" عشق " پر اشعار

شمشاد

لائبریرین
سمجھاتے قبلِ عشق تو ممکن تھا بنتی بات
ناصح غریب اب ہمیں سمجھانے آئے ہیں
خمار بارہ بنکوی
 

شمشاد

لائبریرین
میری نگاہِ شوق سے ہر گُل ہے دیوتا
میں عشق کا خدا ہوں مجھے یاد کیجیے
ساغر صدیقی
 

شمشاد

لائبریرین
بارہا دیکھا ہے ساغر رہگزازِ عشق میں
کارواں کے ساتھ اکثر رہنما ہوتا نہیں
(ساغر صدیقی)
 

عرفان سرور

محفلین
کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے
کیوں درد کے رونے روتا ہے
اب عشق کیا ہے تو صبر بھی کر
اس میں تو یہی کچھھ ہوتا ہے۔۔۔!
 

زبیر مرزا

محفلین
خرد نداند و حیراں شَوَد ز مذہبِ عشق
اگرچہ واقفِ باشد ز جملہ مذہب ھا
(مولانا رُومی)
خرد، مذہبِ عشق کے بارے میں کچھ نہیں جانتی سو (مذہب عشق کے معاملات سے) حیران ہو جاتی ہے۔ اگرچہ خرد اور تو سب مذاہب کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے
 

شمشاد

لائبریرین
عمر ساری تو کٹی عشقِ بتاں میں مومن
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوںگے
(مومن خان مومن)
سرسید آخری عمر میں بیمار ہوئے تو کسی نے مشورہدیا کہ آپ شراب پی لیں تو افاقہ ہوگا - تو اس کے جواب میں سرسید نے یہ شعر پڑھا تھا -
عمر ساری تو کٹی عشقِ بتاں میں مومن
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوںگے
 

شمشاد

لائبریرین
طریقِ عشق میں مارا پڑا، جو دل بھٹکا
یہی وہ راہ ہے جس میں ہے جان کا کھٹکا
(حیدر علی آتش)
 

زبیر مرزا

محفلین
اے حرم قرطبہ! عشق سے تيرا وجود
عشق سراپا دوام ، جس ميں نہيں رفت و بود
رنگ ہو يا خشت و سنگ ، چنگ ہو يا حرف و صوت
معجزہ فن کي ہے خون جگر سے نمود
 

شمشاد

لائبریرین
اس کے کس رخ کو اشارہ عشق کا کیسے کروں
اس ذرا سے کام کی میں ابتدا کیسے کروں
منیر نیازی

 

شمشاد

لائبریرین
مرزا صاحب اس دھاگے پر خوش آمدید۔ اگر معلوم ہو تو شاعر کا نام بھی لکھ دیا کریں۔
-------------------------------------------------------------------------

گلدستہ جہات تھا نیزنگ راہ عشق
تھا اک طلسم حسن خیابان دام شام
(منیر نیازی)
 
Top