دوسرا معاشقہ (از مہدی نقوی حجازؔ)

بس پھر ٹھیک ہے، تب تک ہم عمر کی اتنی خزائیں دیکھ چکے ہوں گے کہ خون کا الزام ہمارے سر آنے کا خدشہ جاتا رہے گا۔ :) :) :)
اس میں یہ بات ضرور مضمر تھی (اور غلط تھی) کہ آپ نے لمحۂ موجود تک بہ اندازۂ کافی (اِنَف) خزائیں نہیں دیکھیں۔۔۔ شاعری میں ریختی سنی بھی ہے اور پڑھی بھی، نثر میں ریختی کے موجد قبلہ ہیں؟! :D
 
اس میں یہ بات ضرور مضمر تھی (اور غلط تھی) کہ آپ نے لمحۂ موجود تک بہ اندازۂ کافی (اِنَف) خزائیں نہیں دیکھیں۔۔۔ شاعری میں ریختی سنی بھی ہے اور پڑھی بھی، نثر میں ریختی کے موجد قبلہ ہیں؟! :D
ایسا الزام لگاتے شرم نہیں آتی قبلہ حضور؟ ریختی کا شائبہ تک ہوتا تو خزائیں نہ دیکھتے، بہاروں یا پھر ساون کا ذکر سبک ہوتا۔ :) :) :)
 
پہلے معاشقے میں اشارہ تھا۔ یہ دونوں معاشقے شہرِ قم سے منسوب ہیں، جہاں ہمارا بچپن گزرا ہے۔ اس کے بعد بہت وقت تک اصفہان اور پھر کرمان میں مقیم رہے

حجاز صاحب تو یہ پھر آپ بیتی ہوئی نہ ! دیکھا ، میں نے کہا تھا نہ کہ آپ بہرحال اسے افسانہ کہہ لیں مگر آپکے الفاظ صاف پتا دے رہے ہیں :)
 
مہدی نقوی حجاز
ترجمہ سے یاد آیا، قبلہ ،وہ حضور نطشے اور حضرت زرتشت آپ کے منتظر ہیں ۔وہاں بھی تشریف لے جائیں :)
ارے جناب، آدھی کتاب کا ترجمہ کرنے کے بعد ہم نے 2013 کی سالانہ نمائش کراچی میں دیکھا کہ کوئی مولوی صاحب اس کتاب کا ترجمہ کر کے چھپوا بھی چکے ہیں!! وہیں کھڑے کھڑے کچھ پڑھا، اتنا برا ترجمہ تھا کہ خریدا نہیں، اور نہ مترجم کا نام یاد رکھا۔ اب افسوس ہو رہا ہے!
 
Top