقت کا سفر

کائنات نوخیز ، حیات نوخیز تر ہے۔

١٩٧٠ء کی دہائی میں مائیکل ہارٹ نے ثابت کیا کہ فرمی کے نتائج شماریات کے حوالے سے نہایت ٹھوس تھے۔ بہرکیف شماریاتی دلائل صرف اس وقت ہی مضبوط ہوتے جب پیچیدہ حیات کا ظہور کائنات کی عمر سے کہیں زیادہ نوخیز ہوتا۔ اگر دونوں کی حیات ایک دوسرے کے مماثل ہوتی تو پھر یہ دلیل کام نہیں کرتی تھی۔

فرمی نے اپنا نقطۂ نظر ١٩٥٠ء جبکہ ہارٹ نے ١٩٧٠ء کے عشرے میں دیا تھا۔ ان دونوں ادوار میں ہمارے رفیق ماہرین فلکیات کا اس بات پر اجماع تھا کہ کائنات کی عمر ١٠ سے ١٥ ارب سال سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت کائنات کی عمر کا تخمینہ کچھ بیس سے پچیس ارب برس کا تھا جبکہ کچھ تو کائنات کو مستقل حالت کی دائمی کائنات مانتے تھے۔ جبکہ اس دور میں ارضیاتی وقت کا پیمانہ اچھی طرح سے چار ارب سال کا سمجھا جا چکا تھا۔

تب سے لے کر بیسویں صدی کے اختتام تک طبیعیاتی فلکیات میں بے نظیر انقلاب کی بدولت بہت سارے رازوں سے پردہ فاش ہو چکا تھا۔ پچھلے دس پندرہ بر سوں میں سائنس دانوں نے اس انقلاب کی بدولت جو رائے قائم کر لی تھی وہ فرمی کے تناقض اور کائنات میں حیات کے مستقبل کے بارے میں کافی مدد کر سکتا ہے۔ تاریخ کی کافی چیزیں بہت ہی سلیقے سے استوار کر لی گئی ہیں جن میں سے زیادہ تر کے براہ راست ثبوت بھی مل چکے ہیں۔ کہانی کچھ اس طرح ہے :

روشنی اپنی محدود رفتار کے باوجود ایک عظیم ٹائم مشین ہے ؛ فلکیات دان اپنی دوربینوں کا رخ دور دراز اجسام کی طرف کرکے ان کے ماضی میں جھانک سکتے ہیں۔ لہٰذا جب ہم فلک کے ماضی میں جھانکتے ہیں تو ہم تیرہ ارب ستر کروڑ سال پہلے کے وقت میں جھانک رہے ہوتے ہیں جب تمام قابل مشاہدہ کائنات گرم ہائیڈروجن اور ہیلیئم گیس کا ملغوبہ تھی جس میں کہیں کہیں لیتھیم بھی موجود تھی۔ رات کے آسمان میں موجود ہمارے شناسا اجسام - کہکشائیں ، ستارے ، سیارے کچھ بھی وجود نہیں رکھتے تھے۔ مزید براں دوسرے کیمیائی عناصر بھی موجود نہیں تھے۔

فلکیات دان اس دور کا براہ راست مشاہدہ اپنی حساس حرارت ناپنے والی دوربینوں کے ذریعہ کر سکتے ہیں جو انہیں کائناتی پس منظر کی شعاعوں یا عرف عام "سی بی ایم" کا مشاہدہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ جب پہلے پہل فوق توانا ذرّات جوہروں کی صورت میں جڑ کر کائنات میں موجود تمام ہائیڈروجن کو بنا رہے تھے تو اس وقت روشنی کا جو اخراج ہوا سی بی ایم اس کی باقیات ہیں ۔ روشنی کو اس طرح سے خارج کرنے کے پورے عمل میں صرف بیس ہزار برس لگے۔ اس روشی کا زیادہ تر حصّہ جب سے ہمارے پھیلتی اور سرد ہوتی کائنات میں محو سفر ہے۔ دور حاضر میں یہ مہین ہو کر لمبی طول موجوں کی طرف تبدیل ہو گئی ہیں ۔ اس طرح سے جو بصری روشنی تھی وہ خرد اور ریڈیائی امواج میں تبدیل ہو گئی ہیں۔

سی بی ایم نے بذریعہ حرارت ، حرارتی بدلاؤ اور تقطیب - ایک لطیف پیمانہ جو سی بی ایم امواج کے خم کو ناپتا ہے ، اطلاعات کا خزینہ اپنے اندر چھپا رکھا ہے۔ ان کی پیمائش حاصل کرنا ایک مشکل اور دقیق عمل ہے ۔ ماضی کے چند عشروں میں ہونے والی دونوں زمینی اور خلائی مثلاً کوبی، ڈبلیو میپ اور پلانک ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت کی بدولت ان پر تحقیق کرنا ممکن ہو سکا ہے۔ اس سے حاصل کردہ براہ راست نتیجوں نے واضح طور پر یہ بات ثابت کی ہے کہ کائنات میں آج سے تیرہ ارب ستر کروڑ سال پہلے حیات کے آمیزے کے لئے تو کیا بلکہ سیاروں کے لئے بھی کسی بھی قسم کے اجزاء موجود نہیں تھے اگر کچھ موجود تھا تو وہ ہائیڈروجن اور ہیلیئم ہی تھی۔

کہانی کو آگے بڑھانے سے پہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ ابتدائی کائنات میں ہونے والے کچھ مختلف واقعات کا تسلسل بیان کیا جائے۔ کائنات کی عمر کا تخمینہ تیرہ ارب چھتر کروڑ (دس کروڑ برس کی کمی بیشی کے ساتھ )لگایا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم قطعیت کے ساتھ یہ بیان نہیں کر سکتے کہ کائنات کی عمر تیرہ ارب ساٹھ کروڑ ہے یا تیرہ ارب اسی کروڑ ہے یا پھر ان دونوں کے درمیان کہیں پر ہے۔ اس کے باوجود کچھ واقعات کے وقت کو انتہائی درستگی کے ساتھ اضافی اصطلاح میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اس طرح سے مختلف واقعات کے وقوع پذیر ہونے والے وقت کا حوالہ اس وقت سے آسانی کے ساتھ دیا جا سکتا ہے جب وقت کا آغاز ہوا تھا جس کو بگ بینگ کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر سی بی ایم بگ بینگ کے آغاز کے کچھ تین لاکھ اسی ہزار سال کے بعد خارج ہونا شروع ہوئیں۔ سی بی ایم کا وقت ایک پیمائش ہے اور اس سے پہلے کی چیزیں تبدیل نہیں ہوں گی چاہے کائنات کی عمر (یعنی کہ بگ بینگ کی شروعات ) تیرہ ارب ساٹھ کروڑ سال ہو، تیرہ ارب ستر کروڑ سال ہو یا تیرہ ارب اسی کروڑ سال ہو۔ متبادل طور پر اگر ہم بگ بینگ کی عمر تیرہ ارب ستر کروڑ فرض کر لیں تو یہ واقعہ (جو بعد میں سی بی ایم کی تخلیق کہلایا ) تیرہ ارب انہتر کروڑ ستانوے لاکھ برس پہلے رونما ہوا ہوگا۔

چلیں اب اپنے قصے کی طرف واپس چلتے ہیں۔ ہمیں اس واضح سوال کا جواب درکار ہے، تمام اجزائے ترکیبی - تمام کیمیائی عناصر جیسا کہ کاربن ، آکسیجن ، سلیکان اور لوہا کہاں سے آئے ؟ اس کا جواب سب کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ یہ عناصر ستاروں سے بعد میں بنے۔ یہ بات ہمیں کائنات میں ہونے والے دوسرے اہم واقعے کی طرف لے جاتی ہے یعنی کہ ستاروں کی تخلیق۔ یہ ایک ایسا واقع ہے جس کا ہم نے براہ راست مشاہدہ نہیں کیا ہے ، اگرچہ ہبل خلائی دوربین کی جانشین اس کام کو انجام دینے کے لئے بنائی جا رہی ہے۔ اس بات سے قطع نظر سائنس دانوں کے پاس بالواسطہ کافی سارے شواہد موجود ہیں جو اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ایسا آج سے تیرہ ارب دس کروڑ سال پہلے ہوا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔
 

زہیر عبّاس

محفلین
فوق ارضی سیاروں کی زندگی ...از دیمیتر سیسی لوف

حصّہ دوم - حیات کا ماخذ

باب یازدہم - حصّہ پنجم


وقت کا سفر

کائنات نوخیز ، حیات نوخیز تر ہے۔

جب ہم بڑے منظر نامے کو دیکھتے ہیں تو ستارے بشمول اولین ستارے بہت ہی غیر معمولی اجسام نظر آتے ہیں۔ وہ عام مادے یا ابتدائی مادّے کے مرتکز، پائیدار اور طویل العمر اجسام ہیں۔ اس بات میں کوئی غیر معمولی چیز نہیں ہے۔ عام مادّہ پوری کائنات میں (ارب ہا ارب کہکشاؤں کی صورت میں) بڑے اور چھوٹے لوتھڑوں میں بکھرا ہوا ہے۔ یہ کائنات میں ایسی حالت میں اس وقت تک رہتا ہے جب تک ان میں سے کچھ لوتھڑے اپنے وزن تلے بھینچ کر دب کر ستاروں کی شکل اختیار نہیں کر لیتے۔ ستارے کے اندر قوّت ثقل کے کھنچاؤ اور مادّے کے پھیلاؤ میں توازن اس درجہ حرارت اور کثافت پر حاصل ہوتا ہے جس میں ہائیڈروجن اور ہیلیئم کے مرکزے ضم ہو کر نئے عناصر بناتے ہیں۔ جب کسی بھی جوہری مرکزے میں گداخت کا عمل ہوتا ہے تو اس کے دو اہم نتیجے نکلتے ہیں: بہت ساری توانائی کا اخراج ہوتا ہے ، بھاری مرکزہ بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا سورج چمکتا ہے۔

ستارے گداخت کے شہزادے ہوتے ہیں۔ اس عمل کو یہ بہت ہی جانفشانی سے انجام دیتے ہیں ! سچ میں یہ کائنات کو روشن کرتے ہیں اور اس بے رنگ سادہ گیس سے بھری کائنات کو عناصر کی زرخیزی سے لبریز کر دیتے ہیں۔ یہ عمل انتہائی منظم ہوتا ہے : پہلے ہائیڈروجن ، ہیلیئم میں بدلتی ہے، جو ہائیڈروجن سے بھاری ہوتی ہے یہ سکڑ کر اور گرم ہو جاتی ہے۔ ہیلیئم اس وقت تک گرم ہوتی رہتی ہے جب تک گداخت کی سرحد کو پار نہیں کر جاتی اور اس وقت کم از کم داخلی طور پر ستارے کی زندگی میں ایک نیا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔

ہائیڈروجن کی گداخت سے زیادہ تر تو ہیلیئم ہی بنتی ہے ( عمل گداخت ایک ایسا عمل ہے جس میں آلودگی سے پاک صاف ستھری توانائی انسانیت کے لئے حاصل کی جا سکتی ہے بشرطیکہ ہم اس کو کسی منضبط طریقے سے کرنا سیکھ لیں )، ہیلیئم کے گداختی عمل میں دوسرے بھاری عناصر حاصل ہوتے ہیں جن میں زیادہ اہم کاربن اور آکسیجن ہے۔ ستارے لوہے تک عناصر بنا سکتے ہیں۔ لوہے کو بنانے کے بعد وہ مزید کوئی عنصر گداختی عمل کے ذریعہ نہیں بنا سکتے کیونکہ ان میں اتنی توانائی نہیں ہوتی جو لوہے کے عنصر میں گداختی عمل شروع کر سکے۔ یہاں تک کہ ستارہ پھٹ پڑتا ہے۔ ایک ایسے سپرنووا میں مزید گداختی عمل شروع ہوتا ہے جو مزید دوسرے بھاری عناصر پیدا کرتا ہے اور دوسرے پابند الیکٹران کو آزاد کرا دیتا ہے جو بھاری جوہروں کے عناصر اور تمام ثمر آور کیمیا کو پکا دیتے ہیں۔

ماہرین فلکیات ستاروں کو کائنات کو ثمرآور عناصر سے بھرنے کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ دس سے بیس برس پہلے ماضی میں بننے والی دوربینوں کے ذریعہ وہ بارہ ارب سال پہلے تک دیکھ سکتے ہیں۔ وہ کچھ بھاری عناصر جیسا کہ لوہے کو دیکھ سکتے ہیں ؛ وہ عناصر کو ثمرآور ہوتے ہوئے اور کس طرح سے ستارے انھیں بنا رہے ہیں دیکھ سکتے ہیں۔ ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے جو صورتحال بنتی ہوئی نظر آتی ہے اس میں ستاروں کی ایک نسل نوجوان کائنات کی ہائیڈروجن اور ہیلیئم کو ایک تسلسل کے ساتھ تمام بھاری عناصر میں تبدیل کر رہی ہے۔

ستارے کم کمیت کی گیس سے بنتے ہیں جس کو (اپنے وزن تلے خود سے ) دبتے ہوئے ٹھنڈا ہونا ہوتا ہے تاکہ ستارہ کثیف ہو سکے۔ ہائیڈروجن اور ہیلیئم دبتے ہوئے ٹھنڈے ہونے کی صلاحیت سے کافی زیادہ محروم ہوتی ہیں لہٰذا اولین ستارے لازمی طور پر ہمارے سورج سے سینکڑوں گنا زیادہ بڑے ہوں گے۔ اولین ستارے ضخیم اور کم عمر تھے جنہوں نے کچھ بھاری عناصر بنائے تھے جو اب نمو پذیر کہکشاؤں کے اندر بکھرے ہوئے ہیں یہی وہ ستارے ہیں جنہوں نے چھوٹے اور کم ضخیم ستاروں کی پیدائش کو ممکن بنایا۔ ہائیڈروجن اور ہیلیئم گیس پر ان بھاری عناصر کے چھڑکاؤ نے ان گیسوں کو بھی ٹھنڈا کرنے میں مدد کی تاکہ دوسری نسل کے ستارے ایک متنوع فیہ قسم کی گیس کے ڈھیر سے پیدا ہو سکیں۔ ہر نئی نسل کے ساتھ ، بتدریج چھوٹے ستارے پیدا ہو سکتے تھے اور ایسا ہی ہوا۔ آج ہماری کہکشاں میں سورج سے بھی چھوٹے ستارے موجود ہیں۔ اس کی ایک ذیلی وجہ یہ ہے کہ چھوٹے ستارے زیادہ عرصے تک زندہ رہتے ہیں کیونکہ وہ اپنا ایندھن کفایت شعاری سے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم زیادہ اہم بات یہ ہے کہ چھوٹے ستاروں کا جنم نہایت تیزی سے بڑے پیمانے پر کائنات کے ارتقاء کے ساتھ ہوا ہے۔

چھوٹے ستارے موت سے ہمکنار ہوتے ہوئے بھاری عناصر کی جماعت کو کائنات میں بکھیر دیتے ہیں لہٰذا کائنات میں بھاری عناصر کی زرخیزی سست رفتاری کے ساتھ تاہم مسلسل رفتار سے جاری رہے گی۔ درحقیقت تیرہ ارب سال بعد صرف اصل کائناتی آمیزے کا صرف دو فیصد بھاری عناصر میں بدلا گیا ہے ؛ فلکیات دان اس عمل کو افزود گی کہنا پسند کرتے ہیں۔ افزود گی کا یہ عمل درحقیقت نہایت ہی سست ہے۔

کائنات کی مختصر تاریخ کچھ اس طرح سے ہے : تیرہ ارب سال پہلے صرف ہائیڈروجن اور ہیلیئم سے ستاروں کی ایک ایسی نسل پیدا ہوئی جس نے کافی تعداد میں آکسیجن، سلیکان اور کاربن اور وہ تمام دوسرے عناصر پیدا کیے جس کے ذریعہ زمین یا فوق ارضی سیارے بن سکتے تھے۔ حیات کی کہانی سے حاصل ہونے والے کم از کم دو نتیجے حاصل ہوئے ہیں۔

پہلا تو یہ کہ کائنات میں کہیں پر بھی موجود ان ستاروں کے بننے میں کافی وقت لگا جن کے ارد گرد نظام ہائے سیارگان موجود ہو۔ عام کہکشاؤں میں وہ مستحکم ماحول صرف نو ارب سال پہلے ہی وجود میں آیا جس میں کافی سارے سیارے ستارے کے گرد بن سکیں ۔ اگر آپ بڑے ارضی سیاروں کے بارے میں بات کریں جیسا کہ چٹانی فوق ارضی سیارے یا ارض تو ان کے بننے کا ماحول صرف ساتھ سے آٹھ ارب سال پہلے قیام پذیر ہوا ہے۔ ہم اس بات کا تصوّر کر سکتے ہیں کہ کائنات کی تاریخ میں حیات کو نمودار ہونے کے لئے ہمیں اس وقت تک کا تو انتظار کرنا ہی ہوگا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔
 
Top