" عشق " پر اشعار

شمشاد

لائبریرین
فتوی دو میرے قتل کا فوراً جنابِ شیخ
میں ہوں کسی کے عشق میں کافر بنا ہوا
(منصور آفاق)
 

شمشاد

لائبریرین
ہیں لاکھوں روگ زمانے میں، کیوں عشق ہے رسوا بیچارا
ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی، انسان کو رکھتیں دکھیارا
(ابن انشاء)
 

شمشاد

لائبریرین
فتوی دو میرے عشق کا فوراً جنابِ شیخ
میں ہوں کسی کے عشق میں کافر بنا ہوا
(منصور آفاق)
 

شمشاد

لائبریرین
سلیقہ عشق میں جاں اپنی پیش کرنے کا
جنہیں بھی آیا تھا ان کو ہی دھیان اس کا تھا
(تاجدار عادل)
 

شمشاد

لائبریرین
یہ نسبت عشق کی بے رنگ لائے رہ نہیں سکتی
جو محبوب خدا ہوگا، وہ محبوبِ خدا ہوگا
(جگر مراد آبادی)
 

شمشاد

لائبریرین
کون ہوتا ہے کسی کا شبِ تنہائی میں
غمِ فرقت ہی غمِ عشق کو بہلائے گا
(احمد راہی)
 

شمشاد

لائبریرین
کوئی بھی کوئے محبت سے پھر نہیں گزرا
تو شہر عشق میں کیا آخری صدا تھی مری
(احمد فراز)
 
Top