محمد وارث

لائبریرین
پاکستان کی ٹیم کے لیے سیمی فائنل مرحلے تک پہنچنے کے لیے مشکلات بہت زیادہ ہیں۔ اگر نیوزی لینڈ سری لنکا سے جیت جاتا ہے تو پاکستان کے لیے بہت زیادہ مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ اگر نیوزی لینڈ سری لنکا کے ساتھ پہلے کھیلتے ہوئے 1 رن سے جیتے گا تو پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے اور نیوزی لینڈ سے رن ریٹ بہتر بنانے کے لیے انگلستان کے ساتھ پہلے کھیلتے ہوئے کچھ اس طرح رنز بنانے ہوں گے اور باؤلنگ کروانا ہو گی کہ وہ میچ 131 رن سے جیت جائے۔ اگر رنز کا تعاقب کرنا پڑا تو 28 اوورز میں رنز پورے کرنے ہوں گے اور اگر نیوزی لینڈ 49 اوورز میں سری لنکا کا ہدف پورا کرتا ہے تو پاکستان کو137 رن سے انگلستان سے جیتنا ہو گا یا ہدف کو 27 اوورز میں پورا کرنا ہو گا۔اس کے علاوہ جو صورتیں ہیں، وہ تو بہت پریشان کن ہیں، یہ تو سمجھ لیں کہ کم از کم ڈیمانڈ ہے۔ اگر کہیں نیوزی لینڈ 100 رن سے سری لنکا سے جیت جائے تو پاکستان کو 225 رن سے انگلستان کو ہرانا ہو گا یا 14 اوورز میں اسکور پورا کرنا ہو گا جو کہ تقریباً نا ممکن سی بات لگتی ہے۔ اور نیوزی لینڈ اگر 35 اوورز میں سری لنکا کا دیا گیا اسکور پورا کر لے تو پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے اور نیوزی لینڈ سے رن ریٹ بہتر کرنے کے لیے یہ میچ 225 رن سے جیتنا ہو گا اور اگر ہدف کا تعاقب کرنا پڑا تو محض 14 اوورز میں میچ جیتنا ہو گا جو کہ بہت زیادہ مشکل معاملہ ہے۔
پاکستان کے بہترین چانس یہ ہو سکتا ہے کہ پہلے انگلستان کو کھلائے اور پھر کم از کم اسکور پر اسے آؤٹ کرنے کی کوشش کرے یعنی 175رنز کے قریب تب بات بن سکتی ہے اور پھر ہدف کو جلد از جلد پورا کرنے کی کوشش کرے۔
ویسے پاکستان ٹیم کو اب وہ میچ یاد آئیں گے جب وہ اوورز پورے کھیلے بغیر جلد از جلد وکٹیں گنواتے رہے۔ رن ریٹ کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور نیوزی لینڈ تو وہ ٹیم ہے جو 300 رنز مذاق میں ہی بنا لیتی ہے۔
اس سے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں ایک بار پھر یہ دعا کرنا ہو گی کہ سری لنکا نیوزی لینڈ کو ہرا دے یا اس دن بھی بارش ہو جائے اور دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دے دیا جائے۔ :)
مزید یہ کہ اگر سیمی فائنل میں پہنچ کر پاکستانی ٹیم نے اپنی عزت انڈیا کے ہاتھوں ایک بار پھر گنوانی ہے تو بہتر ہے کہ سیمی فائنل میں نہ پہنچیں! :)
 

علی وقار

محفلین
مزید یہ کہ اگر سیمی فائنل میں پہنچ کر پاکستانی ٹیم نے اپنی عزت انڈیا کے ہاتھوں ایک بار پھر گنوانی ہے تو بہتر ہے کہ سیمی فائنل میں نہ پہنچیں! :)
ہم نے ایک بار پھر ویسا ہی انتقام لینا ہے جیسا کہ آج تک ورلڈ کپ میں لیتے آئے ہیں تو واقعی یہی بہتر ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
اہلیت چاہے کھلاڑی میں ہو مگر اس کے کسی سگے یا سوتیلے رشتہ دار کو چیف سلیکٹر مقرر نہ کرنا چاہیے۔ انضمام الحق نے امام الحق کو ٹیم میں شامل رکھا، جاوید میانداد نے فیصل اقبال کو اور اب سنا ہے کہ شاہد آفریدی کو چیف سلیکٹر مقرر کیے جانے کا امکان ہے اور ان کا پہلا بیان آیا ہے کہ شاہین آفریدی کپتانی کی اہلیت رکھتا ہے۔
ممکن ہے کہ فیصل اقبال کی تب، اور امام الحق اور شاہین آفریدی کی ٹیم میں جگہ بنتی ہو اور وہ کپتان بننے کے بھی اہل ہوں مگر ذمہ داری کرکٹ بورڈ کی ہے کہ وہ ایسے کسی فرد کو چیف سلیکٹر نہ بنائے جس کا کوئی رشتہ دار قومی کرکٹ ٹیم میں ہو۔
ہمارے کرکٹ بورڈ میں چند افراد ہیں جو کسی صورت اس ادارے کی جان چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ چیئرمین پی سی بی ذکاء اشرف بھی ان میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی سابق کھلاڑی ہیں جو کسی نہ کسی طرح بار بار اہم عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں۔

اگر میرٹ سب سے پہلی ترجیح ہو تو اقربا پروری بُری چیز نہیں ہے۔

جوبھی سیلیکٹر ہوگا وہ اپنی سمجھ کے مطابق فیصلے کرے گا۔ اور اُس کے ذہن میں اُس کا اپنا وننگ کمبینیشن ہوگا۔

بس اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ آپ کے قریبی رشتہ دار یا دوست سے بہتر اگر کوئی اور موجود ہے تو پہلے اُسے چانس دیا جائے۔
 
اہلیت چاہے کھلاڑی میں ہو مگر اس کے کسی سگے یا سوتیلے رشتہ دار کو چیف سلیکٹر مقرر نہ کرنا چاہیے۔ انضمام الحق نے امام الحق کو ٹیم میں شامل رکھا، جاوید میانداد نے فیصل اقبال کو اور اب سنا ہے کہ شاہد آفریدی کو چیف سلیکٹر مقرر کیے جانے کا امکان ہے اور ان کا پہلا بیان آیا ہے کہ شاہین آفریدی کپتانی کی اہلیت رکھتا ہے۔
ممکن ہے کہ فیصل اقبال کی تب، اور امام الحق اور شاہین آفریدی کی ٹیم میں جگہ بنتی ہو اور وہ کپتان بننے کے بھی اہل ہوں مگر ذمہ داری کرکٹ بورڈ کی ہے کہ وہ ایسے کسی فرد کو چیف سلیکٹر نہ بنائے جس کا کوئی رشتہ دار قومی کرکٹ ٹیم میں ہو۔
ہمارے کرکٹ بورڈ میں چند افراد ہیں جو کسی صورت اس ادارے کی جان چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ چیئرمین پی سی بی ذکاء اشرف بھی ان میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی سابق کھلاڑی ہیں جو کسی نہ کسی طرح بار بار اہم عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں۔
رشتے دار ہو لیکن اگر اہلیت رکھتا ہو تو پھر ٹھیک ہے
صرف رشتےدار ہونے کی بنا پر کسی کو رد کردینا ٹھیک نہیں ہے۔
 
Top